سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
تہران اسٹیشن پر گاڑی رکی تو میں نے حسبِ عادت کھڑکی سے باہر جھانکا، یوں جیسے باہر کوئی منظَر نہیں بلکہ کوئی داستان میرا انتظار کر رہی ہو۔ پلیٹ فارم پر ایک ہلکی سی سنجیدگی تھی، وہی سنجیدگی جو پرانے شہروں کے چہروں پر ہوتی ہے؛ جیسے انہوں نے بہت کچھ دیکھا ہو مگر کچھ کہا نہ ہو۔ چائے والے کی آواز بھی مہذب تھی—نہ ہمارے ہاں والی “چائے چائے گرم چائے!” کی جنگی للکار، بلکہ یوں جیسے کسی محفل میں نرمی سے کہا جا رہا ہو: “اگر آپ کی طبیعت مائل ہو تو چائے حاضر ہے۔”
میں نے دل ہی دل میں کہا: “یہ ایران ہے یا ریلوے کا صوفی سلسلہ؟”
اسباب اٹھایا ہی تھا کہ ایک صاحب نمودار ہوئے، وردی میں ملبوس، سر پر چھجے دار ہیٹ، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں وہ چمک جو عام طور پر ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے غور سے دیکھا اور بولے:
“جناب، آپ مسافر کم اور متجسس زیادہ لگتے ہیں۔”
میں نے عرض کیا، “قبلہ! مسافر تو ہوں ہی، مگر دل چاہتا ہے کہ اس سرزمین کی پٹریوں کی تاریخ بھی پڑھ لی جائے۔ یہ ریلوے آخر کب اور کیسے یہاں تک پہنچی؟”
وہ مسکرائے، “پھر تو آپ غلط آدمی کے پاس نہیں آئے۔ آئیے، چائے پیتے ہیں۔ ریلوے کی تاریخ چائے کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے ٹرین بغیر انجن کے۔کھڑی رہتی ہے، چلتی نہیں!”
ہم دونوں ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ چائے آئی تو انہوں نے ایک گھونٹ لے کر جیسے تاریخ کا پہلا صفحہ پلٹا۔
پہلا دور: قاجار، قبلۂ عالم اور گھوڑوں سے کھنچتی ریل….
میں نے ریلوے افسر کی طرف دیکھا اور کہا، “جناب! اب قصہ ذرا ابتدا سےسنائیے۔ وہ زمانہ جب ریل خواب تھی اور سلطنت حقیقت۔”وہ مسکرائے، “آپ نے ٹھیک سوال کیا ہے، کیونکہ ہر پٹری کی جڑیں تاریخ میں ہوتی ہیں… اور ایران کی ریلوے کی جڑیں قاجار سلطنت کے زمانے میں پیوست ہیں۔”
میں نے کہا، “یعنی وہی بادشاہت والا دور ، جہاں حکم اوپر سے آتا تھا اور عمل نیچے کہیں گم ہو جاتا تھا؟”وہ ہنسے، “کچھ ایسا ہی سمجھ لیجیے! اس دور کے اہم ترین بادشاہ تھے ناصرالدین شاہ قاجار ، جن کے القابات سنیں تو آپ کو لگے گا کہ زمین پر آسمان اتر آیا ہے: ظل اللہ فی الارض، قبلۂ عالم، اسلام پناہ!”
میں نے فوراً کہا، “یعنی اگر القابات سے ملک چلتا تو ایران اُس وقت سپر پاور ہوتا!”وہ مسکرائے، “لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ ناصرالدین شاہ کچھ حد تک جدیدیت پسند بھی تھے۔ 1848 میں تخت نشین ہوئے اور یورپ کا باقاعدہ دورہ کرنے والے پہلے ایرانی بادشاہ بنے۔ وہاں سے لوٹے تو ساتھ کچھ نئے خیالات بھی لائے۔ اخبارات، ٹیلی گراف، فوٹوگرافی… اور ہاں، ریلوے کا خیال بھی!”
میں نے طنزاً کہا، “یعنی بادشاہ سلامت نے یورپ جا کر دیکھا کہ وہاں ریل چلتی ہے، تو کہا—ہم کیوں پیچھے رہیں؟”
“بالکل!” افسر نے کہا، “مگر مسئلہ یہ تھا کہ خیالات جدید تھے، مگر نظام پرانا۔ ٹیکس اصلاحات ہوئیں مگر اہلکاروں نے انہیں اپنی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کیا۔ عوام بدظن ہونے لگے، اور اوپر سے برطانیہ کا اثر بھی بڑھتا جا رہا تھا۔”میں نے کہا، “یعنی اندر سے بدعنوانی، باہر سے مداخلت، ریلوے کیسے بنتی؟”
وہ بولے، “پھر بھی ایک آغاز ہوا۔ 1886 میں ایران کی پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی۔ تہران سے شاہ عبدالعظیم کے مزار تک، صرف ساڑھے آٹھ کلومیٹر۔”
میں ہنس پڑا، “یہ تو ہمارے ہاں کسی لمبی سڑک سے بھی چھوٹی ہے!”
“مگر جناب، یہی ابتدا تھی! پہلے اس ریل کو گھوڑے کھینچتے تھے۔ سوچیں، ریل ہے مگر انجن گھوڑا! بعد میں بھاپ کے انجن آئے۔”
میں نے کہا، “یعنی ریل بھی تھی اور روایت بھی!”وہ مسکرائے، “یہی تو قاجاری دور کا حسن اور المیہ دونوں تھا۔ نیا اور پرانا ساتھ ساتھ چل رہے تھے، کبھی ہم آہنگی سے، کبھی ٹکراؤ کے ساتھ۔”
ایک مزار، ایک گولی، اور ایک انجام۔۔۔
میں نے پوچھا، “اور وہ بادشاہ؟ جس نے یہ ریل شروع کی؟”افسر نے ذرا توقف کیا، “یہاں کہانی ایک موڑ لیتی ہے۔ اتفاق دیکھیے۔ اسی مزار پر، جہاں یہ ریل جاتی تھی، ناصرالدین شاہ قاجار کو قتل کر دیا گیا۔”
میں چونک پڑا، “کیا؟”
"جی ہاں، ایک شخص مرزا رضا کرمانی جو جمال الدین افغانی کا پیروکار تھا، نے انہیں گولی مار دی، جب وہ مزار پر فاتحہ پڑھ رہے تھے۔”میں نے آہستہ سے کہا، “یعنی جس ریل کا افتتاح کیا، وہی مزار اُن کا آخری اسٹیشن بن گیا…”
“بالکل،” وہ بولے، “اور مرزا رضا کو بعد میں پھانسی دے دی گئی۔ مگر اس واقعے کے پیچھے صرف ایک شخص نہیں، ایک سوچ تھی۔ جمال الدین افغانی کا خیال تھا کہ شاہ غیر ملکی طاقتوں، خاص طور پر برطانیہ کو بہت زیادہ مراعات دے رہے ہیں، جس سے ایران کی خودمختاری خطرے میں ہے۔”
میں نے کہا، “یعنی سیاست، مذہب اور بغاوت سب ایک ہی پٹری پر آ گئے!”
دوسری لائن: تبریز سے روس تک۔۔
افسر نے بات آگے بڑھائی، “پھر قاجاری دور میں ایک اور اہم ریلوے منصوبہ شروع ہوا۔ تبریز سے جولفا تک، 146 کلومیٹر طویل لائن، جس پر 1916 میں کام شروع ہوا اور چار سال میں مکمل ہوئی۔”
میں نے پوچھا، “یہ کہاں تک جاتی تھی؟”
“یہ ایران کو سوویت یونین کی ریاست آذربائیجان سے ملاتی تھی۔ یعنی اب ریل صرف اندرونِ ملک نہیں، بیرونِ ملک بھی جا رہی تھی۔”
میں نے کہا، “یعنی ریل اب سفیر بھی بن گئی!”
زوال: بادشاہ، بغاوت اور انجام۔۔۔
میں نے پوچھا، “اور قاجار خاندان کا انجام؟”
افسر نے گہری سانس لی، “آخری بادشاہ تھا احمد شاہ قاجار جسے لوگ عیش پسند اور کمزور حکمران کہتے ہیں۔ اس کے دور میں ملک میں خانہ جنگی، بدامنی اور بیرونی مداخلت بڑھ گئی۔”
میں نے کہا، “یعنی وہی وقت جب سلطنتیں اپنے بوجھ سے گرنے لگتی ہیں
…”جی ہاں، اور پھر 1921 میں ایک فوجی افسر، رضا خان پہلوی، نے صرف تین ہزار سپاہیوں اور اٹھارہ مشین گنوں کے ساتھ بغاوت کر دی۔”
میں ہنس پڑا، “یہ تو لگتا ہے جیسے کسی فلم کا سین ہو۔ کم لوگ، زیادہ ہمت!”
“اور کامیابی بھی!” وہ بولے، “احمد شاہ تخت پر رہا مگر اقتدار سے دور ہو گیا۔ 1923 میں فرانس چلا گیا، اور 1925 میں باقاعدہ معزول کر دیا گیا۔ یوں قاجار سلطنت کا خاتمہ ہوا، اور پہلوی دور کا آغاز ہوا۔”
اختتام: ایک عہد، چند پٹریاں، اور بہت سی کہانیاں۔۔۔۔
میں نے آہستہ سے کہا، “تو قاجاری دور میں ریلوے صرف 264 کلومیٹر تک پہنچی… مگر کہانیاں ہزاروں کلومیٹر تک پھیل گئیں!”
افسر مسکرا دئے، “جناب، ابتدا ہمیشہ چھوٹی ہوتی ہے، چاہے وہ ریل ہو یا انقلاب۔”میں نے پلیٹ فارم کی طرف دیکھا۔ ایک ٹرین خاموش کھڑی تھی، جیسے وہ بھی یہ سب سن رہی ہو۔
“یہ پہلا دور،” میں نے کہا، “ریل کا کم، اور انسانوں کا زیادہ تھا۔ خواہشیں، غلطیاں، بغاوتیں…”
افسر نے سر ہلایا، “اور یہی سب مل کر آگے آنے والے دور کی پٹریاں بچھاتے ہیں…”
دوسرا دور: رضا شاہ، لوہے کی ضد اور وِرِسک کا پل۔۔
میں نے ریلوے افسر کی طرف دیکھا اور کہا، “جناب، اب ذرا اُس دور کی کہانی سنائیے جب خواب حقیقت بنے یعنی وہ زمانہ جب ریل واقعی دوڑنے لگی۔”وہ ذرا سیدھے ہو کر بیٹھے، جیسے اب اصل داستان شروع ہونے والی ہو۔
“جنابِ والا! یہ قصہ ہے رضا شاہ پہلوی کے دور کا۔ وہ آدمی جو اگر ضد پر آ جائے تو پہاڑ بھی راستہ دے دیں۔ اور واقعی، اس نے پہاڑوں کو راستہ دینے پر مجبور کر دیا۔”میں نے ہنستے ہوئے کہا، “یعنی ایک طرف شاہ کی ضد، دوسری طرف پہاڑ کی انا۔ مقابلہ دلچسپ رہا ہوگا!”وہ مسکرائے، “اور جیت انسان کی ہوئی۔ اس دور تک ایران کا ریلوے نیٹ ورک تقریباً 4335 کلومیٹر تک پھیل چکا تھا، مگر اصل کارنامہ ایک تھا۔Trans-Iranian Railway۔”
میں نے ذرا جھک کر پوچھا، “وہی جس کی کہانیاں میں نے سنی ہیں؟”
“جی ہاں! 1927 میں اس کا آغاز ہوا، اور پورے گیارہ برس کی مشقت کے بعد 1938 میں مکمل ہوا۔ سوچیں۔ اس زمانے میں، جب نہ جدید مشینری تھی، نہ آج جیسی سہولتیں، ایک 866 میل طویل ریلوے لائن تعمیر کی گئی، جو خلیج فارس کو بحیرہ کیسپین سے ملاتی تھی۔”میں نے حیرت سے کہا، “یہ تو واقعی کسی دیوانے کا خواب لگتا ہے!”
“اور دیوانے ہی خواب پورے کرتے ہیں،” انہوں نے مسکرا کر کہا، “اس منصوبے کے لیے سرمایہ Persian Imperial Bank کے ذریعے فراہم کیا گیا، اور ایک ڈینش چیف انجینئر کو بلایا گیا۔”
میں نے فوراً کہا، “یعنی کام ایرانی، نگرانی ڈینش، اور دعا شاید سب کی!”وہ ہنس پڑے، “دعا تو ضرور تھی، کیونکہ کام آسان نہیں تھا۔ 70,000 سے زائد مزدور، دن رات محنت کرتے رہے۔ زغروس کے پہاڑ، جنہیں آپ دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ کسی کو قریب نہیں آنے دیں گے۔ ان کے سینے چیر کر 224 سرنگیں بنائی گئیں۔”
میں نے کہا، “پہاڑ بھی سوچتے ہوں گے، یہ لوگ انسان ہیں یا بارودی سرنگیں!”
“اور صرف سرنگیں ہی نہیں،” انہوں نے انگلیاں گنتے ہوئے کہا،
“174 بڑے پل، 186 چھوٹے پل… اور ایک ایسا پل جس کی کہانی آج بھی سنائی جاتی ہے—Veresk Bridge۔”
میں نے فوراً کہا، “بس، اب کچھ دلچسپ سنائیے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کہانی میں مزہ آئے گا!”
وہ ذرا قریب ہو کر بولے، “یہ پل زمین سے تقریباً 120 میٹر بلند ہے، ایک گہرے درے پر بنایا گیا۔ جب اس کا افتتاح ہونا تھا تو رضا شاہ نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ آزمائشی ریل گاڑی جب اس پل سے گزرے گی تو چیف انجینئر کو اس کے بیوی بچوں سمیت پل کے نیچے کھڑا کیا جائے گا!”
میں چونک پڑا، “یہ تو کچھ زیادہ ہی اعتماد یا بے اعتمادی ہو گئی!”وہ ہنسے، “آپ اسے جو بھی کہیں، مگر پیغام واضح تھا۔ اگر پل گرا، تو سب سے پہلے انجینئر جائے گا! چنانچہ وہ بیچارہ اپنے خاندان سمیت نیچے کھڑا رہا، اور اوپر سے ریل گزری…”
میں نے سانس روک کر پوچھا، “پھر؟”
“پھر کیا! ریل کامیابی سے گزر گئی، پل اپنی جگہ قائم رہا، اور سب نے سُکھ کا سانس لیا۔ یوں اس پل کو بعد میں ‘کامیابی پل’ یعنی Victory Bridge بھی کہا جانے لگا۔”
میں نے مسکرا کر کہا، “یعنی انجینئر کی جان بچی تو پل بھی امر ہو گیا!”
“بالکل! اور آج تک قائم ہے۔ 2021 میں اسے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل کیا گیا۔”
میں نے سر ہلایا، “یہ تو واقعی انجینئرنگ کا شاہکار ہے، مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ہوگی…”
وہ ذرا سنجیدہ ہو گئے، “جی نہیں، اصل ڈرامہ تو ابھی باقی ہے۔”
جنگ، سیاست اور ریل کی مجبوری۔۔۔
“1941 میں،” انہوں نے آہستہ سے کہا، “دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر قبضہ کر لیا۔”
میں نے کہا، “یعنی جس ریل کو اپنے لیے بنایا، وہ دوسروں کے کام آ گئی!”
“جی ہاں! انہیں خوف تھا کہ جرمن افواج ایران تک پہنچ جائیں گی۔ چنانچہ اس پوری ریلوے لائن کو اپنے تصرف میں لے لیا گیا۔ خلیج فارس سے جنگی سامان اسی لائن کے ذریعے سوویت یونین کی ریاست آذربائیجان کے راستے روس پہنچایا جانے لگا۔”
میں نے طنزاً کہا، “یعنی ریل ہماری، جنگ ان کی!”
“اور صرف اسلحہ نہیں،” وہ بولے، “زغروس کے پہاڑوں سے کوئلہ بھی اسی لائن کے ذریعے روس بھیجا جا رہا تھا۔ اس طرح یہ ریلوے ایک جنگی شہ رگ بن گئی۔”میں نے گہری سانس لی، “یہ واقعی عجیب بات ہے۔ ایک منصوبہ جو ترقی کے لیے بنایا گیا، جنگ کا ہتھیار بن گیا۔”وہ بولے، “جناب، یہی تاریخ کا مزاح ہے۔ آپ نیت کچھ اور رکھتے ہیں، استعمال کچھ اور ہو جاتا ہے۔”
اختتام: پل، پٹریاں اور انسان کی ضد۔۔۔۔
میں نے آخری بار چائے کا کپ دیکھا، اب خالی تھا، مگر کہانی بھر چکی تھی۔میں نے کہا، “تو یہ سارا کارنامہ—4335 کلومیٹر نیٹ ورک، 866 میل کی لائن یعنی خلیج فارس سے بحیرہ کیسپین تک، 224 سرنگیں، ورسک پل… یہ سب ایک آدمی کی ضد کا نتیجہ تھا؟”
وہ مسکرائے، “نہیں جناب، یہ ایک قوم کی محنت، ایک انجینئر کی جان کا خطرہ، اور ہزاروں مزدوروں کے پسینے کا نتیجہ تھا۔”
میں نے پلیٹ فارم کی طرف دیکھا۔ دور ایک ٹرین خاموشی سے کھڑی تھی، جیسے وہ بھی یہ سب سن رہی ہو۔
“یہ پٹریاں،” میں نے آہستہ سے کہا، “صرف لوہے کی نہیں… یہ انسان کی ضد، خوف، ہمت اور کہانیوں سے بنی ہیں۔”
افسر نے سر ہلایا، “اور اسی لیے یہ کبھی پرانی نہیں ہوتیں…”
تیسرا دور: انقلاب، جنگ اور پٹریوں کا پھیلاؤ۔۔
انہوں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا، کپ میز پر رکھا اور ذرا جھک کر بولے،
“اب آتے ہیں اصل کہانی پر۔ انقلاب کے بعد کا ایران۔”
میں نے ہلکے طنز سے کہا،
“جی ہاں، اب کچھ تازہ سنائیے… پرانی تاریخ تو ہم بھی دہرا لیتے ہیں!”
وہ مسکرائے، مگر اس بار لہجے میں ایک سنجیدگی تھی،
“1979 کا انقلاب آیا—حکومت بدلی، نظام بدلا، ترجیحات بدلیں… مگر ایک چیز نہیں بدلی، ریل کی ضرورت۔ بلکہ سچ پوچھیں تو اس کی اہمیت اور بڑھ گئی۔”
میں نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا،
“وہ کیسے؟”
انہوں نے انگلیوں پر گنتے ہوئے کہا،
“انقلاب کے وقت ریلوے نیٹ ورک محدود تھا… مگر آج، آپ سنیں گے تو چونک جائیں گے—یہ دس ہزار کلومیٹر سے آگے بڑھ چکا ہے، اور مجموعی پھیلاؤ چودہ ہزار کلومیٹر سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔”میں نے حیرت سے کہا،” یعنی یہ سب صرف چند دہائیوں میں؟”
“جی ہاں!” وہ ذرا سیدھے ہو کر بولے،
“تقریباً پینتالیس برس… اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک پر معاشی پابندیاں تھیں، جنگ تھی، ایران عراق جنگ۔ وسائل محدود تھے… مگر پٹریاں پھر بھی بچھتی رہیں۔”
میں ہنس پڑا،
“یعنی آپ لوگوں نے ایک ہاتھ سے جنگ لڑی اور دوسرے سے ریل بچھائی!”
وہ بھی مسکرا دیے،
“بات کچھ ایسی ہی ہے۔ اور سنیں۔ ہر سال اوسطاً پانچ سو کلومیٹر نئی لائن شامل کی جاتی رہی۔ منصوبہ یہ تھا کہ 2025 تک اسے پچیس ہزار کلومیٹر تک لے جایا جائے۔”
میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا، “ہم سے تو یہ رفتار دیکھی نہیں جاتی…”
وہ فوراً بولے،“موازنہ کریں تو فرق اور واضح ہو جاتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان کو جو ریلوے ملا وہ تقریباً آٹھ ہزار کلومیٹر تھا… اور پچھلے پچھتر سال میں اس میں 3757 کلومیٹر کا ہی اضافہ ہو سکا۔ جبکہ ایران نے انقلاب کے بعد تقریباً دس ہزار کلومیٹر کا اضافہ کر لیا۔”
میں نے گہری سانس لی، “یعنی وہاں پٹریاں صرف زمین پر نہیں، پالیسی میں بھی بچھتی رہیں…”وہ مسکرا کر بولے،“بالکل! اور یہی نہیں، ایران نے خود کو تقریباً تمام ہمسایہ ممالک سے ریلوے کے ذریعے جوڑ دیا ہے… سوائے عراق کے۔”
میں چونکا،“واقعی؟ افغانستان سے بھی؟”انہوں نے فوراً جواب دیا،
“جی ہاں! خاف سے ایک لائن افغانستان کے علاقے راہزنک تک پہنچ چکی ہے۔ افتتاح بھی ہو چکا ہے… اور صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا باقی ہےتقریباً پچاسی کلومیٹر۔ جب وہ مکمل ہوگا تو ہرات تک سیدھا ریلوے رابطہ قائم ہو جائے گا۔”
میں نے کہا،“یعنی سرحدیں اب نقشوں میں رہ گئی ہیں، پٹریاں تو ان کے پار جا چکی ہیں…”
وہ ذرا پرجوش ہو گئے،“اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی! تہران کو اندرونِ ملک تقریباً تمام بڑے شہروں مشہد، اصفہان، تبریز سے جوڑ دیا گیا ہے۔”میں نے مسکرا کر کہا،“یعنی دارالحکومت اب واقعی دل بن گیا ہے، جہاں سے ہر رگ نکلتی ہے…”
وہ ہنسے، پھر آہستہ سے بولے،“اور ایک دلچسپ بات سنیں۔ ایران کا چین سے براہِ راست زمینی رابطہ نہیں… مگر ریل نے یہ فاصلہ بھی ختم کر دیا ہے۔”
میں نے حیرت سے پوچھا،“وہ کیسے؟”انہوں نے نقشہ جیسے ذہن میں کھینچتے ہوئے کہا،“چین کے مغربی علاقے سے سامان نکلتا ہے، قازقستان میں داخل ہوتا ہے، پھر ازبکستان—تاشقند، سمرقند، بخارا—سے گزرتا ہوا ترکمانستان پہنچتا ہے… اور وہاں سے ایران۔ یوں چین کا مال بحیرہ کیسپین اور خلیج فارس تک آ جاتا ہے۔”
میں نے زیرِ لب کہا،“یعنی پٹریاں صرف سفر نہیں کرتیں… تجارت بھی کرواتی ہیں، تاریخ بھی جوڑتی ہیں…”
وہ سر ہلا کر بولے،“جناب، آج کی دنیا میں ریلوے صرف سواری نہیں، اسٹریٹجک طاقت ہے۔”
میں نے ذرا سوچ کر کہا،“ویسے دنیا میں اور کہاں کہاں یہ جال اتنا پھیلا ہوا ہے؟”
وہ بولے،“سب سے بڑا نیٹ ورک امریکہ میں ہے۔ ڈھائی لاکھ کلومیٹر سے بھی زیادہ۔ پھر چِین، پھر روس، پھر بھارت… ہر بڑی طاقت نے ریل کو اپنی ریڑھ کی ہڈی بنایا ہوا ہے۔”
میں مسکرا کر بولا،“اور ایران؟”
وہ خاموشی سے بولے،“ایران شاید سائز میں اتنا بڑا نہ ہو… مگر عزم میں کسی سے کم نہیں۔”
اسی لمحے ایک ٹرین نے سیٹی دی۔ لمبی، کھنچی ہوئی، جیسے وقت خود آواز دے رہا ہو۔
میں نے ہاتھ بڑھایا،“آپ نے تو مجھے صرف معلومات نہیں دیں… ایک پورا زمانہ دکھا دیا ہے۔”
وہ مسکرائے،“ریلوے کا یہی کمال ہے۔ یہ آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں، ایک دور سے دوسرے دور میں لے جاتی ہے۔”
میں پلیٹ فارم سے باہر نکلا تو یوں لگا جیسے میں تہران میں نہیں، وقت کے کسی اسٹیشن پر کھڑا ہوں، جہاں ہر پٹری ایک داستان ہے،اور ہر داستان میں تھوڑی سی جدوجہد، تھوڑا سا فخر… اور بہت ساری زندگی دوڑ رہی ہے۔










