Imam Hussain

فکر حسینؓ 

·


فکر حسین ایک ایسے ابدی شعور کا نام ہے جس سے انسان تو کیا کائنات کے ذرے ذرے نے فکری بلندی حاصل کی ہے۔ مفکرین اور مصلحین کے نزدیک فکر حسین ایک ایسی بلند پایہ سوچ ہے جس نے انسانی شعور کو بلندی عطا کی ہے، علمائے حق نے فکر حسین کو انسانی شعور کی بلندی کے لیے سرچشمہ ہدایت تصور کیا ہے، اہل معرفت کے نزدیک شہادت امام حسین فنا فی اللہ اور بقا بی اللہ کا ایک عظیم نمونہ ہے جس میں امام عالی مقام نے دین حق کی سر بلندی اور سرفرازی کے لیے اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ دے کر  فنا فی اللہ کا مقام حاصل کیا اور پھر اس عظیم شہادت کے نتیجے میں ایسی ابدی زندگی حاصل کی جو زمان و مکاں کی حدود سے ماورا ہے، اس طرح آپ نے بقا بی اللہ کا وہ مقام بھی حاصل کر لیا جس نے آپ کو جنت کے نوجوانوں کی سرداری عطا کر دی اور آپ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

مولانا روم کے مطابق فکر حسین غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو یہ شعوری بیداری عطا کرتی ہے کہ اٹھو اور افکار حسین کی روشنی میں جہاں جہاں باطل قوتیں ہیں ان سے ٹکرا جاؤ اور حق کا علم ہمیشہ کے لیے بلند کر دو ، اور کفر کے اندھیروں کو حق کی شمع جلا کر روشنی میں بدل دو ۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ فکر حسین ایک اعلیٰ اور ارفع سوچ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کا نام ہے جو تمام عالم کے انسانوں کو ایسی ہمت اور جرات و بہادری عطا کرتی ہے کہ انسان وقت کے یزید سے ٹکرا جاتا ہے۔

علامہ اقبالؒ کے مطابق فکر حسین  مسلمانوں کو ایسا فلسفہ حیات عطا کرتی ہے جو ملت اسلامیہ کی بیداری میں اہم کردار عطا کرتا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:  

اللہ اللہ ھائے بسم اللہ پدر 

معنی ذبیح عظیم آمد پسر  

اقبالؒ نے خوبصورت شعری انداز میں بیان کیا ہے کہ والد یعنی حضرت علیؓ بسم اللہ کے اسرار و رموز کے امین ہیں اور فرزند یعنی حضرت امام حسینؓ ذبیح عظیم کے حقیقی وارث ہیں جنہوں نے اپنی جان کی قربانی سے نبی کے دین کو سربلندی اور سرفرازی عطا کی۔ اقبالؒ نے اس عظیم پیغام کو ایک اور انداز میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم   

نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل   

اس شعر میں اقبالؒ نے قربانی کی عظیم تاریخ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تک نہایت خوبصورت انداز سے جوڑتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ حضرت اسماعیل  کی روحانی قربانی کا تسلسل شہادت امام حسین کی صورت مکمل ہوا ہے۔ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کا مرکز بھی فکر حسین ہے جس میں انہوں نے انسان کو اپنے اندر کی روحانی طاقت کو پہچان کرعظمت کردار کےحصول کے لیے ایک جدوجہد سے تعبیر کیا ہے۔

اقبالؒ فرماتے ہیں کی خودی جرات، بہادری، حق اور سچائی کی ایسی حسینی طاقت ہے جو ظلم، جبر، استحصال اور بے لگام طاقت و رعونت جیسی یزیدی سوچ سے ٹکرانے کی ہمت اور طاقت عطا کرتی ہے، اور فکر حسین اسلامی اقدار کو پامال ہونے سے بچانے کے لیے ایسی جدوجہد کا راستہ اپنانے کی تلقین کرتی ہے جس میں جان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ فکر حسین آج کے نوجوانوں کو ایسا مقصد حیات عطا کرتی ہے کہ وہ حق کے لیے ایسی جدوجہد کا راستہ اختیار کریں جس میں مشکلات و مصائب ان کے مقصد کے حصول میں رکاوٹ نہ بنیں۔

الغرض فکر حسین  ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جسے اگر ہم اپنی زندگیوں میں اپنا لیں تو اس سے نہ صرف ہم اپنی انفرادی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ ہماری اجتماعی زندگیوں میں بھی ایسا انقلاب آ سکتا ہے کہ پورا معاشرہ اصلاح اور ترقی کی راہ پہ گامزن ہو سکتا ہے۔

آئیں! یہ عہد کریں کہ ہم فکر حسینؓ سے ایسی فکری راہنمائی حاصل کریں گے کہ حق کی سربلندی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہمیشہ عملی جدوجہد کا راستہ اپنانے کو ترجیح دیں گے اور اسلامی اقدار کی بقا کے لیے اسوہ حسین کو مشعل راہ بناتے ہوئے انسانیت کا استعارہ بنیں گے اور یزیدیت کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور دین کی سربلندی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، کیونکہ یہ جو دین ہمیں ملا ہے یہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی عظیم قربانی کا صدقہ ہے، بقول شاعر

صدق و صفا میں یکتا ہے درجہ حسین کا         

اسلام کی بقا بھی ہے صدقہ حسین کا          

اللہ ہمیں فکر حسین سے ایسی فکری بلندی عطا فرمائے کہ ہم شعور کی منزلیں طے کرتے ہوئے انسانیت کی معراج تک پہنچ سکیں، اور در حسین سے ملنے والی شعور کی خیرات کو خیر کثیر کے طور پر ہر ایک میں بانٹ سکیں۔ آمین                                 

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔