روشِ قضائے الٰہی کی ہے عجیب و غریب
ایک خدا کی عبادت کرنے والا فرعون
خاتون فرعون حتشپسوت کے خانوادے کے ایک اور فرعون اخناتن کی داستان، جو ان کے سو سال بعد اقتدار میں آیا، ہمیں سب سے زیادہ دلچسپ محسوس ہوئی۔ یہ فراعنہ کے تین ہزار سالہ دورِ حکومت میں غالباً واحد معلوم فرعون تھا جس نے تمام مصری دیوی دیوتاؤں کو مسترد کر کے ایک خدا کی عبادت شروع کی۔
اس فرعون کو مغرب میں کتنی مقبولیت حاصل ہے، اس کا اندازہ آپ اس امر سے لگائیں کہ ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ ہوں یا ‘کوئن آف کرائم فکشن’ کہلانے والی برطانوی ناول نگار اگاتھا کرسٹی، دونوں نے اپنی کتابوں میں اسے موضوع بنایا۔
اس کا تعلق ہتشسپوت آور تھموسس سوم کی طرح اٹھارویں خانوادے سے تھا جو فراعنہ میں طاقت ور ترین خاندان مانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے دور میں ہی شمالی یا زیریں مصر سے ہکسوس سلطنت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ پھر یاد دلا دیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام جس دور میں مصر لائے گئے، ماہرین کے مطابق شمالی مصر یعنی موجودہ قاہرہ کے ارد گردعلاقے پر ہکسوس حکمرانوں کا کنٹرول تھا جنھیں قرآن فرعون نہیں بلکہ بادشاہ کہہ کر پکارتا ہے۔ انہی کے دورمیں بنی اسرائیل مصر منتقل ہوئے۔
اس خاندان کے ابتدائی فراعنہ نے افریقہ اور مغربی ایشیا میں غیر معمولی فوجی فتوحات حاصل کیں۔ ملکہ حتشپسوت اور خصوصاً اس کے جانشین تھتموس سوم کے عہد میں فلسطین، شام اور نوبیا (موجودہ سوڈان) مصر کی باج گزار ریاستیں بن گئیں، جبکہ مصر کا اثر و نفوذ دریائے فرات تک پھیل گیا۔ ان مفتوحہ علاقوں سے سونا، دیودار کی لکڑی اور دیگر قیمتی اجناس خراج کی صورت میں مصر پہنچنے لگیں، جس سے سلطنت بے مثال خوش حالی سے ہم کنار ہوئی۔
اسی دور میں مصر کے روابط شام و فلسطین کی مختلف اقوام سے وسیع ہوئے۔ بعض محققین نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ اخناتن کی توحیدی اصلاحات پر مشرقی سامی مذہبی تصورات، یا ممکنہ طور پر بنی اسرائیل کی موجودگی نے کسی حد تک اثر ڈالا ہو، لیکن اس مفروضے کے حق میں کوئی قطعی تاریخی یا آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود نہیں۔
اخناتن کا باپ امنحوتپ سوم بھی اس لحاظ سے دوسرے فراعنہ سے مختلف تھا کہ اس نے اس دور کے مروجہ دستور کو چھوڑ کر اپنی بہن سے شادی کرنے کے بجائے ایک عام عورت سے شادی کی اور اسے دربار میں اپنے برابر کا رتبہ دیا۔
اخناتن نے اقتدار سنبھالا تو وہ خود بھی اس زمانے کے مقبول ترین دیوتا ‘آمون’ کی عبادت کرتا تھا، مگر اس نے اپنے اقتدار کے پانچویں سال کرنک میں تمام دوسرے خداؤں کی عبادت کو ممنوع قرار دے دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اقتدار میں آتے ہی کرنک میں آمون کے جس مندر کی تعمیر کروائی تھی، اسے بعد ازاں ایک خدا—جس کا نام ‘آتن’ بتایا جاتا ہے—کی عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا۔ اس نے اپنا نام بھی تبدیل کر کے اپنے واحد خدا آتن کے نام پر ‘اخناتن’ رکھ لیا۔ اگر آتن کو خدا مان لیا جائے تو اس نام کا مطلب ‘خدا کا غلام’ یعنی عبداللہ بھی ہو سکتا ہے۔
توحید پر مبنی اس کے عقائد اور ان اقدامات سے مصر کا پروہت (مذہبی) طبقہ اس کے خلاف ہو گیا۔ اس کے مرنے کے بعد کرنک میں اس کی زیرِ تعمیر ‘ایک خدا کی عبادت گاہ’ کو تباہ کر دیا گیا اور اس کے تعمیری مواد کو دوسرے مندروں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔
اس کے دور کی تمام تر نشانیوں کو کرنک سے ختم کر دیا گیا اور پاپائرس ریکارڈ سے بھی اس کا نام غائب کرنے کی کوشش کی گئی؛ لیکن اللہ نے اس دور کے آرٹ کو محفوظ کرنے کا بڑا ستھرا انتظام کر رکھا تھا!
امرنا آرٹ
اخناتن کے دور کی ایک بہت منفرد خصوصیت اس دور کا آرٹ ہے جسے ماہرین نے ‘امرنا آرٹ’ کا نام دیا ہے۔ دیگر فراعنہ کے مقابلے میں دیوہیکل اور وزنی نوادرات کی جگہ انتہائی نفیس، نازک اور خوبصورت شاہکاروں نے لے لی۔ ماہرین نے ان حسین فن پاروں کی وجہ سے اس کے مذہب کو جمالیاتی (Aesthetic) مذہب کا نام بھی دیا ہے، اور اس کی حمد میں موجود سائنسی و فکری اشاروں کے سبب اخناتن کو سائنسی رجحان رکھنے والا دنیا کا پہلا معلوم فرد بھی کہا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کے دور کی ہر شناخت کو مٹانے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اللہ کو اس دور کے نشانات رہتی دنیا تک قائم رکھنا تھے! اور شاید اسی لیے توت عنخ آمون (جو اس کا بیٹا یا داماد، یا دونوں تھا) کے مقبرے کو اللہ نے مقبرے لوٹنے والوں سے محفوظ رکھا، جبکہ وادی الملوک کے اب تک دریافت کردہ چونسٹھ مقبروں میں سے ہر مقبرے کو قدیم ادوار میں ہی لوٹ لیا گیا تھا۔ وہاں سے جو نوادرات دریافت ہوئے، وہ امرنا آرٹ کی ہی نشانیاں ہیں۔
اخناتن نے ایک غیر معمولی کام یہ بھی کیا کہ دارالحکومت تھیبس (موجودہ الاقصر) سے تل العمارنہ منتقل کر دیا جو موجودہ قاہرہ اور الاقصر کے درمیان واقع ہے۔
تل العمارنہ کے کھنڈرات سے ایک خدا کی حمد میں ایک منظوم کلام بھی ملتا ہے جو مورخین کے مطابق اس کا اپنا لکھا ہوا ہے۔ اس ثنا میں ایک ایسے خدا کی صفات بیان کی گئی ہیں جو مشرق و مغرب کا رب ہے، اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ وہی زندگی عطا کرنے والا ہے۔ اس حمد میں صرف مصریوں ہی کے لیے نہیں بلکہ فلسطین، شام، نوبیا اور دور دراز میں آباد دیگر اقوام کے لیے بھی رزق، زندگی اور پرورش کی دعا کی گئی ہے، یہاں تک کہ مویشیوں اور جنگلی جانوروں کے لیے بھی۔ اس میں پانی کی مچھلی، اپنی کچھار میں رہنے والے شیر، اور انڈے کے اندر موجود چوزے تک کے لیے رزق اور رحمت کا ذکر ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمر کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (1)
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک(2)
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمر کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (3)
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (4)
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (5)
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (6)
سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (7)
جدید مصر شناسی (Egyptology) کے بانی سمجھے جانے والے معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ جیمز ہنری بریسٹیڈ (James Henry Breasted) کے مطابق، یہ حمد بائبل کی کتاب ‘زبور’ (Psalms) کے 104ویں باب سے شدید مماثلت رکھتی ہے اور ان دونوں کے نظریات و تصورات بہت حد تک یکساں ہیں۔
خود ہم نے بھی جب اس کو پہلی مرتبہ پڑھا تو یہ ہمیں انسان کی تخلیق کے بجائے خدا کا کلام محسوس ہوئی، اور قرآن کے اسلوبِ بیان سے بھی مماثل محسوس ہوئی جہاں مچھر جیسی چھوٹی چیزوں کی مثال دے کر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تل العمارنہ سے 380 پکی ہوئی مٹی کی تختیاں (جو انگریزی میں Cuneiform Tablets کہلاتی ہیں) دریافت ہوئیں جن پر امنحوتپ سوم اور اخناتن کی فلسطین، شام، بابل اور نوبیا کے حکمرانوں اور وہاں موجود مصری کمانڈروں سے خط و کتابت درج ہے۔ ان خطوط کو مورخین ‘ عمارنہ لیٹرز’ (Amarna Letters) کا نام دیتے ہیں۔ عمارنہ لیٹرز سے صرف مصر ہی کی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے کی تاریخ سے آگاہی ہوتی ہے۔ عمارنہ لیٹرز شام، فلسطین اور اردن وغیرہ کے بہت سے خطوں کے بارے میں قدیم ترین دستاویزات مانے جاتے ہیں۔
تل العمارنہ سے 1887ء میں ایک مقامی دیہاتی خاتون کو کچی مٹی کی یہ تاریخی تختیاں (امرنا لیٹرز) اتفاقاً ملیں، جنہیں بعد میں مقامی لوگوں نے مصری نوادرات کے تاجروں کو اونے پونے داموں بیچ دیا۔
اس وقت تک مصری نوادرات کی لوٹ مار شروع ہوئے تین چار دہائیاں ہو چکی تھیں۔ برطانیہ نے نہرِ سویز کے شیئرز کا بہانہ بنا کر مصر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور مصری نوادرات کی لوٹ مار اپنے عروج پر تھی۔
تاجروں کے ذریعے یہ قیمتی اثاثہ دنیا بھر میں تقسیم ہو گیا اور آج 382 تختیوں کا یہ مجموعہ مختلف عالمی عجائب گھروں میں محفوظ ہے۔ ان کا سب سے بڑا حصہ (203 کے قریب تختیاں) برلن کے "فارڈر ایشیاٹشز میوزیم” میں موجود ہے، جبکہ 99 تختیاں برٹش میوزیم (لندن)، 50 قاہرہ کے مصری میوزیم، 7 لوور میوزیم (پیرس) اور باقی چند نوادرات ماسکو، شکاگو، آکسفورڈ اور برسلز کے عجائب گھروں میں رکھے گئے ہیں۔
اور اس طرح اللہ نے ایک خدا کی عبادت کرنے والے اس فرعون کی باقیات کو آنے والی نسلوں کے لیے زندہ رکھا۔ سچ ہے، جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے! اس طرح آج قاہرہ میوزیم کا دورہ کرنے والا سیاح اخناتن سے پہلے اور بعد کے ادوار کے آرٹ میں واضح فرق محسوس کرتا ہے۔
ہم یہاں صرف توت عنخ آمون کے اعضائے رئیسہ (دل، دماغ وغیرہ) کو محفوظ رکھنے والے مرتبان، جنہیں انگریزی میں ‘کینوپک جار’ (Canopic Jar) کہا جاتا ہے، کی مثال دیں گے۔
ہمارے نزدیک یہ قدیم دنیا کا ہی نہیں بلکہ آرٹ کی تاریخ کا حسین ترین فن پارہ ہے۔ میوزیم کے ہزاروں لاکھوں فن پاروں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کی ایک نقل ہم نے نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم میں دیکھی، لیکن اصل مرتبان پہلے مصر کے نیشنل میوزیم میں تھے اور اب گیزا کے گرینڈ ایجپشین میوزیم منتقل کیے جا چکے ہیں۔
توت عنخ آمون کے مقبرے سے ملنے والے نوادرات سے ماہرین نے عمارنہ آرٹ کے بارے میں کثیر معلومات اکٹھی کیں اور دنیا اس کے اسلوب سے واقف ہوئی۔ گو کہ اخناتن کی وفات کے بعد اسے دشمن، غدار اور بے وفا کے نام سے یاد کیا جاتا رہا اور آنے والے فراعنہ نے اسے کلنک کا ٹیکا ہی سمجھا۔
ان تمام مسلّمہ حقائق کے ساتھ ساتھ محققین نے اس کے باب میں بے شمار قیاس آرائیاں بھی کر رکھی ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اپنی معروف تصنیف
Moses and Monotheism (موسیٰ اور وحدانیت 1939)
میں اخناتن کو توحیدی مذاہب کا اولین معمار قرار دیا ہے۔ کچھ نے اخناتن کو بلاواسطہ حضرت موسیٰؑ سے ہی معنون کر ڈالا ہے۔ بعض متبادل تاریخ دانوں (Alternative Historians)، جیسے مصری نژاد برطانوی محقق احمد عثمان (Ahmed Osman)، نے اپنی کتاب "Moses and Akhenaten" میں باقاعدہ یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ اخناتن اور حضرت موسیٰؑ دراصل ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ اگرچہ مرکزی دھارے کے مؤرخین اسے تسلیم نہیں کرتے، مگر یہ قیاس آرائی علمی دنیا میں موجود ہے۔
یہودی اور مغربی محققین بائبل کی زبور 104 (Psalm 104) اور اخناتن کی لکھی گئی مشہور "آتون کی عظیم حمد” (Great Hymn to the Aten) کے درمیان حیرت انگیز لغوی اور معنوی مماثلت تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں مذاہب کے توحیدی افکار کے درمیان گہرا تاریخی ربط موجود ہے۔
ہمارے نزدیک یہی رائے سب سے زیادہ صائب ہے؛ اگر ہکسوس کے زمانے میں حضرت یوسفؑ اور بعد ازاں اولادِ یعقوبؑ مصر میں آباد ہوئے، تو اٹھارہواں خاندان—جس نے ہکسوس سے دوبارہ اقتدار چھینا—یقیناً بنی اسرائیل کے توحید کے عقیدے سے واقف ہوگا۔ اگر اس خاندان کا کوئی فرعون سو ڈیڑھ سو سال بعد توحید کی دعوت سے متاثر ہو گیا تو ہو سکتا ہے یہ بنی اسرائیل کی موجودگی سے متاثر ہو۔
بعینہٖ بعض مصنفین نے اپنے قیاسی ناولوں میں اسے حضرت یوسفؑ کے روپ میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
مشہور زمانہ انگریز ڈراما اور ناول نگار اگاثا کرسٹی نے 1937ء میں ایک تین ایکٹ کا ڈراما "Akhnaton" لکھا تھا (جو 1973ء میں ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل شائع ہوا)۔ اس ڈرامے کا پورا محور اخناتن کی زندگی، اس کا نیا توحیدی دین (آتون)، اس کا محل، اور مذہبی کٹر پن کے خلاف اس کی جدوجہد تھی۔
جبکہ ایک اور ڈراما نگار نے حضرت ہارونؑ کو اخناتن کے ہی قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی جو بظاہر ڈرامائی انداز میں اپنی موت کا سوانگ رچا کر بنی اسرائیل سے جا ملتے ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں! لیکن ظاہری بات ہے کہ ہم ان افسانوی تحریروں میں سچائی تلاش کرنے کے مکلف نہیں ہو سکتے، کیونکہ بقولِ صاحبِ تحریر: "تاریخی ناولوں اور فلموں میں سب کچھ ملتا ہے، سوائے تاریخ کے!”
اخناتن کے ساتھ اگر اس کی بیوی نیفرتیتی (Nefertiti) کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ بڑی زیادتی ہوگی۔ دنیا اسے اس کے سر کے خوبصورت مجسمے کی وجہ سے پہچانتی ہے جو ‘برلن ہیڈ’ (Berlin Head) کہلاتا ہے اور فی الوقت برلن کے مصری میوزیم میں پایا جاتا ہے۔ اس مجسمے میں اس کی خوبصورت آنکھیں اور لمبی گردن سب سے نمایاں ہیں۔ یہ مجسمہ پچھلے ادوار کے برعکس حقیقی انسانی نقوش سے قریب تر ہے۔ نیفرتیتی بھی اپنے شوہر کی طرح ‘آتن’ نامی خدا کی عبادت کرتی تھی اور اپنے مذہب پر سختی سے عمل پیرا تھی۔ اپنے شوہر کی طرح اس نے بھی اپنا نام ‘نیفروآتن’ رکھ لیا تھا۔
نیفرتیتی نے اپنے شوہر کے ساتھ بھی حکومت کی اور اس کی موت کے بعد بھی۔ ان دونوں کی چھ بیٹیاں تھیں جنہیں کرنک کے مندر سے ملنے والی ایک ڈسک کے باقی ماندہ ٹکڑوں میں شناخت کیا جا سکتا ہے۔ اس زمانے کا ریکارڈ چونکہ ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد تباہ کر دیا گیا تھا، اس لیے ماہرین ان حقائق کے بارے میں شدید اختلاف کا شکار ہیں۔ قلوپطرہ اور رامسس دوم کی پسندیدہ بیوی نیفرتاری کے بعد نیفرتیتی کو تیسری معروف ترین مصری ملکہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تل العمارنہ سے ملنے والے اس کے مجسمے نے مغرب میں نسوانی حسن کے معیار کو بدل کر رکھ دیا۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اخناتن کے مرنے کے بعد اس کے فنی اسلوب کو بھی ترک کر دیا گیا اور انیسویں خاندان کے فراعنہ، مثلاً سیٹی اول اور رامسس دوم کے ادوار کے آرٹ میں پھر سے مجسموں کے سائز اور جاہ و جلال کو اہمیت حاصل ہو گئی۔
کرنک سے واپسی اور دودھ کی بوتلوں کی تلاش
اب ہم تھکن سے چور ہو چکے تھے اور سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ہماری بڑی دو بچیاں اپنی دودھ کی بوتلیں کھیل کے دوران کہیں رکھ کر بھول گئی تھیں۔ اب اتنے بڑے رقبے پر دوبارہ انہیں تلاش کرنا ناممکن سی بات لگ رہی تھی۔ گارڈ سے دریافت کرنا بھی ہمارے بس میں نہیں تھا کہ کس کس سے پوچھیں، خاص طور پر جب ہم عربی زبان سے نابلد تھے۔
پھر پتہ نہیں کیسے، اللہ کی توفیق سے ہمیں ایک ترکیب سوجھی! ہم نے اپنے پاس موجود چھوٹی بچی کی واحد بوتل کو ہاتھ میں پکڑا اور کرنک کے مرکزی راستے سے استفہامیہ انداز میں گزرے۔ سچ ہے، ہمارے ابلاغ کا ایک بڑا حصہ بدنی زبان (Body Language) پر مشتمل ہوتا ہے جسے ہم کم ہی استعمال کرتے ہیں۔ مصر کے دیہاتی علاقوں میں استعمال ہونے والے لمبے لمبے، گہرے سیاہ رنگ کے چوغے پہنے گارڈز جو سارے مندر میں گھومتے رہتے ہیں، انہوں نے گمشدہ بوتلوں کو ہماری خوش قسمتی سے نوٹس کر رکھا تھا۔ وہ فوراً ہمارے اشارے کو سمجھ گئے اور ہمیں لے کر وہاں پہنچے جہاں بوتلیں موجود تھیں۔ بوتلیں عوام کے لیے کھلے ہوئے آخری حصے میں بچوں نے کھیل کے دوران سیڑھیوں پر رکھ دی تھیں۔
کرنک سے ہماری واپسی تین بجے ہوئی اور ہاسٹل واپسی کے لیے ہم نے بگھی (گھوڑا گاڑی) استعمال کی جس سے بچوں نے بہت لطف اٹھایا۔ ہماری چار سالہ بیٹی عیشہ تو اس سواری سے اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے سعودی عرب واپسی بھی بذریعہ گھوڑا گاڑی کرنے کی فرمائش کر ڈالی! شام کو ہاسٹل کے مالک منصور سے ہم نے یہ تذکرہ کیا تو وہ عیشہ کو ہوا میں اچھالتے ہوئے انگریزی میں کہنے لگا: "بگھی تو خیر نہیں، مگر میں تمہارے لیے گدھا ضرور ارینج کر سکتا ہوں!”
واپسی میں بگھی کو ہم نے گلی کے باہر ہی رکوا لیا اور وہاں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ سے چرغہ آرڈر کیا۔ جتنے عرصے میں چرغہ تیار ہوا، ہم نے قریبی جنرل اسٹور سے ایریل (Ariel) واشنگ پاؤڈر اور کولگیٹ (Colgate) ٹوتھ پیسٹ خریدا۔ لیور برادرز اور ملٹی نیشنلز کی پروڈکٹس نے قدیم دنیا کا سحر توڑ دیا اور ہمیں یاد آیا کہ ملٹی نیشنلز نے ماضی کی عالمی معیشت اور سیاست سے آزاد مصر کو آج ‘گلوبل ولیج’ کا ایک حصہ بنا کر ہر لحاظ سے مقید کر دیا ہے۔
چرغہ کھا کر ہم شام تک گھوڑے بیچ کر سوتے رہے۔ سعودی عرب سے روانہ ہوئے ہمیں چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے اور ان چوبیس گھنٹوں میں ہم چار ہزار سال کا سفر طے کر چکے تھے۔ تھکن تو لازمی تھی!









