اسرائیلی سیاست دان

اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی کے لیے عرب جماعتوں کا تعاون ناگزیر

·

اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 120 میں سے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ 28 اکتوبر 2026ء کو 85 سے 90 فی صد ووٹوں کی گنتی کے دوران دستیاب نتائج کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ (Likud) کو تقریباً 26 سے 27 نشستیں، جبکہ ان کے اتحادیوں سمیت پورے حکومتی بلاک کو 53 نشستیں ملنے کا امکان تھا۔ اس کے مقابلے میں گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے نیتن یاہو مخالف اتحاد کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں مل رہی تھیں۔ یوں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کی مجموعی نشستیں 67 بنتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یائیر گولان کی جماعت کے سوا حکومت مخالف اتحاد کی بیشتر جماعتیں انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے یا ان کی حمایت لینے سے انکار کرتی رہی ہیں۔ اس لیے عددی اکثریت کے باوجود حکومت بنانا یقینی نہیں۔

ستمبر 2026ء میں اسرائیلی پارلیمان کی انتخابی کمیٹی نے عرب جماعتوں کو دہشتگردی کی حمایت اور اسرائیل کی یہودی شناخت تسلیم نہ کرنے کے الزامات کے تحت انتخابات سے باہر کر دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مسترد کردیا۔ انتخابات کے  دن بھی بعض دائیں بازو کے افراد نے عرب شہریوں کو خطرہ قرار دیتے ہوئے یہودی ووٹروں سے اپنے ملک کو بچانے کی اپیل کی۔حالانکہ عرب  آبادی  اسرائیل کا 20 فی صد  یعنی پانچواں حصہ ہیں۔ آبادی کی اس غیر  معمولی تعداد کی بدولت عرب party joint list کو 12 اور منصور عباس کی قیادت میں عرب متحدہ اتحاد  راعم  کو سات نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس طرح عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں حکومت سازی کے مذاکرات میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملوں میں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے بعد عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی تعاون کی مخالفت مزید بڑھ گئی۔ بہت سے یہودی اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ عرب شہری اسرائیل کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ عرب اسرائیلی سیاست دانوں نے 2023ء کے تشدد کی مذمت کی، لیکن ان میں سے بعض نے حماس کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے گریز کیا، جس سے بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔

عرب شہریوں نے حالیہ انتخابی مہم میں اپنے خلاف نفرت انگیز مہم کا جواب بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر دیا۔ اپوزیشن اگر عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ  کرے تو  صدر اسحاق ہرزوگ (Isaac Herzog)  پہلے سب سے بڑی جماعت لیکوڈ(Likud) کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر اپوزیشن جمہوریت کا تحفظ اور نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہے تو اسے انتخابی اکثریت کو مؤثر حکومتی اتحاد میں بدلنا ہوگا۔

ایک امکان اس بات کا بھی ہے کہ نیتن یا اور گادی آئزن کوٹ باہمی اختلافات بھلا کر  قومی حکومت بنائیں۔ لیکن یہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اگر تینوں صورتوں میں سے کوئی صورت نہ بنی تو نئے انتخابات کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں