Students protest near National press club Islamabad

گھپ اندھیرے میں روشن بہار کے امکاں

·


ملک بھر میں طلبہ نے اہل کشمیر سے یکجہتی کا مظاہرہ کر کے سیاسی جماعتوں پر ایک گونہ سبقت حاصل کر لی ہے۔ یوں تو سرگرمی اور تحرک میں فرق ہے اور اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔۔۔۔مگر میری نگاہ میں یہ بات یوں بھی اہم ہے کہ بہت عرصے بعد طلبہ نے ایک اہم قومی مسئلے پر نسبتاً بیداری کا ثبوت دے کر اس قبرستان سی خاموشی میں مدھم اور مدھر ہی سہی ایک آواز تو بلند کی ہے۔

ہمارے ملک کی تاریخ میں کچھ ایسے مواقع موجود رہے ہیں کہ جب ایسا ہی سناٹا، ایسی ہی خاموشی تھی۔ یونہی دیواریں کان لگا کر بند کمروں کی باتیں تک سن لیتیں، یونہی کچھ مہیب سائے ساتھ پیچھا کرتے، ایک خوف ساتھ چلتا اور ہر اختلاف قابل تعزیر جرم ہوا کرتا تھا۔ بالکل ایسے ہی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت بھی غیر اہم اور غیر موثر بلکہ غیر ضروری ہوچکی تھی جیسا کہ آج ہے۔ ایسے میں طلبہ نے قوم کو جمہوریت کی راہ دکھائی۔

 دیکھا جائے تو 1956 کی تحریک محض بائیں بازو اور کمیونزم کی چھاپ لگ جانے کی وجہ سے کچھ بدنام ہو گئی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر سرور اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں چلنے والی وہ تحریک واقعتاً ایک جینون تحریک تھی جس کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات رہے۔ اس تحریک پر وسیع تحقیقی اور ادبی ذخیرے کے علاوہ ڈاکٹر سرور کی صاحبزادی اور معروف صحافی بینا سرور نے ’عشاق کے قافلے‘ کے عنوان سے ایک اچھی ڈاکومنٹری بنائی ہے جو دیکھنے والوں کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہو گی۔

 پھر 1967 – 68 میں گارڈن کالج، راولپنڈی سے اٹھنے والی طلبہ تحریک جو آگے چل کر قومی تحریک بنی اور ایوب خان کے استعفے پر منتج ہوئی۔ پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، عبدالسلام زینی اور نہ جانے کتنے لیڈر اسی تحریک کی دین تھے۔ ہمارے احباب میں سید وسیم احمد زیدی اس وقت فعال اور متحرک تھے وہ اس پر تفصیل سے بتا سکتے ہیں۔

آخر، آخر 80ء کی دہائی میں ضیاء آمریت کے خلاف ایم۔آر۔ڈی تو کچھ ہی دن میں اندرون سندھ کی چند تحصیلوں میں ناکام طبع آزمائی کے بعد تھک ہار کر بیٹھ گئی تھی۔ یہ طلبہ ہی تھے جو کچھ کھٹ پٹ کرتے اور جمہوری اقدار کی کچھ رمق انہی کے دم قدم سے قائم تھی اگرچہ اس میں بھی وہ گذشتہ دہائیوں والی بات نہ رہی تھی۔

مگر اس کے بعد سے اب تک تو بقول جون ایلیاء کے  سب شام و سحر خیر خیریت ہی رہی ہے۔

ایک ذرا سنجیدہ کوشش 2007ء میں قائد اعظم یونیورسٹی میں مشرف آمریت کے خلاف ہمارے مہربان اعظم خان اور ڈاکٹر عالیہ کی مشترکہ قیادت میں چلنے والی تحریک میں نظر آئی مگر وہ تحریک آغاز سے پہلے ہی اختتام کو پہنچ گئی۔۔۔۔۔کیوں؟؟؟ یہ تو اعظم بھائی ہی بتا سکتے ہیں مگر وہ اکثر کہانی کا یہ حصہ گول کر جاتے ہیں۔

خیر جانے دیجیے کہاں دور ماضی میں الجھ گئے، آج کی بات کرتے ہیں۔

صورتحال آج بھی اتنی ہی گمبھیر ہے یا شاید کچھ زیادہ۔ وہی خوف کا پہرہ، وہی موت کا سناٹا، وہی فکر و فن کی خاموشی اور وہی ضمیر کی سرگوشی۔

ایسے میں آج طلبہ کا معقول تعداد میں یوں نکلنا اور مظاہروں کا ہو جانا ہی غنیمت ہے۔

سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں؛ "الف” سے "ب” اور "ب”  سے "ج” اور "ج” سے "ن” تک کسی نہ کسی حوالے سے  compromised ہیں اسی لیے عوام میں اپنا اعتماد کھو چکی ہیں۔ اس پر قدرے تفصیل سے ہم نے اپنی گزشتہ تحریر میں لکھا تھا۔

میڈیا؛ تو خیر رہنے ہی دیجیے!!!

کچھ امید سول سوسائٹی سے ہو سکتی تھی مگر سول سوسائٹی؛ اس ملک میں کبھی پنپ ہی نہیں سکی۔۔۔ وجوہات: وہی دیہی معاشرت، متوسط طبقے کا بہت محدود ہونا، سماج کا اقتصادی ڈھانچہ۔۔۔۔ اور بھی کچھ وجوہات ہوں گی مگر ان پر پھر کبھی بات کریں گے۔

پس اب اگر کچھ امید باقی ہے تو وہ صرف دو طبقات سے ہے۔ ایک وکلا اور دوسرے طلبہ۔

بار اور بینچ کی اصطلاح ویسے بھی معروف ہے مگر بینچ عدالت والا نہیں کلاس روم والا۔

گرچہ طویل سکوت اور عدم تحرک کی وجہ سے قوم کی طرح طلبہ کا crisis بھی لیڈرشپ کا ہے۔ نہ تو کارکنان کا تربیت یافتہ کیڈر دستیاب ہے اور نہ ہی ویسی آزمودہ قیادت پھر طلبہ تنظیموں میں درکار بالغ نظری بھی کچھ کم کم ہی ہے!!! مگر یہ کمی بھی تو اسی تحرک اور تحریک کے ذریعے ہی پوری ہو  سکتی ہے۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ قیادت تحریک کی لہروں پر سوار ہو کر نمودار ہوتی ہے۔

لہذا آج کے مظاہرے ایک مثبت عندیہ تو ضرور ہیں مگر ان سے اس مرحلے پر بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرنا کچھ قبل از وقت ہو گا۔ تحرک میں تسلسل بھی اب تک ایک سوالیہ نشان ہے اور نہ ہی پاکستان کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل قریب میں بنگلہ دیش اور بھارت جیسے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مگر گھپ اندھیرے اور سرد خزاں میں موہوم اور مدھم ہی سہی:

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں۔

مضمون ختم ہو چکا مگر جب ایک دوست کو پڑھنے کیلیے بھیجا تو انہوں نے فیض اشعار کی فرمائش کی؛ ان کی نذر:

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں

 اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں

گوشے رہِ چمن میں غزل خواں ہوئے تو ہیں

(فیض)

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔