سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
گزشتہ قسط میں ہم اگرچہ تہران پہنچ چکے تھے، مگر اس سفر کی ایک اہم پرت ابھی باقی تھی۔ وہ شہر جو رات کے اندھیرے میں ہم سے اوجھل رہے، مگر اپنی تاریخ، تہذیب اور معنویت کے ساتھ ہمارے ساتھ ساتھ سفر کرتے رہے۔ چنانچہ اس قسط میں وہی باتیں قلم بند کی جا رہی ہیں جو راستے میں میرے ہم سفر ایرانی نوجوانوں اور ایک سنجیدہ مزاج ادھیڑ عمر شخص نے ان شہروں کے بارے میں بیان کیں تاکہ قاری بھی اس سفر کو صرف طے نہ کرے، بلکہ اسے محسوس بھی کر سکے۔
فجر کے بعد سفر کا آغاز…
سامنے بیٹھے تینوں ایرانی نوجوان اب مانوس ہو چکے تھے اور وہ ادھیڑ عمر شخص بھی اب خاموش تماشائی نہیں رہا تھا۔ فجر کی نماز ابھی ابھی اسٹیشن کی ٹھنڈی زمین پر ادا کی تھی۔ ہلکی سی خُنکی تھی اور چائے کی بھاپ ایسے اٹھ رہی تھی جیسے کوئی درویش ذکر میں محو ہو۔ گاڑی نے ایک لمبی سی انگڑائی لی اور پھر دھیرے دھیرے چل پڑی تہران کی طرف۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سورج پوری طرح طلوع ہو چکا تھا اور روشنی زمین پر یوں پھیل رہی تھی جیسے رات کی ساری کہانیاں اب کھل کر سامنے آنا چاہتی ہوں۔
میں نے دھیرے سے کہا ’عجیب بات ہے… رات کے اندھیرے میں کتنے شہر گزر گئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘
’ہاں، بدرود… کاشان… سب رات میں ہی پیچھے رہ گئے،‘ایک نوجوان نے جیسے یاد دہانی کرائی۔
میں مسکرا دیا۔ ’یعنی ہم تاریخ کے پاس سے گزر تو آئے، مگر اسے دیکھ نہ سکے… بس محسوس کیا۔‘ ادھیڑ عمر شخص نے بات سنبھالی، ‘سفر ہمیشہ دیکھنے کا نام نہیں ہوتا… بعض اوقات صرف گزر جانا بھی کافی ہوتا ہے۔‘
میں نے سر ہلایا، مگر دل مطمئن نہ تھا۔’لیکن اگر کوئی ایران آئے…‘ میں نے ذرا ٹھہر کر کہا، ’ تو اسے ان جگہوں پر رکنا چاہیے۔ یہ وہ شہر نہیں جنہیں صرف کھڑکی سے دیکھا جائے۔‘
’نماز کے بعد سفر کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے، ہے نا؟‘ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا۔
میں نے بھی مسکرا کر جواب دیا، ’بالکل… لگتا ہے جیسے سفر نہیں، کوئی دعا آگے بڑھ رہی ہو۔‘
باد رُود کی سمت: سیدھی پٹری، ٹیڑھی سوچیں
ٹرین اپنی رفتار پکڑ رہی تھی اور باہر کا منظر آہستہ آہستہ بدل رہا تھا۔’اب آگے بارود کا علاقہ آتا ہے… رات کو تو کچھ نظر نہیں آیا ہوگا،‘ دوسرے نوجوان نے کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے ہلکے طنز کے ساتھ کہا، ’جی، رات نے تو سب کچھ اپنے پردے میں چھپا رکھا تھا۔ اب دن نکلا ہے تو پتا چل رہا ہے کہ ہم واقعی کہیں جا بھی رہے ہیں… ورنہ رات کا سفر تو کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے آدمی اپنی ہی سوچوں میں سفر کر رہا ہو! ’تینوں ہنس دیے۔ادھیڑ عمر شخص نے گہری آواز میں کہا، ’بدرُود سے مےبود تک جو پٹری ہے، وہ خاصی سیدھی ہے۔ کم ہی موڑ ہیں اس میں۔‘
میں نے فوراً بات تھامی، ’ہاں، یہی تو کمال ہے ریل کا… راستے کو بھی سیدھا کر دیتی ہے، جیسے زندگی میں سب کچھ قابو میں ہو۔ مگر جیسے ہی بس میں بیٹھیں، ہر موڑ یاد دلا دیتا ہے کہ اصل دنیا ابھی باقی ہے!‘
’آپ تو ہمارے راستوں کو بھی فلسفہ بنا دیتے ہیں!‘ ایک نوجوان ہنستے ہوئے بولا۔
میں نے جواب دیا، ’سفر خود ہی فلسفہ ہوتا ہے جناب… ہم تو بس اس کی تھوڑی سی ترجمانی کر دیتے ہیں۔‘ ٹرین اب پوری روانی سے دوڑ رہی تھی۔ سورج بلند ہو چکا تھا اور زمین کے رنگ واضح ہونے لگے تھے۔
کاشان — تاریخ کی مہک….
’کاشان بھی آیا تھا راستے میں… دیکھا آپ نے؟‘ایک نوجوان نے پوچھا۔
میں نے ذرا توقف کے بعد کہا، ’دیکھا تو نہیں، بس محسوس کیا۔ ہر اسٹیشن ایک لمحے کے لیے آتا ہے، سلام کرتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے… جیسے زندگی میں کچھ لوگ۔‘
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے ہر ایک اس جملے کو اپنے اپنے انداز میں تول رہا ہو۔ پھر آہستہ سے سوال آیا، ’اور محمدیہ؟‘میں نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا، ’وہ بھی آیا… مگر یوں لگا جیسے وقت نے وہاں کچھ دیر کو سانس لی ہو، پھر ہمیں یاد آیا کہ ابھی سفر باقی ہے۔‘ رَیل گاڑی اپنی سیدھی پٹری پر دوڑتی جا رہی تھی، بغیر کسی جھجھک کے۔ اور ہم سب اس کے اندر بیٹھے اپنے اپنے خیالات کے موڑ کاٹ رہے تھے۔ اسی دوران ٹرین نے ایک ہلکا سا جھٹکا لیا اور رفتار دھیمی پڑنے لگی، جیسے کوئی قصہ اپنے اگلے باب پر آنے سے پہلے ذرا ٹھہر گیا ہو۔
’رات کے اندھیرے میں کاشان بھی گزر گیاتھا… یہاں کی مٹی میں تاریخ گھلی ہوئی ہے،‘ کسی نے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے کہا۔
یہ سن کر میری چشم تصور میں یکایک ایک پورا شہر آباد ہونے لگا۔ بازار، گنبد، پرانی اینٹیں… اور ان کے درمیان وقت آہستہ آہستہ چلتا ہوا۔
میں نے کہا، ’سنا ہے یہاں کا بازار بھی کوئی عام بازار نہیں… آدمی خریداری کم اور تاریخ زیادہ دیکھتا ہے۔‘
جواب آیا، ’جی ہاں، اور مسجد آغا بزرگ… وہ تو جیسے اینٹوں میں عبادت کا سلیقہ سکھاتی ہے۔‘
دوسری آواز شامل ہوئی، ’اور سلطان امیر احمد کے حمام… وہاں جا کر لگتا ہے کہ پانی بھی کبھی تہذیب کا حصہ ہوا کرتا تھا!‘
میں مسکرا دیا۔ یہ لوگ اپنے شہروں کا ذکر ایسے کر رہے تھے جیسے اپنے بزرگوں کا تذکرہ ہو۔ محبت سے، وقار سے۔
نوش آباد : زمین کے نیچے ایک اور دنیا….
پھر اچانک میں نے کہا، ’اور وہ زیرِ زمین شہر… نوش آباد؟‘
تینوں جیسے ایک ساتھ چونک اٹھے۔‘ ہاں! وہ تو واقعی عجوبہ ہے!‘
میں نے ہلکے طنز میں کہا، ’عجوبہ تو ہے… مگر مجھے تو وہ کسی پرانے زمانے کی چالاکی لگتا ہے۔ اوپر دھوپ، نیچے شہر! یعنی سورج کو بھی دھوکہ۔‘
دے دیا گیا!‘ ادھیڑ عمر شخص ہنس پڑا۔ ’دھوکہ نہیں، حکمت تھی۔ یہاں کی گرمی ایسی ہے کہ دن میں آدمی توا بن جائے اور رات کو فریج میں رکھا ہوا برتن!‘ میں نے فوراً کہا، ’تو پھر لوگوں نے سوچا ہوگا۔کیوں نہ ہم خود ہی برتن بن جائیں اور زمین کے اندر رکھ دیے جائیں!‘سب قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔ ٹرین دوبارہ چلنے لگی، مگر ہماری گفتگو ابھی زمین کے نیچے سرنگوں میں گھوم رہی تھی۔
وہ شہر صرف گرمی سے بچنے کے لیے نہیں تھا… حملہ آوروں سے بچنے’ کے لیے بھی تھا،‘ ایک نے وضاحت کی۔ میں نے آنکھیں سکیڑ کر کہا، ‘ہاں، سنا ہے وہاں ایسے گڑھے بھی ہوتے تھے کہ دشمن قدم رکھے اور سیدھا تاریخ میں جا گرے!‘
’بالکل! اور وہ راستے اتنے پیچیدہ کہ اجنبی اندر جائے تو باہر نکلنے کا راستہ بھول جائے۔‘
میں نے مسکرا کر کہا، ’یعنی ایک طرح کا قدیم بھول بھلیاں… فرق صرف یہ ہے کہ آج کل لوگ موبائل میں راستہ ڈھونڈتے ہیں، اور وہاں لوگ اپنی عقل سے!‘ ادھیڑ عمر شخص نے آہستہ سے کہا، ’اور ہوا… آپ جتنا نیچے جائیں، تازہ ہوا ساتھ ساتھ آتی ہے۔‘ میں نے حیرت سے کہا، ’تو پھر یہ تو صرف شہر نہیں، ایک زندہ مخلوق ہے… جو سانس بھی لیتی ہے!‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے ہم واقعی اس زیر زمین شہر میں اتر گئے ہوں۔
مرنجاب کا صحرا: ریت، ستارے اور خاموشی…
پھر بات بدلی، ’آپ نے مرنجاب کا صحرا بھی سنا ہوگا؟وہ بھی رات کے اندھیرے میں گزر گیا۔‘
میں نے اشتیاق سے کہا، ’وہی جہاں لوگ ریت پر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں اور ستارے گنتے ہیں؟‘
جواب آیا، ’جی! اور وہاں ایک پرانا کاروان سرائے بھی ہے، شاہ عباس کے زمانے کا۔‘
میں ہنس کر بولا، ’واہ… یعنی دن میں ریت، رات میں ستارے، اور درمیان میں تاریخ! یہ صحرا نہیں، مکمل پیکیج ہے!‘
سب پھر ہنس پڑے۔ٹرین اب پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی، مگر میرا ذہن ابھی تک نوش آباد کی ان بھول بھلیوں میں بھٹک رہا تھا۔کہیں کوئی سرنگ، کہیں کوئی موڑ، کہیں کوئی چھپا ہوا راستہ…میں نے آہستہ سے کہا، ’عجیب بات ہے… ہم سیدھی پٹری پر جا رہے ہیں، مگر میرا ذہن ان ٹیڑھی میڑھی سرنگوں میں گم ہو گیا ہے۔‘
ادھیڑ عمر شخص نے مسکرا کر کہا، ’سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا، دوست… چاہے ریل کی پٹری ہی کیوں نہ سیدھی ہو۔‘
میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ٹرین نے ایک اور جھٹکا لیا۔اور یوں میں یکایک اس زیر زمین شہر سے نکل کر دوبارہ اسی ریل گاڑی میں آ بیٹھا۔مگر دل کا ایک حصہ اب بھی ان اندھیری، پیچیدہ سرنگوں میں راستہ تلاش کر رہا تھا۔
محمدیہ: فجر کی روشنی اور قم کی بازگشت….
’تم محمدیہ کے اسٹیشن کے بارے میں کچھ جانتے ہو‘۔ ایک نوجوان سے سوال داغا۔ میں نے نفی میں جواب دیا۔’یہ وہی اسٹیشن تھا جہاں رات کے سفر کے بیچوں بیچ فجر کی نماز کے لیے ریل گاڑی کو روکا گیا تھا۔‘اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
محمدیہ سے تہران کا فاصلہ اب زیادہ نہ رہ گیا تھا۔ کوئی دو گھنٹے پندرہ منٹ مگر سفر کی اصل مسافت تو شاید وہی تھی جو رات کے اندھیرے میں طے ہو چکی تھی۔یہ اسٹیشن ایران کے مذہبی شہر ’قم‘ سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قم، جسے ہم قاف پر پیش کے ساتھ ’قُم‘ کہتے ہیں مگر ایرانی اسے ایک خاص نزاکت کے ساتھ ’غُم‘ پڑھتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے قاف ان کے ہاں کچھ زیادہ ہی نرم دل واقع ہوا ہے اور ذرا سی توجہ پاتے ہی غَین میں ڈھل جاتا ہے۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا، ’تو پھر آپ لوگ قاف سے خاصی بے اعتنائی برتتے ہیں!‘ساتھ بیٹھے ایک مسافر نے مسکرا کر جواب دیا، ’نہیں جناب، یہ بے اعتنائی نہیں، ہماری زبان کا اپنا مزاج ہے۔‘ ادھیڑ عمر شخص نے گفتگو کو سنجیدگی سے سمیٹا، ’اسی لیے ‘آقا’ بھی ‘آغا’ ہو جاتا ہے… لکھتے کچھ ہیں، پڑھتے کچھ اور ہیں۔‘ میں نے فوراً بات کو ذرا برِّصغیری رنگ دیا، ’تو پھر ہمارے ہاں جو ‘آغا صاحب’ بڑی شان سے گھومتے ہیں، ان کی جڑیں بھی یہیں کہیں جا ملتی ہیں!‘وہ مسکرا دیا، جیسے اس بات میں اسے اپنی زبان کی ایک پرانی مسافت نظر آگئی ہو۔ واقعی، یہی لفظ ایران اور افغانستان کی تہذیبوں میں صدیوں کا سفر طے کرتا ہوا ہندوستان پہنچا، اور وہاں آ کر ’آغا‘ کے لقب کی صورت میں بس گیا حالانکہ اس کی اصل ’آقا‘ ہی تھی۔
قصہ مختصر یہ کہ اصفہان سے تہران کی طرف سفر کرتے ہوئے کوئی تین سو آٹھ کلومیٹر کے بعد شہر قم گزرا مگر اس وقت غالباً میں خوابوں کی وادی میں تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس ایرانی نوجوان کی گفتگو کا اثر ابھی تک میرے ذہن پر ہلکے ہلکے سایے ڈال رہا ہو اور میں نیم خواب، نیم بیداری کی کیفیت میں سفر کر رہا ہوں۔
شہر قم : تقدس، تاریخ اور تسلسل
یہ ایک اور شہر ہے جو رات کے اندھیرے میں گزر گیا تھا۔قم ایک ایسا شہر ہے جس کے نام کے ساتھ ہی ایک خاص سا وقار جڑ جاتا ہے۔ یہاں امامیہ شیعہ کے آٹھویں امام، حضرت علی بن موسیٰ الرضا کی بہن حضرت فاطمہ معصومہ کا مزار واقع ہے، جبکہ خود امام رضاؒ کا مزار ایران کے ایک اور اہم مذہبی شہر مشہد میں ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سن 200 ہجری میں عباسی خلیفہ ’المامون الرشید‘ نے خلافت کا دارالحکومت بغداد سے خراسان کے شہر مرو منتقل کیا۔ اقتدار کا مرکز بدلتا ہے تو صرف محل نہیں بدلتے، لوگوں کے راستے بھی بدل جاتے ہیں۔
اسی سلسلے میں اہلِ بیت کی اہم شخصیات کو بھی خراسان آنے کی دعوت دی گئی۔ امام علی بن موسیٰ الرضا مشہد منتقل ہوئے اور وہیں مدفون ہوئے۔ روایت یہ بھی ہے کہ مامون الرشید نے انہیں اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا مگر تقدیر کو شاید کچھ اور منظور تھا، اور وہ اس سے پہلے ہی وفات پا گئے۔
میں نے آہستہ سے کہا، ’اقتدار کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں… کبھی ولی عہد تخت تک نہیں پہنچتا اور کبھی تخت خود اپنے وارث بدل لیتا ہے۔‘
ادھیڑ عمر شخص نے سر ہلاتے ہوئے کہا، ’تاریخ ہمیشہ سیدھی نہیں چلتی… جیسے یہ پٹری تو سیدھی ہے، مگر واقعات نہیں ہوتے۔‘یہ بات سن کر میں خاموش ہو گیا۔
امام رضاؒ کی وفات کے بعد مامون الرشید نے اپنی بیٹی ام فضل کا نکاح امام کے فرزند محمد الجواد سے کر دیا۔ شاید اس خیال سے کہ تعلق کا یہ رشتہ باقی رہے۔ یوں ایک عجیب سا توازن قائم رہا۔ اقتدار بھی، نسبت بھی۔قم میں چالیس سے زائد امام زادوں کے مزارات ہیں، درجنوں حوزہ ہائے علمیہ (دینی مدارس) قائم ہیں، اور یہی وہ شہر ہے جہاں آیت اللہ امام خمینی نے بھی ایک عرصہ قیام کیا۔
ادھیڑ عمر شخص نے مسکرا کر جواب دیا،‘اور شاید یہی تہذیب کی اصل پہچان ہے جب آپ کسی چیز کو اپنا لیتے ہیں تو پھر اس میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔‘
الغرض، یہ تھی وہ ان شہروں کی روداد جو رات کے گھپ اندھیروں میں ہماری نظروں سے اوجھل رہی۔










