خاتون ہسپتال میں بیڈ پر لیٹی ہوئی ہے

دوران زچگی خون کا بہت زیادہ بہنا ۔۔۔۔۔۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ، کیسے روکا جاسکتا ہے؟

معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی کی پوسٹ پارٹم ہیمریج یا پی پی ایچ PPH سے متعلق اردو تحریر جو بہت سوں کا بھلا کرسکتی ہے

“دوران زچگی خون کا بہت زیادہ بہنا اور کنٹرول نہ ہونا ہمیشہ کسی کمی / کوتاہی غلطی کی وجہ سے نہیں ہوتا “
پی پی ایچ کسی بھی بچے کی پیدائش پر ہو سکتا ہے ۔ لیکن ملٹی پیرس زچہ mulyiparous یعنی جس خاتون کے پہلے سے دو یا زیادہ بچے ہوں ان کے ساتھ ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔

اگر زچگی کا عمل بہت کھنچ جائے یعنی درد سہنے کا وقت بہت طویل ہو جائے ، اس صورتحال میں بھی رحم atonic ہو سکتی ہے اور نتیجہ پی پی ایچ میں نکلتا ہے

اگر بچہ بہت بڑے سائز کا ہو یا رحم میں پانی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے رحم کا،سائز زیادہ بڑھ جائے نتیجتا زچگی کے بعد جس چھوٹے سائز (canon ball size) میں واپس آنا ہو اتنا چھوٹے سائز تک سکڑ نہ سکے کیونکہ زیادہ پھیلنے سے رحم کے پٹھے ڈھیلے پڑ جائیں جیسے الاسٹک کو کافی دیر تک زیادہ لمبا کھینچیں تو وہ واپس اپنے ابتدائی سائز تک نہیں آتا کچھ طویل اور ڈھیلا ہو جاتا ہے ، بالکل اسی طرح رحم کے پٹھے واپس سکڑ کے چھوٹے نہیں ہو پاتے نتیجتا رحم کی دیواروں میں موجود خون کی نالیاں بند نہیں ہوتیں اور خون کا بہائو جاری رہتا ہے.

اسی طرح اگر زچہ کے خون میں جمنے بہنے کہ صلاحیت خراب ہو جائے مثلا جس طرح ڈینگی بخار میں ہوتا ہے یا کچھ خون کی بیماریوں میں ایسا ہوتا ہے اس صورت میں بھی خون جمے گا نہیں بس بہتا چلا جائے گا

مریضہ کی تیز رفتار بلیڈنگ کی وجہ سے جسم میں موجود تمام کلاٹنگ فیکٹرز استعمال ہو جائیں اور کلاٹنگ فیکٹرز کی کمی کی وجہ سے خون بہتا بھی چلا جائے ساتھ ہی ساتھ جسم میں موجود اعضاء میں جمے ہو خون کے لوتھڑے ، خون اور آکسیجن کا بہائو روک دیں ۔یہ کیفیت زندگی کے لیے شدید ترین خطرے کا باعث بن سکتی ہے اسے ڈی آئی سی DIC کہتے ہیں۔ Disseminated intravascular coagulation

زچگی سے پہلے ہی خون کی شدید کمی ، ان کنٹرولڈ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر بھی پی پی ایچ کی وجوہات میں سے ہیں ۔ان متعدد وجوہات کی بنا پر اس مرض کی متعدد مینجمنٹس میسر ہیں. ہر دفعہ یوٹرس نکالنا ہی اس کا حل نہیں ہوتا۔

دوران زچگی خون کے ضائع ہونے کے اسباب 4T سے یاد رکھے جاتے ہیں

ایک مریضہ کی عزیزہ نے بتایا کہ مریضہ کو دوران حمل بھی وقتا فوقتا خون کا اخراج جاری رہا اور یہ بھی کہ ان کی آنول نیچے تھی ۔

اس،صورتحال میں مکینیکل وجہ یہ ہے کہ رحم کا نچلا حصہ خصوصا رحم کے منہ والا حصہ جو کہ کمسکولر ہوتا ہے اس کا زیادہ تر حصہ فائبرس ہوتا ہے جو اچھی طرح نہیں سکڑتا ۔ اگر اس حصے میں کٹ آ جائے یا خون کی کھلی نالی موجود ہو جیسا کہ لو لائینگ پلےسینٹا low lyiing placenta /placenta previa کی صورت میں موجود تھی تو وہ بچے کی پیدائش کے بعد سکڑ نہیں پائی ۔

مریضہ کی عزیزہ نے بتایا کہ رحم بھی ڈھیلی پڑ گئی تھی یہ ATONIC UTERUS کہلاتی ہے یعنی رحم کے پٹھے بھی اپنی لچک برقرار نہیں رکھ پائے تھے اور واپس اوریجنل سائز پر نہیں آ رہے تھے . اس صورت میں اگر آنول آگے نہ بھی ہوتی تب بھی خوں بہتا رہتا ۔

دوران حمل کبھی کبھار آنول کا کچھ حصہ اکھڑ جاتا ہے اور آنول کے عقب میں خون بہہ جاتا ہے اسے اینٹی پارٹم ہیمرجANTEPARTUM HEMORRHAGE کہتے ہیں . یہ خون کبھی باہر ظاہر ہو جاتا ہے تب اسے ری ویلڈ revealed haemorrhage کہتے ہیں اور کبھی اس کی کوئی نشانی باہر نظر نہیں آتی . مریضہ طبیعت خراب ہونے یا ریگولر چیک اپ کے لیے ڈاکٹر چیمبر میں رپورٹ کرتا ہے اور یہ ہیمرج الٹراساونڈ پر نظر آ جاتا ہے اسے کنسیلڈ ہیمرج concealed hemorrhage کہتے ہیں ۔ آنول کا اکھڑنا اور خون کا اس طرح بہنا بھی پی پی ایچ کی وجہ بن سکتا ہے
پی پی ایچ کی صورت میں مندرجہ ذیل ممکنہ مینجمنٹ آپشنز ہیں:

1رحم کا مساج تاکہ وہ سکڑ جائے
2رحم سکیڑنے کی ادویات مثلا سینٹوسینون یا پراسٹاگلینڈن
3 رحم کی اندرونی صفائی تاکہ رحم میں ٹوٹ کر رہ جانے والے آنول کے ٹکڑے جو بلیڈنگ کی وجہ بن رہے ہیں ، وہ نکالے جا سکیں ۔

4 رحم پر بائی مینول پریشر بذریعہABDOMINAL AND VAGINAL ROUTS ،
5 یوترس کی استرلائزڈ گاز سے پیکنگ
6 یوترائن بیلوننگ یا کیتھیٹیرائزیشن

7 رحم سکیڑنے کے لیےمخصوص ٹانکا جس کے لیے آپریشن ضروری ہے BLynch stich
8رحم کی خون کی سپلائی باندھنے کے لیے رحم کے اطراف لگایا جانے والا
Bilateral ligation of the uterine vessels (O’Leary stitch)
یا
9 رحم کا نکال دینا HYSTERECTOMY

دائیں جانب۔ بائے مینوئیل پریشر Bimanusl uterine pressure massage
بائیں جانب۔ بیلوننگ Bslooning

پہلی 8 آپشنز میں رحم بچ جاتی ہے اور اگلے حمل کی امید باقی رہتی ہے ۔ آخری صورت میں مزید حمل ممکن نہیں رہتا

اگر مریضہ کو دوران حمل ہائی بلڈ پریشر یا ہائی بلڈ شوگر کا مسئلہ ہو تب بھی دوران زچگی زیادہ خون بہہ سکتا ہے ۔ہائی بلڈ پریشر میں خون کا زیادہ دبائو اور جگر کی ایک کیفیت جسے ہیلپ سینڈروم HELLP SYNDROME کہا جاتا ہے خون کے ضیاع کا باعث بنتی ہے ۔ اس میں کلاٹ بنانے والے ذرات پلیٹ لیٹس بہت کم ہو جاتے ہیں یا خون کے بہائو کو روکنے میں مددگار پروٹین thrombin کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔جبکہ ہائی بلڈ شوگر میں بچے کا بڑا سائز Good sized baby /MACROSOMIA یا رحم میں پانی کی زیادہ مقدار polyhyroamnios یا دو نوں مل کر رحم کے سائز کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ رحم واپس نارمل سائز تک سکڑ کر بند نہیں ہو پاتا اور پی پی ایچ ہو جاتا ہے

اگر زچہ کو دوران حمل ناک یا دانت سے یا معمولی کٹ سے تادیر خون بہنے کا مسئلہ تھا تو عین ممکن ہے کہ ان کے خون کے جمنے اور بہنے کی صلاحیت خراب رہی ہو۔ یہ مسئلہ ایک الگ وجہ solitary reason بھی ہو سکتا ہے اور دیگر مسائل کے ساتھ مل کر بھی پی پی ایچ کی وجہ بن سکتا ہے ۔

دوران زچگی خصوصا نارمل ڈیلیوری کی صورت میں ٹرامیٹک ڈیلیوری کے نتیجے میں اگر رحم ، سروکس،ویجائنا یا اینٹرائٹس پر کٹ آ جائے جسے سیا نہ جا سکے یا بروقت پہچانا نہ جا سکے اس صورت میں بھی مریضہ پی پی ایچ کا شکار ہو گی ۔ایسا کیس سرجیکلی مینج کیا جائے گا ۔ براستہ ویجائنا چند ٹانکے سے لے کر مکمل ہسٹریکٹمی تک کچھ بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوران آپریشن پی پی ایچ عموما خون کی خرابی یا رحم کے ڈھیلے پن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر سے ایسی کوئی رگ کٹنا جسے سیا نہ جا سکے اور بہت خون ضائع ہو جائے ایسا تھیوریٹیکلی ممکن تو ہے لیکن چونکہ ہر چیز احاطہ بصارت میں سامنے کھلی پڑی ہوتی ہے اس لیے کوئی بھی خون بہاتی رگ blood sprouting vessels or oozing pointless یا خون کا جھلکتا نقطہ اسی وقت پکڑ کر باندھا جاسکتا ہے ۔ سو عموما سیزیرین میں یہ کمپلیکیشن ڈاکٹر کی غلطی سے نہیں ہوتی ۔ لیکن بہرحال سیزیرین پی پی ایچ کی ایک وجہ ضرور ہو سکتا ہے ۔عموما اس کی وجوہات سرجیکل کی بجائے مکینیکل ہوتی ہیں ۔

پی پی ایچ کسی بھی زچگی میں کبھی بھی ہو سکتا ہے ۔بس اسے مینج کرنے والی ڈاکٹر کا حوصلہ اور حواس قائم رہنے چاہئیں ۔ عزیز و اقارب کی برداشت ، ڈاکٹر پر اعتماد اور ڈاکٹر سے تعاون قائم رہے۔ خون اور ادویات کی بروقت فراہمی بھی اہم ترین ہے ۔ نیگیٹو بلڈ گروپ کے ہر پیشنٹ کی چاہے سو فیصد نارمل ڈیلیوری پلان کی جائے اس کے لیے ایک دو بلڈ ڈونر انتظام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ڈونرز کا بلڈ مت نکالیں بس ٹیسٹ کر کے انہیں ڈیلیوری تک اسپتال میں پابند کر لیں تاکہ بصورت ایمرجنسی فوری خون میسر ہو۔

ایسی مریضہ کا ایچ بی لیول اور آئرن اسٹوریج اور سرخ خلیوں کی مقدار ڈیلیوری سے پہلے بہترین ہونا ازبس ضروری ہے ۔

آج کل پوسٹ کرونا ایرا میں اور ڈینگی سیزن میں اگر ڈیلیوری پیشنٹ کے خون کے جمنے بہنے کی صلاحیت کے ٹیسٹ احتیاطا پہلے ہی کروا لیے جائیں تو کچھ روپے کا خرچ تو ہو گا لیکن پیشنٹ مینجمنٹ کے لیے بےانتہا فائدہ مند بھی رہے گا ۔

یاد رکھیے ! دوران زچگی خون کا تیز رفتاری سے بہنا اور کنٹرول نہ ہونا ہمیشہ کسی کمی / کوتاہی غلطی کی وجہ سے نہیں ہوتا بیشتر اوقات اس کی وجوہات طبعی یا مکینیکل ہوتی ہیں ۔

اس مقام پر ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ یہ مریض /ورثا کی ہیلتھ ایجوکیشن کا انتظام کیا جائے ۔ بیماری /مسئلے کی وجوہات نوعیت اور نتائج کے متعلق انہیں ضروری تفصیلات سے آگاہ کیا جائے ۔ ڈاکٹر مریض اور اس کے لواحقین ایک پیج پر ہوں تبھی مریض کی بہترین مینجمنٹ ممکن ہے۔ لیکن جہاں ڈاکٹر کی نیت پر ہی شک ہو ۔ ورثا معالج پر اعتماد نہیں کر پائیں۔ مرض کی نوعیت جانے بغیر مرض کو ڈاکٹر کی غفلت یا لالچ کا شاخسانہ قرار دے دیا جائے ۔جہاں ڈاکٹر اپنے مریض کی مناسب کونسلنگ /رہنمائی میں ناکام رہے یا اسے غیر اہم جانے وہاں پڑھے لکھے احباب بھی غلط فہمی کا شکار ہوتے رہیں گے ۔

اللہ کریم ہرمریض کو شفا عطا فرمائے اور ہر ڈاکٹر کے دست شفا میں برکت عطا فرمائے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں