Islamabad Talks

47 سال بعد ایران و امریکہ کے مابین پہلے براہ راست مذاکرات، بالآخر اندر کی کہانی سامنے آگئی

·


امریکہ اور ایران کے درمیان 47 سال بعد پہلے براہِ راست مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔

پاکستان کے دارالحکومت میں عالمی سفارت کاری کا ایک تاریخی مگر دشوار گزار مرحلہ اختتام پذیر ہو گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 47 سال بعد ہونے والی پہلی اعلیٰ سطح پر براہِ راست اور روبرو بات چیت کسی حتمی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ 21 گھنٹہ طویل نشست پوری دنیا کی توجہ کا مرکز رہی، مگر فریقین کے درمیان پانچ دہائیوں پر محیط خلیج مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔

مذاکرات کے آغاز سے پہلے دونوں وفود نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات کی۔ ہفتہ 11 اپریل کی دوپہر سے شروع ہونے والی مذاکرات کی یہ میراتھن اتوار کی صبح تک جاری رہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے ہوئے مسائل پر "بامعنی گفتگو” کی گئی۔

یہ مذاکرات تین مختلف سیشنز پر مشتمل تھے۔ پہلا سیشن بالواسطہ تھا، جس میں دونوں وفود کے درمیان تحریری پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہو رہا تھا۔ دوسرے سیشن میں دونوں اعلیٰ سطح کے وفود نے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کی۔ جبکہ تیسرا سیشن مرکزی وفود کے ہمراہ آنے والی تکنیکی ٹیموں (Technical Teams) کے درمیان ہوا۔ اس دوران دونوں وفود کی قیادت نے پاکستانی قیادت کے ساتھ عشائیے میں بھی شرکت کی۔

مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کا اپنی اپنی "ریڈ لائنز” پر سخت موقف اختیار کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق بنیادی طور پر چار نکات ایسے تھے جن پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا:

اول: امریکہ کا اصرار تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ رکھنے کی حتمی اور ناقابلِ تردید ضمانت دے، جبکہ ایران پُر امن مقاصد کے لیے نیوکلیئر پروگرام کے اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔

دوم: آبنائے ہرمز، یعنی عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے اہم اس راستے کی صورتحال پر دونوں فریقین میں شدید اختلافات پائے گئے۔ ایران اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا خواہاں تھا۔

سوم: ایران کا مطالبہ خود پر عائد ہر طرح کی پابندیوں کا مکمل و غیر مشروط خاتمہ اور اپنے اثاثوں کی واگزاری تھا، لیکن امریکہ کو اس پر تحفظات تھے؛ وہ پابندیوں کے خاتمے کو کڑی شرائط سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔

چہارم: لبنان میں سیز فائر اور مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ، اسرائیل کا کردار اور خطے میں امریکی فوجی اڈے بھی اہم وجوہِ نزاع تھیں۔

مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک مختصر پریس کانفرنس میں کہا:

"اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے 21 گھنٹوں میں بہت سی بامعنی باتیں کیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ یہ ایران کے لیے امریکہ سے زیادہ بری خبر ہے۔ ہم نے اپنی حتمی اور بہترین پیشکش میز پر رکھ دی تھی، مگر ایرانی وفد نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا انتخاب کیا۔”

دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا موقف اس کے برعکس تھا، انہوں نے معاہدہ نہ ہونے کی وجہ امریکہ کے "غیر منطقی اور حد سے زیادہ مطالبات” کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ اسماعیل بقائی کے مطابق بہت سے موضوعات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی، تاہم دو یا تین اہم معاملات پر دونوں فریقوں میں اتفاقِ رائے نہ ہو سکا، جس کے باعث بالآخر مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ انہوں نے اسے "ناکامی کے بجائے ایک آغاز” قرار دیا اور کہا کہ "اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے”۔ ایران؛ پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

مذاکرات کے حوالے سے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر روس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت جنگ سے ہونے والے نقصانات کے باعث دباؤ میں ضرور ہے، لیکن اس کی پوزیشن تاحال میدان میں مضبوط ہے۔ اگر امریکہ نے الٹی میٹم دینے والا رویہ برقرار رکھا تو مستقبل میں کسی معاہدے کی گنجائش بہت کم رہ جائے گی۔

عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ ملاقات بظاہر بے نتیجہ ختم ہوئی، لیکن 47 سال بعد دو متحارب فریقین کا ایک میز پر بیٹھنا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ پاکستان نے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کر کے اپنا سفارتی کردار بخوبی نبھایا ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ماضی کے واقعات کے باعث اعتماد کا فقدان اتنا گہرا ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں حل کرنا ممکن نہیں تھا۔

اگرچہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن دونوں اطراف سے "بات چیت جاری رکھنے” کا اشارہ اس بات کی علامت ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی عوامی سطح پر ایران کو کھلی دھمکیوں کے برعکس، ان مذاکرات میں امریکی رویے میں لچک نمایاں تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کے دوران انہوں نے ایک درجن سے زیادہ بار صدر ٹرمپ سے گفتگو کی۔

دنیا کی نظریں اب اگلے چند دنوں پر جمی ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ خطہ امن کی طرف بڑھے گا یا ایک نئے تنازعے کی لپیٹ میں آئے گا۔ بظاہر مذاکرات کے خاتمے کے باوجود بیک ڈور ڈپلومیسی میں مزید تیزی آئے گی۔ کیوں کہ ایران اور امریکہ دونوں نے گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ قوی امید یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان نہ صرف جنگ بندی قائم رہے گی، بلکہ 22 اپریل کو ختم ہونے والی اس ڈیڈ لائن (سیز فائر) میں مزید توسیع بھی متوقع ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں