کرنک کا اوپن ایئر میوزیم

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (7)

·

ہم تقریباً چار گھنٹے تک کرنک کے اوپن ایئر میوزیم میں تپتی دھوپ میں حیران ہونے کے بعد تھک ہار کر ایک دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھے، تو ہمیں اپنے پیچھے ایک پرسکون اور خوبصورت جھیل نظر آئی جو اس ہیبت طاری کر دینے والے ماحول کی خوبصورتی اور پراسراریت میں اضافہ کر رہی تھی۔ بقولِ شاعر:

ایسا سکوت، جی پہ تقریر بھی فدا ہو

حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے اس مندر کے دیگر حصوں میں سیاحوں کا رش ہونے کے باوجود یہاں ایک عجیب سا سکون، ٹھنڈک اور خاموشی تھی۔ اس کا پُرکیف سکوت دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا تھا کہ بس چند قدم کے فاصلے پر ہی سیاحوں کا جمِ غفیر موجود ہے۔

قیاسِ اغلب ہے کہ یہ مقدس جھیل دریائے نیل سے ہی نہر کاٹ کر بنائی گئی ہوگی اور اس کا پانی دیگر کاموں کے علاوہ مذہبی رسم و رواج کے دوران استعمال ہوتا ہو گا۔ اس کی توثیق انٹرنیٹ پر موجود ایک ٹورسٹ گائیڈ نے بھی کی، باقی واللہ اعلم! کیا عجب شاہی محل کے کنارے ایسی ہی کوئی جھیل ہو جہاں حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کو وہ بچہ ایک ٹوکری میں تیرتا ہوا ملا ہو جسے دنیا موسیٰ علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے۔

زیرِ نظر سطروں کی تحریر سے پیشتر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کرنک کے احاطے میں واقع اس پرسکون اور خوبصورت جھیل کو 18 ویں شاہی خاندان کے فرعون تھتموس سوم (Thutmose III) کے دور میں باقاعدہ تراش کر اور پتھروں کی دیواریں اٹھا کر بنایا گیا تھا، جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ یہ جھیل دراصل زیرِ زمین پانی کی سطح سے سیراب ہوتی ہے جس کا بنیادی ذریعہ دریائے نیل ہی ہے۔ قدیم دور میں فرعون اور کاہن (Priests) مذہبی تہواروں اور عبادات سے پہلے اس جھیل کے پانی سے غسلِ صحت (پاکیزگی کی رسم) ادا کرتے تھے اور مقدس کشتیاں اس میں تیرائی جاتی تھیں۔

جہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ٹوکری میں ملنے کا تعلق ہے، تو ماہرینِ مصریات کی غالب اکثریت کا خیال ہے کہ اس وقت فرعون کا دارالحکومت اور حضرت موسیٰؑ کی پیدائش کا مقام شمالی مصر میں تھا۔ تاہم، ہم کوشش کے باوجود اپنی پروازِ تخیل کو لگام نہیں دے سکے۔

سیاحتی ویب سائٹس پر دی گئی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے منرل واٹر کی اچھی خاصی بوتلیں ہمارے ہینڈ کیری میں موجود تھیں، جنہیں ہم بچوں کے ساتھ تاریخی مقامات پر اپنے ساتھ رکھنے کے عادی تھے۔ نومبر کے مہینے میں بھی دھوپ بلا کی تیز تھی اور لو سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا انتہائی ضروری تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر تاریخی مقامات مثلاً اردن اور فلسطین کی سیاحت کرنے والوں کے لیے بھی یہی مشورہ ہوتا ہے۔

ہم اس چوکھٹ کے سائے کی ٹھنڈک میں کچھ دیر سستائے، بچوں کو سینڈوچ اور کیلے کھلائے، اور خود بھی پیٹ کی آگ کو کچھ سرد کرنے کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس دفعہ ہم اس بت خانے میں نماز کے لیے جگہ کے متلاشی تھے تاکہ اس عجوبۂ روزگار جہان کے خالق کا کلمہ بلند کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمر کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (1)

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک(2)

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمر کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (3)

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (4)

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (5)

ایک مصری گارڈ جو ہمارے حلیے اور بات چیت سے پہلے ہی سمجھ چکا تھا کہ ہم پاکستانی اور مسلمان ہیں، ہماری درخواست پر ہمیں وضو کے لیے مندر کے پیچھے بنے ہوئے باتھ رومز تک لے گیا۔

یہاں آنے والے بیشتر سیاح مغربی ممالک یا مشرقِ بعید سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن مصری بھی بڑی تعداد میں ظہر کے بعد نظر آئے۔ سو ایکڑ پر پھیلے ہوئے اس اوپن ایئر میوزیم میں مصری حکومت کی طرف سے نماز کے لیے کوئی مناسب جگہ موجود نہیں تھی۔ طوعاً و کرہاً ہم نے اور حسن نے ایک چبوترے پر باری باری نماز ادا کی جہاں گارڈز (جو زیادہ تر مسلمان ہوتے ہیں) نماز ادا کرتے ہیں، اور خدا کا شکر ادا کیا۔

نماز کے بعد وہ گارڈ ہمیں اصرار کر کے مندر کے ایک اور حصے میں لے گیا جو کرنک سے ہی ملحق تھا اور اس کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ یاد رہے، کرنک کے چار بنیادی حصوں (جن کا کچھ حصہ زیرِ زمین تہ خانے میں بھی ہے) میں سے صرف ایک ہی سیاحوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ غالباً یہ بھی بند حصوں میں سے ایک تھا جو گائیڈ کی مہربانی سے ہم دیکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مہربانی کی اضافی قیمت کوئی 50 مصری پاؤنڈ تھی۔

دھوپ کی تمازت اب کم ہو چکی تھی، دوپہر ڈھل چکی تھی، یہ حصہ بھی کسی چھت سے ڈھکا ہوا نہیں تھا لیکن دیواروں کی وجہ سے یہاں سایہ اور ٹھنڈک تھی جو بھلی محسوس ہو رہی تھی۔

اس حصے کی تعمیرات میں الاباسٹر (Alabaster) نامی سنگِ مرمر استعمال ہوا ہے جو اقصر کے آس پاس آج بھی کثرت سے نظر آتا ہے۔ الاباسٹر اور کالے گرینائٹ سے بنے ہوئے فراعنہ کے مجسموں اور دیگر نوادرات کی نقلیں (سووینئرز) تمام علاقے میں بہت مناسب، بلکہ سستی قیمت پر دستیاب تھیں۔ اس کا اندازہ ہمیں قاہرہ پہنچنے کے بعد ہوا۔ لیکن ان میں زیادہ تر نقلیں خدائی کے دعویدار فراعنہ کی تھیں جنہیں گھر میں لانے اور سجانے کو چاہتے ہوئے بھی طبیعت نے گوارا نہ کیا، کیونکہ اس دور میں ہمیں ان مجسموں کی گھر میں موجودگی سے اپنا ایمان خطرے میں پڑتا دکھائی دیتا تھا! (یہ دوسری بات کہ کچھ سالوں بعد ہم نے ٹیکسلا سے بدھا کے دو مجسمے خریدے، گو صاحب کے ڈر سے ابھی تک انہیں شوکیس کرنے کی ہمت نہیں ہوئی!)۔

اس حصے کی تعمیرات کرنک کی دیگر عمارتوں کے مقابلے میں کچھ جدید اور زیادہ نزاکت سے تراشی گئی تھیں، جن میں خاتون فرعون حتشپسوت کا بنوایا ہوا ایک مختصر سا عبادت خانہ بھی شامل تھا جو سرخ اور کہیں کہیں سیاہ گرینائٹ سے تعمیر ہوا تھا۔

حتشپسوت پہلی خاتون حکمران تو نہیں تھیں، لیکن وہ تاریخ کی پہلی ایسی خاتون فرعون تھیں جنہوں نے نہ صرف 20 سال تک مکمل سیاسی اور مذہبی اختیارات کے ساتھ مصر پر حکومت کی، بلکہ ان کا دورِ حکومت معاشی خوشحالی، عظیم الشان تعمیرات (جیسے ان کا مشہور مندر دیر البحری) اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات کی وجہ سے قدیم دنیا کا سب سے کامیاب دور مانا جاتا ہے۔

کرنک کے اسی خوبصورت الاباسٹر مندر میں کھڑے ہو کر جب انسان  حتشپسوت کی داستان پر غور کرتا ہے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا دور اقتدار قدامت پسند فرعونی مصر میں کس قدر غیر معمولی تھا۔ بطورِ خاتون جب اس نے اپنے نوعمر سوتیلے بیٹے (تھتموس سوم) کی جگہ مصر کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی اور خود کو ایک مکمل فرعون کا درجہ دیا، تو اسے شدید سیاسی اور مذہبی عناصر کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ 

فرعونی روایات میں ایک عورت کا یوں اقتدارِ اعلیٰ پر فائز ہونا کاہنوں اور فوجی طاقتوں کی نظر میں کائنات کے مذہبی نظام میں خلل کے مترادف تھا۔ اس صنفی عناد پر قابو پانے کے لیے اس نے شاہی مجسموں اور کتبوں میں مردانہ لبادہ، فرعونی داڑھی اور روایتی القابات اختیار کیے تاکہ اپنی حکومت کا لوہا منوا سکے۔

تاريخ کے اس موڑ پر کھڑے ہو کر اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا جرات مندانہ معاشی نقطہ نظر معلوم ہوتی ہے۔ اپنے دور کے دیگر جنگ جو فراعنہ کے برعکس، جنہوں نے خونریز جنگوں پر وسعت اور وسائل ضائع کیے، حتشپسوت نے تجارت اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کی۔ اس نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایک کھلی تجارتی پالیسی متعارف کروائی اور بین الاقوامی تعلقات کو امن کی بنیادوں پر استوار کیا۔ آج کے دور میں اسے Trade Liberalization کی پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ یاد رہے لبرلائزیشن اور رئیل ازم آج کی دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کے دو اہم مکتب فکر ہیں۔ ایک تجارت اور ڈپلومیسی کے ذریعے جبکہ دوسرا (رئیل ازم) جنگوں کے ذریعے طاقت حاصل کرنے اور معاملات نمٹانے کا قائل ہے۔

اس کا سب سے اہم تاریخی معرکہ لسانِ افریقہ پر واقع پراسرار اور دولت مند ملک ‘ پنٹ‘ (Land of Punt) کے ساتھ کیا جانے والا عظیم تجارتی معاہدہ تھا، جس نے مصری معیشت کی کایا پلٹ دی۔

اس تجارتی قافلے کی سب سے نایاب اور اہم کامیابی پنٹ سے نہ صرف سونے، ہاتھی دانت اور آبنوس کی آمد تھی، بلکہ لوبان اور مرمکی (Myrrh) کے زندہ درختوں کو جڑوں سمیت مصر لانا تھا۔ حتشپسوت کے کارندے مر مکی کے 31کے قریب یہ مقدس درخت کامیابی سے لا کر دیر البحری میں واقع اس کے عظیم مندر کے چبوتروں پر اگانے میں کامیاب ہوئے، جو تاریخ میں کسی دوسری سرزمین سے پودوں کی منظم منتقلی کا پہلا دستاویز شدہ واقعہ بنا۔ 

کرنک کے اس سحر انگیز احاطے میں کھڑے ہو کر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا یہ امن پسند اور تجارتی ماڈل اسے دورِ فراعنہ کی تاریخ میں محض ایک فرعون نہیں، بلکہ بین الاقوامی معیشت کے ایک عظیم معمار کی حیثیت دیتا ہے۔

لیکن اسی خانوادے کے ایک اور فرعون کی داستان اخناتن کی داستان ہمیں سب سے زیادہ دلچسپ لگتی ہے،  جو فراعنہ کی معلوم تاریخ میں واحد فرعون ہے جو صرف ایک خدا کی عبادت کرتا تھا۔

اب کارنک سے واپسی کا وقت آ گیا ہے لیکن آپکو اخناتن کا قصہ سنانے کے لیے جی بہت بے قرار ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں