عارف انیس
دو حریفوں کو، دشمنوں کو میز پر کیسے بٹھایا جاتا ہے جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں اور ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تحریر ان لوگوں کے لیے جو بی ہائنڈ دا سین گیم سمجھنا چاہتے ہیں۔
آج سیرینا ہوٹل اسلام آباد میں دنیا کی سب سے اہم میز لگی ہے۔ ایک طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر ہیں۔ دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی ہیں۔ درمیان میں پاکستان ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ حریف وفود ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ہوتے تو سفارتی زبان میں اسے "proximity talks” کہتے ہیں۔ قربت کے مذاکرات۔ جب دو فریق ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کو تیار نہیں مگر بات کرنے کو تیار ہیں۔ حال ہی میں الجزیرہ اور نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود میں براہ راست مذاکرات بھی ہوں گے جو زیادہ بہتر ہے۔ اس طرح وقت بچتا ہے اور اہم نتائج جلد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
یہ طریقہ نیا نہیں ہے۔ پچھلے سو سالوں میں دنیا کے پانچ اہم امن مذاکرات کا جائزہ لیں تو ہر ایک سے اسلام آباد مذاکرات کے لیے سبق ملتا ہے۔
کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 1978 میں ہوا۔ ستمبر 1978 میں صدر جمی کارٹر نے مصر کے انور سادات اور اسرائیل کے مناحم بیگن کو کیمپ ڈیوڈ بلایا۔ تیرہ دن مذاکرات ہوئے۔ کارٹر نے اپنی کتاب "Keeping Faith” میں لکھا کہ تیسرے دن سادات اور بیگن کی ذاتی چپقلش اتنی بڑھ گئی کہ دونوں نے ایک دوسرے سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ کارٹر نے فوری طور پر فارمیٹ بدلا: دونوں رہنماؤں کو الگ الگ کاٹیجز میں رکھا اور خود 23 بار ان کے درمیان چکر لگائے۔ ہر بار ایک فریق کی تجویز لے کر دوسرے فریق کے پاس گئے اور ہر بار الفاظ تبدیل کیے تاکہ دونوں کو اپنی عزت محفوظ نظر آئے۔
اسلام آباد میں آج بالکل یہی ہو رہا ہے۔ الجزیرہ نے واضح طور پر لکھا ہے کہ دونوں وفد الگ الگ کمروں میں ہوں گے اور پاکستانی حکام درمیان میں پیغام بر ہوں گے۔ کیمپ ڈیوڈ میں کارٹر 23 چکر لگاتے تھے۔ اسلام آباد میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار یہ کردار ادا کریں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کیمپ ڈیوڈ میں تیرہ دن لگے تھے۔ اسلام آباد میں ایرانی قومی سلامتی کونسل نے 15 دن کا وقت دیا ہے۔ جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔
کیمپ ڈیوڈ سے ایک اور سبق: کارٹر نے ایک ذاتی تعلق کا استعمال کیا جب اسرائیلی وزیراعظم بیگن روٹھ کر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ کارٹر نے بیگن کے پوتوں کے نام لکھ کر اسے تصویریں دیں اور کہا ’ان بچوں کے لیے امن چاہیے۔‘ بیگن رک گیا۔ قالیباف نے بھی 168 بچوں کی تصویریں لے کر اسلام آباد کا سفر کیا ہے۔ ذاتی المیے کی طاقت سفارتکاری کی میز پر سب سے بھاری ہتھیار ہوتی ہے۔
دوسری مثال اوسلو معاہدہ 1993 کی ہے جب 1993 میں ناروے نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان خفیہ مذاکرات کروائے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ مذاکرات مکمل طور پر خفیہ رکھے گئے۔ ناروے ایک چھوٹا ملک تھا جسے کسی نے سنجیدہ ثالث نہیں سمجھا تھا۔ مگر ناروے کا فائدہ یہی تھا: اس کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں تھا۔ ناروے کے سفارت کاروں نے دونوں فریقوں کو ایک فارم ہاؤس میں رکھا جہاں وہ غیر رسمی ماحول میں کھانا ساتھ کھاتے تھے۔ جب لوگ ساتھ کھانا کھائیں تو دیواریں گرتی ہیں۔
اسلام آباد میں دونوں وفد ایک ہی ہوٹل میں ہیں۔ سرینا ہوٹل۔ رائٹرز نے بتایا کہ ہوٹل کے تمام مہمانوں کو خالی کروایا گیا ہے اور معاوضہ دیا گیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ سرینا ہوٹل وزارت خارجہ کے بالکل ساتھ ریڈ زون میں واقع ہے۔ ایک ہی ہوٹل میں رکھنے کا مقصد وہی ہے جو اوسلو میں تھا: ممکن ہو تو غیر رسمی ملاقاتیں ہوں۔ لابی میں، ریستوران میں، لفٹ میں۔ بعض اوقات سب سے بڑی پیشرفت میز پر نہیں، گلیارے میں ہوتی ہے۔
اوسلو سے ایک اور سبق: ناروے نے "ڈینائی ایبلٹی” کا اصول استعمال کیا۔ اگر بات بگڑ جائے تو دونوں فریق انکار کر سکیں کہ مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم یہ مذاکرات پوری دنیا کے سامنے ہو رہے ہیں تو انہیں ماننا پڑے گا اور زبان بھی نبھانی پڑے گی۔
تیسری مثال ڈیٹن معاہدہ 1995 کی ہے۔ نومبر 1995 میں بوسنیا جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ نے ڈیٹن، اوہائیو میں سربیا کے ملوسیوچ، بوسنیا کے عزت بیگووچ اور کروشیا کے توجمان کو ایک فوجی اڈے میں بند کر دیا۔ امریکی مذاکرات کار رچرڈ ہولبروک نے اپنی کتاب "To End a War” میں لکھا کہ فوجی اڈا جان بوجھ کر چنا گیا تاکہ کوئی بھاگ نہ سکے۔ دروازے بند تھے۔ باہر نکلنے کا واحد راستہ معاہدہ تھا۔ ہولبروک نے دباؤ ڈالا: معاہدہ کرو یا جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے۔
اسلام آباد میں سرینا ہوٹل کے گرد تین کلومیٹر کا ریڈ زون قائم ہے۔ ہزاروں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں دو دن کی عام تعطیل ہے۔ سڑکیں بند ہیں۔ دکانیں بند ہیں۔ نور خان ایئر بیس سے وفود آئیں گے اور سرینا تک محفوظ راستے سے لائے جائیں گے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ 30 رکنی امریکی سیکیورٹی ٹیم پہلے سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ اے این آئی نے رپورٹ کیا کہ ایرانی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی مکمل حفاظت فراہم کی گئی: ایواکس طیارے، الیکٹرانک وارفیئر طیارے اور لڑاکا طیارے ساتھ اڑے۔
ڈیٹن سے ایک اہم فرق یاد رکھیں۔ ڈیٹن میں ملوسیوچ آیا تھا جو خود جنگجو تھا۔ اسلام آباد میں دونوں طرف سے سیاسی قیادت آئی ہے، فوجی قیادت نہیں۔ وینس سیاست دان ہے جو خود اس جنگ کا مخالف رہا ہے۔ قالیباف سیاست دان ہے جو ایران کی اندرونی سیاست کا مرکز ہے۔ یہ اچھی علامت ہے کیونکہ جب سیاست دان آئیں تو سمجھوتے کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔
چوتھی مثال جنیوا معاہدہ 1988 (افغانستان) کی ہے۔ 1988 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے جن کا نتیجہ سوویت یونین کا افغانستان سے انخلا تھا۔ الجزیرہ نے آج لکھا ہے کہ پاکستان کو اس طرح کے مذاکرات کا تجربہ ہے۔ سابق پاکستانی سفیر منیر اکرم نے الجزیرہ کو بتایا کہ 1988 میں بھی قربت کے مذاکرات ہوئے تھے اور وہ تاریخ آج متعلقہ ہے۔
جنیوا معاہدات سے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کامیاب مذاکرات کے لیے ضمانت دار ضروری ہوتے ہیں۔ جنیوا میں امریکہ اور سوویت یونین ضمانت دار تھے۔ دی نیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں مصر اور پاکستان (اور چائنا بی ہائنڈ دا سینز) جنگ بندی کے ضمانت دار ہوں گے۔ یہ اہم بات ہے کیونکہ اگر کوئی فریق خلاف ورزی کرے تو ضمانت دار کو جوابدہی کا اختیار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 8 اپریل کو خلاف ورزیوں پر جو بیان جاری کیا اور دونوں فریقوں کو ٹیگ کیا، وہ اسی ضمانت دار کے کردار کا اظہار تھا۔
پانچویں مثال ایران ایٹمی معاہدہ 2015 (JCPOA) کی ہے۔ ویانا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان دو سال کے مذاکرات کے بعد ایٹمی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت سست ہوتے ہیں۔ ایران ہر نکتے پر تفصیل سے بحث کرتا ہے۔ ہر لفظ پر اصرار کرتا ہے۔ ہر شق کی فارسی اور انگریزی دونوں زبانوں میں مطابقت چاہتا ہے۔ الجزیرہ نے آج لکھا ہے کہ ایران نے اپنے دس نکاتی منصوبے کے فارسی اور انگریزی ورژن میں فرق رکھا ہے اور مختلف ذرائع کو مختلف ورژن بھیجے ہیں۔ یہ ایرانی مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ ہے: ابہام پیدا کریں تاکہ بعد میں تشریح کی گنجائش رہے۔
2015 کے معاہدے سے ایک اور سبق یہ بھی ہے کہ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے انخلا کیا تھا۔ ایران کے لیے یہ زخم تازہ ہے۔ عراقچی جو آج اسلام آباد میں بیٹھے ہیں وہ اسی 2015 معاہدے کے مذاکرات کار تھے۔ ان کے لیے کسی بھی امریکی وعدے کی قیمت صفر ہے کیونکہ پچھلا وعدہ ٹوٹ چکا ہے۔ ایران نے اپنے دس نکاتی منصوبے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس بار امریکی صدر بدلے تو بھی معاہدہ نہ ٹوٹے۔
اب اسلام آباد مذاکرات کا فریم ورک دیکھیں۔
الجزیرہ، دی نیشنل، سی این این، رائٹرز اور اے این آئی کی رپورٹس سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے:
ایک: ساخت proximity talks ہے۔ آمنے سامنے نہیں بیٹھیں گے۔ دو الگ کمرے۔ پاکستانی حکام درمیان میں۔ بالکل وہی فارمیٹ جو 1978 میں کیمپ ڈیوڈ میں تھا اور 1988 میں جنیوا میں تھا۔
دو: مقام سرینا ہوٹل ہے۔ رائٹرز نے بتایا کہ ہوٹل کا انتخاب اس کی سیکیورٹی، وزارت خارجہ سے قربت اور وزیر اعظم ہاؤس تک آسان رسائی کی وجہ سے ہوا ہے۔ سابق آئی جی اسلام آباد طاہر عالم خان نے رائٹرز کو بتایا کہ ہوٹل کے داخلی اور خارجی راستے مرکزی عمارت سے مناسب فاصلے پر ہیں جو سیکیورٹی بڑھاتا ہے۔
تین: ایجنڈا تین فوری مسائل پر ہے۔ ایپوک ٹائمز نے لکھا: ایٹمی پروگرام اور یورینیم کی حوالگی، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، اور لبنان میں جنگ بندی۔ دی نیشنل نے بتایا کہ امریکی 15 نکاتی تجویز میں ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری، افزودہ یورینیم کی بین الاقوامی نگرانی میں حوالگی، دفاعی صلاحیتوں پر حدود، علاقائی پراکسی گروپوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی شامل ہے۔ ایران کے دس نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز پر ایرانی نگرانی، امریکی افواج کا خطے سے انخلا، تمام پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ شامل ہے۔
چار: وقت 15 دن ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل نے 15 دن کی مدت دی ہے جو باہمی رضامندی سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔
پانچ: ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے ایکس پر لکھا کہ نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ امریکی وفد "امریکہ فرسٹ” کی نمائندگی کرتا ہے یا "اسرائیل فرسٹ” کی۔ اگر "امریکہ فرسٹ” ہوا تو معاہدہ ممکن ہے۔ اگر "اسرائیل فرسٹ” ہوا تو نہیں۔
الجزیرہ نے آج بتایا کہ پاکستان کا اصل ہدف معمولی مگر حقیقت پسندانہ ہے: اتنی مشترکہ بنیاد تلاش کرنا کہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔ حتمی معاہدہ نہیں، معاہدے کی طرف راستہ۔ بالکل ویسے جیسے اوسلو میں پہلا دور صرف اس بات پر تھا کہ دوسرا دور ہو سکے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے امن معاہدے ایک دن میں نہیں ہوتے۔ کیمپ ڈیوڈ میں تیرہ دن لگے۔ ڈیٹن میں اکیس دن۔ ایران ایٹمی معاہدے میں دو سال۔ اوسلو میں مہینے۔ جنیوا معاہدات میں چھ سال مذاکرات ہوئے۔
مگر ہر معاہدے کا ایک پہلا دن ہوتا ہے۔ وہ پہلا دن جب دو فریق ایک ہی عمارت میں ہوں اور بات شروع ہو۔ آج وہ پہلا دن ہے۔ سرینا ہوٹل میں۔ اسلام آباد میں۔
سی این این نے لکھا ہے: "یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی براہ راست مصروفیت ہے۔”
اسے سمجھیں۔ 47 سال۔ 1979 سے 2026 تک۔ 47 سالوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان اس سطح کی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور جب ہوئی تو کیمپ ڈیوڈ میں نہیں، جنیوا میں نہیں، ویانا میں نہیں۔ اسلام آباد میں ہوئی۔
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے رات کو فوجی وردی میں قالیباف کا استقبال کیا اور دن کو سوٹ میں وینس کا۔ اب سرینا ہوٹل میں دو کمرے ہیں۔ ایک میں امریکہ ہے۔ دوسرے میں ایران۔ درمیان میں پاکستان ہے جو 23 چکر لگائے گا جیسے کارٹر نے کیمپ ڈیوڈ میں لگائے تھے۔
گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔ 22 اپریل قریب ہے۔ سوال ایک ہی ہے: کیا اسلام آباد وہ کام کر سکے گا جو کیمپ ڈیوڈ نے کیا، جو اوسلو نے کیا، جو ڈیٹن نے کیا؟
جواب ان دو کمروں میں ہے جن کے درمیان آج پاکستانی حکام چکر لگا رہے ہیں اور پوری دنیا، دم سادھے نتائج کے انتظار میں ہے۔










