Muhammad Nisar Khan

عالمی امن کا مرکز بنتا پاکستان اور ہماری صحافتی ترجیحات کا المیہ

·


پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی نمایاں اور مثبت تبدیلیوں نے عالمی سطح پر ملک کے تشخص کو ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ آج امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں علاقائی تنازعات کے حل، خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کلیدی اور تعمیری کردار کی معترف ہیں۔

پاکستان اب محض ایک فریق نہیں بلکہ ایک معتبر ‘عالمی ثالث’ کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کی کامیاب سفارت کاری نے دنیا بھر میں ملک کے سیاسی و سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ کیا ہے۔ یہ پاکستان کی اسٹریٹجک مہارت ہی ہے کہ اس نے خود کو کسی ایک بلاک تک محدود کرنے کے بجائے ‘امن کے پل’ کے طور پر پیش کیا، جس کا مقصد بکھرے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے اپنی بصیرت انگیز حکمتِ عملی سے خطے کو کئی ہولناک جنگوں کے دہانے سے واپس موڑا ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم جاری تھا، تب اسلام آباد نے اپنی ‘بیک چینل ڈپلومیسی’ کے ذریعے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان رابطے کا وہ واحد راستہ فراہم کیا جس پر دونوں کو اعتماد تھا۔

اسی طرح ماضی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان برف پگھلانے اور خلیجی خطے میں استحکام لانے کے لیے پاکستان کی ‘شٹل ڈپلومیسی’ کو آج واشنگٹن سے لے کر تہران تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

پاکستان کی ان کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دنیا اسے ایک ایسی ناگزیر قوت سمجھتی ہے جس کے بغیر خطے میں مستقل امن کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسی سفارتی کامیابی کے تسلسل میں اب ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود کے ایک بار پھر اسلام آباد آنے کا قوی امکان ہے، جو پاکستان کی میزبانی اور پرخلوص کردار پر عالمی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

امریکا ایران کے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو جہاں ایک طرف دنیا سراہ رہی ہے، وہیں ہماری مقامی صحافت کا ایک مخصوص حصہ اپنی غیر سنجیدہ اور سطحی روش کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ گزشتہ مذاکرات کے دوران، جو کہ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی معرکوں میں سے ایک تھے، یہ افسوسناک منظر دیکھنے کو ملا کہ جب بین الاقوامی میڈیا کی تمام تر توجہ سیکیورٹی معاملات، اقتصادی امکانات اور خطے کے مستقبل پر مرکوز تھی، ہمارے کچھ نام نہاد صحافی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اپنی تمام تر توانائیاں سینیئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس پر تنقید کرنے میں صرف کر رہے تھے۔

یہ رویہ نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر یہ تاثر جاتا ہے کہ ہمارا میڈیا اتنے بڑے عالمی ایونٹ کی نزاکت کو سمجھنے کے بجائے ذاتیات اور سنسنی خیزی کے گرد گھوم رہا ہے۔

صحافت کا اصل تقاضا اور اخلاقی فریضہ یہ ہے کہ وہ ریاست کی ان عالمی کامیابیوں اور امن کی کاوشوں کو تعمیری انداز میں پیش کرے جن کی بدولت آج پاکستان کا نام دنیا بھر میں عزت و وقار سے لیا جا رہا ہے۔

کسی پیشہ ور خاتون صحافی کے لباس یا ان کی نجی زندگی کو نشانہ بنانا سستی شہرت اور کلکس تو دلا سکتا ہے، لیکن اس سے قومی وقار کو جو ٹھیس پہنچتی ہے اس کا مداوا ممکن نہیں ہے۔

جب ہم عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی پہچان بنا رہے ہیں، تو یہ ہمارے میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رپورٹنگ میں بالغ نظری اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دے۔ لباس یا ذاتی پسند و ناپسند پر بحث کرنا درحقیقت ان اہم مذاکرات کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے جن پر لاکھوں زندگیوں کا امن منحصر ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ مذاکرات کے آنے والے اس اہم دور میں ہمارا میڈیا اپنی توجہ اصل مقصد یعنی ‘امن کی اہمیت’ اور ‘پاکستان کی سفارتی جیت’ پر مرکوز رکھے گا۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ‘کپڑوں کی سیاست’ کے بجائے ان پیچیدہ سفارتی باریکیوں کو عوام کے سامنے لائیں جو پاکستان کو ایک عالمی لیڈر کے طور پر منوا رہی ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا ہمیں ہماری باتوں سے نہیں بلکہ ہمارے رویوں سے پرکھتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج ایک روشن خیال اور ترقی پسند قوم کے طور پر ابھرے، تو ہمیں اپنی صحافتی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ تعمیری کام، ٹھوس تجزیے اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک معتبر میڈیا اور ایک باوقار قوم کے طور پر اپنا نام روشن کرسکتے ہیں۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔