سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
پچھلی قسط میں ہم نقشِ جہان کامپلیکس کی اس دلکش دنیا میں داخل ہوئے تھے جہاں بازارِ قیصریہ کے اندرون و بیرون، اس کے شور و غُل اور دروازۂ قیصریہ کی خاموش شان نے ہمارا استقبال کیا۔
اس قسط میں ارادہ ہے کہ نگاہ اور قدم کو ذرا اور آگے بڑھایا جائے: عالی قاپو محل کی سیڑھیوں پر ٹھہر کر سانس لیا جائے، مسجدِ لطف اللہ اور مسجدِ شاہ عباس کی روحانی وسعتوں کو محسوس کیا جائے اور آخر میں ٹانگے کی سواری کے ساتھ اس منظرنامے کو ایک ہلکی سی مسکراہٹ میں سمیٹ لیا جائے۔
عمارتِ عالی قاپو
بازارِ قیصریہ کے اندرون و بیرون کے مشاہدے کے بعد، میں نقشِ جہان اسکوائر کے مغربی حصے کی طرف بڑھا۔ سامنے ایک بلند و بالا، پُرشکوہ عمارت کھڑی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے لاہور کے بادشاہی قلعے میں واقع دیوانِ عام نے کسی سفرنامہ نویس کے خواب میں رنگ بدل لیا ہو اور یہاں آ کر ٹھہر گیا ہو۔ یہ عمارت عالی قاپو کہلاتی ہے۔
اس کا ایک عظیم محرابی دروازہ ہے، ایسا دروازہ جو محض داخلے کا راستہ نہیں بلکہ وقت کے ایک عہد میں قدم رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ میں اسی محراب سے گزرا۔ دروازے پر فیروزی، سیاہ اور سفید رنگوں کی کاشی کاری تھی۔ اگرچہ آنکھ پر پہلا اور آخری اثر فیروزی ہی کا پڑتا ہے، جیسے آسمان زمین پر اتر آیا ہو۔
صفوی خاندان، جس کی بنیاد ایرانی آذربائیجان کے شہر اردبیل میں رکھی گئی، نے سولہویں صدی کے اوائل (تقریباً 1501 تا–1502 عیسوی ) میں اس خطے پر اپنی حکومت قائم کی اور موجودہ ایران اور آذربائیجان میں اِثنا عشری شیعہ اسلام کو ریاستی مذہب کے طور پر نافذ کیا۔ صفویوں کے بعد قاجار خاندان نے اٹھارہویں صدی کے آخر میں قفقاز میں دوبارہ ایرانی اقتدار قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن روسی سلطنت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور کئی طویل جنگوں کے نتیجے میں ایران کو 1813 اور 1828ء میں ارس دریا کے شمالی علاقے — جو آج کے جمہوریہ آذربائیجان پر محیط ہیں — ہمیشہ کے لیے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
یعنی، موجودہ جمہوریہ آذربائیجان کبھی ایران کا حصہ رہا، جو صفوی دور میں ایرانی زمین کا اہم جزو تھا، لیکن قاجار عہد میں روسی قبضے میں چلا گیا۔ اس طرح، آذربائیجان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا: آدھا روس کے زیرِ انتظام اور آدھا ایران میں برقرار رہا۔ بالکل اسی طرح جیسے بلوچستان بھی ایک وقت میں برطانوی ہند اورقاجاری ایران میں منقسم ہو گیا تھا۔
ایران کے موجودہ صدر پزشکیان بھی آذری ترک ہیں جو علاقائی تقریبات میں ترکی زبان بولتے ہیں۔
صفوی دَور کے ایران میں حکمرانی کرنے والے آذری نسل کے ترک شیعہ تھے، جن کی جڑیں بنیادی طور پر آذربائیجان اور آس پاس کے ترک علاقوں سے تھیں۔ یہ لوگ شیعہ اسلام کے پُرعزم معتقد تھے اور انہی کے ذریعے تشیع کو ایران میں ریاستی سطح پر نافذ کیا گیا، جس نے ملک کی مذہبی و سیاسی شناخت کو مستقل بنیاد فراہم کی۔ ان کے رسم و رواج اور زبان بھی ترک طرز کے تھے، جس کا اثر شاہی محلات، درباروں اور اہم مقامات کے ناموں پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے—جیسے ’قاپو‘ یعنی محل یا دروازہ۔ یوں صفوی دور میں ایران کی ریاستی اور ثقافتی پہچان آذری ترک شیعہ اثرات کے زیر سایہ پروان چڑھی اور ایک نئی تہذیبی شناخت اختیار کر گئی۔ جیسے ہی میں عمارت کے اندر داخل ہوا، سامنے سفید دیوار پر کالی روشنائی سے جلی حروف میں لکھا تھا: ’عمارتِ عالی قاپو‘۔ تحریر ایسی واضح تھی جیسے کسی نے تاریخ کو ٹھہر کر کہہ دیا ہو: یہ میں ہوں، اور یہ میرا نام ہے۔
میں نے بے ساختہ پاس کھڑے محافظ سے پوچھا، ’یہ تحریر نئی ہے یا پرانی؟‘
وہ مسکرا کر بولا، ’سیاحوں کے لیے نئی، تاریخ کے لیے پرانی۔‘
میں نے دل ہی دل میں سوچا—سفرنامہ نویس کے لیے دونوں باتیں یکساں اہم ہیں۔
1979 ء میں جب اس عمارت کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تو اسی عبارت کے نیچے انگریزی حروف میں ‘Ali Qapu Palace’ کندہ کر دیا گیا—یوں تاریخ نے اپنے قدیم نام کے ساتھ ایک جدید شناخت بھی اوڑھ لی۔
اس عمارت کی دوسری منزل میں ایک شاندار لکڑی کا دیوان بنایا گیا تھا، جس کی چھت بھی لکڑی ہی کی تھی۔ چھت کو سہارا دینے کے لیے مضبوط چوبی ستون کھڑے کیے گئے تھے، اور ہر ستون پر ایسی نفاست سے نقوش تراشے گئے تھے کہ نگاہ ٹھہر جائے۔ حیرت یہ ہے کہ یہ نقوش آج بھی اتنے ہی تر و تازہ اور جاذبِ نظر ہیں جیسے صفوی عہد میں تھے—وقت جیسے ان پر دستِ شفقت رکھ کر گزر گیا ہو۔
کہا جاتا ہے کہ بادشاہ شاہ عباس اسی چوبی دیوان میں کھڑے ہو کر کھیلوں، کُشتی کے مقابلوں اور دیگر عوامی مشاغل کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔ میں نے دیوان کے فرش پر کھڑے ہو کر ذرا آنکھیں موندیں تو لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے ہجوم کی آوازیں، نعروں کی گونج اور شاہی وقار سب مل کر فضا میں تَیر رہے ہوں۔
پہلی منزل سے ایک زینہ اوپری منزل کی طرف جاتا ہے۔ اس زینے کے ہر قدم کو فیروزی رنگ کے پھول بوٹوں سے سجایا گیا تھا—جیسے سیڑھیاں نہیں، کسی مصور کی دعا ہوں جو قدم قدم پر رنگ بکھیرتی چلی جائے۔ اوپری منزل کی تنگ گلیوں سے گزر کر راستہ اسی چوبی دیوان میں نکل آتا ہے۔
ان تنگ گلیوں کے دونوں اطراف شاہی کمرے بنائے گئے تھے۔ اگرچہ اس وقت وہ کمرے بند تھے، مگر ان کے چوبی دروازوں پر کی گئی نقاشی خود ایک مکمل داستان تھی۔ کھڑکیوں پر بھی لکڑی کے مُحیَّرالعقول نقوش بنائے گئے تھے، اور ان کے پَٹ اتنی دبیز لکڑی سے تیار کیے گئے تھے کہ ہاتھ لگانے پر درخت کی عمر اور کاریگر کی محنت دونوں محسوس ہوتی تھیں۔
یہ عمارت کسی ایک لمحے کی تخلیق نہیں؛ اس میں ترمیم و اضافہ شاہ عباس اول اور شاہ عباس دوم کے عہد میں ہوتا رہا۔ یوں عالی قاپو صرف ایک محل نہیں بلکہ صفوی عہد کی بڑھتی، سنبھلتی اور نکھرتی تاریخ کا زندہ استعارہ ہے۔
یہ بَل کھاتا ہوا خوبصورت زینہ ہمیں شاہی دیوان کے شاہی کمرے میں لے آیا۔ کمرے کے ایک گوشے میں آتش دان تھا، جیسے سردیوں کی کسی شام کے لیے اب بھی منتظر ہو۔ روشنی کے لیے قدِ آدم دریچے بنائے گئے تھے، جن سے دن کی روشنی یوں اندر اترتی تھی جیسے اجازت لے کر آئی ہو۔ سامان رکھنے اور الماریوں کے لیے دیواروں کے اندر محرابی خانے تراشے گئے تھے، جو رنگ برنگے نقوش سے اس طرح مزین تھے کہ دیواریں بھی اپنی کہانی سناتی محسوس ہوتی تھیں۔
کمرے کی دائیں جانب کے دریچوں سے نقشِ جہان اسکوائر کے کونے میں واقع مسجدِ شاہ دکھائی دیتی تھی۔ اس مسجد کا پُرشکوہ اور عالی شان گنبد، اور اس کے دو بلند و بالا مینار، دور ہی سے زائرین کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں جیسے شہر کی فضا میں خاموش دعوت نامے بکھرے ہوں۔ سامنے کی کھڑکیوں سے اسکوائر کے وسط میں بنا مستطیل تالاب نظر آتا تھا، جس کے گرد وسیع سبزہ زار، باغیچے اور سلیقے سے لگائے گئے پودے تھے۔ اس سبزہ زار میں کشادہ رَوِشیں بنائی گئی تھیں اور ان کے اطراف بینچ رکھے گئے تھے، گویا تھکے ہوئے قدموں اور بکھرے خیالات کے لیے وقف ہوں۔
یہ تالاب اسکوئر کے قدرے جنوب کی طرف، مسجدِ لطف اللہ اور عمارتِ عالی قاپو کے بالکل سامنے واقع ہے۔ اس کے چاروں اطراف دومنزلہ، چھتہ دار بازار کے محرابی برآمدے دکھائی دیتے ہیں، جو اس عظیم اسکوائر کو ایک مکمل فریم میں قید کیے ہوئے ہیں۔
شاہی محل یعنی عمارتِ عالی قاپو کے عین سامنے ایک اور گنبد نظر آتا ہے، مگر اس کے ساتھ کوئی مینار نہیں۔ یہ مسجدِ لطف اللہ ہے؛ سادہ، خاموش اور اپنی انفرادیت پر نازاں۔
میں زینہ چڑھ کر شاہی دیوانِ عام میں پہنچا۔ اس کا فرش لال پتھر سے بنا ہوا تھا، مگر چھت اور تمام اٹھارہ ستون چنار کی لکڑی کے تھے۔ یہ ستون چبوترے کے گرداگرد بھی کھڑے تھے اور چند ستون درمیان میں چھت کو سہارا دیے ہوئے تھے۔ چنار کی لکڑی سے بنی یہ چھت اندر سے غیر معمولی طور پر دلکش تھی۔ صفوی عہد کے ماہر کاریگروں نے لکڑی میں دیدہ زیب نقوش اس مہارت سے کندہ کیے تھے کہ دیکھنے والے کی نگاہیں اسی چھت میں الجھ کر رہ جائیں۔چھت کو مستطِیل خانوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر خانے میں ایک جداگانہ ڈیزائن تراشا گیا تھا۔ یہ نقوش گہرے قلیجی رنگ اور خاکی مائل پیلے رنگ کی آمیزش سے بنائے گئے تھے، جیسے رنگوں نے صدیوں پہلے آپس میں کوئی خاموش معاہدہ کر لیا ہو۔
اس چوبی دیوان خانے میں اگر پیچھے گردن موڑ کر، یعنی مغرب کی طرف دیکھا جائے، تو محل کی کھڑکیوں کے بیرونی محرابی دریچے نظر آتے ہیں— مسحور کن اور باوقار۔ اور اگر نگاہ کو ذرا اور آگے لے جایا جائے تو نقشِ جہان اسکوائر کے اُس پار، دور اصفہان کے خشک پہاڑ دکھائی دیتے ہیں؛ خاموش، سپاٹ اور وقت کی گواہی دیتے ہوئے۔
مسجد شاہ لطف اللہ
عالی قاپو محل کے بالکل سامنے مسجدشاہ لطف اللہ کی خاموش عمارت کھڑی تھی۔عمارتِ عالی قاپو سے مستورات کے لیے ایک زیرِ زمین راستہ مسجدِ لطف اللہ تک جاتا تھا۔ ایسا راستہ جو صرف اینٹوں اور مٹی کا نہیں بلکہ صفوی دربار کے آداب اور پردے کی علامت بھی تھا۔ شیخ لطف اللہ کا تعلق لبنان کے غالی شیعہ علماء سے تھا۔
شیخ لطف اللہ (لطف اللہ مَیسی الجبعلی) ایک معروف شیعہ عالم تھے جن کا تعلق موجودہ لبنان کے جبل عامل کے علاقے سے تھا، جو شیعہ مذہبی تعلیم و تحقیق کا قدیم مرکز رہا ہے۔ صفوی دور میں تشیع کو ایک مضبوط مذہبی اور ریاستی شناخت دینے کے سلسلے میں شاہ عباس اوّل نے انہیں ایران میں آباد ہونے کی دعوت دی — اور اسی دعوت کے نتیجہ میں وہ اصفہان آئے۔ صفوی دور میں ایران کو تشیع کی طرف لے جانے میں ان لبنانی غالی شیعہ علما ءکا کردار خاصا نمایاں رہا ہے۔ اس اعزاز اور قربِ شاہی کے جواب میں شیخ لطف اللہ نے اپنی صاحبزادی کو شاہ عباس اوّل کے عقد میں دے دیا۔ یوں مذہب، سیاست اور خاندان تینوں ایک ہی رشتے میں بندھ گئے۔
مسجد کے مرکزی محرابی دروازے میں داخل ہونے کا راستہ خاصا کشادہ تھا۔ اس داخلی دروازے پر فیروزی رنگ کی کاشی کاری سے بنے نقوش ایسے چمک رہے تھے جیسے کسی خاموش دعاء کو رنگ دے دیا گیا ہو۔ مسجد میں داخل ہو کر ایک محرابی راستے سے گزرتا ہوا میں مرکزی ہال میں آ پہنچا۔
مسجد کا گنبد اندر سے ہفت رنگ—یعنی سات رنگوں—کے نقوش سے مزین تھا۔ محراب اور منبر پر اس دور کے نامور خطاط اور خوش نویس، علی رضا عباسی، نے آیاتِ قرآنی اس سلیقے سے رقم کی تھیں کہ لفظ بھی عبادت میں مصروف دکھائی دیتے تھے۔ گنبد میں چھوٹے چھوٹے محرابی دریچے بنائے گئے تھے، جن سے سورج کی روشنی چَھن چَھن کر اندر آتی اور پورے ہال کو ایک نرم، روحانی اجالے میں نہلا دیتی تھی۔
گنبد کے نقوش میں غالب رنگ سنہری تھا، جبکہ قرآنی آیات تیز فیروزی رنگ میں کندہ کی گئی تھیں۔ گنبد کے گرد چاروں اطراف چھوٹے چھوٹے محرابی دریچے بنائے گئے تھے جو اسے سہارا دیے ہوئے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ گنبد انہی محرابی دریچوں پر ٹِکا ہوا ہو۔ دراصل گنبد اور اس کے نیچے موجود محرابی دریچوں کے درمیان حدِ فاصل ان کے رنگ اور نقوش بناتے تھے—اوپر سنہری وقار، نیچے فیروزی استحکام۔
مرکزی محراب، محرابِ امامت تھی جہاں شیخ لطف اللہ خود کھڑے ہو کر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ مسجد کا ایک وسیع صحن بھی تھا، جس کے عین وسط میں ایک تالاب بنایا گیا تھا جہاں مستورات وضو کیا کرتی تھیں۔
اس مسجد میں گنبد کے ساتھ مینار نہ بنانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یہ مسجد عام مرد حضرات کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔ یہ خاموشی سے یہ اعلان بھی کرتی تھی کہ یہ عبادت گاہ صرف شاہی خاندان کی مستورات کے لیے مخصوص ہے—بلا اذان، بلا مینار، مگر پورے وقار کے ساتھ۔
مسجد شاہ عباس
قیصری دروازے سے داخل ہوتے ہی میری نظر تقریباً چھ سو پچاس میٹر دور مسجدِ شاہ کے فلک بوس میناروں اور عالی شان گنبد پر جا ٹھہری۔ یہ وہی مسجد ہے جہاں آج کل باقاعدہ طور پر صرف نمازِ جمعہ ادا کی جاتی ہے، مگر اس کی ہیبت اور جلال ہر دن، ہر لمحہ برقرار رہتا ہے۔
مسجدِ شاہ کا مرکزی دروازہ نہایت پُرشکوہ ہے—صفوی عہد کی نقاشی اور طراح کاری کا ایک زندہ نمونہ۔ دروازے کے دونوں جانب قرآنی آیات خطِ کوفی میں کَندہ کی گئی ہیں۔ نیلی زمین پر سفید روشنائی سے ابھرتی یہ آیات محرابی انداز میں دروازے کے اوپر تک پھیلی ہوئی ہیں، جیسے لفظ خود اس دروازے کو سہارا دیے ہوئے ہوں۔ اسی بلند و بالا دروازے کے اوپر دو مینار بھی تعمیر کیے گئے ہیں جو دور سے آنے والوں کے لیے نشانِ راہ بنتے ہیں۔
مسجد کے اندر قدم رکھتے ہی ایک الگ ہی دنیا آباد محسوس ہوتی ہے۔ جس وقت میں وہاں پہنچا، مسجد میں قالین بچھے ہوئے نہیں تھے، البتہ ہر جمعہ کو نمازِ جمعہ کے موقع پر قالین بچھائے جاتے ہیں اور یہ وسیع ہال نمازیوں سے بھر جاتا ہے۔ خالی فرش کے باوجود مسجد کی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں تھی؛ شاید اصل حسن اینٹوں، گنبد اور خاموش فضا میں پوشیدہ تھا۔
یہاں ایک عجیب و دل چسپ مظہر دیکھنے کو ملا۔ مسجد کے مرکزی گنبد کے عین نیچے کھڑے ہو کر اگر زمین پر زور سے قدم مارا جائے یا تالی بجائی جائے تو آواز گونج اٹھتی ہے۔ سیاح اس تجربے کو آزما رہے تھے، مسکرا رہے تھے اور صفوی دور کے معماروں کو داد دے رہے تھے۔
یہی وہ فنکاری ہے جس کے باعث اس زمانے میں جب مسجد میں اذان دی جاتی تھی تو مؤذن کی آواز چاروں اطراف پھیل جاتی تھی۔ یہ صوتی حسن ہمیں لاہور کی بادشاہی مسجد کی یاد بھی دلاتا ہے، جہاں آواز خود اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
گنبد کے اندر پھول بوٹوں کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات فیروزی رنگ میں کندہ کی گئی ہیں۔ روشنی کے لیے گنبد میں چھوٹے چھوٹے محرابی، جالی دار دریچے بنائے گئے ہیں جن سے سورج کی روشنی چَھن کر اندر آتی اور مسجد کو ایک روحانی اجالے میں نہلا دیتی ہے۔
یوں مسجدِ شاہ عباس نقشِ جہان اسکوائر میں عوامی عبادت، فنِ تعمیر اور صوتی جمالیات کا ایسا سنگم ہے جو صفوی عہد کی عظمت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ جہاں مسجدِ لطف اللہ خاموش نجی عبادت کی علامت تھی، وہیں مسجدِ شاہ عباس عوامی روح اور اجتماعی وقار کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔
ٹانگے کی سواری
چونکہ نقشِ جہان اسکوئر ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اس لیے سیاحوں کی سہولت اور تفریح کے لیے صفوی دور کی یاد تازہ کرتی ٹانگے کی سواری کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ ٹانگے محض ایک سواری نہیں تھے بلکہ اسکوائر کی فضا میں گھل مل جانے والا ایک جیتا جاگتا منظر تھے۔ ہر ٹانگے میں صرف دو سوار بیٹھ سکتے تھے، گویا تاریخ نے بھی اس سفر کے لیے ہجوم کی اجازت نہیں دی تھی۔
ان ٹانگوں کو سفید اَسپ—یعنی سفید گھوڑے—کھینچ رہے تھے، جن کی گردنوں میں بندھے گھنگھرو چلتے ہی بج اٹھتے۔ گھوڑے کے ٹاپے فرش پر پڑتے تو یوں لگتا جیسے گھنگھروں کی چھنچھناہٹ میں تحلیل ہو گئے ہوں۔ تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل، مستطِیل رَوِش پر یہ ٹانگے رواں دواں تھے اور ہر سمت گھنگھروؤں کی مدھم مگر مسلسل آواز سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔
میں خود نقشِ جہان اسکوائر کی اسی طویل روش پر پیدل چل رہا تھا۔ میرے قریب سے ایک کے بعد ایک ٹانگا گزرتا، اور کچھ ہی فاصلے پر دوسرا، جیسے پورا اسکوائر اس قدیم سواری کی گردش میں بندھ گیا ہو۔ سیاہ رنگ کی گھوڑا گاڑی اور اس کے ساتھ جُتے سفید گھوڑے—سیاہ و سفید کا یہ امتزاج آنکھ کو فوراً بھلا لگتا تھا، جیسے کسی مصور نے جان بوجھ کر محدود رنگوں میں پورا منظر ترتیب دیا ہو۔
ایک اور دل چسپ پہلو یہ تھا کہ تمام یَکّہ بان نوجوان تھے اور ایک مخصوص وردی میں ملبوس تھے۔ نیلی شرٹ اور سیاہ پتلون پر مشتمل یہ وردی انہیں اس ماحول کا باقاعدہ کردار بنا دیتی تھی۔ ہر یَکّہ بان کی اپنی مخصوص نشست تھی، جہاں بیٹھ کر وہ باگ تھامے گھوڑے کو اس اعتماد سے ہانکتا تھا جیسے یہ کام نسلوں سے اس کے خون میں شامل ہو۔
میں نے ٹانگے کی طرف دیکھا، دل میں سوچا، ’آج ذرا روایتی طریقہ آزمائیں۔‘ میں ٹانگے میں سوار ہوا، بیٹھتے ہی یکہ بان نے مسکرا کر کہا، ’آغا، یہ گھوڑا یکہ نہیں، تاریخ کھینچ رہا ہے۔‘ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ’اچھا، تو پھر چلائیں اسے زمانے کے سفر پر!‘
گھوڑا چلا، تو رفتار میں کوئی عجلت نہ تھی۔ نقشِ جہان اسکوئر میں جدید گاڑیاں نہیں چل رہی تھیں، بلکہ لوگ پیدل چل رہے تھے اور بچے اپنی سائیکلیں گھما رہے تھے۔ ہمارا ٹانگا اس سب کے بیچ ایک پُرسکون دلیل کی طرح آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ پہیے پتھریلی سطح پر ہلکی سی آواز پیدا کرتے، جیسے شہر سے اجازت لے رہے ہوں۔
نقشِ جہان کے گرد گھومتے ہوئے ایک طرف عالی قاپو کی بالکنی پیچھے ہٹتی دکھائی دی، دوسری طرف مسجدِ لطف اللہ کی خاموشی ہمارے ساتھ ساتھ چلتی رہی، اور سامنے مسجدِ شاہ عباس کے مینار آہستہ آہستہ زاویہ بدلتے گئے۔ ٹانگے کی اس رفتار میں عمارتیں صرف دکھائی نہیں دیتیں، سمجھ میں بھی آتی ہیں۔
میں نے ٹانگے والے سے پوچھا، ’سارا دن یہی چکر لگاتے نہیں تھکتے؟‘
وہ ہنس پڑا اور بولا، ’آغا، یہاں چکر نہیں، روایت چلتی ہے۔‘
چکر مکمل ہوا تو ٹانگا وہیں آ کر رکا جہاں سے چلا تھا۔ میں اترا تو یوں محسوس ہوا جیسے میں نے ایک شہر نہیں، ایک عہد کی سواری کی ہو۔ نقشِ جہان اب پیچھے نہیں رہ گیا تھا؛ وہ میرے ساتھ چلتا ہوا دل میں اتر چکا تھا۔
اگلی قسط میں ہم اِصفہان کے دیگر اہم مقامات کی سیر کریں گے۔انشاء اللہ










