دنیا بھر میں سیاسی طاقت پر مردوں کا غلبہ برقرار ہے اور خواتین اب بھی قیادت کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔
ایک تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق صرف 28 ممالک ایسے ہیں جہاں کسی خاتون کے پاس سربراہِ مملکت یا سربراہِ حکومت کا عہدہ موجود ہے، جبکہ 101 ممالک ایسے ہیں جہاں آج تک کوئی خاتون قومی قیادت تک نہیں پہنچ سکی۔
یہ اعداد و شمار عالمی تنظیم انٹر پارلیمنٹری یونین(IPU) اور یو این ویمن کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس میں دنیا بھر میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
کابینہ اور پارلیمنٹ میں خواتین کی کم نمائندگی
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر خواتین کی نمائندگی اب بھی محدود ہے۔
کابینہ کی وزارتوں میں خواتین کا حصہ 22.4 فیصد ہے۔
پارلیمانی نشستوں میں خواتین کی نمائندگی 27.5 فیصد تک پہنچ سکی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی بتدریج پیش رفت کے بعد اب اس عمل میں جمود نظر آ رہا ہے اور بعض ممالک میں خواتین کی نمائندگی میں کمی بھی دیکھی جا رہی ہے۔
خاص طور پر کابینہ میں خواتین کی نمائندگی 2024 کے مقابلے میں کم ہو کر 22.4 فیصد رہ گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی میدان میں صنفی مساوات کے حصول کا سفر اب بھی طویل ہے۔
چند ممالک میں صنفی برابری، کئی میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں
رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف 14 ممالک ایسے ہیں جہاں کابینہ میں صنفی برابری حاصل ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس آٹھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
حُقوق و فرائض کی جنگ اور معاشرتی توازن!!
خواتین کی آزادی کے نام پہ استحصال
خواتین کے خلاف جرائم مسلم دنیا میں کم اور غیر مسلم دنیا میں زیادہ کیوں؟
اسی طرح پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی اگرچہ معمولی اضافے کے ساتھ 27.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم 2017 کے بعد سے ترقی کی رفتار انتہائی سست ہو گئی ہے۔
پارلیمانی قیادت میں بھی خواتین کی کمی
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پارلیمانی قیادت میں خواتین کی موجودگی کم ہوتی جا رہی ہے۔
جنوری 2026 تک دنیا بھر میں صرف 54 خواتین پارلیمنٹ اسپیکر ہیں، جو کل اسپیکرز کا تقریباً 19.9 فیصد بنتی ہیں۔ یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
خواتین سیاستدانوں کو زیادہ دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا
رپورٹ کے مطابق سیاست میں آنے والی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں اکثر دباؤ، دھمکیوں اور عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک سروے کے مطابق:
76 فیصد خواتین پارلیمنٹرینز نے عوام کی جانب سے خوف و ہراس یا دھمکیوں کی شکایت کی۔
مرد ارکان میں یہ شرح 68 فیصد رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خواتین کو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے روکنے والی اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
طاقتور وزارتیں زیادہ تر مردوں کے پاس
عالمی سطح پر زیادہ تر ممالک میں خواتین کو اب بھی صرف سماجی شعبوں تک محدود رکھا جاتا ہے، جیسے خاندانی امور، بچوں کے مسائل،صنفی مساوات۔
جبکہ دفاع، داخلہ، معیشت اور انصاف جیسی طاقتور اور فیصلہ کن وزارتیں عموماً مرد سیاستدانوں کے پاس ہوتی ہیں۔
خواتین کی قیادت معاشروں کو مضبوط بناتی ہے
سیما بحوث، جو یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں کے دوران خواتین کو سیاسی قیادت سے باہر رکھنا معاشروں کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔
ان کے مطابق جب خواتین کو قیادت میں مکمل نمائندگی دی جاتی ہے تو ممالک زیادہ مستحکم ہوتے ہیں اور حکومتی پالیسیاں بھی زیادہ مؤثر اور جامع بن جاتی ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق خواتین کی سیاسی نمائندگی بڑھانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
سیاسی نظام میں قانونی اصلاحات، پارلیمنٹ اور حکومت میں خواتین کے لیے کوٹہ سسٹم، معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر کا مقام نہیں دیا جاتا، تب تک حقیقی جمہوری اور سماجی ترقی ممکن نہیں۔










