تحریر: میر بابر مشتاق
تصور کیجیے کہ آسمان کے ایک چھوٹے سے حصے میں اتنے ستارے موجود ہوں کہ ان کی تعداد کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہ ہو۔ ایک ایسی تصویر جسے جتنا بڑا کرکے دیکھیں، ستاروں اور کہکشاؤں کی نئی دنیائیں سامنے آتی چلی جائیں۔ چلی میں قائم ویرا روبین رصدگاہ نے آسمان کے ایک حصے کی ایسی ہی حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جس کی تفصیل 1.7 ارب پکسلز پر مشتمل ہے۔ اسے’ستاروں کا سمندر‘(Ocean of Stars) کا نام دیا گیا ہے۔
یہ تصویر جنوبی آسمان میں برج العقرب کے علاقے کی ہے۔ اس میں لاکھوں ستاروں کے ساتھ دور دراز کہکشاؤں کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں۔ نیلے، سفید اور نارنجی رنگوں کے ستاروں کے درمیان پھیلے ہوئے مدھم سرمئی اور بھورے بادل زمین کے بادل نہیں، بلکہ ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے میں ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گردوغبار کے باریک بادل ہیں۔ تصویر کے کسی چھوٹے سے حصے کو بڑا کرکے دیکھا جائے تو مزید ستارے اور باریک تفصیلات سامنے آتی چلی جاتی ہیں۔ تاہم اس مخصوص تصویر میں ستاروں اور کہکشاؤں کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں کی گئی۔
اس تصویر کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ روبین رصدگاہ کا کیمرہ ایک وقت میں تقریباً 10 مربع ڈگری آسمانی منظر دیکھ سکتا ہے، جبکہ پورے آسمان کا رقبہ تقریباً 41 ہزار مربع ڈگری ہے۔ گویا کیمرے کا ایک میدان پورے آسمان کے تقریباً چار ہزارویں حصے کے برابر ہے۔ اس طرح آسمان کا یہ چھوٹا سا منظر کائنات کی بے پناہ وسعت کا محض ایک معمولی نمونہ ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ آسمان کے ایک بظاہر خالی حصے نے سائنس دانوں کو حیران کیا ہو۔ 1995ء میں ہبل خلائی دوربین کو برج دب اکبر کے ایک ایسے چھوٹے سے حصے کی طرف موڑا گیا جو عام مشاہدے میں تقریباً خالی دکھائی دیتا تھا۔ دس دن تک اس کی تصاویر لی گئیں اور 342 مشاہدات کو یکجا کیا گیا۔ نتیجہ حیران کن تھا: اس چھوٹے سے حصے میں تقریباً تین ہزار کہکشائیں نظر آئیں۔ ان میں سے بیشتر روشنی کے نقطے دراصل انفرادی ستارے نہیں، بلکہ پوری کی پوری کہکشائیں تھیں، جن میں اپنے اپنے ستاروں کے بے شمار مجموعے موجود تھے۔ ان میں سے بعض کہکشاؤں کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں اربوں سال لگے تھے۔ یوں ہبل نے ہمیں کائنات کے ماضی کی ایک جھلک دکھائی۔
جولائی 2026ء میں ویرا روبین رصدگاہ نے ’کوزموس‘ نامی ایک دوسرے آسمانی میدان کی تصویر جاری کی، جس میں پانچ لاکھ سے زیادہ کہکشائیں اور 50 ہزار سے زائد ستارے شناخت کیے گئے۔ ہبل نے آسمان کے ایک انتہائی چھوٹے حصے کو گہرائی سے دیکھ کر ہزاروں کہکشائیں دریافت کی تھیں، جبکہ روبین رصدگاہ وسیع آسمانی علاقوں کا بار بار مشاہدہ کرنے اور مدھم اجرام کی تفصیلات محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دونوں رصدگاہیں کائنات کے مطالعے میں الگ الگ مگر انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سائنس دانوں کے اندازوں کے مطابق قابلِ مشاہدہ کائنات میں سینکڑوں ارب، بلکہ بعض تخمینوں کے مطابق تقریباً دو کھرب کہکشائیں ہو سکتی ہیں۔ ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے میں ہی سینکڑوں ارب ستارے موجود ہیں۔ اگر محض تصور کے لیے ہر کہکشاں میں اوسطاً 100 ارب ستارے فرض کیے جائیں تو دو کھرب کہکشاؤں میں ستاروں کی تعداد 20 ہزار ارب ارب بنتی ہے، یعنی 2 کے بعد 22 صفر!
20000000000000000000000 ستارے!
تاہم یہ صرف کائنات کے حجم کا اندازہ سمجھانے کے لیے ایک فرضی حساب ہے، ستاروں کی کوئی حتمی سائنسی گنتی نہیں۔ ممکن ہے کہ حقیقت میں یہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو۔
اس کے باوجود کائنات کے تمام رازوں کا ایک معمولی حصہ بھی ابھی انسان کے علم میں نہیں آیا۔ کچھ اجرام اتنے مدھم ہیں کہ موجودہ آلات انہیں دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بعض علاقوں کو کائناتی گردوغبار نے چھپا رکھا ہے، جبکہ کائنات کے کچھ حصوں سے آنے والی روشنی ابھی ہم تک پہنچی ہی نہیں۔
یہ حیرت انگیز انکشافات انسان کو اپنی محدود بصارت اور کائنات کی بے پناہ وسعت کا احساس دلاتے ہیں۔ ہم جس زمین پر رہتے ہیں، وہ ایک معمولی سی کائناتی دنیا کا حصہ ہے، اور ہماری کہکشاں بھی اس عظیم کائنات میں موجود بے شمار کہکشاؤں میں سے محض ایک ہے۔
قرآن کریم نے کائنات کی تخلیق اور اس میں غوروفکر کرنے والوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ
’’اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے۔ ‘ (آل عمران: 191)
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ یہ عظیم کائنات کس طرح منظم ہے، اس کے اجرام کیسے وجود میں آتے ہیں اور اس کے نظام میں کتنی حیرت انگیز باریکیاں پوشیدہ ہیں۔ لیکن جوں جوں انسان اس کائنات کی وسعتوں میں جھانکتا ہے، اس کے سامنے اپنی علمی محدودیت اور خالقِ کائنات کی قدرت و عظمت کے نئے پہلو آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔
دو کھرب کہکشائیں، بے شمار ستارے اور ایک ایسی کائنات جس کے راز ابھی انسان پر پوری طرح منکشف نہیں ہوئے۔ واقعی، جتنا کائنات کو دیکھتے ہیں، اتنا ہی اس کے خالق کی عظمت کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔









