مجذوب یا جن؟

وہ کون تھا۔۔۔۔۔ مجذوب یا جن؟

·

فجر کی اذانوں کے بعد کی ہوا میں ایک عجیب سی خنکی اور سناٹا گھلا ہوا تھا۔ پرندے ابھی اپنے گھونسلوں میں سوئے تھے اور گلیاں ایسی خاموش جیسے وقت نے اپنی سانس روک لی ہو۔

میں حسبِ عادت واک کے لیے گلشنِ اقبال پارک کی طرف نکل آیا۔ مگر آج کی خاموشی میں کچھ اور ہی تھا… ایک ایسا بوجھ جو دل پر اترتا چلا جا رہا تھا۔

گورنمنٹ کامرس کالج (گلشن بلاک، لاہور) کے گیٹ پر میری نظر جا ٹھہری۔ گیٹ کے سامنے والے کونے میں کچرے کا ڈھیر پڑا تھا۔ ایک طرف گلشنِ اقبال پارک کا اونچا آہنی جنگلا اور دوسری جانب کالج کی طویل تاریک دیوار، تقریباً پانچ سو میٹر تک ایک دوسرے کے متوازی پھیلے ہوئے تھے۔ ایک سمت پارک کا سنّاٹا زَدہ کونا اور دوسری طرف کامرس کالج کا سفید دروازہ، جس کے پہلو میں ایک قدیم اور دیو قامت درخت ایستادہ تھا۔

مجذوب کا چہرہ سیاہی میں لپٹا ہوا تھا، بال لمبے اور اُلجھے ہوئے، جیسے صدیوں سے کنگھی کی نوک تک نہ چھوئی ہو۔ پاؤں ننگے تھے، گرد و غبار سے اَٹے ہوئے، اور بدن پر ایک میلی، چکّی ہوئی شلوار قمیض تھی جو اس کی اجڑی ہوئی حالت کو اور بھی نمایاں کر رہی تھی۔
اس مقام پر گھپ اندھیرا تھا—ایسا اندھیرا کہ جیسے رات نے اپنی سیاہی وہیں انڈیل دی ہو۔ اور اسی تاریکی میں وہی مجذوب موجود تھا، جسے میں کئی دنوں سے دیکھتا آ رہا تھا۔ کبھی وہ مسجد کے تھڑے پر بیٹھا نظر آتا، کبھی اس ویران گوشے میں جھولتا کھڑا ہوتا۔ مگر آج، وہ کامرس کالج کے گیٹ کے عین سامنے ایستادہ تھا۔ اس کا رخ درخت کی طرف تھا اور اس کے وجود سے ایک غیر مرئی دہشت ٹپک رہی تھی۔کالج کی سیاہ دیوار کے ساتھ ساتھ میں چلتا رہا۔ اندھیرا دیوار پر یوں پھیلا ہوا تھا جیسے رات نے اپنی سیاہی وہیں انڈیل دی ہو۔ اچانک ایک لرزہ خیز چیخ نے فضا کو چیر ڈالا۔ میرے قدم وہیں تھم گئے۔

وہ مجذوب دونوں ہاتھ بلند کیے کھڑا تھا۔ چہرہ درخت کی شاخوں کی طرف جھکا ہوا۔ اُس کے حلق سے نکلنے والی آواز نہ انسان کی تھی نہ حیوان کی۔ کبھی وہ بھیڑیے کے نوحے جیسی لگتی، کبھی کسی کتے کے بین کی طرح۔ پھر وہی آواز اچانک خالص بھونکنے میں ڈھل گئی، جیسے اُس کا پورا وجود جانور میں تبدیل ہو رہا ہو۔

ابھی میں یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ سامنے سے دو آوارہ کتے نکلے اور پاگلوں کی طرح اُس کی سمت لپکے۔ میرے عقب سے بھی کتوں کے بھونکنے کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ ہر سمت سے شور بڑھتا گیا، جیسے کسی پوشیدہ طاقت نے علاقے کے تمام کتوں کو ایک ساتھ بیدار کر دیا ہو۔
میری دھڑکن تیز ہو گئی۔

یہ سب کچھ میرے چاروں طرف ایک دائرے کی طرح سمٹ رہا تھا۔ اور پھر—وہ مجذوب یکدم خاموش ہوگیا۔ دونوں ہاتھ اب بھی آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے اور وہ یوں ساکت کھڑا تھا جیسے کسی اور جہان میں داخل ہو گیا ہو۔ اُس کا سر آہستہ آہستہ پیچھے کو جھکا اور اُس کی آنکھیں براہِ راست میری آنکھوں سے جا ٹکرائیں۔ اُس لمحے میرے بدن میں بجلی سی کوند گئی۔

میرے دل کے اندر ایک سرگوشی اُتری:
’تو یہاں کیوں آیا ہے؟‘

یہ آواز باہر سے نہیں آئی تھی، یہ میری رگ و پے کے اندر بج رہی تھی۔ میں نے قدم پیچھے ہٹانا چاہے مگر زمین نے جیسے میرے پاؤں جکڑ لیے ہوں۔ سامنے کے کتے بھی اچانک رُک گئے اور وہ بھی خاموش ہو کر مجھے گھورنے لگے۔ لمحہ بھر کو ماحول پر ایک غیر فطری سکوت چھا گیا، جیسے ہوا تک اپنی روانی روک بیٹھی ہو۔

پھر مجذوب نے اپنے دونوں ہاتھ نیچے کیے اور آسمان کی طرف ایک ایسی چیخ ماری جس نے پورے وجود کو لرزا دیا۔ درخت کی شاخیں کانپنے لگیں، جیسے کسی نے انہیں جھنڈ جھنجھوڑ دیا ہو۔ میں نے گھبرا کر قدم پیچھے کھینچے، بھاگنے کو تھا کہ میری نظر آخری بار اُس پر جا ٹھہری۔

وہ مجذوب آہستہ آہستہ جھکتا جا رہا تھا، جیسے زمین پر گرنے والا ہو۔ مگر اُس کا سایہ زمین پر نہیں تھا—وہ سایہ درخت کی شاخوں پر اُبھرتا جا رہا تھا۔ اور وہ سایہ انسانی نہیں، دیو قامت تھا، ایک ایسا وجود جو مجذوب کے بدن سے الگ ہو کر کسی اَن دیکھے جہان سے میرے سامنے ظاہر ہو رہا تھا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں