علامہ اقبال

افکار ِاقبال کا احیا

·

 علامہ محمد اقبالؒ کوبرصغیر پاک و ہند کے فکری رہنما اور علمی پیشوا کی حیثیت سے اور بطور شاعر تو سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ درحقیقت علامہ اقبال کی تعلیمات پوری امت مسلمہ کے لیے رہنما ہیں۔ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ جب برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز اور ہندو سے آزادی حاصل کی اور پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لیے اپنی جدوجہد کا آغازکیا تواس کے اثرات پورے عرب وعجم پر پڑے اور کئی مسلم ریاستوں کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کومہمیز ملی۔

علامہ اقبالؒ کے خواب کی مجسم تعبیر ’پاکستان‘ ہے۔ مگر اس خطہ ارضی پر اقبالؒ کے تصورات و نظریات کے بالکل برعکس ایک ایسا سیاسی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جوکہ نہ تو جمہوری ہے نہ پارلیمانی، نہ اسلامی وفلاحی،یہ صرف پاکستان کا المیہ نہیں بلکہ اس وقت پوری امت مسلمہ، شیعہ،سنی،عربی وعجمی،نسلی و لسانی تعصبات کا شکار ہے۔ جمہوریت کے بارے میں ذہنی انتشار کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی مسلم ملک کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں واقعی سلطانی جمہور اور فرد کی آزادی کا تصور موجود ہے، مسلم ممالک آپس میں لڑ رہے ہیں اور ان کے قیمتی وسائل باہمی نفاق کی وجہ سے دشمن کے زیر تصرف آرہے ہیں یا عیش و عشرت،فضول خرچی کی نذر ہورہے ہیں۔ علامہ کا تصور یہ تھا کہ عالم عرب اپنا اتحاد قائم کرے اور عجم کے ممالک ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں، باہم مل جل کر سب ایسے نظام کا تجربہ کریں جو اسلام کے ابدی پیغام اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ روحانی جمہوریت کا جو تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا وہ پاکستان (اس خطہ ارضی میں جو اسی مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا) میں بھی پروان نہیں چڑھنے دیا گیا۔ بلکہ اس پہ پنجہ استعمار کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر اسی لیے ہونے دی گئی کہ یہی تو ’اتحاد امت مسلمہ‘ کی بنیاد بن سکنے کی صلاحیت رکھتا تھا،(جغرافیائی اور نظریاتی مسلمہ حقائق کی روشنی میں)۔

مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اسلام کا نام بھی لیتے ہیں اور لادینی نظام کو پروان بھی چڑھاتے ہیں۔پاکستان کی بقاء سارے اسلامی ملکوں کی بقا ہے۔’اسلام کا قلعہ‘ کہلوانے کا اعزاز اسی وقت برحق ہوگا جب تعلیمات اقبال پر خوشدلانہ،حسن نیت کے ساتھ عملدرآمد ہوگا۔ علامہ اقبالؒ کی ساری تعلیمات قرآن و سنت کی تشریح ہیں۔ سارے افکار قرآنی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ ان کی فکر امت کے اتحاد اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ سے عبارت ہے۔

ایران کے خامنہ ای کا تو یہ دعویٰ ہے کہ امام خمینی کا اسلامی انقلاب، اقبالؒ کی روح پروراور جوش و جذبے سے معمور فکر کا نتیجہ ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے کلام اقبال کو قومی سطح پر نظر انداز کرکے اور عوامی سطح پر محض قوالوں، گانے والوں کے حوالے کرکے اس کو سطحی نظر سے دیکھنے کا عادی بنادیا ہے۔

قرآن حکیم نے ایک مثالی مومن کاجو نقشہ پیش کیا ہے وہی مرد مومن اقبال کو مطلوب ہے۔ مثالی مومن اپنی خوبیوں میں ارتقاء کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ عوام اس کو اپنا لیڈر اور حکمران چن لیتے ہیں۔ اقبال کامثالی حکمران وہی سیرت رکھتا ہے جو  کہ سیرت رسولؐ سے اخذ کی جاتی ہے۔ علامہ اقبال نے پہلی خوبی جوایک مثالی حکمران کی اپنے کلام میں پیش کی وہ ہے پابند الٰہی

تقدیرکے پابند جمادات و نباتات

مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند

علامہ اقبال کی طویل نظم’طلوع اسلام‘ میں بہت خوبصورتی سے مرد مومن کا نقشہ بیان کیاگیاہے۔

کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازوکا

نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

علامہ اقبالؒ کی نظر میں کسی دنیاوی و فاتح کو آئیڈل بنانے کا رجحان موجود نہیں ہے۔ قرآن ہی اول وآخر اس کا مشیر ورہنما ہے، اسی کا ہاتھ پکڑ کر وہ اپنے مسائل کی پرخار وادیوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

ساتھ ہی سیرت محمدیؐ کی تقلید، عشق محمدؐ کی تاثیر کا اظہار کرتے ہیں۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمدؐ سے اُجالا کردے

اقبالؒ کا مرد مومن، مثالی حکمران ایک متحرک سوچ اور دوررس نگاہ رکھنے والا ہوتا ہے۔جدید تقاضوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرناہویا وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوتو وہ وسیع النظر ہوتا ہے۔ اپنے مقصد پہ مکمل توجہ کے ساتھ ساتھ  وہ وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔

آئین نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کردی کہ عقل وشعور کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ آوازۂ تجدید

مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ

اسی بات کو امت مسلمہ نے نہ سمجھا اور ’تقلید فرنگی‘ کے سارے بہانے انفرادی و اجتماعی طورپر’کردارکی کمزوری بنتے چلے گئے اور اس میں ہر آنے والا وقت اضافہ کرتا جارہا ہے‘۔ ’اللہ کی رسی‘ سے گرفت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی۔ حالانکہ اقبالؒ کی بصیرت تو اس کی منتظر تھی کہ

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

اور میر کارواں کے لیے مزید ان کی دلی خواہش کی ایک تصویر ہے۔

اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دلفریب، اس کی نگہ دل نواز

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو

رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

آج ہمیں پاک دل و پاک بازمرد مومن کی تلاش ہے۔ جس کے بارے میں اقبال کہتے ہیں۔

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم

جہادزندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

آج کے حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے یہ نصیحت

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ وپیوند

بتانِ وہم و گماں لاالہ الا اللہ

 قومی غیرت کو خاک میں ملانے والے حکمرانوں سے علامہ اقبالؒ مخاطب ہیں۔

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احسان

سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

مزید غیرت دلا رہے ہیں۔

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیداکر

کشکول لے کر پھرنے والو! اقبال کے خوابوں کی تعبیر کو زندہ رکھو۔؎

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

اے حاکم وقت اپنی قوم کے جوانوں کو اقبال کا سبق یاد کراؤ۔ محض اس کے کلام کو قوالوں کے حوالے کرکے اپنے فرض کی ادائیگی مکمل نہ سمجھو۔ جوانوں کے بارے میں علامہ اقبال کی دعا ہے اور حکمران وقت کو احساس دلارہے ہیں جوانوں کے تعمیر افکار کا۔

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت

دے ان کو سبق خود شکنی خود نگری کا

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی

دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

 عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلہ انتشار بنتا ہے۔دکھوں اور مسائل کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے اور حکمرانوں کے مظالم، بے حسی، بدنیتی،سزاصرف آخرت پہ موقوف نہیں ہوتی۔ مکافات کاعمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے۔عوام کے حقوق غصب کرنے والے اور بنیادی ضروریات زندگی سے غفلت کرنے پر سزا کا احساس دلا رہے ہیں۔

مگر گزرے حکمرانوں کو اور موجود حکمرانوں کے اس بات کا شعور ہی نہیں ہے کہ وہ زندگی نہیں گزار رہے، سزا کاٹ رہے ہیں۔اس لیے کہ ان کو بصیرت وہ نگاہی ہی نصیب نہیں اور یوں وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ جان لینا بھی عقلمندوں کا کام ہے کہ وہ کون سے گناہ کی کیا سزا کاٹ رہے ہیں؟

جہاں بانی سے دشوار تر کار جہاں بینی

جگر خوں ہوتو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

علامہ اقبال نے جو افکار اپنے کلام میں پیش کئے ان میں عشق، شراب، مینا وجام وغیرہ کو جن معنوں میں استعمال کیا، سطی نظر، سطحی سوچ اور پست ذہنیت والوں کو اس میں کچھ اور ہی مستی نظر آتی ہے۔ان بد مست لوگوں کو علامہ اقبال کا پیغام ہے۔؎

حذ راے چیرہ دستاں، سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

سارا کلام اقبالؒ اک نئے ولولے اور درست تفہیم کے ساتھ پھیلانے کی ضرورت ہے جوانوں کو اقبال کا یہ پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہر مؤثر ذریعہ ابلاغ پر ہے۔

تورازِکن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خودی کارازداں ہو جا، خدا کا ترجمان ہو جا

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سرِ زندگانی

نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

علامہ اقبالؒ کے کلام یا پیغام کو کسی مضمون میں قلمبند کرنا ممکن نہیں۔ یہ تو سمندر ہے جس میں اترنے پر بھی اس کی گہرائی کا سرا نہیں ملتا۔ایک آفاتی والہامی شاعر نے اپنا کام بخوبی انجام دیا امت مسلمہ کو بھولا ہوا سبق یاددلانے کے لیے۔ اب یہ سوچنا ہمارا کام ہے کہ اس ذمہ داری کوادا کرنے میں خود کتنا حصہ ڈالا۔

یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے

 جو ہے راہ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے

٭٭٭

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔