امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

اسرائیل کی 4 ارب ڈالر سالانہ امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان، ٹرمپ کی انتخابی شکست نہ ٹال سکا

·

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں ووٹنگ شروع ہونے سے عین قبل اسرائیل کے لیے سالانہ 4 ارب ڈالر کی امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان کرکے ایک غیر متوقع سیاسی چال چلنے کی کوشش کی، لیکن بظاہر یہ فیصلہ انہیں انتخابی نقصان سے نہیں بچا سکا۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسرائیل کے لیے امریکی مالی و عسکری معاونت ختم کرنے کا اعلان ان ووٹرز کو متاثر کرسکتا ہے جو ان کی پالیسیوں سے ناراض ہیں، تاہم انتخابی نتائج نے ظاہر کردیا کہ اس اقدام سے عوامی رائے تبدیل نہیں ہوئی۔

ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 4 ارب ڈالر کی امداد بند کردے گا، کیونکہ اب اسرائیل کو اس مالی معاونت کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کے مطابق اسرائیل اب اپنے دفاعی اخراجات خود برداشت کرنے اور اپنی ضرورت کا فوجی سازوسامان خریدنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انتخابی دن اپنے بیان میں امریکی صدر نے اس فیصلے کو براہ راست داخلی سیاست سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے لیے امریکی امداد اب ڈیموکریٹس کو ریپبلکن امیدواروں کے خلاف سیاسی تنقید کا موقع فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسرائیل کو خود اس رقم کی ضرورت نہیں تو ریپبلکنز کو مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ کے امیدوار عبدالسید جیسے سیاست دانوں کے حملوں کا سامنا کیوں کرنا چاہیے؟

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکا کا اہم ترین اتحادی رہا ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ امریکی امداد ملتی رہی ہے، لیکن اب اس معاونت کو جاری رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول یہ ایک خراب سیاسی حکمت عملی بن چکی ہے، کیونکہ امریکی عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اربوں ڈالر اسرائیل کو دینے کے بجائے یہ رقم دوسرے مقاصد کے لیے کیوں استعمال نہیں کی جاتی۔

امریکا اور اسرائیل کے درمیان 2018 میں طے پانے والی 10 سالہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت واشنگٹن ہر سال اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی عسکری امداد فراہم کرنے کا پابند ہے۔ اس معاہدے کی مدت 2028 میں مکمل ہونا تھی، تاہم ٹرمپ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاونت کو مقررہ مدت سے دو سال پہلے ہی ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس امداد کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسرائیل اس رقم سے امریکی ساختہ ہتھیار اور دفاعی سازوسامان خریدتا ہے، جس کے نتیجے میں امدادی رقم کا بڑا حصہ بالآخر امریکی دفاعی صنعت کو واپس مل جاتا ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل کو واقعی مالی معاونت درکار ہوتی تو وہ اسے جاری رکھنے کے حق میں ہوتے، تاہم ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ بھی اس معاملے پر اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں رہنما گزشتہ 2 برس سے اس معاملے پر بات کررہے تھے۔

تاہم امریکی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے معاملات پر نظر رکھنے والے سابق حکام نے اس اعلان کے عملی نفاذ پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی عسکری امداد میں کمی کا فیصلہ صرف صدارتی اعلان سے ممکن نہیں، کیونکہ وفاقی فنڈز کی منظوری اور ان کے استعمال کا اختیار امریکی کانگریس کے پاس بھی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی اور خطے میں بڑھتے عسکری خطرات کے باعث واشنگٹن کے لیے اسرائیل کی دفاعی معاونت مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

ٹرمپ کا یہ اعلان محض انتخابی حکمت عملی نہیں بلکہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے حوالے سے بدلتے رجحانات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ طویل عرصے تک اسرائیل کی حمایت امریکی ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان ایک مشترکہ پالیسی رہی، لیکن اب دونوں جماعتوں میں اس حمایت کے تسلسل اور حدود پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے مذاکرات کار کے طور پر متعدد امریکی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے والے ایرون ڈیوڈ ملر کے مطابق اسرائیل کا معاملہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی شدید تقسیم کا سبب بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹکر کارلسن، مارجری ٹیلر گرین اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت میگا تحریک سے وابستہ بعض شخصیات اور حلقے اسرائیل کے ساتھ روایتی نوعیت کے قریبی تعلقات کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

یہ صورت حال اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے حالیہ انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کی تھی اور انہیں امریکا کے لیے ایک مثالی اتحادی قرار دیا تھا، لیکن ان کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس حمایت کا کھل کر اعادہ نہیں کیا تھا۔

ٹرمپ کے اعلان کا وقت اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے خاصا مشکل قرار دیا جارہا ہے۔ اسرائیل میں انتخابات کے بعد نیتن یاہو ایوانِ اقتدار میں رہنے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی دفاعی نظام کے ایک اہم مالی سہارے کو ختم کرنے کا اعلان ان کی سیاسی پوزیشن کے لیے نیا چیلنج بن گیا ہے۔

ایرون ڈیوڈ ملر نے اس پیشرفت کو نیتن یاہو کے لیے ناخوش گوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سازی کے حساس مرحلے میں امریکی صدر کی جانب سے یک طرفہ طور پر امداد کے خاتمے کا اعلان اسرائیل اور امریکا کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی ہے۔

نیتن یاہو کے سیاسی حریف اور وزارت عظمیٰ کے لیے اتحاد بنانے کی کوشش کرنے والے گیڈی آئزنکوٹ نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ امریکا کے ساتھ خصوصی تعلقات اسرائیل کی قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہیں۔

ان کے مطابق اسرائیلی عوام اور دفاعی اداروں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس اہم اسٹریٹجک تعلقات میں تبدیلی کی اطلاع ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نیتن یاہو کی حکمت عملی ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ آئزنکوٹ نے وزیراعظم پر اعتماد ختم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان آخری ٹیلی فونک رابطہ ہفتے کے روز ہوا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر کے تازہ اعلان کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی یا نہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ نیتن یاہو ماضی میں اسرائیل کو امریکی عسکری امداد پر انحصار سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی اتنی مختصر مدت میں اس عمل کی تکمیل کا عندیہ نہیں دیا تھا۔

رواں سال مئی میں امریکا اور اسرائیل نے نئی مفاہمت کی یادداشت کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کیے تھے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کسی حتمی معاہدے یا متفقہ لائحہ عمل کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔

اسرائیلی انتخابات سے چند روز قبل نیتن یاہو نے ایک مقامی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی اشارہ دیا تھا کہ امریکی امداد کا خاتمہ قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ کے لیے آئندہ بھی ہر سال اربوں ڈالر امریکی معاونت حاصل کرتا رہے گا۔

فاکس نیوز کے انٹرویو میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ 4 ارب ڈالر کی نقد امداد ختم کررہے ہیں یا عسکری معاونت روک رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اسے کسی بھی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اسرائیل کو رقم اور فوجی سازوسامان دونوں فراہم کرتا ہے، لیکن اب اسرائیل اپنی ضروریات خود پوری کرسکتا ہے۔

امریکی تاریخ میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کی حکومتوں نے اسرائیل کو وسیع عسکری معاونت فراہم کی ہے۔ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ رواں سال ستمبر میں ان کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر مالیت کے بھاری بم فروخت کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔

ایرون ڈیوڈ ملر کے مطابق اسرائیل امریکی امداد کے بغیر بھی اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر واشنگٹن کی جانب سے عسکری تعاون مکمل طور پر ختم کیے جانے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب امریکی کانگریس میں اسرائیل کو مسلسل عسکری امداد دینے کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں، خصوصاً ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے اس پالیسی پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود امریکی ایوان نمائندگان سے جولائی میں منظور ہونے والے سالانہ دفاعی بل کی ایک شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی حمایت کرتی ہے۔

اسرائیل کی بائیں بازو کی ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو نیتن یاہو کی بڑی ناکامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار وزیراعظم امریکی امداد میں اضافے کے لیے کوشش کرتا، نہ کہ اسے ختم کرنے کی نوبت آنے دیتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں اسرائیل کے سلامتی اور معاشی بحران کو مزید گہرا کررہی ہیں اور ملک کا مستقبل خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

نیتن یاہو کے سوانح نگار اور سینئر صحافی آنشیل پیفر نے بھی امریکی امداد کے فوری خاتمے کے اعلان کو اسرائیلی وزیراعظم اور ان کے قریبی ساتھی رون ڈرمر کی ناکامی قرار دیا ہے۔ رون ڈرمر امریکی انتظامیہ کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو سنبھالنے کے ذمہ دار رہے ہیں۔

پیفر کے مطابق نیتن یاہو اور ڈرمر دونوں امریکی سیاست پر گہری نظر رکھنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مضبوط روابط کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، لیکن ان کی کوششوں کے باوجود امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو تاریخی زوال کا سامنا ہے۔

انہوں نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مل کر امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں تاریخ کی بدترین گراوٹ کی نگرانی کی ہے۔

مجموعی طور پر ٹرمپ کا اعلان کئی پہلوؤں سے اہم ہے۔ ایک طرف یہ امریکی سیاست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے کمزور ہوتے اتفاق رائے کی نشاندہی کرتا ہے، تو دوسری جانب نیتن یاہو کے لیے داخلی سیاسی مشکلات کے ساتھ سفارتی دباؤ بھی بڑھا سکتا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ اعلان واقعی امریکی عسکری پالیسی میں مستقل تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا یا انتخابی سیاست میں ووٹروں کو متاثر کرنے کی ایک وقتی کوشش بن کر رہ جائے گا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں