A cup of hot tea

چینی بننے کا رجحان دنیا بھرکے نوجوانوں میں کیوں مقبول ہورہا ہے؟

·

یہ جملہ ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے لیا گیا ہے جس میں ایک کنٹینٹ کریٹر صدیوں پرانی چینی صحت افزا روایات پر مبنی طرزِ زندگی کے کئی طریقے بتاتا ہے۔ ان میں صبح اٹھ کر گرم پانی پینا، سیب ابال کر کھانا، گھر کے اندر چپل پہننا، سونے سے پہلے پاؤں گرم پانی میں بھگونا اور سست رفتار مراقبانہ ورزشیں شامل ہیں۔

مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا یہ ٹرینڈ دنیا بھر کے نوجوان صارفین میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اس میں تیز رفتار، دباؤ سے بھرپور معاشروں میں سکون، توازن اور صحت مند زندگی کی تلاش کی عالمگیر خواہش صاف جھلکتی ہے۔

جن عادات کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول ہورہی ہے، ان کی جڑیں چینی طرزِ صحت کے قدیم اصولوں سے تعلق رکھتی ہیں جن کی بنیاد شدت اور تھکا دینے والی محنت کے بجائے توازن، اعتدال اور باقاعدگی پر ہے۔

تائی چی اور بادوان جن جیسی روایتی چینی ورزشیں سست اور مسلسل حرکات پر مشتمل ہیں جنہیں سانس لینے کے مخصوص انداز اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ ملا کر کیا جاتا ہے۔

تیز رفتار اور تھکا دینے والی ورزشوں کے مقابلے میں یہ طریقے عموماً زیادہ پائیدار ہوتے ہیں اور انہیں ذہنی تناؤ میں کمی، نیند کے معیار میں بہتری اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے وسیع پیمانے پر مفید سمجھا جاتا ہے۔

سونے سے پہلے پاؤں گرم پانی میں بھگونا ایک اور مقبول روایت ہے جسے لوگ اپنا رہے ہیں۔ روایتی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گرم پانی خون کی روانی بہتر کرتا ہے اور جسم کو سکون دیتا ہے۔ جسمانی فوائد کے علاوہ یہ عمل دن کے اختتام پر ایک منظم وقفے کا کام کرتا ہے اور سرگرمی اور آرام کے درمیان ایک صحت مند تال میل قائم کرتا ہے۔

مشروبات کی عادات نے بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ گرم پانی، سیب ملا پانی یا لیموں پانی کو اب محض پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ انہیں روزانہ کی سیلف کیئر کے ایک باقاعدہ معمول کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جو آرام اور تسلسل کو ترجیح دیتا ہے۔

ان عادات کے مختلف ثقافتوں میں مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ ان کی آسان دستیابی ہے۔ انہیں اختیار کرنے کے لیے نہ زیادہ وقت درکار ہے، نہ بھاری مالی سرمایہ کاری اور نہ ہی کسی خاص آلے یا سازوسامان کی ضرورت ہے۔

مصروف کام کاج اور بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لیے ایسے معمولات کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنا انتہائی آسان ہے۔

چین میں اقوامِ متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر سدھارتھ چٹرجی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ طرزِ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اور سست رفتار، باشعور حرکت انسانی صحت و خوشحالی میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سانس لینے کی مشقوں جیسی تدابیر بغیر کسی جم یا آلات کے کہیں بھی کی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سانس اور حرکت کو منضبط کرنے سے اعصابی نظام کو سکون ملتا ہے اور ایک داخلی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ تائی چی، چی گونگ اور اس طرح کی دیگر روایات میں عدمِ تشدد کا تصور محض ایک نظریہ نہیں بلکہ عملی توازن کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جسم کے اندر بھی اور اپنے گردوپیش کے ساتھ تعلق میں بھی۔

عوامی صحت کے ماہرین بڑھتے ہوئے تناؤ اور غیر متحرک طرزِ زندگی سے جڑی دائمی غیر متعدی بیماریوں کو عالمی صحت کے لیے سب سے بڑے طویل مدتی خطرات میں شمار کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ایسے طریقوں کی طرف ایک بار پھر متوجہ ہورہے ہیں جو پائیدار اور اعتدال پسند طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

کام کے دباؤ، معاشی غیریقینی اور ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ طریقہ کار حقیقت پسندانہ اور پائیدار محسوس ہوتا ہے۔ جسم کو حد سے زیادہ تھکانے کے بجائے چینی بننےکا یہ رجحان آرام، تکرار اور طویل مدتی صحت مندی پر زور دیتا ہے۔

یہ عادات صحت کے روایتی چینی فلسفے کی بنیاد پر استوار ہیں جو قدرتی تال(Natural rhythms) کے مطابق زندگی گزارنے، سرگرمی اور آرام کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور چھوٹے لیکن باقاعدگی سے دہرائے جانے والے اعمال پر توجہ مرکوز کرنے کو اہمیت دیتا ہے۔

جیسے جیسے دنیا بھر کے صارفین ان معمولات کو اپنا رہے ہیں، یہ رجحان محض ظاہری نقل و تقلید سے آگے بڑھتا جارہا ہے۔ اب یہ ان روایات کے پیچھے موجود ثقافتی اقدار میں گہری دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے یعنی ضبطِ نفس، باقاعدگی اور جسم کے اشاروں پر توجہ دینے کا شعور۔

اس گہری وابستگی کی ایک واضح مثال جیک پینک کا تجربہ ہے، جو ایک امریکی شہری ہیں اور دس سال سے زائد عرصے سے چین میں مقیم ہیں۔ وہ ابتدا میں چینی مارشل آرٹس کی تربیت کی طرف کھنچے چلے آئے، لیکن تاؤ فلسفے سے تعارف کے بعد یہاں رہنے کا فیصلہ کرلیا خاص طور پر اس خیال نے انہیں متاثر کیا کہ انسانی سرگرمی کو فطرت کی روش کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ووڈانگ جیک کے ذریعے وہ روزمرہ زندگی اور روایتی چینی طریقوں کے مختلف پہلو عالمی سامعین کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ووڈانگ مارشل آرٹس کا مرکز و محور مقابلہ بازی نہیں بلکہ داخلی توازن کی پرورش ہے جس میں طاقت اور نرمی اور نظم و ضبط اور سکون کو ایک ساتھ سمویا جاتا ہے۔

روایتی چینی ثقافت کی گہرائیوں میں پیوست یہ صحت مندانہ طریقے دراصل ایک ایسے طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں جو باقاعدہ معمولات اور انسان و فطرت کے درمیان ہم آہنگی پر استوار ہے۔ دنیا بھر کے نوجوانوں کا اس رجحان سے جوش و خروش کے ساتھ جڑنا دراصل چینی ثقافتی اقدار کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرنے کا اظہار ہے۔

اس وائرل رجحان کے پیچھے ایک ثقافتی ہم آہنگی کارفرما ہے جو جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ روزمرہ کی سادہ عادات بھی سرحدوں کے پار انسانوں کے درمیان گہرے اور بامعنی رشتے استوار کرسکتی ہیں۔(بشکریہ سی جی ٹی این)

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں