گنبد خضرا ، مسجد نبوی ، مدینہ منورہ ، سعودی عرب

مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ (4)

فرح مصباح

مدینہ کا نام سن کر جو چیز سب سے پہلی ہمارے ذہن میں آتی ہے، وہ گنبدِ خضراء یعنی “سبز گنبد” ہے۔ اسی کے نیچے حجرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہے جس میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔ مسجدِ نبوی میں روضہ کے سامنے بیٹھ کر درود پڑھنا اور دعا مانگنا۔ پھر باہر سے سبز گنبد کو ادب سے دیکھتے رہنا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یادوں میں گم رہنا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کہنا اور سننا سب کچھ اتنا پُرکیف ہوتا ہے جس کی لذّت سے وہی شخص آشنا ہو سکتا ہے جس نے اس کا تجربہ کیا ہو۔

وہاں پر حاضری کے لئے کثرتِ مال کی نہیں بلکہ تڑپ، طلب اور دعا کا ہونا ضروری ہے۔ محبت اورعشق کا وہ درجہ کہ جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تمام رشتوں سے زیادہ ہوں ایمان کی نشانی ہے ۔

مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں بیٹھنا دنیا کے کسی بھی بہترین مقام پر بیٹھنے سے زیادہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔ پھر مسجد نبوی کے اندر بیٹھنے کی اور وہاں عبادت کرنے کی فضیلت اور احساس ہی الگ ہے۔ مسجد نبوی کے چپے چپے میں نورانیت ہے۔

کئی لوگوں نے اس دنیا میں بہت سے بادشاہوں کے محلات دیکھے ہوں گے، بہترین تعمیر و ترقی کے نمونے بھی دیکھے ہوں گے، لیکن مسجد نبوی کی بناوٹ، مسجد نبوی کے صحن میں کھلتی خوبصورت چھتریاں، اور مسجد نبوی کے اندر لگے ہوئے خوبصورت فانوس، مسجد نبوی کے مینار، مسجد نبوی کے محراب، مسجد نبوی کے پنکھے، غرض کہ مسجد نبوی میں نصب کی گئی ہر چیز بے مثال ہے۔ شاید نہیں بلکہ یقیناً جو کچھ سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں ان کی مسجد میں ہے، وہ دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس نہیں۔

یہ نہ سمجھیے گا کہ ان چیزوں سے انسیت یا پسندیدگی ان کی بناوٹ کی وجہ سے ہے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ ان چیزوں کو جو مسجدِ نبوی کی نسبت حاصل ہے، اس سے یہ چمک گئی ہیں۔

اگر بات مدینے کی گلیوں کی جائے تو مدینے میں داخل ہوتے ہی کیفیت بدلتی ہے۔ وہ دن تصور پہ چھا جاتے ہیں جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے، اور بچیوں نے طلع البدر علینا کی صدائیں لگائی تھیں، ہر کوئی منتظر تھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مہمان بنیں ۔

شاندار استقبال کے لیے سارا مدینہ جمع ہوگیا تھا۔ آپ کو وہاں ہر جگہ کو دیکھ کر یہی گمان ہونے لگے گا کہ یہی وہ جگہ ہوگی جہاں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ہوں گے۔ اور آپ کے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ساتھ چل رہے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہر کے نام کو “یثرب” سے “مدینۃ النبی” کر دیا، اور یہاں کے مسلمانوں کو”انصار النبی” فرمایا۔ شاید یہی بات تھی کہ ان انصار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ محبت تھی۔ آپ ہی کے کہنے پر انہوں نے مہاجرین کو اپنا بھائی بنایا۔

مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے دو بھائیوں کا زمین وقف کرنا، پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے منع کرنے کے باوجود قیمت ادا کرنا۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی اذان اور پے در پے کئی واقعات ذہن کی اسکرین پر چلنے لگتے ہیں۔

مدینے کی فضا میں سانس لینا بہت اچھا لگتا ہے، جہاں سے گزرو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یادیں اور باتیں دل کی تاروں کو چھیڑ دیتی ہیں۔ مدینہ کے لوگ آج بھی بڑے مہمان نواز ہیں۔ مدینہ کا سکون ، مدینے کی ٹھنڈک ، مدینہ کی تازگی اتنی بھرپور ہوتی ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

شاعر نے ایک شعر میں اس زمین کی اہمیت کو آسمان سے بڑھ کر اس لیے کہا یہاں گنبدِ خضراء ہے ۔

” اعزاز یہ حاصل ہے تو حاصل ہے زمیں کو

افلاک پہ تو گنبدِ خضراء نہیں کوئی “

بس جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت ہو جائے وہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی تو حضرت موسی علیہ السلام نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی دعا نہیں کی –

وہاں جا کر ایک اور احساس جس نے دل کو جھنجھوڑا وہ یہ تھا کہ ہم میں سے جو لوگ وہاں نہیں پہنچ سکتے یا وہاں سے آنے کے بعد نبی پاک کے شہر سے دور ہوتے ہیں تاہم ایسے اعمال کر سکتے ہیں جن سے ہم اللہ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کر سکیں۔

” اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول “
یہ وہ آسان فارمولا ہے جس سے ہم دور رہ کر بھی دور نہیں ہوں گے۔ جب ہمارے جذبات میں اتنی انتہا ہے تو ہمارے اعمال اسےثابت کیوں نہیں کرتے؟ تجربہ کر کے دیکھیں۔ اپنے کسی گناہ کو چھوڑ کر دیکھیں، اپنے رب کے اور اس کے محبوب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار بن جائیے، جس چیز سے روکا گیا ہے اس سے رک جائیے، تو رب کو منانا کہاں مشکل ہے۔

وہ تو پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے۔ بس نبی کے شہر میں نبی کے روضے پر نبی کی مسجد میں مانگا اور خوب مانگا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے تابعدار بن جائیں تاکہ ہمارا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق عملی طور پر بھی نظر آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں