ستر سالہ ششی تھرور ادیب اور ناول نگار ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت میں انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر مملکت رہے ہیں۔ قبل ازیں وہ اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ پھر انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بننے کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن جنوبی کوریا کے بانی کی مون کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔
آج کل ان کا ایک خطاب بہت زیادہ سنا جا رہا ہے جس میں وہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام برصغیر میں محمد بن قاسم سے پہلے موجود تھا۔ اس ضمن میں وہ اپنی ریاست کیرالا کی تاریخ بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہاں مسلمان کب سے موجود تھے۔
ششی تھرور نے یہ خطاب گزشتہ روز دہلی میں ایک بڑی کانفرنس کے دوران کیا۔ آئیے! جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے خطاب میں کیا کہا اور کیسے اپنا استدلال پیش کیا:
اسلام کی تاریخ ایک نہایت دلچسپ کہانی ہے۔ شمالی ہند میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام 712 عیسوی میں محمد بن قاسم کی تلوار کے ساتھ آیا، لیکن جنوبی ہند میں ہماری یادداشت اس سے بالکل مختلف ہے۔
میں بطور ایک کیرالی اپنی بات کروں گا۔ میرے صوبے کیرالہ میں ہم ان لوگوں کے عادی تھے جنہیں آج ہم عرب کہتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام سے بھی تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہر سال کیرالا آیا کرتے تھے۔ وہ بحیرۂ عرب میں موافق ہواؤں کے ساتھ سفر کرتے تھے۔
وہ آتے، کیرالا کے مغربی ساحل پر قیام کرتے، تجارت کرتے، مقامی لوگوں سے شادیاں کرتے، چند ماہ گزارتے اور پھر جب ہواؤں کا رخ بدلتا تو واپس چلے جاتے۔ یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا۔
اسی لیے ہمارے ہاں اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ ایک خبر کے طور پر آیا۔ یہ خبر ان لوگوں کے ذریعے آئی جو ہمارے لیے اجنبی نہیں تھے بلکہ صدیوں سے ہمارے ساتھ رہتے، تجارت کرتے اور ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکے تھے۔ انہوں نے آ کر ہمیں بتایا کہ ان کے خطے میں ایک نبی آئے ہیں اور وہ کیا پیغام دے رہے ہیں۔
یہاں تک کہ ایک مقامی ہندو بادشاہ چیرامن پیرومل اس پیغام سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے خود اس نبی سے ملاقات کے لیے سفر کا انتظام کیا۔ اگرچہ ان کے ساتھ جانے والے زیادہ تر جہاز راستے میں ہی رک گئے اور آج کے لکشادویپ یا مالدیپ کے علاقوں میں پہنچ گئے، لیکن وہ خود اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی ان کے اس سفر کے آثار موجود ہیں۔ عمان میں، صلالہ کے جنوب میں، کیرالا کے ناریل کے درخت پائے جاتے ہیں جو انہی ناریلوں سے آگے جو وہ اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، حالانکہ یہ درخت عرب خطے کے مقامی نہیں ہیں۔
یہ ہے ہمارا تاریخ کو دیکھنے کا انداز۔
بعد میں جب کیرالا کے مغربی ساحل، خصوصاً کوزیکودی اور کوچی میں مسلم آبادی اتنی بڑھ گئی کہ انہیں عبادت کے لیے جگہ کی ضرورت محسوس ہوئی، تو انہوں نے مقامی حکمران (زامورن) سے رجوع کیا۔ بادشاہ نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں، ایک غیر استعمال شدہ مندر موجود ہے، آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
چنانچہ کیرالا کے کودنگلر میں عرب دنیا سے باہر کی قدیم ترین مسجد قائم ہوئی، جس کے باہر آج بھی ایک قدیم ہندو چراغ موجود ہے۔
یہ مسجد صدیوں کے دوران کئی بار تعمیرِ نو سے گزری ہے، لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ بھارت میں ایک ایسی مسجد موجود ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے کے چند ہی عشروں بعد تعمیر ہوئی تھی۔










