اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے رمضان المبارک مکہ مکرمہ میں گزارنے کی سعادت ملی اور اسی دوران مسجد نبوی ﷺ کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔
عیدالفطر کی چھٹیاں طائف میں بہت اچھے انداز میں گزریں۔ وہاں کے احباب کی محبتوں نے میکے جیسا پُرخلوص ماحول عطا کیا۔ بارہ سالہ قیام کے دوران یہ محبتیں ہمیشہ قائم رہیں اور آج تک رابطے برقرار ہیں۔ ان میں سے بہت سے بزرگ شہرِ خموشاں میں جا بسے۔ اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائے، آمین۔
اس کے بعد ہم اپنے چھوٹے سے گھر، علاقے الکندرہ، میں منتقل ہوگئے۔ 1977ء میں یہ جدہ کا مرکزی علاقہ تھا۔ بلد، پرانا ایئرپورٹ اور بندرگاہ قریب تھے۔ عموماً سیاحوں کو اسی علاقے میں ہوٹل وغیرہ میسر آتے تھے۔ جب جدہ میں جدید تعمیرات شروع ہوئیں تو یہ علاقہ قدیم دکھائی دینے لگا۔
زندگی میں پہلی مرتبہ جس جگہ ہم نے اپنا گھر سمجھ کر قیام کیا، وہ دو منزلہ سادہ سی عمارت میں دو چھوٹے کمروں پر مشتمل فلیٹ تھا۔ اس کی مالکن ام سمیر تھیں۔ ان کی شکل و صورت اور ڈیل ڈول ملکۂ ترنم نور جہاں سے ملتے جلتے تھے۔
فلیٹ میں دو کمرے تھے، مگر باورچی خانہ نہیں تھا۔ راہداری میں چولہا رکھا جاتا۔ پانی ہفتے میں صرف ایک دن، وہ بھی ایک گھنٹے کے لیے آتا تھا۔ ام سمیر پہلے اپنے گھر کے ڈرم اور بالٹیاں بھرتیں، پھر اوپر سے پائپ نیچے پھینک دیتیں۔ ہماری قسمت میں کبھی پانی سے ایک ڈرم بھر جاتا اور کبھی صرف ایک بالٹی؛ پھر اگلے ہفتے کا انتظار کرنا پڑتا۔
بے سروسامانی کے باوجود اپنا پہلا گھر محل ہی لگتا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور والدین کی دعاؤں سے ہر سال ترقی ہوئی اور اسی مناسبت سے الجفالی کمپنی کی طرف سے بہتر سے بہتر گھر ملتے رہے۔ بارہ سال میں ہم نے چھ گھر بدلے: کندرہ، مکہ روڈ پر دو مرتبہ، روئیس، حیّ روضہ اور حیّ بوادی۔ اب یہ تمام علاقے جدید تعمیرات کی زد میں آچکے ہیں۔
عیدالفطر کی دس چھٹیاں طائف میں گزارنے کے بعد ہم 22 ستمبر 1977ء کو اپنے ٹھکانے’کندرہ‘ پہنچے۔
جمعرات اور جمعہ کو سرکاری چھٹی ہوتی تھی۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران عموماً ہمارا ماہانہ معمول یہی رہا کہ ہفتہ وار چھٹیوں میں ایک بار عمرہ کرتے، ایک چھٹی طائف میں گزارتے اور واپسی پر عمرہ کرلیتے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی زیارت کرتے اور ایک ہفتہ وار چھٹی جدہ میں گزارتے۔
دن گزرتے پتا ہی نہ چلا اور حج کے دن آگئے۔ ان دنوں رمضان المبارک سے پہلے آنے والے زائرین بھی حج تک رک جاتے تھے، جبکہ حاجیوں کی آمد بھی رمضان ہی میں شروع ہوجاتی تھی۔ مقامی لوگوں پر کوئی پابندی نہیں تھی اور نہ ہی کسی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی تھی۔ بسیں، ٹرک اور ذاتی گاڑیاں، سب اپنی سہولت کے مطابق لے جا سکتے تھے۔ زیادہ تر حاجی پیدل ہی حج کرلیتے تھے۔
حج کے دن جوں جوں قریب آرہے تھے، میرے دل کی کلی بھی کھلتی جارہی تھی۔ میرے میاں کا خیال تھا کہ مجھے اس حالت میں حج کے لیے نہیں جانا چاہیے۔ یہ سن کر میرا دل افسردہ ہوجاتا۔ میں سوچتی، یہاں پہنچ گئی ہوں اور حج نہ کروں؟
حج ادا نہ کر سکنے کی محرومی کے احساس سے میری آنکھیں بھر آتیں۔
’’اگلے سال کرلینا،‘‘ میاں نرمی سے کہتے۔
’’اگلے سال زندہ رہنے کی کیا ضمانت ہے؟‘‘ میں جواب دیتی۔
’’دیکھ لو، کہیں مشکل نہ ہوجائے۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ کرم فرمائیں گے، مجھے اسی پر توکل ہے۔‘‘
سات ذوالحج کو ہماری پھر گفتگو ہوئی تو میں نے حتمی بات کردی کہ مجھے حج کے لیے جانا ہے۔
میاں نے کہا، ’’ارادہ کرلیا ہے تو اللہ پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
آٹھ ذوالحج 1397ھ، بمطابق 20 نومبر 1977ء، بروز اتوار، ہم دن ایک بجے ضروری سامان گاڑی میں رکھ کر منیٰ کے لیے روانہ ہوئے۔
اس زمانے میں جدہ سے منیٰ کا سفر آج کی طرح منظم نہیں تھا۔ سڑکیں ابھی پختہ اور جدید بنائی جارہی تھیں، اس لیے سفر سست اور تھکا دینے والا تھا۔
منیٰ ایک کھلا میدان تھا۔ جسے جہاں مناسب جگہ ملتی، وہیں خیمہ گاڑ لیتا۔ عام طور پر پورا خاندان ساتھ جاتا تھا۔ لوگ کھانا پکانے کے لیے چولہا اور خیمے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ مقامی لوگ جہاں تک ممکن ہوتا، اپنی گاڑیاں منیٰ میں لے جاتے اور ان ہی میں راتیں گزار لیتے۔
ہم عصر کے قریب منیٰ پہنچے۔ گاڑی جہاں تک ممکن ہوا، اندر لے گئے۔ گاڑی کے پاس ہی چٹائی بچھا کر عصر کی نماز ادا کی اور پھر کشادہ مرسڈیز میں بیٹھ گئے۔ رات کو گاڑی کے دونوں طرف کے دروازے کھول کر ان کے درمیان چادر باندھی تو گویا ہمارا گھر بن گیا۔ پورے میدان میں یہی منظر تھا۔ مرد کھلے آسمان تلے چٹائیاں بچھائے لیٹے یا بیٹھے تھے۔ شام ہورہی تھی، موسم بھی خوش گوار تھا اور لوگوں کی چہل پہل جاری تھی۔
’’دنیا ایک مسافر خانہ ہے‘‘ کا منظر آنکھوں کے سامنے مجسم تھا۔ سادگی، دنیا سے بے نیازی، حج کی لگن اور عقیدت ہر حاجی کے انداز سے جھلکتی تھی۔ ہر طرف سفید احرام انسانوں کی یکسانیت کا پیغام دے رہے تھے۔ ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی آوازوں سے میدان گونج رہا تھا۔ وینوں میں لگے اسپیکروں سے بلند آواز میں تلبیہ پڑھا جارہا تھا، جس سے مسافروں کا ایمانی جوش و جذبہ بڑھ رہا تھا۔
پیدل چلنے والے قافلوں میں ان کا سربراہ سب سے تلبیہ پڑھواتا۔ ہر طرف ایک ہی لباس میں ملبوس مسافر ایک ہی کلمہ دہرا رہے تھے: ’’اے اللہ! میں حاضر ہوں۔‘‘ یہ سن کر روح تک جھوم اٹھتی۔ دل کہتا، میں بھی حاضر ہوں، اے اللہ! میں بھی آگئی ہوں۔ آج کا یہی ترانہ تھا، یہی ذکر اور یہی عبادت۔
مجھے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا تھا۔ دل سے شکرانے کے جذبات امنڈتے اور سر ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کہتے ہوئے جھک جاتا۔ مغرب اور عشا کی نماز کے بعد ساتھ لایا ہوا کھانا کھایا۔ منیٰ میں روشنی کا بہتر انتظام نہیں تھا۔ تلبیہ، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں وقت گزرتا رہا۔ ساری رات قافلے آتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ان مسافروں کی آمد پر فرشتے انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔
صبح سویرے فجر کے بعد ہی عرفات کی طرف روانگی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔
بے ہنگم اژدحام تھا اور ٹریفک کا کوئی نظم و ضبط نہیں تھا۔ ٹرکوں، بسوں، گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے قافلے اس میدان کی طرف رواں تھے جہاں سب نے اپنے گناہوں سے پاک ہوکر نئی زندگی شروع کرنی تھی اور حاجی کہلانا تھا۔ سب ’’حاضر ہوں، میرے رب! میں حاضر ہوں‘‘ کے جوش و ولولے سے معمور تھے۔ لگتا تھا کہ پیدل چلنے والے سواریوں کی نسبت پہلے پہنچ جائیں گے۔ اس دن کا سورج آہستہ آہستہ آسمان پر جلوہ افروز ہورہا تھا۔ وہ ان مسافروں کی روانی کا گواہ بننے والا تھا۔
کھسکتی ہوئی سواریاں صبح نو بجے تک عرفات پہنچنا شروع ہوگئیں۔ یہ ایک دوسرا ہی میدان تھا، حشر کے میدان جیسا۔ نومبر کی نسبتاً سرد رات کا اثر زائل ہورہا تھا۔
حکومت کی طرف سے کپڑے کی چھتیں تان دی گئی تھیں۔ خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ حصے تھے۔ صحرائی ریت پر چٹائیاں بچھی تھیں۔ ہر حاجی کے ہاتھ میں جائے نماز، چھتری اور پانی کی بوتل تھی۔
زیادہ تر زائرین مسجد نمرہ کی طرف جارہے تھے، جبکہ خواتین اپنی جگہ بیٹھی تھیں۔ بیت الخلا اور وضو کا انتظام قابلِ تحسین نہیں تھا۔
یہ وہ دن اور مقام تھا جس کی آرزو ہر مسلمان کی زندگی کی بڑی آرزو ہوتی ہے۔ یہاں سب کا ایک عقیدہ، ایک مقصد، ایک لباس اور ایک ترانہ تھا۔ مختلف شہریتوں، زبانوں، رنگوں اور نسلوں کے باوجود یک رنگی کا حسن لاجواب تھا۔
مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کرنے کے بعد خطبۂ حج دیا گیا۔ خطبہ صرف مسجد کے بہت قریب موجود افراد ہی سن سکتے تھے۔ کچھ لوگوں کے پاس ریڈیو تھے، جن کے ذریعے وہ براہِ راست خطبہ سن لیتے تھے۔ خواتین عموماً تسبیح اور ذکر و اذکار میں مصروف تھیں۔ کوئی قرآن مجید اور دعاؤں کی کتاب سے دعائیں پڑھ رہی تھی، جبکہ بعض ضعیف خواتین لیٹ گئی تھیں۔
شفاف آسمان پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ آسمان کا یہ حصہ روزانہ اس زمین کو دیکھتا ہوگا اور سورج اپنی تمازت اس سرزمین پر بکھیرتا ہوگا۔ شاید سورج اور عرفات دونوں بھی حاجیوں کی آمد کا سارا سال انتظار کرتے ہوں۔ ہر طرف ایک نامعلوم سی پُرجوش طمانیت کا احساس تھا۔ شاید جب دل سکون سے لبریز ہو تو ماحول بھی پُرسکون لگنے لگتا ہے۔
میں نے اس وقت اپنے وجود کے اس حصے کے لیے سعادت کی دعا کی جو کسی بھی وقت اپنی الگ شناخت کے ساتھ اس دنیا میں آنے والا تھا۔
میں نے اپنی زندگی کو بچپن اور لڑکپن سے یاد کیا۔ والدین، بہن بھائیوں، والدین سے جڑے رشتوں، اساتذہ، ہم جولیوں، دور و نزدیک کے تعلق داروں، قانونی رشتوں، مولانا مودودیؒ، تحریکی ساتھیوں اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کی۔ میری والدہ نے خصوصی تاکید کی تھی کہ مولانا مودودیؒ اور جماعت اسلامی کے لیے دعا کرنا۔
اس دن میرا ضروری کام صرف دعا کرنا تھا۔
ہر سال اس دن حکومت کی طرف سے تمام حاجیوں کو دوپہر کا کھانا دیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے تھالوں میں ابلے ہوئے چاول اور گوشت کی چند بڑی بوٹیاں ہوتیں۔ ہر تھال کے گرد آٹھ دس افراد بیٹھ کر بغیر چمچ کے کھانا کھاتے۔
اس طرح کے چاول اور اس انداز میں کھانا کھانے کا یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ چاول پلاسٹک جیسے لگ رہے تھے اور گوشت کے اتنے بڑے ٹکڑے کو سب کے سامنے کیسے کھایا جائے، اس کے لیے بھی تربیت درکار تھی۔ بہرحال، کھانا اچھا تھا، لیکن ہم اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اسے نہ کھا سکے۔ البتہ پانی اور جوس کے ڈبے ساتھ رکھ لیے تھے۔
ہم نے چند بسکٹ اور ساتھ رکھے ہوئے چنے کھائے اور پانی پیا۔ الحمدللہ، ثم الحمدللہ۔
سورج غروب ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے ہم نے قیام کیا اور حزب الاعظم کی تمام دعائیں پڑھیں۔ ایک ایک تسبیح، درود شریف، سید الاذکار اور سید الاستغفار مکمل کرلیا۔
جوں جوں سورج کی تمازت کم ہورہی تھی اور کرنیں سنہری ہوتی جارہی تھیں، میرا دل خوف و امید سے لرز رہا تھا۔ آج کا مبارک وقت ہاتھ سے نکلا جارہا تھا۔ یہ وقت عجیب احساسات کا مجموعہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے سامنے کسی سے ایسی جدائی ہونے والی ہو جس کے بعد دوبارہ ملاقات نہ ہو۔ یہ دن پھر آئے گا، مگر تاریخ بدل چکی ہوگی۔ یہ خزانہ آج ہی مل سکتا تھا اور اس کا دروازہ صرف آج کے لیے کھلا تھا۔ پھر یہ دروازہ قیامت کے دن کھلے گا کہ اس سال، اس دن اور اس پہر میں کس نے کیا کمایا۔
دل چاہتا تھا کہ کوئی سورج کو پکڑ کر دن لمبا کردے، یہاں تک کہ یقین ہوجائے کہ ہمیں نئی زندگی مل گئی ہے۔
بیم و رجا کی کیفیت میں مبتلا تمام حاجیوں کے لیے وہ خوشی ناقابلِ بیان تھی جب اچانک بادل چھا گئے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی۔ سب کے چہرے ایک ساتھ آسمان کی طرف اٹھ گئے اور زبانیں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے تر ہوگئیں۔ یک رنگی کا ایک اور خوب صورت مظاہرہ تھا۔ سبحان اللہ!
جب سورج سونے کا تھال بن کر حاجیوں کو اداسی سے الوداع کہنے لگا تو پورے ماحول پر سکتہ طاری ہوگیا، یا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا۔ افق پر لالی باقی رہ گئی اور گناہوں کی گٹھڑیوں کے بوجھ سے آزاد مسافر مزدلفہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔
مزدلفہ پہنچتے پہنچتے رات ہوگئی۔ مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی کھڑی کی، چٹائی بچھائی اور مغرب و عشا کی نماز ادا کی۔ پھر رات گزارنے کے لیے جگہ تلاش کی۔ ہر طرف بے سروسامانی کے باوجود نئے نئے حاجی ہلکے پھلکے ہوکر ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ کچھ زمین پر بیٹھے کنکریاں تلاش کررہے تھے اور ایک دوسرے کو ان کی تعداد بتا رہے تھے۔ عارضی بیت الخلا معلوم نہیں کہاں بنائے گئے تھے۔ ہم پانی پینے سے گریز کررہے تھے، کیونکہ بیت الخلا جاکر پاکیزگی برقرار رکھنا ایک آزمائش بن جاتا تھا۔
روشنی کا انتظام ناکافی تھا۔ گاڑیوں کی ہیڈلائٹس جلا کر گزارا کیا جارہا تھا۔ ٹرکوں کا شور اور ڈیزل کی بو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ قافلوں کی آمد رات بھر جاری رہی۔
ایک مناسب جگہ پر چٹائی بچھا کر ہم نے بیٹھنے کا انتظام کیا۔ گاڑی سے تکیے، چادر اور کمبل نکالے۔ یہاں پتھریلی زمین فرش اور کھلا آسمان چھت تھا۔ ناکافی روشنی کے باعث دس ذوالحج کا چاند اور ستارے نمایاں اور روشن دکھائی دے رہے تھے۔ ہلکی ہلکی خنکی ہونے لگی تھی، لیکن سب خوش تھے۔ سب عرفات میں سورج غروب ہونے تک اپنی روحوں کو پاک صاف کروا چکے تھے۔
کسی کو زمین پر لیٹنے سے پتھر چبھنے کی شکایت نہ تھی۔ کھانے کے لیے دسترخوان کا انتظار تھا اور نہ ہی یہاں وہاں بے ترتیب لیٹے حاجیوں سے کوئی شکوہ تھا۔
ہوا کے جھونکے وقتاً فوقتاً سب کو چھو کر گزرتے، جیسے مبارک باد دے رہے ہوں۔ ہر نئے قافلے کی آمد پر ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی آوازیں تازہ دم ہوجاتیں۔
خواتین چٹائیوں پر بیٹھ کر تسبیح کررہی تھیں۔ یہ رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور استغفار کی رات تھی؛ حج کے بعد فرمانبرداری کے ساتھ زندگی گزارنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگنے کی رات۔ خود کو نوزائیدہ سمجھنے والوں کو اس حقیقت کا گہرا شعور بھی ہونا چاہیے۔
اس زمانے میں تمام حاجی تقریباً ایک جیسا حج کرتے تھے۔ آج کے زمانے کی طرح وی آئی پی اور وی وی آئی پی کا دور دور تک تصور نہیں تھا۔
دور افق پر سرخی کی ایک ہلکی سی لکیر رات کے اندھیرے میں نمودار ہوئی، جو صبح کی آمد کا اشارہ تھی۔
فجر کی نماز کے لیے گاڑی میں رکھے پانی کے کین سے لوٹا بھرا اور خواتین و مردوں کے لیے الگ بنائے گئے عارضی پردے کے پیچھے جاکر ضروریات سے فارغ ہوئی اور وضو کیا۔ قریب ہی فجر کی جماعت تیار تھی۔ نماز کا لطف آج تک یاد ہے: کھلا آسمان، نئے نئے حاجی، بے سروسامانی اور امام کی عربی لہجے میں تلاوت۔ گویا آسمانوں سے سکون و طمانیت کا فیض عام ہورہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مکہ مکرمہ میں پہلا رمضان المبارک
جوس اور بسکٹ کا ناشتہ کیا اور تمام حاجی اگلے پڑاؤ کی طرف روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگے۔
1977ء میں مزدلفہ سے منیٰ کا سفر آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھا۔ مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے اور فجر کی نماز کے بعد کچھ دیر وقوف، یعنی دعا، کی اور سورج نکلنے سے ذرا پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً پانچ چھ کلومیٹر تھا۔ ٹریفک منظم نہیں تھی اور رش اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ بسیں گھنٹوں پھنسی رہتی تھیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ کہتے تھے کہ عرفات یا مزدلفہ سے پیدل چلنا بس کا انتظار کرنے سے آسان ہے۔ چنانچہ لوگ پیدل سفر کو ترجیح دیتے تھے۔
ہم اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے، لیکن گاڑی کا پہیہ بمشکل دو چکر لگاتا اور پھر بریک لگانی پڑتی۔ ڈیزل کے دھوئیں، انجنوں کے شور اور لوگوں کی کھانسی کی آوازیں ہر طرف سنائی دے رہی تھیں۔ ڈیزل کے دھوئیں سے گلا خراب ہوجاتا اور بخار بھی ہوجاتا تھا۔
بہرحال، چند کلومیٹر کا راستہ تین گھنٹوں میں طے ہوا۔
دوپہر سے پہلے ہم منیٰ پہنچ گئے۔ ہمارا ٹھکانہ تو ہماری گاڑی ہی تھی، اس لیے جہاں مناسب جگہ ملی، گاڑی روک کر بیٹھ گئے۔ ساتھ موجود کھانے پینے کی چیزوں سے کام چلتا رہا۔
آج کا دن بہت مصروف تھا۔ قافلے ابھی مزدلفہ سے منیٰ پہنچ رہے تھے۔ میدان میں تین ستون تھے جن پر کنکریاں ماری جاتی تھیں۔
دس ذوالحج کو صرف بڑے جمرے، یعنی جمرۃ العقبہ، کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس کے بعد قربانی اور حلق، یعنی سر کے بال منڈوانے کا عمل، کیا جاتا ہے۔ پھر مکہ مکرمہ جاکر طوافِ افاضہ کیا جاتا ہے، یوں حج کے بنیادی ارکان مکمل ہوجاتے ہیں۔
میاں نے مجھ سے کہا، ’’یہاں سے جمرۃ العقبہ قریب ہے۔ تم ساتھ چلو گی یا تمہاری طرف سے میں ہی کنکریاں مار آؤں؟‘‘
’’اپنے شیطان کو میں خود ہی ماروں گی،‘‘ میں نے کہا۔
’’اگر رش زیادہ ہوگیا تو نکلنا مشکل ہوجائے گا، سوچ لو۔‘‘ ان کی بات سے میرے دل میں کچھ خدشات پیدا ہوئے، مگر اللہ پر توکل کرتے ہوئے جانے کی ہامی بھرلی۔
الحمدللہ، ہم رش سے بچتے بچاتے اور بغیر کسی خاص مشقت کے حج کا یہ رکن بھی ادا کرکے آگئے۔
میں نے سوچا کہ شیطان سے زیادہ اپنے نفس کو مارنا ضروری ہے۔ اگر نفسِ امارہ کو نہ مارا تو پھر کیا مارا؟
میرے ذہن میں یہ سوال بھی آیا کہ شیطان تو سب کو بہکاتا ہے، لیکن آدمؑ کو سجدہ نہ کرنے کے لیے اسے کس نے بہکایا تھا؟ اس وقت تو کوئی دوسرا شیطان موجود نہیں تھا۔ یقیناً شیطان نے اپنے ارادے اور اختیار کا غلط استعمال کیا اور اپنے نفس کی بات مانی۔ اصل مقصد تو نفس کا تزکیہ ہے۔ جس نے اپنے نفس کو سنوار لیا، وہ کامیاب ہوگیا۔
رمی کے بعد میاں مجھے گاڑی میں چھوڑ کر قربانی کے لیے چلے گئے۔ ان دنوں قربانی کے لیے وہیں کھڑے جانور کا سودا کرکے ذبح کیا جاتا تھا۔ گوشت بنوا کر خیمے میں بھی لایا جاسکتا تھا، لیکن ہمارے پاس گوشت پکانے کا انتظام نہیں تھا، اس لیے ہم نے وہیں کسی کے حوالے کردیا۔
ہماری گاڑی کے آس پاس کچھ خیمے نصب تھے۔ وہاں موجود لوگ اپنے لباس سے دیہاتی عرب معلوم ہوتے تھے۔ ہم نے گاڑی کے دونوں طرف کے دروازے کھول کر ان کے درمیان چادریں باندھ رکھی تھیں۔ میں قرآن پاک کی تلاوت کررہی تھی کہ ایک خاتون نے چادر کا کونہ ہٹا کر مجھے سلام کیا۔
میں نے قرآن مجید بند کیا، سلام کا جواب دیا اور اشارے سے انہیں اندر آنے کو کہا۔
انہوں نے کچھ بات کی۔ مجھے یہی سمجھ آیا کہ وہ میرا حال پوچھ رہی ہیں۔ میں نے الحمدللہ کہا۔ پھر شاید انہوں نے حج کی مبارک باد دی، تو میں نے بھی الحمدللہ کہا۔
اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ ہم کہاں سے ہیں۔ پاکستان کا نام سن کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
کتابی عربی تو کسی حد تک سمجھ آجاتی تھی، لیکن خالص دیہاتی عربی کے سامنے ہم خود کو بہت زیادہ عجمی محسوس کررہے تھے۔
اتنے میں دوسری خواتین بھی جھانکنے لگیں اور اپنے خیمے میں آنے کی دعوت دینے لگیں۔ اب میں انہیں کیسے سمجھاتی کہ میاں آجائیں تو پھر آؤں گی، لیکن بات سمجھا نہ سکی۔ تھوڑی دیر بعد ان کے خیمے سے گوشت ابلنے کی خوشبو آنے لگی۔ معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طرف سے قربانی ہوچکی تھی۔ اب وہ بال کٹوانے اور احرام کی بعض پابندیوں سے جزوی طور پر آزاد ہوچکی تھیں۔
کچھ دیر بعد میرے میاں بھی واپس آگئے۔ وہ قربانی کے بعد سر کے بال بھی کٹوا چکے تھے۔ میں نے بھی اپنے بال کاٹے۔ ہم نے ایک دوسرے کو حج کی مبارک باد دی اور میں نے اپنی کوکھ میں موجود ننھے منے حاجی یا حاجن کو بھی مبارک باد دیتے ہوئے دعا دی۔
پڑوسی خیمے سے چاولوں کی بڑی پلیٹ میں گوشت کا ایک ٹکڑا ملا تو ہماری عید ہوگئی۔
اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔
غسل کا کوئی مناسب موقع نہیں تھا۔ اچھی طرح وضو کیا، احرام کے لیے باندھا ہوا رومال اتارا، خوشبو لگائی اور بالوں میں کنگھی کی۔ دل میں آسودگی اور شکرانے کی لہر دوڑ گئی۔
اب ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی بجائے تکبیرات کا ورد شروع ہوگیا۔
میرے میاں نے کہا، ’’ہم آج ہی طوافِ افاضہ اور سعی بھی کرلیں تو حج کے فرائض پورے ہوجائیں گے، لیکن یہ کام کل یا پرسوں بھی کرسکتے ہیں۔‘‘
کچھ سوچ بچار کے بعد ہم نے اگلے دن مکہ مکرمہ جاکر طوافِ افاضہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہم نے کچھ دیر منیٰ میں گھوم پھر کر حاجیوں کی مصروفیات دیکھیں۔ کہیں احرام کے ساتھ عربی لباس تھا تو کہیں شلوار قمیض نظر آتی تھی۔ کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ہم جہاں سے گزرتے، مبارک باد کے سلام کرتے جاتے۔ یہ کتنی پیاری بستی تھی، جس کی رونق صرف تین چار دن کے لیے تھی۔ گویا یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ زندگی بھی چند روزہ ہے۔ پھر دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ ہر حاجی اپنے وطن، خاندان اور برادری کا نمائندہ بن کر سب کے لیے دعا کرتا ہے، یوں دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس مقامات کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
’’مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔‘‘
گیارہ ذوالحج کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو ترتیب سے کنکریاں ماریں۔ اس دن تینوں جمرات کے لیے اکیس کنکریاں درکار تھیں۔ تھکن کی وجہ سے میری طبیعت کچھ ناساز تھی، اس لیے رمی کے لیے نہ جاسکنے کی رعایت سے فائدہ اٹھایا اور میاں صاحب نے میری طرف سے نیابت کی، تاکہ طوافِ افاضہ کے لیے میری ہمت بحال رہ سکے۔
رات کے کسی پہر مجھے پیٹ میں تکلیف محسوس ہوئی۔ کچھ دیر برداشت کیا، پھر میاں کو جگایا۔
’’کیا محسوس ہورہا ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’پتا نہیں، کچھ عجیب سا درد ہے، جو وقفے وقفے سے ہورہا ہے۔‘‘
ہم نے فجر ہونے کا انتظار کیا، کیونکہ رات منیٰ میں گزارنا ضروری تھا۔
بارہ ذوالحج کو پو پھٹتے ہی ہم مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، تاکہ طوافِ افاضہ کرکے حج کے ارکان مکمل کرلیں۔
مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے لیے پاکستانی اسپتال مخصوص تھا۔ حرم شریف جانے سے پہلے وہاں ایک پاکستانی لیڈی ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ انہوں نے تسلی دی کہ ابھی دس بارہ گھنٹے گزر جائیں گے، اس لیے آپ طوافِ افاضہ کرلیں۔
حرم شریف پہنچتے پہنچتے اشراق کا وقت ہوگیا تھا۔ وہ طواف میری زندگی کا سب سے مشکل، مگر انتہائی خوب صورت اور یادگار طواف ہے۔
مطاف میں رش کم تھا اور فضا میں ہلکی سی ٹھنڈک رچی ہوئی تھی۔ نئے نئے حاجی مناجات کرتے ہوئے کعبہ کے گرد دیوانہ وار طواف کررہے تھے۔ زمزم کے قریب کنویں کی وجہ سے رکن یمانی سے حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم تک فرش گیلا تھا۔
حضرت بلالؓ کی قوم سے تعلق رکھنے والے قدآور اور مضبوط جسم کے حاجی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے، کسی کی پروا کیے بغیر کعبہ کے گرد تیزی سے چکر لگاتے تھے۔ مزدور کھٹولوں پر بیٹھے بیمار اور ضعیف حاجیوں کو طواف کرواتے اور راستہ دینے کے لیے آوازیں لگاتے تھے۔
ہم نے طواف شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، حج کی سعادت ملنے پر شکر ادا کیا اور آنے والے مشکل وقت میں آسانی کے لیے دعا مانگی۔
ہم خانہ کعبہ کی دیوار کے قریب ترین تھے اور رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ رکن یمانی سے بابِ ملتزم تک پہنچنے پر ہر چکر میں درد کی ایک لہر میرے پورے وجود کو سہمادیتی۔ فرش گیلا ہونے کی وجہ سے پاؤں سے اٹھنے والی ٹھنڈک ٹانگوں کو برف کی طرح سرد کرتی محسوس ہوتی۔ میں ’’رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘ کے ساتھ ’’رَبِّ یَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَیْرِ‘‘ پڑھتی رہی۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے میاں مجھے تھامے رکھتے۔
طوافِ افاضہ کے بعد دو رکعت نماز ادا کی، زمزم پیا اور حطیم میں جاکر ہم دونوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ دعا کے بعد حرم شریف سے روانہ ہوئے۔ اب میں بالکل نڈھال ہوچکی تھی اور بمشکل چلتے ہوئے اپنی گاڑی تک پہنچی، جو ایک سڑک پر کھڑی تھی۔
گاڑی کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ چابی ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے اپنی پریشانی ظاہر کرنے سے گریز کررہے تھے۔
میاں نے مجھے ساتھ والی عمارت کی سیڑھیوں پر بٹھایا اور گاڑی کھولنے کی ترکیب سوچنے لگے۔
میں سیڑھیوں پر بیٹھ کر دعا کرنے لگی کہ اس کڑے وقت میں ہماری مدد فرمائے۔
میاں نے کسی کی مدد سے گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ تھوڑا سا نیچے سرکایا اور تار کی مدد سے دروازے کا لاک کھول لیا۔ مجھے بلا کر گاڑی میں بٹھایا اور چابی تلاش کی، مگر وہ نہ ملی۔ اب سوال یہ تھا کہ گاڑی کیسے چلے گی؟ میری طبیعت کا تقاضا تھا کہ گاڑی فوراً چل پڑے۔
لیکن میرے اندر کوئی خوف نہیں تھا۔ دل کو ایک عجیب سی طمانیت ڈھارس بندھا رہی تھی، جیسے سعودی عرب آنے کا اصل مقصد پورا ہوگیا ہو۔
’’کچھ کھانے پینے کو لے آتا ہوں، پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے،‘‘ میاں نے کہا۔
وہ چلے گئے تو میں نے ٹانگوں کو گرم رکھنے کے لیے چادر نکالنے کی غرض سے گاڑی کی ڈگی کھولی۔ چابی وہیں رکھی تھی۔ شاید گاڑی سے نکلتے وقت کوئی چیز ڈگی میں رکھتے ہوئے چابی بھی ہاتھ سے چھوٹ کر اندر گر گئی تھی۔
میاں جوس اور شاورما لے کر واپس آئے تو چابی دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
اب حج کے ارکان مکمل ہوچکے تھے، البتہ ایک دن کی رمی باقی تھی، جو زوال کے بعد سے مغرب تک کی جاسکتی تھی۔
مجھے کسی اسپتال جانے کی ضرورت تھی۔ ان دنوں موبائل فون تو کجا، پی سی او بھی نہیں ہوتے تھے کہ کسی سے مشورہ کیا جاسکتا۔ بہرحال، ہم نے عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران طائف میں موجود ڈاکٹر حبیب الرحمان صاحب کے مشورے کے مطابق طائف جانے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر حبیب الرحمان، مفسرِ قرآن عبدالرحمان کیلانی کے بیٹے اور ہمارے چچا جان کے برادرِ نسبتی تھے۔
میاں مجھے شاہ فیصل اسپتال، طائف، میں داخل کروا کر واپس منیٰ چلے گئے۔ میرے پاس اجنبی ڈاکٹرز تھیں، جن کی زبان ایک دوسرے کو سمجھ نہیں آتی تھی۔ طائف کے تمام احباب حج کی چھٹیوں کی وجہ سے شہر میں موجود نہیں تھے۔ کچھ حج میں مصروف تھے اور کچھ چھٹیاں گزارنے پاکستان گئے ہوئے تھے۔ اس تنہائی میں صرف ایک خوشی غالب تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حج بخیر و خوبی مکمل ہوگیا تھا۔
پھر ہم دو سے تین ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت نے مجھے یہ اعزاز بخشا کہ جنت میرے قدموں تلے آگئی۔ الحمدللہ، ثم الحمدللہ! گویا میری بیٹی بھی حاجن تھی اور میں بھی حج کے بعد ایک نوزائیدہ کی مانند تھی۔ سبحان اللہ!
میرے میاں آخری دن کی کنکریاں مار کر واپس آئے تو بیٹی کو دیکھا اور اس کے کان میں اذان دی۔
طائف میں موجود طاہرہ باجی، اہلیہ ڈاکٹر حبیب الرحمان، حج سے واپس آئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ میں اسپتال میں ہوں۔ وہ آئیں، مجھے حج اور بیٹی کی مبارک باد دی، پیار کیا اور میکے کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔
اس کے بعد ہم شاہ فیصل اسپتال سے طاہرہ حبیب کے گھر آگئے۔ چار دن بعد چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں۔ ان چار دنوں میں طاہرہ باجی اور ڈاکٹر حبیب الرحمان نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ اس مشکل وقت میں ان کی محبت اور خلوص ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی شان کے مطابق اجر عطا فرمائے، آمین۔
ہم حج کرنے گھر سے دو افراد گئے تھے اور نویرہ رحمان کے ساتھ تین واپس آئے۔
فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ۔









