مسلمان نوجوان خاتون اور مسلمان نوجوان مرد

روشنی…

نصرت یوسف

سرد ہوا اتنی تیز تھی کہ بند کھڑکی کے شیشے بھی آواز دے رہے تھے، شرمین نے نیند ٹوٹنے اور ہوا کے جھکڑ کو محسوس کرتے ہوئے کچھ خوف سا محسوس کیا. اندھیرا اور سناٹا اپنے گھر کا اسے ڈراتا نہ تھا لیکن پھر وہ ڈرنے لگی . عجیب بیماری ہوگئی تھی، سمندری لہروں کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی ،  لہریں پیروں سے لپٹتیں ، ریت پیروں تلے کھسکتی اور وہ بے اختیار قدم پیچھے کرتی.

ایسا کرتے وہ ماحول سے  غائب ہوکر بنا دیکھے الٹا چلتی کہ حادثات ہونے لگے . کبھی صرف اسی کو نقصان پہنچتا اور کبھی پیچھے والے بھی شکار بنتے . ارد گرد کی ہمدردی ملامت میں ڈھلتی جارہی تھی. ہر بار وہ ایسے میں بے آواز لبوں سے اسد اللہ کو پکارتی جو پچھلے برس تک اس کا شریک حیات اور اب غم حیات تھا.

زندگی عجیب ہوگئی تھی، اسے اپنے دونوں بچوں کی بھی فکر نہ رہی تھی. بس ! اسداللہ کے بنا اپنے غیر محفوظ ہونے کا خیال جم گیا. وہ ایک ذمہ دار شوہر اور باپ تھا. َاسداللہ اور شرمین کی شادی بھی عجیب ذریعہ سے ہوئی، بھلا کس لڑکے  نے شرط رکھی ہوگی کہ شادی اس لڑکی سے کروں گا جس کو مردانہ  کپڑے استری کرنے اچھے آتے ہوں،  کسی نے رکھی ہو یا نہیں جب یہ شرط اسداللہ نے رکھی تو سب گھر والے بہت ہنسے. 

شرمین اسد اللہ کی بہن کی وہی سنڈریلا سہیلی تھی جو خوب صورت اور خوب سیرتی کے ساتھ اچھی استری کی شرط پر پوری اترتی تھی . بقیہ کسی نکتہ پر کوئی اعتراض کسی کو نہ ہوا اور دونوں کا جوڑ بن گیا. ہاں یار بیلی اسداللہ سے مذاق میں ضرور کہتے “اسداللہ ! تمہیں وکالت چھوڑ کر بھابھی کےساتھ ڈرائی کلیننگ کا کام کرنا چاہیے” 

وہ کہتا: ” ہاں ہوسکتا ہے بیوی کرلے لیکن میرے مرنے بعد، اور فی الحال میرا مرنے کا ارادہ نہیں  “

جملے  کائنات میں بظاہر مجسم ہوتے نظر نہیں آتے لیکن غیر مرئی وجود کے ساتھ کسی کونے میں بکل مارے بیٹھ جاتے ہیں، اسد اللہ کا مرنے کا ارادہ تھا یا نہیں تینتیس سال کی عمر میں شادی کے چھ برس بعد اسداللہ کے کہے الفاظ جو چھپے تھے اچانک خلا سے اتر آئے ،

ماں باپ کے لخت جگر  بیوی بچوں کے شجر کو سمندری لہروں نے اس وقت جکڑا جب اسد اللہ اور چھوٹا نو بیاہتا بھائی سیف اللہ ساحل پر  لہروں کو روندتے باتیں کرتے جارہے تھے، نہ پانی تیز تھا اور نہ ساحل سے دوری . بس ! قسمت میں لکھی دونوں بھائیوں کی دنیا کی ساعتیں ختم ہوچکی تھیں. دونوں کی بیویاں کہیں دور اونٹ پر سوار ہنسی مذاق کر رہی تھیں.

اسد اللہ اور شرمین کی پانچ سالہ جڑواں بیٹیاں دادا دادی کے ساتھ  پانی ، ریت اور نارنجی پڑتے سورج کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بناتے مگن تھیں. گھر کے پہلے فرد کو جب حادثہ کی اطلاع ہوئی تو پانی نے دونوں بھائیوں کے اجسام کو چھپا رکھا تھا. چلتے پھرتے ، ہنستے مسکراتے وجود چشم زدن میں ایسے غائب ہوئے جیسے برمودا کے شیطانی مثلث سے گزرے ہوں اور پھر ان کا کوئی اتہ پتہ نہ ملا. 

دیورانی صبا نے عدت والدین کے ساتھ گزارنا چاہی اور شرمین نے بچوں کے ساتھ سسرال میں. صبا کی شادی کو بس سال ہی ہوا تھا، ابھی توعروسی جوڑا تک ہینگر میں لٹکا تھا اور وہ سہاگن سے ابھاگن کہلائی گئی.

صبا میکہ چلی گئی ، شرمین کی ذہنی رو کی سمت بگڑ گئی . ضعیف عظمت اللہ کا ہنستا بستا گھر آسیب زدہ سا ہوگیا. وہ گھر جس کا نام آشیانہ تھا، وہ آشرم لگنے لگا جہاں کی راہداریوں میں غمگین سی شرمین چکراتی رہتی.

عدت ختم ہوئے چھ ماہ گزرے تھے کہ اچانک صبا آگئی ، شرمین کی ساس سسر صبا کو دیکھ کر جیسے ضبط ہی کھو بیٹھے. آنسوؤں کا ایک طوفان تھا جو چاہے بے آواز اور گھٹا گھٹا تھا لیکن بلا خیز تھا. شرمین ایسے میں جب اسداللہ کہہ کر سسکتی تو کم سن بیٹیاں سہم کر دیوار سے لگ جاتیں. صبا تو کچھ دیر بعد چلی گئ لیکن آشیانہ میں ویرانی کے مزید در کھل گۓ.

دو ماہ اور گزر گۓ، صبا ایک بار پھر آئی . اب کی بار وہ جو کہہ کر گئ اسے سننا عظمت اللہ کے لیے آسان تو نہ تھا لیکن اس کی مخالفت کرنے کا حق بھی نہ تھا.

“ابو ! آپ چاہیں تو میں اپنے بھائی کا رشتہ شرمین بھابھی کے لیے دے سکتی ہوں. وہ اس گھر میں بھی آکر رہ سکتے ہیں تاکہ بچوں سے دادا دادی کی دوری نہ رہے”

عظمت اللہ صاحب کے کانوں میں صبا کی آواز اس کے جانے کے بعد بھی مستقل چکراتی رہی، ان کی بیوی تو صبا کو خاصا کوس کر غمگین بیٹھی تھیں .

“لالچی عورت ہے صبا میں کہے دے رہی ہوں، گھر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اس کا خاندان . شرمین سے پانچ برس چھوٹی تو صبا خود ہے اور بھائی اس سے بھی برس بھر چھوٹا “اچانک شرمین کی ساس پھٹ پڑیں. عظمت اللہ نے لمحہ بھر کو بیوی کی جانب توجہ کی اور بنا کچھ کہے کمرہ سے نکل گۓ. 

کچھ ماہ اور گزر گۓ، شرمین کی حالت میں کچھ بہتری نہ آئی ، اس کا میکہ بھی بھرپور تعاون نہ کر پا رہا تھا، ساس سسر ہوں یا شرمین کے والدین سب کی اپنی زندگی کی مجبوریاں اور رکاوٹیں تھیں. ایسے میں والدین کو صبا کی آفر بیٹی کے لیے بہترین لگ رہی تھی جس کا ذکر عظمت اللہ صاحب نے اپنے تئیں کراہت بھرے انداز میں کیا تھا.

وہ اسی سوچ بچار میں تھے کہ ایک صبح شرمین کے سسر کا فون آگیا. وہ نہایت گھبراۓ ہوئے اسپتال سے بول رہے تھے شرمین الٹے قدم اٹھاتے سیڑھیوں سے گر گئ تھی .شرمین کی ماں یہ خبر سن کر  بری طرح رونے لگیں، باپ کو انہیں سنبھالنا مشکل ہوگیا.

شرمین کو تو اگلے دن ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا لیکن اس کے والدین نے اس کے مستقبل کا فیصلہ کر لیا ، ان کو یقین تھا کہ شرمین کو جیون ساتھی کی شدید ضرورت ہے اور صبا سے انہیں خود ہی بات کرنی ہوگی. صبا کا رابطہ نمبر شرمین ہی کے موبائل سے لیا گیا اور جب ماں نے فون ملایا تو ان کے چہرے پر اندیشے بھرے تھے. صبا سے بات کرکے ان کا تناؤ سوالات کی شکل میں بدل گیا. 

“کیا کوئی اتنا اچھا بھی ہوتا ہے جیسا وہ گھر تھا، جیسی صبا تھی، ایک عورت جو خود سال بھر میں بیوہ ہوچکی ہو اور اب اس کے لیے معمر اور بچوں والے حضرات کے رشتے دستیاب ہوں ، وہ نوعمر لڑکی صبا کیا واقعی اپنے خوبرو بھائی کو چھ برس بڑی عورت شرمین سے شادی پر تیار کرچکی ہے؟ “

”  دو بچوں کی ماں جو ذہنی طور پر دھچکہ میں بھی ہے . اس سے شادی کروانے میں کیا لالچ ہے؟ یا صبا واقعی کوئی ولیہ اللہ ہے؟”

” اور وہ جوان کون  سی روح ہے جو یہ سب کرنے پر راضی ہے؟ “… ان سب  سوالوں کے جوابات وقت نے دینے تھے.

شادی کے مقصد سے صبا کے بھائی طلحہ زبیر سے شرمین کی ملاقات کراماتی رہی. کچھ ہی مدت میں نکاح نامے پر دستخط کرتی شرمین کی ناک میں لونگ لشکارے مار رہی تھی. 

سوالات ہنوز باقی تھے، منفی خدشات تھے لیکن مثبت اشارے بھی بہت تھے. فی الوقت تو صبا کے وجود سے پھوٹتی خیر  کتنے ہی انسانوں کے لیے وجہ تسکین بن چکی تھی. چمن میں اٹھے دھویں کو روشنی سے بدل دینے کی کوشش نے  بہت سے آزار ختم کر ڈالے تھے . دلہن شرمین صبا کے گھر پہنچ چکی تھی. 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں