پرانی جیل کا ٹوٹا پھوٹا کمرہ

زنداں کا روشن دان

حمیرا علیم

میرے کمرے میں دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ ایک چھوٹا سا روشن دان ہے ۔ جب اس سے سورج کی کرنیں اندر آتی ہیں تو میں جان جاتا ہوں کہ صبح ہو گئی ہے . رات کی تاریکی مجھے رات آنے کی اطلاع دیتی ہے ۔ ویسے تو مجھے دن رات کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر میرے پاس کرنے کو اور کچھ نہیں لہذا میرا واحد مشغلہ اس روشن دان سے آنے والی آوازوں کو سننا اور ماضی کو یاد کرنا ہے۔

میں لئیق احمد کراچی میں ایک اچھی پوسٹ پر جاب کر رہا تھا ۔ زندگی اگر بےحد آسان نہ تھی تو دشوار بھی نہ تھی۔میرا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے ہے ۔ جی ہاں ! سابقہ وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کے شہر سے ۔ میرا بچپن یہیں گزرا تھا ۔ جہاں میں اپنے چچا کی بیٹی سوہنی کےساتھ کھیلتا تھا ۔ سوہنی صرف نام کی ہی سوہنی نہ تھی بلکہ سچ میں پریوں جیسی تھی ۔ سانولی سلونی ، کالی بھنورے جیسی آنکھیں ، لمبے ریشمی کالے بال اور نرم ملائم جلد ۔ جو دیکھتا حیران ہوتا کہ یہ حسن بنگال یہاں کہاں سے آ گیا۔

میرے بابا اور چچا دو ہی بھائی تھے ۔ میرے دادا نے سوہنی کی پیدائش پر میری اس سے منگنی کر دی تھی ۔ ہم دونوں ہی بچپن سے اس بات سے آگاہ تھے ۔ جب میں میٹرک کےبعد کالج داخلے کے لیے کراچی روانہ ہو رہا تھا تو سوہنی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا ۔ شام کو وہ کتابیں دینے کے بہانے ہمارے گھر آئی تھی جو اس کے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا اور میرے کمرے میں بیٹھ کر جی بھر کے رونے کے بعد مجھ سے کہا : ” وعدہ کرو کراچی جا کر مجھے بھول نہ جاؤ گے نہ ہی کسی شہری لڑکی سے شادی کر کے لاؤ گے۔”

میں نے شرارت سے جواب دیا: ” اب اگر کسی شہری لڑکی پر دل آ گیا تو مجبورا شادی تو کرنا ہی پڑے گی”

اور اس کی سسکیوں میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ بڑی مشکل سے اسے یقین دلایا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا اور میرے دل پر صرف اس کا ہی قبضہ تھا , وہی میرے خوابوں کی شہزادی تھی ۔ جب میں کراچی کے کالج میں ہاسٹل میں مقیم تھا تو روز اس کا فون آتا ۔ ہم مستقل رابطے میں تھے ۔ اور چھٹیوں کا بے چینی سے انتظار کرتے ۔ جیسے ہی چند دن کی چھٹی ہوتی میں ٹرین پکڑتا اور سیدھا گھر پہنچ جاتا۔

پڑھائی کےبعد مجھے کراچی ہی میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں اچھی جاب مل گئی ۔ بابا اور ماں نے چچا اور چچی سے شادی کی تاریخ لے لی اور یہ طے ہوا کہ میں چند دن کی چھٹی لے کر جاؤں گا اور سوہنی کو بیاہ کر کراچی ہی لے آئوں گا ۔ لہذا میں نے گلشن اقبال میں ایک چھوٹا سا فلیٹ کرایے پر لےکر اسے سجا لیا اور ہر چیز سوہنی کی پسند سے لی تھی ۔ جب میں چھٹی لےکر گھر پہنچا تو ایک قیامت میری منتظر تھی۔

اللہ وسایا جو کہ ایک بڑا زمیندار اور وڈیرہ تھا وہ اپنی زمین سے ملحقہ ہماری زمین خریدنا چاہتا تھا اور بابا پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اسے اونے پونے داموں زمین بیچ دیں ۔ بابا پہلے تو اپنی زمین بیچنا نہیں چاہتے تھے اور اگر بیچنا ہی پڑتی تو کم از کم اتنے پیسے تو ملتے کہ ہم کراچی جا کر کوئی چھوٹا موٹا فلیٹ ہی خرید سکتے , پر وڈیرے تو ہم غریب لوگوں کو بھیڑ بکری سمجھتے ہیں ۔ اس لئے پہلے پہل تو اللہ وسایا نے بابا کو آرام سے پیشکش کی , پھر دھمکیوں پہ اتر آیا . بابا نے مجھ سے ذکر نہ کیا لیکن جب میں گھر پہنچا تو وڈیرے کے بندے بابا کو بتا کر واپس نکل رہے تھے کہ اب اس کے پاس آخری موقع ہے کہ زمین وڈیرے کے نام کر دے ورنہ اس کے اکلوتے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا۔

میں گھر میں داخل ہوا تو ماں سے پوچھا : ” ماں ! یہ وڈیرے اللہ وسایا کا منشی کیوں آیا تھا ہمارے گھر؟ “

ماں پریشان بیٹھی تھی اس نے رونا شروع کر دیا ۔ بابا سے سوال کیا تو انہوں نے سارا ماجرا سنایا ۔ مجھے شدید غصہ آیا ۔” یہ کوئی جنگل ہے کہ جس کا دل چاہے ہماری زمین پہ قبضہ جما لے میں پولیس کے پاس جاؤں گا ۔”

بابا نے یہ سن کر مجھے سمجھایا : ” نہیں بیٹا ! ہم ایسا نہیں کر سکتے پولیس بھی وڈیرے ہی کا ساتھ دے گی , وہ انہیں ماہانہ پیسے جو دیتا ہے ۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ زمین بیچ دیں ۔”

” میں خود وڈیرے سے بات کروں گا آپ فکر نہ کریں ۔” میں نے بابا سے کہا۔

اگلے دن میں وڈیرے سے بات کرنے اس کی حویلی گیا تو باتوں باتوں میں مجھے غصہ آ گیا . وڈیرے نے اپنے پالتو غنڈوں سے مجھے پٹوا کر باہر پھینک دیا ۔ میں وہاں سے گرتا پڑتا اٹھا اور تھانے جا کر ایف آئی آر کٹوانے کی کوشش کی ۔ تھانے دار نے ایف آئی آر تو کاٹی نہیں ۔ ہاں ! وڈیرے کو فون پہ اطلاع ضرور کر دی۔. میں مایوسی کے عالم میں پولیس اسٹیشن سے نکلا تو اللہ وسایا کے منشی اور غنڈے مجھے جیپ میں ڈال کر حویلی لے آئے اور اس دن سے میں اس حویلی کے تہہ خانے میں موجود نجی جیل کے زنداں میں قید ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم میرے گھر والوں کےساتھ کیا ہوا ؟ سوہنی چچا چچی میرے والدین کو میرے بارے میں کچھ پتہ چلا یا نہیں ؟

مجھے یہاں قید ہوئے شاید تین سال ہو گئے ہیں ۔ دن میں دو بار مجھے کھانا دے دیا جاتا ہے اور بس ۔

میں روز دعا کرتا ہوں اللہ اس قید سے نکلنے کا کوئی سبب کر دے لیکن شاید اللہ تعالٰی ہم غریبوں کی دعائیں بھی نہیں سنتا ۔ نجانے اس تہہ خانے میں اور کتنے لوگ قید ہوں گے ۔ مجھے کبھی کبھار کسی کے رونے کی آواز آتی ہے لیکن کوئی کھڑکی نہیں جس سے میں دیکھ سکوں ۔ پھر ایک دن ایسے لگا جیسے بہت سے لوگ افراتفری میں دوڑ رہے ہوں۔اچانک میرے زنداں کا دروازہ کھلا اور کچھ پولیس والے مجھے پکڑ کر باہر لے آئے۔

حویلی کے صحن میں بہت سے مفلوک الحال مرد عورتیں موجود تھے ۔ پولیس والوں کےساتھ میڈیا کے لوگ بھی تھے جو ہم سب سے یہ پوچھ رہے تھے کہ ہم کب سے اس نجی جیل میں قید تھے اور کس وجہ سے ہمیں قید کیا گیا تھا ۔

انٹرویو اور پولیس کی پوچھ گچھ کے بعد ہمیں آزاد کر دیا گیا ۔ حویلی کے گیٹ سے باہر قدم رکھا تو دیکھا تقریبا سارا گاؤں باہر کھڑا تھا , کچھ لوگوں کے رشتے دار اس قید سے نکلے تھے , باقی ظالم وڈیرے کا تماشہ دیکھنے آئے تھے ۔ میں نے ہجوم پہ نظر دوڑائی تو بابا تو کہیں نظر نہ آئے مگر چچا کو کھڑے دیکھا ۔ میرا حلیہ اس قدر بدل چکا تھا کہ چچا نے مجھے پہچانا ہی نہیں ۔ میں خود ہی ان کے پاس پہنچا اور انہیں مخاطب کیا۔

” چچا !میں لئیق ۔”
چچا نے مجھے گلے لگایا اور رونے لگے ۔ پھر وہ مجھے لےکر گھر آئے ۔ میں نے رستے میں بابا , ماں , چچی , سوہنی سب کا پوچھا پر چچا نے کہا” گھر چل کر بات کریں گے سب ٹھیک ہیں ۔”

گھر پر سب رشتے دار جمع تھے مجھے دیکھ کر سب بےحد خوش ہوئے ۔ ماں نے گلے لگایا اور رونے لگی ۔” اب تو میں آ گیا ہوں ماں اب کیوں روتی ہے؟بابا کہاں ہیں؟ مجھے لینے بھی نہیں آئے ؟ کیا کہیں گئے ہوئے ہیں؟ “میں نے ماں سے پوچھا ۔
چچا نے مجھے بازو سے پکڑا اور ماں سے الگ کرتے ہوئے بولے” بیٹا ! تم پہلے نہا دھو لو , پھر باتیں کریں گے۔” میں نے بھی سوچا پہلے حلیہ درست کر لوں پھر سب کچھ تفصیلا جانوں گا۔سب لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے سوائے سوہنی چچی اور چچا کے۔

جب میں نہا کر شیو کر کے کپڑے بدل کر آیا تو سب کھانے پہ میرا انتظار کر رہے تھے ۔ کھانا کھا کر میں اور چچا بیٹھک میں بیٹھ گئے۔
” چچا!اب بتا بھی دیں بابا کہاں گئے ہیں اور پولیس وڈیرے کی جیل تک کیسے پہنچی؟”

” کیا بتاؤں بیٹا!جب تم وڈیرے سے بات کرنے حویلی گئے اور واپس نہ آئے تو ہم سمجھے وڈیرے نے تمھیں قتل کر دیا ہے۔بھائی رحیم بخش حویلی گیا تاکہ تمھارے متعلق کوئی خیر خبر لے سکے مگر اسے اندر ہی نہ جانے دیا گیا ۔ صدمے سے وہ بیمار پڑ گیا اور ایک دن اس کا انتقال ہو گیا ۔”چچا نے روتے ہوئے کہا۔ یہ سن کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔

چچا نے دوبارہ گویا ہوئے” وڈیرے نے تمھاری زمین پہ قبضہ جما لیا میں بھرجائی کو اپنے گھر لے گیا ۔ وہ بھی دن رات تمھارے لئے روتی تڑپتی تھی ۔ کچھ عرصہ پہلے نیا کمشنر آیا جو نہایت ایمان دار ہے , اس نے نجی جیلوں پر چھاپے مارے اور بہت سے قیدی رہا کروائے ۔ انہی جیلوں میں سے ایک وڈیرے اللہ وسایا کی بھی تھی ۔ خود تو وہ بھاگ گیا مگر اس کے غنڈے اور منشی پولیس لے گئی ۔

میں بس ایک آس پہ وہاں گیا تھا کہ شاید وڈیرے نے تمھیں بھی قید کر رکھا ہو اور تم زندہ ہو ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمھیں ہم سے دوبارہ ملوا دیا ۔ اب میں جلد ہی تمھاری اور سوہنی کی شادی کر دوں گا ۔ اتنے عرصے بعد اللہ نے ہمیں کوئی خوشی نصیب کی ہے۔”
مجھے زنداں میں گزرا عرصہ یاد آ گیا ۔ میں نے سوچا سچ ہےجب ظالم حد سے گزر جاتا ہے تو اللہ کی پکڑ میں ضرور آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں