ٹیکنالوجی کمپنی Google نے اپنے سرچ انجن کا ایک متنازع AI فیچر “What People Suggest” بند کر دیا ہے، جو صارفین کو دنیا بھر کے عام لوگوں کے تجربات پر مبنی طبی مشورے فراہم کرتا تھا۔
فیچر کیا تھا؟
یہ فیچر صارفین کو ایسے افراد کے مشورے دکھاتا تھا جنہوں نے اسی طرح کی بیماری یا طبی مسئلہ خود جھیلا ہو، اپنے ذاتی تجربات آن لائن شیئر کیے ہوں۔
گوگل کے مطابق اس کا مقصد لوگوں کو “حقیقی تجربات” تک رسائی دینا تھا۔
گوگل کا مؤقف
گوگل کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ سرچ پیج کو آسان بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ فیچر کو ختم کرنے کا تعلق اس کی کوالٹی یا سکیورٹی سے نہیں۔
ترجمان نے کہا:
“ہم اب بھی صارفین کو مستند طبی معلومات فراہم کرنے میں مدد دیتے رہیں گے، بشمول ایسے فورمز جہاں لوگ اپنے ذاتی تجربات شیئر کرتے ہیں۔”
پہلے اسے انقلابی قرار دیا گیا تھا
گوگل نے اس فیچر کو پہلے:
“صحت کے شعبے میں AI کا انقلابی استعمال” قرار دیا تھا
کمپنی کی سابق چیف ہیلتھ آفیسر کیرن ڈی سلوو نے کہا تھا:
“لوگ ماہرین کی معلومات کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کے تجربات بھی سننا چاہتے ہیں جو انہی حالات سے گزر چکے ہوں۔”
AI ہیلتھ معلومات پر بڑھتے سوالات
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق گوگل کو AI کے ذریعے صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ غلط یا گمراہ کن معلومات صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
جان کو خطرہ بننے والی معلومات؟
رپورٹس کے مطابق جنوری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا۔
گوگل کے “AI Overviews” فیچر نے بعض کیسز میں گمراہ کن معلومات فراہم کی جس سے لوگوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے
حفاظتی خدشات پر مزید پابندیاں
ان خدشات کے بعد گوگل نے AI Overviews فیچر کو کچھ طبی سوالات تک محدود کر دیا تاکہ غلط معلومات کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ AI ٹیکنالوجی ابھی صحت کے حساس شعبے میں مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں۔ بڑی ٹیک کمپنیاں بھی اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہی ہیں۔










