برطانیہ کے شہر چیشائر کی رہائشی 45 سالہ کیری شارپلز ایک عام سی زندگی گزار رہی تھیں۔ دو بچوں کی ماں، مصروف گھریلو زندگی، اور صحت کے حوالے سے بظاہر کوئی بڑی پریشانی نہیں تھی۔
وہ پچھلے 21 سال سے ایک فیصلہ کیے بیٹھی تھیں، ماہواری سے بچنے کے لیے باقاعدگی سے برتھ کنٹرول انجیکشن لگوانا۔ ان کے لیے یہ ایک آسان حل تھا۔
وہ کہتی ہیں:
“مجھے لگا کہ سب ٹھیک ہے… میں بالکل ٹھیک تھی۔ میں نے سوچا، جو چیز ٹھیک چل رہی ہے اسے کیوں بدلا جائے؟”
انہیں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ اس فیصلے کے نتائج اتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایک معمولی علامت… اور زندگی بدل گئی
2025 میں ایک دن انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ ان کے دائیں کان میں عجیب سی دھڑکن محسوس ہو رہی ہے۔
یہ کوئی بڑی بات نہیں لگ رہی تھی، مگر احتیاط کے طور پر ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ اور اسکین تجویز کیے۔
کچھ ہی دنوں بعد، کیری کی زندگی بدل چکی تھی۔
ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کے دماغ میں چار ٹیومرز موجود ہیں۔
وہ لمحہ یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:
“میں مکمل طور پر صدمے میں تھی… مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ یہ ہو رہا ہے۔”
ان میں سے ایک ٹیومر ان کی دائیں آنکھ کے پیچھے تھا، جو خاصا بڑا تھا۔
ایک فیصلہ… جس پر آج پچھتاوا ہے
اسی موقع پر ڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر ہارمونل برتھ کنٹرول انجیکشن بند کرنے کا مشورہ دیا۔
تب انہیں پہلی بار معلوم ہوا کہ ان انجیکشنز اور دماغی ٹیومرز کے درمیان ممکنہ تعلق ہو سکتا ہے۔
کیری کہتی ہیں:
“مجھے ان انجیکشنز کے استعمال پر پچھتاوا ہے۔ یہ اب بہت عجیب لگتا ہے کہ میں صرف ماہواری سے بچنا چاہتی تھی… اور اب میرے دماغ میں چار ٹیومرز ہیں۔”
وہ ایک جملہ بار بار دہراتی ہیں، جو ان کی کیفیت کو پوری طرح بیان کرتا ہے:
“اب میں کسی بھی دن ماہواری کو قبول کر لوں گی۔”
“اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا…”
کیری کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اس خطرے کے بارے میں پہلے معلوم ہوتا تو وہ کبھی یہ فیصلہ نہ کرتیں:
“اگر مجھے معلوم ہوتا، چاہے یہ خطرہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہوتا، تو میں یقیناً مختلف فیصلہ کرتی۔”
وہ خود کو اس معاملے میں کچھ حد تک سادہ لوح بھی سمجھتی ہیں:
“میں نے تحقیق نہیں کی… میں نے بس یہ سمجھا کہ چونکہ ڈاکٹر دے رہے ہیں، تو سب محفوظ ہے۔”
خوف، امید اور حقیقت
اب کیری اپنی زندگی ایک نئے خوف کے ساتھ گزار رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں:
“میں ایسی انسان ہوں جو ہر حال میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے… مگر کبھی کبھی یہ سب بہت اثر انداز ہوتا ہے۔”
انہیں یہ بھی احساس ہے کہ اگر بروقت ٹیسٹ نہ ہوتے تو شاید نتائج کہیں زیادہ خطرناک ہوتے:
“شاید میں بینائی کھو دیتی… یا میری جان بھی جا سکتی تھی۔”
اب وہ امید کے سہارے جی رہی ہیں:
“میں امید کرتی ہوں کہ یہ ٹیومرز سکڑ جائیں… یا کم از کم مزید نہ بڑھیں، اب جبکہ میں نے ہارمونز لینا بند کر دیا ہے۔”
دوسروں کے لیے پیغام
کیری نے اپنی کہانی اس لیے شیئر کی تاکہ دوسری خواتین اس سے سبق سیکھ سکیں۔
وہ کہتی ہیں:
“میں لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہتی… مگر انہیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ یہ چیزیں کیا اثر ڈال سکتی ہیں۔”
اور آخر میں ایک سادہ مگر اہم مشورہ دیتی ہیں:
“اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں، تحقیق کریں… کیونکہ اور بھی راستے موجود ہیں۔”
کیری شارپلز کی کہانی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی ہے
کہ صحت سے متعلق ہر فیصلہ، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ لگے، مکمل آگاہی اور احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔










