تحریر: میر بابر مشتاق
میاں بیوی کا رشتہ دنیا کے خوب صورت، نازک اور پیچیدہ رشتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو کبھی انسان کو زندگی کی سخت ترین آندھیوں میں بھی سہارا دیتا ہے، بڑے بڑے طوفانوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور حالات کی کتنی ہی سنگین لہروں کے باوجود ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ لیکن یہی رشتہ کبھی معمولی سی تلخی، ایک جملے کی چبھن، غلط فہمی کی ایک گرہ یا اعتماد کے کسی زخم سے اس قدر کمزور پڑجاتا ہے کہ تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ نازک محسوس ہونے لگتا ہے۔
یہی انسانی رشتوں کا المیہ بھی ہے اور ان کی حقیقت بھی!
کبھی دو لوگ پوری دنیا کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے زمانے کی مخالفت برداشت کرتے ہیں، مشکلات میں ڈھال بنتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک رہتے ہیں۔ ان کے درمیان برسوں کی رفاقت، محبت، اعتماد، قربانیوں اور یادوں کا ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔ دیکھنے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ یہ جوڑا کبھی جدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن پھر زندگی کسی ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں وہی دو لوگ ایک دوسرے کے سامنے اجنبی بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
جن ہاتھوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر زندگی گزارنے کا عہد کیا تھا، کبھی وہی ہاتھ ایک دوسرے سے چھوٹ جاتے ہیں۔ جن آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے خواب تھے، ان میں شکوے اور شکایتیں جگہ بنالیتی ہیں۔ جن گھروں میں کبھی قہقہے گونجتے تھے، وہاں خاموشی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
کیا محبت ختم ہوجاتی ہے؟ کیا برداشت جواب دے جاتی ہے؟ کیا انا محبت سے بڑی ہوجاتی ہے؟ کیا حالات انسانوں کو بدل دیتے ہیں؟ یا بعض اوقات دونوں طرف کی کوششوں کے باوجود ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں رہتا؟
حقیقت یہ ہے کہ ہر رشتے کی کہانی الگ ہوتی ہے۔ ہر گھر کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے جس کے دکھ، مسائل، محرومیاں اور تلخیاں باہر سے دکھائی نہیں دیتیں۔ ہم کسی گھر کے باہر کھڑے ہوکر اس کے اندر کے حالات کا مکمل اندازہ نہیں لگا سکتے۔ جو رشتہ ہمیں باہر سے خوش و خرم دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے اس کے اندر برسوں سے کوئی خاموش جنگ جاری ہو۔ جو شخص ہمیں بظاہر مضبوط اور مطمئن نظر آتا ہے، ممکن ہے وہ اپنے گھر کے اندر کسی ایسے کرب سے گزر رہا ہو جسے بیان کرنے کے لیے اس کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں۔
اس لیے کسی کے ازدواجی تعلق کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف یا علیحدگی کی خبر سامنے آتے ہی لوگ منصف بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کسی کو قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے، کسی کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، کسی کی تربیت کو موردِ الزام قرار دیا جاتا ہے اور کسی کے خاندان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو جیسے عدالتیں لگ جاتی ہیں۔ ہر شخص کے پاس فیصلہ بھی ہوتا ہے، دلیل بھی اور فتویٰ بھی!
حالاں کہ کسی ازدواجی تعلق کے ٹوٹنے کی اصل وجوہات جاننا اتنا آسان نہیں۔ ایک فریق کی بات سن کر دوسرے کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔ بعض اوقات دونوں اپنی جگہ تکلیف میں ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک فریق نے بہت کچھ برداشت کیا ہوتا ہے اور بعض اوقات دونوں کی غلطیاں مل کر ایک خوب صورت گھر کو بکھیر دیتی ہیں۔ کہیں ناانصافی ہوتی ہے، کہیں عدم برداشت، کہیں تشدد، کہیں بے اعتنائی اور کہیں ایسی پیچیدگیاں جن کا باہر بیٹھ کر اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نکاح کا رشتہ مقدس ضرور ہے، مگر اسے نبھانے کے لیے صرف مقدس الفاظ کافی نہیں ہوتے۔ محبت، احترام، اعتماد، برداشت، ایثار، ذمہ داری اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
قرآن مجید نے میاں بیوی کے تعلق کو مودت اور رحمت کا رشتہ قرار دیا ہے۔ سورۃ الروم کی آیت 21 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔
غور کیجیے! اس رشتے کی بنیاد صرف محبت نہیں، رحمت بھی ہے۔ محبت کبھی جذبات کی شدت سے کم ہوسکتی ہے، لیکن رحمت انسان کو دوسرے کی کمزوریوں کے باوجود اس کا خیال رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ازدواجی زندگی میں کبھی ایک کو دوسرے کے لیے جھکنا پڑتا ہے، کبھی خاموش رہنا پڑتا ہے، کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنا پڑتی ہے اور کبھی دوسرے کی غلطی کو معاف کرنا پڑتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی کو ظلم، تشدد، تذلیل یا مسلسل ناانصافی برداشت کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ صبر کا مطلب ظلم کو جائز سمجھ لینا نہیں، اور رشتہ بچانے کا مطلب اپنی عزتِ نفس اور سلامتی کو قربان کردینا بھی نہیں۔ جہاں اصلاح، گفتگو اور مصالحت کی گنجائش ہو، وہاں اسے ضرور آزمانا چاہیے، لیکن جہاں ساتھ رہنا کسی کی زندگی کو اذیت ناک بنا دے، وہاں علیحدگی کا فیصلہ بھی ایک قابلِ احترام انسانی حق ہے۔
اسلام نے طلاق کو پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا، لیکن اسے ایک جائز راستے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ قرآن مجید نے علیحدگی کی صورت میں بھی بھلے طریقے سے جدا ہونے کی تعلیم دی ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے کہ یا تو بھلے طریقے سے روک لیا جائے یا اچھے طریقے سے رخصت کردیا جائے۔ یعنی اگر ساتھ چلنا ممکن نہ رہے تو جدائی بھی تہذیب، شرافت اور احترام کے ساتھ ہونی چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کردیتے ہیں۔ میاں بیوی کی علیحدگی صرف دو افراد کا معاملہ نہیں رہتی، اس سے بچوں کی زندگیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ بچوں کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں، ان کے احساسِ تحفظ کو دھچکا لگتا ہے اور بعض اوقات والدین کی باہمی کشمکش میں وہ غیر ضروری طور پر فریق بنادیے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر علیحدگی ناگزیر ہوجائے تو کم از کم بچوں کو نفرت، انتقام اور الزام تراشی کی جنگ کا میدان نہیں بنانا چاہیے۔ والدین کا ازدواجی تعلق ختم ہوسکتا ہے، لیکن بچوں کے والدین ہونے کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی کے گھر کا بکھرنا تماشا نہیں، ایک انسانی المیہ ہے۔ اس موقع پر طنز، تمسخر اور کردار کشی کے بجائے ہمدردی، دعا اور خاموشی زیادہ مناسب رویہ ہے۔ اگر کوئی مدد مانگے تو خیرخواہی کے ساتھ مشورہ دیجیے، اگر مصالحت ممکن ہو تو دیانت داری سے کوشش کیجیے، اور اگر کوئی فیصلہ کرچکا ہو تو اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے گریز کیجیے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ کل ہماری اپنی زندگی میں کیا ہونے والا ہے۔ آج ہم کسی دوسرے کے گھر کے معاملات پر تبصرے کررہے ہیں، ممکن ہے کل ہمیں بھی کسی ایسے امتحان سے گزرنا پڑجائے جس کا آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔ زندگی ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی حالات بدل جاتے ہیں، کبھی انسان بدل جاتے ہیں اور کبھی وہ رشتے بھی بکھر جاتے ہیں جنہیں ہم ناقابلِ شکست سمجھتے تھے۔
اس لیے کسی علیحدگی کے واقعے کو اپنی برتری، اپنی اخلاقی بلندی یا اپنی خاندانی کامیابی کا ثبوت بنانے کے بجائے اسے اپنے لیے عبرت اور دعا کا موقع سمجھنا چاہیے۔ کسی پر فتویٰ لگانے، کسی کے کردار کا فیصلہ سنانے اور کسی کی نجی زندگی کو موضوعِ گفتگو بنانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔
ازدواجی زندگی میں کامیابی صرف اس بات کا نام نہیں کہ میاں بیوی عمر بھر ایک چھت کے نیچے رہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون، عزت اور رحمت کا ذریعہ بنیں۔ اور اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ رہے تو کم از کم جدائی کے بعد ایک دوسرے کی عزت محفوظ رکھیں۔
ہمیں اپنے گھروں میں محبت بڑھانے، اختلاف کو برداشت کرنے، گفتگو کے دروازے کھلے رکھنے اور انا کے بجائے رشتوں کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن دوسروں کے معاملات میں فیصلہ سنانے سے پہلے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کہانی کے وہ صفحات بھی ہوتے ہیں جو دنیا کے سامنے نہیں آتے۔
دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو محبت، سکون اور رحمت کا گہوارہ بنائے۔ میاں بیوی کے درمیان اعتماد اور وفا قائم رکھے، اختلافات کو دشمنی میں بدلنے سے بچائے، ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کی توفیق دے اور اگر کسی کے لیے علیحدگی ہی بہتر ہو تو اسے عزت، آسانی اور خیر کے ساتھ اس مرحلے سے گزار دے۔
کیونکہ رشتے ٹوٹنے والوں کو فیصلوں کی نہیں، اکثر ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، دوسروں کے گھروں کے بارے میں فیصلہ سنانے کے بجائے اپنے لیے عافیت مانگنی چاہیے۔ نجانے کب، کس وقت اور کس موڑ پر زندگی ہمیں بھی اسی کٹھن آزمائش کے سامنے لاکھڑا کرے۔
اللہ سب کو عافیت میں رکھے!









