امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

اسرائیل کی امداد میں چار ارب ڈالر کی کمی، امریکی سیاست میں تاریخی تبدیلی کا اشارہ ہے؟

·

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جدید دور کا سب سے زیادہ اسرائیل نواز صدر کہا جا سکتا ہے۔ اسی لیے انتخابات کے دن ان کا یہ اعلان کہ امریکہ اسرائیل کو دی جانے والی تقریباً 4 ارب ڈالر کی سالانہ امداد بند کر دے گا، حیران کن تھا۔

تاہم ٹرمپ کے معاملے میں اکثر ہوتا ہے کہ یہ اعلان، جو فوکس نیوز پر کیا گیا، تفصیلات سے خالی اور غیر واضح تھا۔ ممکن ہے عملاً اس کا اثر اتنا بڑا نہ ہو جتنا اس چونکا دینے والے اعلان سے لگتا ہے۔

بہرحال، ٹرمپ کا یہ قدم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات میں ایک اور دلچسپ موڑ ہے۔ نیتن یاہو ایران جنگ میں ان کے شریکِ کار ہیں، اور یہی جنگ منگل کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

یہ اعلان ایک ایسے نازک سیاسی لمحے میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیل سیاسی غیر یقینی کی کیفیت میں ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے کے انتخابات میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا اور نیتن یاہو کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔

امریکہ کی اندرونی سیاسی حرکیات کو بھی نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ ایک لحاظ سے ٹرمپ یہ اشارہ دے کر کہ اسرائیل کی امداد امریکی سیاست میں سیاسی طور پر ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے، ریاست مشی گن کے ڈیموکریٹ سینیٹر عبدالسید جیسے رہنماؤں کا ایک نکتہ تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ واشنگٹن میں اسرائیل کی حمایت پر دیرینہ دو جماعتی اتفاقِ رائے میں ایک غیر معمولی دراڑ کو ظاہر کرتا ہے۔

اور یہ معاملہ صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ منگل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد نیا ڈیموکریٹ ہاؤس یا سینیٹ اس مسئلے کو کیسے سنبھالے گا۔ یہ اعلان اسرائیل کے لیے ایک غیر یقینی نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ نیتن یاہو کئی انتظامیہ کے ادوار میں واشنگٹن کے ریپبلکنز کے ساتھ ہم آہنگ رہے ہیں، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد غزہ میں نیتن یاہو کے ردِ عمل پر ملک کے اندر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے، نہ صرف ترقی پسندوں میں بلکہ ٹرمپ کی ماگا تحریک کے دائیں بازو کے کارکنوں میں بھی۔

اس بارے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کہ آیا کانگریس میں اسرائیل اور اس کی فوج کو اسلحے کی فروخت کی حمایت کرنے والی اکثریت موجود ہوگی یا نہیں، یہودی ریاست اور امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے لیے مستقبل میں بہت بڑے جغرافیائی و سیاسی اثرات پیدا کرے گی۔

ٹرمپ کو چونکانا، اپنے گرد خبریں بنانا اور توجہ ہٹانا پسند ہے۔ ممکن ہے فوکس نیوز کو انٹرویو میں ان کا یہ اعلان ایک سیاسی چال ہو، ایسے دن جب بہت سے ریپبلکنز کو ووٹروں کی جانب سے سخت دھچکے کا خوف ہے۔

وہ فوکس کے میزبانوں کو بھی یقیناً حیران کرتے دکھائی دیے۔

انہوں نے کہا’میں نے یہ معاہدہ کیا ہے کہ ہم اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر دیتے ہیں، اور ہم نے مہینوں پہلے معاہدہ کیا تھا کہ ہم اسے روک رہے ہیں… وہ اس سے خوش ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں، وہ ایک بہت کامیاب ملک بن چکے ہیں۔‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ اسرائیلیوں کی مدد کرے گا۔ ’لیکن اس سال کے آخر تک ہم اسرائیل کو ادائیگی نہیں کر رہے ہوں گے۔‘

صدر بظاہر اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ امریکی فوجی امداد کا ذکر کر رہے تھے، جو 2016 میں سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے کے تحت تقریباً 4 ارب ڈالر سالانہ سے کچھ کم ہے۔ یہ انتظام 2028 کے اختتام تک جاری رہنا ہے۔

زیادہ تر رقم اسرائیلی مسلح افواج کے لیے ہتھیار اور سازوسامان خریدنے پر خرچ ہوتی ہے، اور یہ خریداری صرف امریکی صنعت کاروں سے کی جاتی ہے، اس لیے اس معاہدے کے امریکی کاروبار اور روزگار پر نمایاں اثرات ہیں۔ اب توجہ اس طرف مڑ رہی ہے کہ مستقبل میں امریکی اور اسرائیلی فوجی تعاون کی شکل کیا ہوگی۔ نیتن یاہو نے جنوری میں ’دی اکانومسٹ‘ کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 10 سال کے اندر اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد بتدریج کم کر دی جائے اور یہ تبدیلی ’زیرِ غور‘ ہے۔

اسرائیل کی 4 ارب ڈالر سالانہ امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان، ٹرمپ کی انتخابی شکست نہ ٹال سکا

ٹرمپ صاحب نے امریکا کو کتنا ’عظیم‘ بنا لیا؟

امریکی مڈٹرم انتخابات: ایران کون سی نئی حکمت عملی اختیار کرنے والا ہے؟

یہ جاننا مشکل ہے کہ منگل کو ٹرمپ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ امریکی امداد فوری طور پر رک جائے گی یا نہیں۔ ایسا قدم دلچسپ تو ہوگا مگر اس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان کوئی اسٹریٹجک دراڑ پیدا نہیں ہوگی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، دونوں انتظامیہ میں خدمات انجام دینے والے خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ اسرائیل اب اتنی طاقتور معیشت ہے کہ اسے فوجی سازوسامان خریدنے کے لیے امریکی امداد کی ضرورت نہیں۔ توقع ہے کہ امریکی اسلحہ سازوں اور اسرائیل کا رشتہ مضبوط رہے گا، اور دونوں اتحادیوں کی افواج نے حال ہی میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی تعاون کیا ہے۔ یہ بات ایران جنگ سے پہلے بھی درست تھی، مثلاً جب بائیڈن انتظامیہ نے 2024 میں ایرانی کروز میزائل اور ڈرون حملوں کو پسپا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی اور بحری دفاعی کارروائیاں کیں۔

بریٹ میک گرک، جو چار انتظامیہ میں وائٹ ہاؤس اور محکمۂ خارجہ کے سینئر عہدیدار رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ اسرائیل کو امریکی امداد کے معاملے کو بہت غلط سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’میں ٹرمپ کے منگل کے ریمارکس کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کروں گا۔‘

میک گرک نے مزید کہا ’وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم 2028 میں معاہدہ ختم ہونے پر اسے ختم کر دیں گے، یا یہ کہ ہم اسے ابھی روک دیں گے، مجھے نہیں معلوم۔‘ میک گرک سی این این کے عالمی امور کے تجزیہ کار اور نئی کتاب "برنک” کے مصنف ہیں، جس میں غزہ بحران کے دوران یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ان کے مذاکراتی کردار کا ذکر ہے۔

ٹرمپ کا اعلان ایسے وقت آیا جب کروڑوں امریکی ووٹ ڈال رہے تھے، اور یہ انتخابی مہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے مسئلے کے امریکی داخلی سیاست کے ساتھ نئے گٹھ جوڑ کی عکاس تھی۔

یہ سننا غیر معمولی تھا کہ ٹرمپ بظاہر عبدالسید جیسے ڈیموکریٹس کی جانب سے اسرائیل کی امریکی امداد کی مخالفت کا جواب دے رہے تھے، جنہیں وہ مسلم مخالف بیان بازی کی بوچھاڑ کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ مشی گن کے اس ڈیموکریٹ کا موقف ہے کہ امریکی اس جنگ کی وجہ سے گروسری کے لیے زیادہ ادائیگی کر رہے ہیں جو امریکہ اسرائیل کے کہنے پر لڑ رہا ہے۔

ٹرمپ نے ’فوکس اینڈ فرینڈز‘ سے کہا ’ہم عبدالسید جیسے پاگلوں کے طعنے کیوں سہیں، جبکہ انہیں (اسرائیل کو) اس کی ضرورت ہی نہیں؟ یہ ایک برا نکتہ ہے، کیونکہ آپ کہیں گے: ‘ہم سب کو 4 ارب ڈالر کیوں نہ دے دیں؟’

اسرائیل کے مسئلے پر ہفتے کے آخر میں عبدالسید اور ان کی سابق ڈیموکریٹک پرائمری حریف ہیلی اسٹیونز کے درمیان تصادم ہوا، جس کے بعد اسٹیونز نے ان کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کی حمایت کر دی۔ اسٹیونز کو ایک بائیں بازو کے انفلوئنسر کے اشتہار پر اعتراض تھا جس میں ایک جوڑے کو سپر مارکیٹ میں مہنگائی کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے دکھایا گیا تھا۔ عبدالسید نے اس اشتہار کی مذمت کی، جس کے بارے میں ان کی ٹیم کا کہنا تھا کہ اس کا مہم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اس ٹکراؤ نے اسرائیل پر اس تقسیم کو نمایاں کر دیا جو کسی بھی نئی ڈیموکریٹک کانگریسی اکثریت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ترقی پسند ٹرمپ کی اس تبدیلی کو اپنے موقف کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عبدالسید نے منگل کو کہا ’رکی ہوئی گھڑی بھی دن میں دو بار درست وقت بتاتی ہے۔‘ تاہم دوسروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید اکثر یہود دشمنی کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے، جس کا الزام عبدالسید جیسے امیدوار مسترد کرتے ہیں۔

ممکن ہے ٹرمپ اپنے لیے بھی سیاسی کامیابی کے خواہاں ہوں۔ اسرائیل کی امریکی امداد ختم کرنا ٹرمپ کی ’ سب سے پہلے امریکہ‘ کی سوچ اور غیر ملکی ریاستوں کی مدد کے لیے امریکی دولت کے استعمال سے ان کی ناپسندیدگی سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان کی یہ دلیل کہ وہ بچائی گئی رقم خسارہ کم کرنے میں لگائیں گے، کم قائل کرنے والی ہے، کیونکہ ان کے دونوں ادوار میں قومی قرضہ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔

جہاں ترقی پسند غزہ کے انسانی بحران کی وجہ سے اسرائیل سے ناراض ہیں، وہیں ٹرمپ کے دائیں جانب ریپبلکن پارٹی میں بھی اسرائیل مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں، جنہیں بڑی تعداد میں سامعین رکھنے والے انفلوئنسرز اور پوڈکاسٹرز ہوا دے رہے ہیں۔ سی این این کے ڈونی او سلیوان، جو مہینوں سے ٹرمپ کے حامیوں سے بات کر رہے ہیں، نے پایا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ دراصل اسرائیل سے لڑ رہا ہے اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ امریکی تعلقات کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔

جون میں شائع ہونے والے کوئنیپیاک سروے میں 48 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کرتا ہے، 38 فیصد نے کہا کہ حمایت مناسب ہے، اور صرف 7 فیصد نے کہا کہ امریکہ کی حمایت کافی نہیں۔ جنوری 2017 میں کوئنیپیاک کی جانب سے یہ سوال پوچھنے کے آغاز کے بعد سے یہ ان ووٹروں کا سب سے زیادہ تناسب ہے جو سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت کرتا ہے۔

ڈیموکریٹس میں اسرائیل کے بارے میں جذبات کس طرح بدلے ہیں، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اوباما کے وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف اسٹاف رام ایمانوئل، جو 2028 میں صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں، نے اسرائیل کو غیر مشروط امریکی فوجی امداد کے خلاف دلیل دی ہے اور اس سال کے آغاز میں تل ابیب میں ایک تقریر میں ملک کے ساتھ امریکہ کے نئے تعلق کا مطالبہ کیا۔

ایک لحاظ سے، سیاسی طور پر اسرائیل کے لیے یہ سمجھ میں آنے والی بات ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے فوجی فیصلوں اور خریداریوں کو امریکہ کی تفرقہ انگیز اندرونی سیاست سے الگ کرنے کی کوشش کرے۔ وہ کیا خریدے، اس بارے میں اسے اپنے فیصلے کرنے کی آزادی ہوگی، اگرچہ عملاً امکان نہیں کہ وہ یورپی صنعت کاروں کی طرف رجوع کرے، کیونکہ وہاں غزہ پر عوامی غصہ بہت شدید ہے۔ یہ خیال کہ وہ روسی یا چینی سازوسامان خریدے گا، امریکہ کی یقینی مخالفت کے پیشِ نظر بعید از قیاس لگتا ہے۔

لیکن ایسے منظرنامے اسرائیل کے لیے ایک اور دردِ سر کی نشاندہی کرتے ہیں اگر وہ امریکی سیاست میں تنازع کا مرکز بنا رہا۔ صدور غیر ملکی ریاستوں کو اسلحے کی فروخت کی منظوری دے سکتے ہیں؛ قانون ساز انہیں روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن اس معاملے میں ویٹو کو رد کرنے والی اکثریت کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

مگر اسرائیل کے حامیوں کے لیے ایک اور تشویشناک امکان بھی ہے، یہ کہ سیاسی دشمنی کسی بھی جماعت سے ایسا صدر سامنے لے آئے گی جو اسرائیل کی قومی سلامتی کی ضروریات کے لیے ٹرمپ، سابق صدر جو بائیڈن یا ان کے پیش روؤں کے مقابلے میں کم پرعزم ہو۔

جیسا کہ ایمانوئل نے جولائی میں سی این این کے فرید زکریا کو انٹرویو میں کہا، اسرائیل کو اپنے ہی اقدامات کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا’یہ ڈیموکریٹک پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے۔‘

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں