نالہ لئی ، راولپنڈی

سیلاب

حمیرا علیم

اماں!اماں! اٹھو گھر میں پانی آ گیا ہے۔” نالہ لئی کے کنارے بنی بستی میں بنے ایک گھر میں رہنے والی ثومعہ شور مچا کر اپنی سوئی ہوئی ماں کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگی ۔ اگرچہ خبروں میں بارش شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیا گیا تھاکہ اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی اور سیلاب آنے کا خطرہ ہے مگر لوگ اپنی ہی دھن میں مست تھے ۔ پچھلے تین دن سے بارش مسلسل برس رہی تھی ۔ اور نالے کی سطح میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ آج بھی ابا نے اس کی ماں سے کہا تھا:” نیک بخت گائوں چلتے ہیں ۔ اگر سیلاب آ گیا تو سب تباہ ہو جائے گا۔”

” واہ ! ثومی کے ابا واہ ! یہ بھی تم نے خوب کہی ۔ بسا بسایا گھر چھوڑ کے تمہاری اماں کے گھٹنے سے لگ کے بیٹھ جائیں۔

میاں اگر سیلاب آ گیا تو کیا سب کچھ اس کی نذر کر کے خود گائوں جا بیٹھوں ۔ یہاں ہوں گے تو کم از کم سب کچھ اوپری منزل پہ تو چڑھا سکیں گے نا!” اماں نے تنک کر کہا تو ابا بیچارے خاموش ہو گئے۔

کچھ عرصہ قبل ہی تو ابا اپنے حصے کی ساری زمین بیچ کر کہوٹہ سے راولپنڈی آئے تھے اور رتہ امرال کے اس علاقے میں یہ گھر خریدا تھا ۔ اگرچہ گھر نالے کے بالکل کنارے پہ تھا مگر نیا بنا ہوا تھا اور سستا مل گیا تھا ۔ چنانچہ اماں بھی خوش تھیں۔

مگر یہ خوشی اس وقت غارت ہو گئی جب رات دو بجے ثومعہ پانی پینے کے لیے اٹھی۔ بستر سے پائوں اتار کر چپل پہننی چاہی تو پائوں غڑاپ سے پانی میں جا پڑا ۔ پہلے تو کچھ سمجھ نہ پائی کہ بیڈروم میں پانی کہاں سے آ گیا ۔ جب ذرا ہوش آیا تو سیلاب کی وارننگ یاد آئی تو اس نے شور مچا دیا۔

اس کی آواز پہ دوسرے کمرے میں سوئے ابا اماں اور اوپری منزل پہ سویا بھائی خضر بھاگے بھاگے آئے ۔ لائٹ آن کی تو پتہ چلا بجلی بھی غائب ہے ۔ خضر نے موبائل کی لائٹ آن کی تو دیکھا کہ پانی کمرے میں تیزی سے بھرتا جا رہا تھا۔

” اماں ابا سب جلدی سے اوپر والے کمرے میں چلیں۔” اس نے جلدی جلدی اوپر جانے کا کہا تو اماں ہولا کے بولیں : ” اور سامان کا کیا ہو گا۔ بیڈ ، فریج ، برتن ، پیٹیاں سب کچھ تو نیچے ہی پڑا ہے سب خراب ہو جائے گا۔”

” افوہ ! اماں یہ وقت جان بچانے کا ہے ۔ قسمت میں ہوا تو سامان تو دوبارہ بھی بن جائے گا ۔ ابھی تو اوپر چلیں۔” یہ کہہ کر خضر نے ماں بہن کا ہاتھ پکڑا اور اوپر کو بھاگا۔ ابا بھی ہانپتے کانپتے پیچھے کو لپکے۔

اوپر پہنچ کر خضر نے موبائل سے ماموں کو کال کی جو ڈھوک کھبہ میں رہتے تھے ۔ ان کو صورتحال بتائی تو معلوم ہوا کہ ان کا علاقہ بھی زیر آب ہے اور وہ سب بھی اوپری منزل پہ بیٹھے ہیں ۔ اب تو صرف اللہ ہی کا آسرا تھا ۔ سب دعا کرنے لگے کہ بارش رک جائے تاکہ پانی آنا بند ہو جائے ۔ مگر لگتا تھا بارش کا آئندہ کئی دن تک رکنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔

اگلے دو دن بارش برستی رہی ۔ بجلی بھی کھمبے گرنے کی وجہ سے غائب رہی ۔ شکر تھا کہ خضر کے کمرے میں کچھ کھانے پینے کا سامان ، پانی اور پھل موجود تھے ورنہ تو انہیں فاقہ ہی کرنا پڑتا ۔ دو دن بعد بارش تھمی اور بجلی واپس آئی تو خضر نے ٹی وی آن کیا تومعلوم ہوا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے کئی علاقوں میں سیلابی کیفیت تھی ۔ پانی نہ صرف گھروں کے اندر داخل ہو چکا تھا بلکہ کئی گھروں ، گاڑیوں اور لوگوں کو بھی بہا لے گیا تھا۔

اماں نے تو خبریں سن کر باقاعدہ بین کرنے شروع کر دئیے ۔ ابا کے سمجھانے پہ چپ تو کر گئیں مگر یہ غم کھانے لگا کہ گھر کا سارا فرنیچر اور الیکٹرانکس کا سامان پانی میں ڈوب کر ستیاناس ہو گیا ہو گا : ” ثومی کے ابا ! آپ جا کے ذرا دیکھیں تو صحیح نیچے کیا حال ہے۔”

اماں کے کہنے پہ خضر اٹھا : ” آپ بیٹھیں ابا میں دیکھ آتا ہوں۔” یہ سنتے ہی اماں نے واویلا مچا دیا: ” نہیں! نہیں! تم مت جانا ۔خدانخواستہ ڈوب ہی نہ جائو ۔” خضر ٹھٹک کے رکا تو ابا بولے:” واہ ثومی کی ماں! بیٹے کی جان بڑی عزیز ہے میاں جائے بھاڑ میں۔” اماں کے جھینپنے پہ ثومی اور خضر دونوں مسکرا دئیے۔” چلیں ابا ہم دونوں دیکھ کے آتے ہیں۔” یہ کہہ کر خضر سیڑھیوں سے نیچے اترا مگر آدھے رستے میں ہی رک گیا۔

” ابا نیچے تو سب کچھ پانی میں تیر رہا ہے ۔ معلوم نہیں کہاں کہاں کا گند گھر میں گھس آیا ہے ۔ خدانخواستہ سانپ ہوئے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔ بہتر یہی ہے کہ اوپر ہی رہیں ۔ شاید کوئی امدادی ٹیم آ جائے ۔ اور پانی نکالنے کا کوئی بندوبست ہو جائے۔” خضر کے کہنے پہ ابا واپس چل دئیے ۔ اوپر جا کر بھی اس نے یہی بات کہی تو ثومی تلخی سے بولی:

” ہنہ! آ ہی نہ جائے امدادی ٹیم ۔ یہ پاکستان ہے بھئی یہاں عوام پر صرف ٹیکسز کی بھرمار کی جاتی ہے کوئی سہولت نہیں پہنچائی جاتی۔ جو کچھ کرنا ہے ہمیں خود ہی کرنا ہے۔ میرے خیال میں تو کچھ دیر بعد نیچے جا کر بالٹی وغیرہ سے پانی نکالتے ہیں ۔” اماں نے بھی تائید میں سر ہلایا تو خضر نے ٹی وی پہ نیوز چینل لگا دیا جہاں کوئی پروگرام چل رہا تھا جس میں کچھ صحافی اور مبصرین بیٹھے سیلاب کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔

” دیکھیے شازیہ ! ہم سارا ملبہ حکومت پہ ڈال کے خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ جی حکومت نے کیوں نہ ایسے اقدامات کیے کہ سیلاب سے نمٹا جا سکتا۔ جبکہ یہ ذمہ داری تو عوام کی بھی ہے۔” مبصر کے تبصرے پر اینکر نے استفسار کیا۔” عوام کی ذمہ داری کیسے ہوئی؟” تو وہ صاحب بولے : ” جب لوگ نالوں ، دریائوں کے خشک ہونے پر ان میں ہاؤسنگ سوسائیٹیز بنا لیتے ہیں گھر تعمیر کر لیتے ہیں۔ جنگل کاٹ کے پلازے اور مالز بنا دیتے ہیں۔ اپنے گھر کا کچرہ مناسب طریقے سے ڈسپوز آف کرنے کی بجائے نالیوں اور نالوں کی نذر کر دیتے ہیں ۔تو بتائیے بارش کے پانی کو نکاسی کا رستہ نہیں ملےگا تو سیلاب نہیں آئے گا تو کیا ہو گا۔

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ عام دنوں میں نالہ لئی کے اندر شاپنگ بیگ اور کچرے کا ڈھیر ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے تعفن پھیلتا ہے۔ مگر لوگوں کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی۔ جب لوگ ایسی جگہوں پہ گھر بناتے ہیں جہاں بنانے کی اجازت نہیں تو وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ خلاف قانون کام ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

میرے خیال میں تو ایسی تمام ہاؤسنگ سوسائیٹیز اور گھروں کو مسمار کر دینا چاہیے جو غیر قانونی تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں۔” اماں نے تو یہ سنتے ہی سینے پہ دوہتھڑ مارا اور رونے لگیں۔” ہائے ہائے اب یہ ہمارا گھر گرا دیں گے۔”

ابا نے سمجھایا : ” صبر سے کام لو ثومی کی ماں ۔ یہ صرف بات کر رہے ہیں ۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔” جس پہ ثومی نے تبصرہ کیا” ویسے ابا بات تو ان کی ٹھیک ہی ہے ۔ عوام کا بھی تو فرض بنتا ہے نا کہ وہ ان سب چیزوں کا خیال رکھے تاکہ ایسی کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”

” ہاں بیٹا بات تو سچ ہے مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے ہاں مستقبل کے لیے اقدامات کرنے چاہیے ہیں تاکہ ایسی آفات سے محفوظ رہا جا سکے ۔ جائو خضر ذرا پانی کی صورتحال کا جائزہ لو کچھ کمی ہوئی ہو تو چلیں صفائی ستھرائی کی کوشش کریں۔” ابا کے کہنے پہ خضر نے سیڑھیاں اتر کر جھانکا اور بتایا : آ جائیں پانی کچھ کم ہو گیا ہے۔” تو سب نیچے کو چل دئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں