عمران خان ، سابق وزیراعظم پاکستان، چئیرمین تحریک انصاف

ترقی کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

بادبان / عبید اللہ عابد

بھارت ایسے نہیں دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت بنا۔

عمومی طور پر اسے چوتھی معاشی بڑی طاقت کہا جاتا ہے جو درست نہیں ہے ۔ ورلڈ اکانومک فورم کی چھبیس ستمبر سن دو ہزار بائیس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کا مقام حاصل کرلیا ہے ۔ دس برس قبل وہ گیارھویں نمبر پر تھا۔

آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ جس انداز میں بھارت کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے ، وہ سن دو ہزار ستائیس میں دنیا کی چوتھی بڑی معاشی طاقت بن جائے گا۔ واضح رہے کہ سن دو ہزار بائیس میں بھارت کی معاشی بڑھوتری کی رفتار سات فیصد کے حساب سے آگے بڑھے گی۔

ترقی کیسے ممکن ہے ؟ ملک کیسے ترقی کرتے ہیں؟ پاکستان کیسے ترقی کرسکتا ہے ؟ ایسے سوالات ہر فرد کے ذہن میں کلبلاتے رہتے ہیں۔ ایک فرد اور ایک قوم کو ترقی کی منزل پر پہنچنا ہو تو اسے کچھ خاص عادات اختیار کرنا پڑتی ہیں ۔ معاشی ترقی حاصل کرنا ہو تو اس کے بھی کچھ خاص تقاضے ہوتے ہیں ، کچھ خاص عادات ہوتی ہیں ۔ ان میں سے ایک عادت گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ایک انٹرویو سے پتہ چلی ۔

نریندر مودی بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کے سب سے بڑے ذمہ دار رہے ہیں ۔ ان کا بس چلے تو وہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا ٹھیکہ حاصل کرلیں۔ وہ اب بھی اپنے ملک میں مسلمانوں کے قتل عام کی بار بار کوششوں سے باز نہیں آتے ۔ اس حوالے سے ہم ان کی مذمت کرتے ہیں ، دنیا میں ان کے خلاف مہم چلاتے ہیں لیکن ایک بات ماننا پڑے گی کہ وہ ہندو قوم کے چوکیدار ہیں ۔ واضح رہے کہ وہ اپنے آپ کو بھارت کا چوکیدار کہتے ہیں۔ وہ ملک کے چوکیدار ہوتے تو وہاں رہنے والی ساری اقوام کی چوکیداری کرتے ، دیگر اہل مذاہب کا زیادہ خیال رکھتے۔ لیکن وہ انتہاپسند ہندوئوں کے چوکیدار ہیں بس !

انٹرویو میں بھارتی وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کا ذکر چھڑا تو نریندر مودی کہنے لگے :

‘‘مجھے معاف کیجئے گا ، بتانا اچھا نہیں لگتا لیکن پوچھا ہے تو بتا رہا ہوں . جب میں گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تو لوگ مختلف قسم کے تحائف دیتے تھے ، کبھی کوئی شال دے دیتا تو کبھی کوئی چاندی کی تلوار اور کبھی کوئی اچھا سا تاج محل دے دیتا ۔۔۔ لوگ بہت شاندار پینٹنگز بھی دے جاتے تھے، میں بھی انسان ہوں ، میرا بھی دل کرتا کہ اس پینٹنگ کو گھر کی دیوار پر لگاؤں گا کہ کبھی مہمان آئیں گے تو اچھا لگے گا’’

اتنا کہہ کر نریندر مودی شرکاء کو مخاطب کرکے پوچھتے کہ آپ کا بھی دل کرے گا یا نہیں کرے گا؟
شرکاء بیک زبان ہو کر جواب دیتے ہیں ‘‘کرے گا’’

جس پر بھارتی وزیراعظم نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہا : ” لیکن میرا دل نہیں کرتا تھا مجھے جو تحائف ملتے تھے میں ساری چیزیں توشہ خانہ میں ڈال دیتا تھا جس پر وہ بھی بہت تنگ آ گئے، پھر میں نے ان چیزوں کی قیمت لگوانا شروع کی اور پھر ان کی نیلامی شروع کروا دی.”

بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب میں نے بطور وزیر اعلیٰ گجرات چھوڑا تو بطور توشہ خانہ کی عوامی سطح پر نیلامی کروائی اور اس سے ملنے والی سو کروڑ کی رقم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی۔

نریندر مودی اور بھارت کے ذکر یہاں پر ہی تمام کرتے ہیں ، اب پاکستان کی طرف دھیان دیتے ہیں ۔

یہاں بھی وزیراعظم کو ملنے والے تحائف ایک عرصہ سے موضوع بحث ہیں ۔ بالخصوص جب سے سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس شروع ہوا ، تب سے اب تک ہر پاکستانی کو حفظ ہوچکا ہے کہ توشہ خانہ کیا ہوتا ہے؟ ورنہ اس سے پہلے وہ توشہ خانہ کا معنی بھی نہیں جانتا تھا۔ شاید نام بھی نہیں سنا تھا۔ اب سے بخوبی معلوم ہوچکا کہ توشہ خانہ سے متعلق قانون کیا ہے ؟ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس کے ضمن میں عمران خان الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہاں سے نااہل قرار پائے کہ انھوں نے جو تحائفتوشہ خانہ سے خریدے اور پھر فروخت کیے تھے ، ان کی رقم اپنے گوشواروں میں درج نہیں کی تھی ۔

اس دوران میں یہ بھی پتہ چلا کہ انھوں نے تحفوں کی کم قیمت لگوائی پھر اس کا بھی بیس فیصد ادا کیا ۔ سابق وزیراعظم اس بات پر کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابقہ حکمرانوں کی نسبت زیادہ رقم ادا کی ۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو ملنے والے تحائف اور پھر انھیں فروخت کیے جانے کی کہانیاں پوری تفصیل سے سامنے آئیں تو نہایت دلچسپ لیکن افسوس ناک حقائق سامنے آئیں گے۔ اور آخر میں ہم بقول مرزا اسداللہ خان غالب یہی کہنے پر مجبور ہوں گے

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

اس شعر کی تشریح مطلوب ہو تو یہاں” ہم ” سے مراد پاکستانی اور ” وہ ” سے مراد بھارتی قوم سمجھا جائے ۔ بھارت ایسے نہیں دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت بنا۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں