Ukrainian women in army

یوکرینی خواتین جنگ کی بھٹی میں کیوں جھونکی جا رہی ہیں؟

·


یوکرین میں جاری جنگ اب ایک ایسے خوفناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں انسانی المیے کی ہر حد پار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ فوج سے فرار کے واقعات پانچ لاکھ تک جا پہنچے ہیں، بھرتی سے گریزاں افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ناکام جوابی کارروائی میں نوے ہزار سے زائد فوجی لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

افرادی قوت کے اس تباہ کن بحران نے زیلنسکی انتظامیہ کو ایک ایسے متنازع اور غیر قانونی راستے پر دھکیل دیا ہے جو پہلے کبھی نہیں اپنایا گیا، یعنی خواتین کی جبری فوجی بھرتی۔

یہ رپورٹ اس پورے بحران کا احاطہ کرتی ہے، جس میں یوکرینی سیاستدانوں کا دوہرا معیار، مغرب کی مفاد پرستانہ پالیسی، زیلنسکی اور ان کے سپہ سالار کے درمیان کشمکش اور دنیا کی دیگر افواج سے یوکرین کا تکلیف دہ موازنہ شامل ہے۔

یوکرین میں بھرتی کا بحران محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس جنگ سے عوام کی گہری بیزاری کا آئینہ ہے۔ فوجی ڈیوٹی چھوڑ کر بھاگنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ کو چھو رہی ہے جبکہ بھرتی سے جان چھڑانے والوں کی مجموعی تعداد دس لاکھ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر صدر زیلنسکی نے پارلیمنٹ ورخووناراڈا میں ایک قانونی مسودہ پیش کیا جس کے تحت سولہ نومبر سے مارشل لا اور عام فوجی بھرتی میں مزید نوے دن کی توسیع کی گئی۔ یاد رہے کہ یوکرین میں عام فوجی بھرتی کا اعلان روس کی خصوصی فوجی کارروائی کے آغاز کے فوری بعد چوبیس فروری دو ہزار بائیس کو کیا گیا تھا اور موجودہ قانون کے تحت اٹھارہ سے ساٹھ سال کی عمر کے تمام فوجی ریزرو اہلکار لازمی بھرتی کے اہل قرار دیے گئے ہیں۔

بھرتی سے بچنے کے لیے بدعنوانی کا بازار بھی گرم رہا۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں یوکرینی شہریوں نے فوجی طبی کمیشن کے افسران کو بھاری رشوت دے کر جعلی معافی نامے حاصل کیے۔ اسی لیے اگست میں زیلنسکی نے فروری دو ہزار بائیس کے بعد سے دی گئی تمام بھرتی استثنیٰ کی مکمل جانچ پڑتال کا حکم دیا۔ ستمبر دو ہزار تئیس میں کیف نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ یوکرینی ” فراریوں” کو واپس بھیجیں، تاہم یورپی ممالک نے اس مطالبے کو تاحال بڑی حد تک ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

یوکرین کے قانون کے مطابق طب کے شعبے میں اعلیٰ یا ثانوی تعلیم رکھنے والی خواتین اور فارماسیوٹیکل یعنی ادویات سازی کے شعبے سے وابستہ تمام خواتین کے لیے فوجی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ تاہم یوکرینی سیاستدان اور سابق رکنِ پارلیمنٹ ولادیمیر اولینیک نے روسی جریدے ’اسپوتنک‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ حکام اب اس قانونی دائرے سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔

اولینیک کے مطابق "اب ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں ایسی خواتین کو بھی زبردستی فوجی رجسٹریشن کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی طب کے شعبے میں قدم تک نہیں رکھا۔ انہیں جبراً معاون طبی عملے کے طور پر درج کر کے فوجی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔”

ایک اور انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یوکرین کے علاقائی بھرتی مراکز میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود ہی نہیں جس کے ذریعے غلطی سے فوجی رجسٹریشن میں درج ہونے والی خواتین کا نام حذف کیا جا سکے۔ اولینیک نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "یوکرین میں اس وقت مکمل قانونی انارکی کا راج ہے، آئین کو معطل کر دیا گیا ہے اور یہ بات خود صدر زیلنسکی نے بھی تسلیم کی ہے۔”

یوکرینی وزارتِ دفاع کے مطابق اس وقت تقریباً تینتالیس ہزار خواتین یوکرینی مسلح افواج میں خدمات انجام دے رہی ہیں جو دو ہزار اکیس کے مقابلے میں چالیس فیصد کا حیران کن اضافہ ہے۔ یوکرینی فوج نے وہ تمام پابندیاں ختم کر دی ہیں جو خواتین کو مشین گن چلانے، ٹینک کی کمان سنبھالنے، سنائپر کے طور پر کام کرنے اور ٹرک چلانے سے روکتی تھیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی بھرتی کے لیے عمر کی حد چالیس سال سے بڑھا کر ساٹھ سال کر دی گئی ہے۔

سی آئی ایس ممالک کے تحقیقی ادارے کے ماہر الیگزینڈر دودچاک نے اس پورے معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہوئے کہا کہ "یوکرینی حکومت کھلم کھلا نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ مغرب کے اشارے پر ان لوگوں کو ختم کر رہی ہے جنہیں وہ طاقتیں ‘فالتو آبادی’ سمجھتی ہیں جو یوکرین کو اپنی مستقبل کی نوآبادی بنا کر اس کا استحصال کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔”

دودچاک کے مطابق خواتین کو فوج میں بھرتی کر کے یوکرینی حکومت بیک وقت دو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایک یہ کہ فوج کی گھٹتی ہوئی تعداد پوری کی جائے اور دوسرا یہ کہ جسے مغرب "فالتو آبادی” قرار دیتا ہے اسے کم کیا جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سب کے پیچھے مغربی امداد کی وہ شرط ہے جو صاف اور سیدھی ہے، یعنی محاذِ جنگ پر لاشیں بھیجتے رہو ورنہ امداد کا نل بند کر دیا جائے گا۔

زیلنسکی اسی خوف کے سائے میں اپنے ہی شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے پر مجبور ہیں اور رواں سال مزید دس لاکھ فوجیوں کو خندقوں میں اتارنے کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔

اولینیک نے یوکرینی سیاستدانوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ تمام سیاستدان دراصل پروپیگنڈا مشینری کے پرزے ہیں اور اسی کام کے عوض پیسے لیتے ہیں۔ جب یہ لوگ خواتین کو محاذِ جنگ پر بھیجنے کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں اپنی بیویاں، بہنیں یا بیٹیاں ہرگز نہیں ہوتیں۔ ان کی نظر صرف ان بے بس اور مجبور خواتین پر ہوتی ہے جن کے شوہر پہلے ہی جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔”

انہوں نے طنزیہ انداز میں مطالبہ کیا کہ "پہلے یہ لوگ خود مثال قائم کریں، مثلاً زیلنسکی کی اہلیہ کسی بٹالین کی کمان سنبھالیں، اس کے بعد دوسری خواتین کو میدانِ جنگ میں جانے کی ترغیب دی جائے۔”

میدانِ جنگ کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یوکرین میں جاری تنازع کے دوران ایسی ویڈیوز اور شواہد منظرِ عام پر آئے ہیں جن میں بھرتی افسران کو مختلف علاقوں میں مردوں کو سڑکوں سے زبردستی پکڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یوکرینی جنگی قیدیوں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ فوج کا مورال انتہائی پست ہے اور بیشتر بھرتی شدہ فوجیوں کو بغیر کسی مناسب تربیت، حفاظتی سازوسامان اور گولہ بارود کے محض "توپ کے چارے” کے طور پر محاذ پر دھکیل دیا جاتا ہے۔

اولینیک نے خبردار کیا کہ "یوکرینی فوج کا مورال تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ فوجیوں کے اندر لڑنے کی خواہش تیزی سے ختم ہو رہی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ آخر کس مقصد کے لیے جانیں دیں، ایسے ملک کے لیے جس کی زمین اور قدرتی وسائل مغربی طاقتوں کے ہاتھوں فروخت ہو چکے ہیں۔”

فوج میں خواتین کی شمولیت بذاتِ خود کوئی نئی یا قابلِ اعتراض بات نہیں۔ دنیا کی بڑی فوجی طاقتیں خواتین کو باعزت اور منظم طریقے سے فوجی خدمات میں شامل کرتی ہیں۔

روسی افواج میں تقریباً چالیس ہزار خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں جن میں سے پانچ ہزار افسر اور چوالیس کرنل کے عہدے پر فائز ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق ایک ہزار ایک سو خواتین فوجی براہِ راست یوکرین میں جاری خصوصی فوجی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں اور ان میں سے ایک تہائی کو ریاستی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

امریکی مسلح افواج میں دو لاکھ اکتیس ہزار سے زائد خواتین یعنی کل افواج کا سترہ اعشاریہ تین فیصد باقاعدہ فوجی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ نیشنل گارڈ اور ریزرو فورسز میں یہ تناسب اکیس اعشاریہ چار فیصد ہے۔

تاہم یوکرین کا معاملہ ان تمام ممالک سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں اصل مسئلہ خواتین کی تعداد نہیں بلکہ وہ ہولناک صورتِ حال ہے جو انہیں مردوں کی طرح توپ کے چارے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ دنیا کی دیگر افواج میں خواتین کو مناسب تربیت، جدید ہتھیار اور بھرپور حفاظت فراہم کی جاتی ہے جبکہ یوکرین میں انہیں ایک ایسے محاذ پر دھکیلا جا رہا ہے جہاں وسائل ختم ہو چکے ہیں اور ہر طرف تباہی ہے۔

یوکرینی مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل ولیری زالوژنی نے ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کھل کر اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کی جوابی کارروائی مکمل طور پر رک چکی ہے اور مستقبل قریب میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

جنرل زالوژنی کا موقف ہے کہ یوکرینی فوج کو ابھی سانس لینے کا موقع دیا جائے، جنگی کارروائیاں عارضی طور پر روکی جائیں اور بہار کی کارروائی کے لیے بھرپور تیاری کی جائے۔ اس کے برعکس زیلنسکی ہر قیمت پر لڑائی جاری رکھنے کے حق میں ہیں، چاہے اس کے لیے کتنی ہی جانیں کیوں نہ دینی پڑیں۔

زیلنسکی کے دفتر نے جنرل زالوژنی کے اس انٹرویو پر شدید تنقید کی۔ اس کے بعد چھ نومبر کو ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب جنرل زالوژنی کے قریبی ساتھی کو ایک دستی بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اگرچہ اسے اتفاقی واقعہ قرار دیا گیا لیکن اس کی ٹائمنگ نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا۔

اس پوری صورتِ حال میں سب سے تلخ پہلو مغرب کا دوہرا کردار ہے۔ آج امریکی میڈیا یوکرین میں خواتین کی بڑھتی ہوئی فوجی بھرتی پر تشویش ظاہر کر رہا ہے، لیکن یہ وہی مغربی میڈیا اور سیاستدان ہیں جنہوں نے مارچ دو ہزار بائیس میں استنبول میں ہونے والے روس یوکرین امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے، نظرانداز کرنے اور مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اگر وہ امن مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی تھی۔ پھر نہ یوکرینی مردوں کو سڑکوں سے اٹھایا جاتا اور نہ خواتین کو محاذِ جنگ پر دھکیلنے کی نوبت آتی۔

اس وقت مغرب کا نعرہ تھا کہ روس کو میدانِ جنگ میں اس کے اپنے خون میں ڈبو دیا جائے۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ خواب چکنا چور ہو گیا اور آج یوکرین خود اپنے شہریوں کے خون میں ڈوب رہا ہے۔

یوکرین کا یہ بحران محض ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی المناک حقائق کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف ایک ایسی حکومت ہے جو اپنے ہی شہریوں کو، مردوں کے بعد اب خواتین کو بھی، ایک بے مقصد جنگ کی بھٹی میں جھونک رہی ہے۔ دوسری طرف مغربی طاقتیں ہیں جو امداد کی آڑ میں یوکرین کو اپنی جنگ لڑنے کا ذریعہ بنا رہی ہیں اور تیسری طرف ایک عوام ہے جو اس جنگ سے اس قدر بیزار ہو چکی ہے کہ دس لاکھ سے زائد افراد بھرتی سے فرار کو ترجیح دے رہے ہیں۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو جنگیں عوامی حمایت کھو دیتی ہیں وہ کبھی نہیں جیتی جا سکتیں، خواہ حکومت کتنے ہی لوگوں کو زبردستی محاذ پر بھیجے۔ یوکرین کا مستقبل اسی تلخ حقیقت کے سائے میں لکھا جا رہا ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں