ٹراما ( صدمہ ) کی شکار خاتون

ٹراما ( صدمہ ) سے کیسے باہر نکلا جائے؟

فِلافطین

اس نے پندرہ منٹ میں اپنی کوئی تین چیزیں کھو دی تھیں. اور اب نہایت بوکھلا کر مجھ سے کہہ رہی تھی کہ آپ نے میرا موبائل دیکھا؟ یہیں رکھا تھا. اور میرا پاؤچ؟ آئی ڈی کارڈ بھی ٹیبل پر رکھا تھا اب نہیں ہے.

میں نے کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے وہ ساری ممکنہ جگہیں سوچی تھیں جہاں اس کی چیزیں ہو سکتی تھیں اور کچھ منٹ بعد اسے سب کچھ ڈھونڈ کر واپس پکڑا دیا تھا.

اس نے شدید متاثر ہو کر مجھ سے سب کچھ پکڑا تھا اور اب بہت گرم جوشی سے شکریہ ادا کر رہی تھی. میں نے اس کے شکریہ کا سر کے اشارے سے جواب دیتے ہوئے سرسری انداز میں پوچھا: تمہارا کوئی ٹراما چل رہا ہے؟ یا کسی پرانے ٹراما کے زیر اثر ہو؟

اسے شاید اس طرح کا سوال یوں ڈائریکٹ پوچھ لینے کی توقع نہیں تھی. اس کی مسکراہٹ یک دم پھیکی پڑی تھی اور اس نے قدرے الجھ کر جواب دیا : نہیں تو. میں کیوں کسی ٹراما کے زیر اثر ہونے لگی. آپ کو ایسا کیوں لگا؟

یونہی. اتنی جوان عمری میں تمہاری یہ چیزوں کو بھولنے کی عادت سے مجھے ایسا لگا. میں نے بات کا اثر زائل کرنے کی کوشش کی تھی.

تو میرے ٹراما کا چیزیں بھولنے سے کیا تعلق؟ وہ پھر سے الجھی تھی.

دیکھو لڑکی! بات کچھ یوں ہے کہ جہاں تک میں نے ٹراما کو پڑھا ہے. اس کے مطابق ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب انسان کو کوئی ایسی ذہنی تکلیف یا اذیت برداشت کرنی پڑے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو تو دماغ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے. اب گزری تو وہ انسان کے ساتھ ہی ہوتی ہے اس لیے یادوں میں اسے سٹور کرنا دماغ کے لیے ضروری ہوتا ہے.

لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ میرے مالک کو اس سے تکلیف پہنچ رہی ہے تو وہ اس ایک اذیت ناک یاد کو اٹھا کر اس کاٹھ کباڑ والے حصے میں رکھ دیتا ہے جہاں بھولی بسری یادیں رہتی ہیں. اب وہ یاد چونکہ ہم نے بھرپور طریقے سے محسوس کیے بغیر ہی بھلا دی ہوتی ہے، اس لیے دماغ چاہتا ہے کہ ہم کم از کم ایک بار اسے پوری طرح سے ضرور پڑھ لیں یا محسوس کر لیں.

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس تکلیف دہ یاد کو دوبارہ سے محسوس کرتے ہیں ، رو دھو کر دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور اسے قبول کر لیتے ہیں. لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اسے کسی صورت قبول کرنے کے قائل نہیں ہوتے، اس لیے وہ یاد جب جب آئے، وہ تب تب دماغ سے کہتے ہیں کہ اسے واپس لے جاؤ. ہمیں نہیں یاد کرنا اسے.

یہ صورتحال بہت لمبا عرصہ اور مستقل رہے تو دماغ کو عادت ہو جاتی ہے کہ چیزوں کو بلاوجہ بھی بھلایا بھی جا سکتا ہے. تب پھر اس کا فنکشن خراب ہوتا ہے، اور وہ سستی دکھاتے ہوئے ہمیں ہماری روزمرہ کی چیزیں بھلانے لگتا ہے. یہ سوچتے ہوئے کہ جب مالک اتنی بڑی اور اہم یاد، جس نے اس کی زندگی پلٹ کر رکھ دی تھی، اسے یاد کیے بغیر رہ سکتا ہے تو یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بغیر تو اسے فرق بھی نہیں پڑے گا.

میں نے حتی الامکان کوشش کی تھی کہ ہلکے پھلکے انداز میں اسے یہ چیز سمجھا دوں اور اس کا دل برا نہ ہو.

اس نے ساری بات پوری توجہ سے سنی تھی اور ختم ہونے پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی. میری اس سے کیا بات ہوئی، اس کا ٹراما کیا تھا، اور کب سے تھا، یہ بالکل الگ موضوع ہے جس کا یہاں ذکر کرنا بے معنی ہے.

ہم اپنے اردگرد ایسے بہت سے لوگ دیکھتے ہیں جو کسی نہ کسی ٹراما کا شکار ہوتے ہیں . ہم خود بھی بظاہر بالکل ٹھیک لگتے ہوں گے لیکن دور کہیں اندر خود سے ایک جنگ لڑ رہے ہوں گے. ” ٹراما ” لفظ سن کر لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی بہت خوفناک اور خطرناک چیز ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے.

کوئی بھی تکلیف دہ واقعہ ، جسے یاد کرنے پہ وہ تکلیف کچھ دیر کے لیے دوبارہ واپس آ جائے، ٹراما کہلائی جا سکتی ہے.

ٹین ایجرز کا ٹراما ان جیسا ہی ہوتا ہے. چھوٹا سا لیکن بہت جذباتی قسم کا. میٹرک میں سائنس نہ رکھ سکنا، بورڈ کے امتحانات میں اچھے مارکس نہ لے سکنا، انٹر کے بعد میڈیکل میں ایڈمیشن نہ ملنا، کسی پروفیسر کی طرف سے غلط رویہ دیکھنا، گھر کے برے مالی حالات دیکھنا. یہ سب چیزیں ان کا ٹراما بن جاتی ہیں اور ایک لمبے عرصے کے لیے انہیں پریشان رکھتی ہیں.

کچھ بڑے ہونے پر ٹراما جذبات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے. دل ٹوٹ جانا، کسی سے تعلق ختم ہو جانا، کسی کا چھوڑ دینا، کوئی برا تجربہ ہونا، دھوکہ ملنا، یہ سب ٹراما لگنے لگتا ہے. مزید بڑے ہونے پر کسی عزیز کو کھو دینا، کسی خطرناک بیماری کا سامنا کرنا، والدین کی وفات ہو جانا وغیرہ انسان کا ٹراما بن جاتی ہے.

یعنی، ٹراما وہ چیز ہے جو ساری زندگی ختم نہیں ہو سکتا. یہ کسی نہ کسی پوائنٹ پہ ہمیں پریشان کرنے کے لیے موجود رہے گا. اس لئے ضروری ہے کہ اس سے ڈیل کرنا سیکھیں. اسے سمجھنا، اور پھر اس سے نکلنا سیکھیں. ورنہ اس کا مستقل موجود رہنا بہت شدید قسم کے نفسیاتی مسائل کی راہ ہموار کرے گا.

یوں تو اس سے باہر نکلنے کی بہت سی تکنیکیں ہو سکتی ہیں. لیکن جو مجھے سب سے اہم اور ضروری لگتی ہے، وہ یہ ہے کہ آپ کا اپنی فیملی کے ساتھ بہت اچھا تعلق اور بات چیت ہو. جن کا گھر والوں کے ساتھ بہت بے تکلفانہ اور مضبوط تعلق ہوتا ہے. وہ لوگ عموماً ٹراماز سے جلدی باہر آ جاتے ہیں.

اگر فیملی سے تعلق بہت اچھا نہیں تو کم از کم ایسے دوست زندگی میں ضرور ہونے چاہئیں جن سے سب کچھ کہا جا سکے.

ٹراما تب تک ختم نہیں ہوتا، جب تک آپ اسے اپنے اندر سے نکال کر باہر نہیں رکھ دیتے. یہ جب تک انسان کے اندر موجود رہے گا، اسے اندر سے زخمی کرتا رہے گا. اس لئے ایسے دوست بنائیں جن سے دل کا حال کہہ سکیں اور خود بھی دوسروں کے لیے ایسے دوست بنیں.

اپنی صلاحیتوں کا صدقہ دینا سیکھیں. ایک دوسرے کے لیے میسر رہا کریں. لوگوں کی مشکلات حل کرنا شروع کریں گے تو آپ کی اپنی مشکلات خودبخود حل ہونے لگیں گی. چاہے تو آزما کر دیکھ لیں.

فیملی اور دوستوں سے بات چیت کے باوجود ٹراما ختم نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے، اس پہ پھر کسی دن بات ہو گی ان شاء اللہ.
اللہ تعالیٰ ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والا بنا دے. آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں