کشمیری کلچہ، مظفر آبادی کلچہ

کشمیر کو جانیے ( حصہ ششم )

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

سید امجد حسین بخاری :

کشمیر کو جانیے ( حصہ اول )

کشمیر کو جانیے ( حصہ دوم )

کشمیر کو جانیے ( حصہ سوم )

کشمیر کو جانیے ( حصہ چہارم )

کشمیر کو جانیے ( حصہ پنجم )

آج آپ کو کشمیر کی نعمت لازوال دیسی کھیرے سے ملاقات کرواتے ہیں ، موسم گرما ہو اور کشمیری تحفے میں دیسی کھیرے نہ دیں تو سمجھا جاتا ہے کہ مہمان نوازی کا حق ادا نہیں ہوا ۔

مارچ اپریل میں مکئی کی فصل کے ساتھ ہی کھیرے کے بیج کاشت کئے جاتے ہیں ، اس کاشت کے دوران خیال رکھا جاتا ہے کہ بیج کسی بھی درخت کے قریب کاشت کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی بیل کو درخت سے سہارا مل جائے ۔

دیسی کھیرے لذت اور معیار کے اعتبار سے لاجواب ہیں ، کشمیر کے بعض علاقوں میں ایک کھیرے کا وزن ڈیڑھ سے دو کلو تک ہوتا ہے تاہم آدھا کلو وزنی کھیرے پورے کشمیر میں پائے جاتے ہیں ۔ کھیرا اگر تیمبر کی چٹنی کے ساتھ کھایا جائے تو لطف دوبالا ہوجاتا ہے ۔ اس وقت کشمیر میں کھیرے کا سیزن ہے ، اگر آپ نے کشمیر جانا ہے تو کھیرے لازمی کھائیں ۔

کشمیری کلچہ
یہ آزاد کشمیر کی ایک بہترین اور لاجواب سوغات ہے۔ کشمیر بھر میں مظفرآبادی کلچہ پسند کیا جاتا ہے ، جو آپ کو میرپور سے فارورڈ کہوٹہ اور ہجیرہ سے تاؤ بٹ تک مختلف انداز میں مل جائے گا۔ مظفرآباد شہر میں کلچوں کے تندور اس قدر زیادہ ہیں کہ اصل کلچے کی پہچان کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

کلچہ توڑ کر چائے میں ڈالا جاتا ہے اور پھر چائے اور کلچے کا مرکب کھایا جاتا ہے۔ آپ کشمیر میں ہوں ، آپ کو چائے کے ساتھ ہائی ٹی کے لوازمات پیش کئے جائیں لیکن کلچہ نہ ہوتو آپ اپنے میزبان کو کنجوس کہہ دیں گے ،

چائے اور کلچہ آزاد کشمیر کی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ اب لاہوری نان کو کلچہ کہتے ہیں تو سر دیوار پر پٹخنے کا من کرتا ہے ، فوڈ ریسرچرز کلچے کا بنیادی ماخذ تلاش کر رہے ہیں لیکن غالب امکان ہے کہ کلچہ وسط ایشیائی ریاستوں سے کشمیری کھانوں کا حصہ بنا ہے۔

کشمیری ڈوسہ، مانی
کشمیری پکوان میں ایک کھانا ” مانی “ ہے ، جس کے اجزا تقریباً ساؤتھ انڈین پکوان ڈوسہ جیسے ہوتے ہیں ۔ اسے بنانے کا طریقہ بھی بالکل ڈوسہ ہی کی طرح ہوتا ہے،

کشمیر کے مختلف علاقوں میں مانی پکانے کی مختلف تراکیب رائج ہیں ، تاہم ایک ترکیب پورے کشمیر میں رائج ہے، وہ آپ کے ساتھ شئیر کرتا ہوں۔

گندم کا آٹا ، دیسی گھی ، انڈا، ناریل پاؤڈر ، گڑ یا شکر اس کے لوازمات ہوتے ہیں ، اس کے تمام لوازمات کو بالکل دوست کی طرح پکایا جاتا ہے ، بعد ازاں نمکین چائے کے ساتھ اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔

مانی کا رجحان پونچھ ڈویژن میں زیادہ کیا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے اضلاع کشتواڑ اور ریاسی میں مانی مرغوب غذا ہے۔

پن چکی
کشمیر میں مکئی کی فصل کاشت کی جاتی ہے ، مکئی کی روٹی کشمیریوں کی مرغوب غذا ہے ، مکئی کا آٹا پیسنے کیلئے پن چکی کا استعمال کیا جاتا ہے، اس پن چکی کو جندر یا گھراٹ کہا جاتا ہے ۔ پن چکی دو پتھروں سے تیار کی جاتی ہے ، ان پتھروں کے درمیان ایک ایک دانا گرتا ہے ، پتھروں کو گھمانے کیلئے لکڑی کی ٹربائن استعمال ہوتی ہے ، جو پانی کے ذریعے گھومتی ہے ، اس کے علاوہ دانے لکڑی کے ایک خانے میں ڈالے جاتے ہیں ، جہاں سےایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے ایک ایک دانا پتھروں میں گرتا ہے ۔

دانوں سے نکلنے والا آٹا بھی پتھروں کے سامنے بنائی گئی ایک جگہ پر گرتا ہے ، پن چکی سے ایک من آٹا نکالنے کیلئے ڈیڑھ گھنٹہ درکار ہوتا ہے ۔ پن چکی کا مالک ایک من آٹے کی مزدوری دو سے تین کلو آٹے کی صورت میں وصول کرتا ہے ۔ دریائوں اور نالوں کے کنارے بنائی گئی ان فلور ملز پر ہر وقت رش لگا رہتا ہے ،

کشمیری لوگ عموماً اپنےدانے پن چکی پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اکثر اوقات دو سے تین ایام کا وقت دیا جاتا ہے ۔ مقررہ دن پر انہیں پسا ہوا آٹا مل جاتا ہے۔ ماضی میں گھوڑوں اور خچروں کے ذریعے لوگ پن چکی پر جاتے تھے ، رات کو وہاں ہی قیام کرتے اور علی الصبح اپنا آٹا پسوا کر گھروں کو لوٹ جاتے تھے ،

پن چکی پر آٹا پسنے کے دوران اگر رات کو قیام کیا جاتا تو اس وقت ایک مخصوص روٹی بھی پکائی جاتی ، اس روٹی کے حوالے سے آئندہ کسی تحریر میں لکھوں گا ۔

پن چکی کے پتھروں کی آواز اور ساتھ ہی دریا کا شور زندگی میں خوبصورت رنگ بھر دیتا ہے ، ساتھ ہی اگر کسی مقام پر نہانے کیلئے جگہ مل جائے تو لطف دو بالا ہوجاتا ہے۔

بچپن اور لڑکپن کے کئی سال پن چکی سے آٹا پسوانا کا موقع ملا۔ ٹرائوٹ کا شکار ، پن چکی ، دریا کا شور اور پتھروں کی گھرگھراہٹ، یقین جانیں آج بھی اس ماضی میں کھو جانے کا من کرتا ہے۔
( جاری ہے )


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں