علامہ محمد اقبال

فکر اقبال کا احیاء

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ ، حفاظت، ترقی اور بقا افکار اقبال کے احیاء میں ہی پوشیدہ ہے ۔

علامہ محمد اقبالؒ کوبرصغیر پاک و ہند کے فکری رہنما اور علمی پیشوا کی حیثیت سے اور بطور شاعر تو سبھی تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ درحقیقت علامہ اقبال کی تعلیمات میں پوری امت مسلمہ کے لئے رہنمائی ہے۔ اس بات سے بھی سب واقف ہیں کہ جب برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز اور ہندو سے آزادی حاصل کی اور پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لئے اپنی جدوجہد کا آغازکیا تواس کے اثرات پورے عرب وعجم پر پڑے اور کئی مسلم ریاستوں کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کومہمیز ملی۔

علامہ اقبالؒ کے خواب کی مجسم تعبیر’’ پاکستان ‘‘ ہے مگر اس خطہ ارضی پر اقبالؒ کے تصورات و نظریات کے بالکل برعکس ایک ایسا سیاسی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جوکہ نہ تو جمہوری ہے نہ پارلیمانی، نہ اسلامی وفلاحی . یہ صرف پاکستان کا المیہ نہیں بلکہ اس وقت پوری امت مسلمہ شیعہ ، سنی ، عربی و عجمی ، نسلی و لسانی تعصبات کا شکار ہے ۔ جمہوریت کے بارے میں ذہنی انتشار کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی مسلم ملک کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں واقعی سلطانی جمہور اور فرد کی آزادی کا تصور موجود ہے۔

مسلم ممالک آپس میں لڑ رہے ہیں اور ان کے قیمتی وسائل باہمی نفاق کی وجہ سے دشمن کے زیر تصرف آرہے ہیں یا عیش و عشرت ، فضول خرچی کی نذر ہو رہے ہیں ۔ علامہ کا تصور یہ تھا کہ عالم عرب اپنا اتحاد قائم کرے اور عجم کے ممالک ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں ، اور باہم مل جل کر سب ایک ایسے نظام کا تجربہ کریں جو اسلام کے ابدی پیغام اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو ۔

روحانی جمہوریت کا جو تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا وہ پاکستان میں بھی پروان نہیں چڑھنے دیا گیا حالانکہ یہ خطہ ارضی اسی مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا بلکہ اس پہ پنجہ استعمار کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر اسی لئے ہونے دی گئی کہ یہی تو ’’ اتحاد امت مسلمہ ‘‘ کی بنیاد بن سکنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

جغرافیائی اور نظریاتی مسل٘مہ حقائق کی روشنی میں

مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اسلام کا نام بھی لیتے ہیں اور لادینی نظام کو پروان بھی چڑھاتے ہیں ۔ پاکستان کی بقاء سارے اسلامی ملکوں کی بقا ہے ۔’’ اسلام کا قلعہ ‘‘ کہلوانے کا اعزاز اسی وقت برحق ہوگا جب تعلیمات اقبال پر خوشدلانہ ، حسن نیت کے ساتھ عمل درآمد ہوگا۔

علامہ اقبالؒ کی ساری تعلیمات قرآن و سنت کی تشریح ہیں۔ سارے افکار , قرآنی تعلیمات پر مبنی ہیں ۔ ان کی فکر امت کے اتحاد اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ سے عبارت ہے۔

ایران کے خامنہ ای کا تو یہ دعویٰ ہے کہ امام خمینی کا اسلامی انقلاب ، اقبالؒ کی روح پرور اور جوش و جذبے سے معمور فکر کا نتیجہ ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے کلام اقبال کو قومی سطح پر نظر انداز کرکے اور عوامی سطح پر محض قوالوں ، گانے والوں کے حوالے کرکے اس کو سطحی نظر سے دیکھنے کا عادی بنادیا ہے۔

قرآن حکیم نے ایک مثالی مومن کاجو نقشہ پیش کیا ہے وہی مرد مومن اقبال کو مطلوب ہے۔
مثالی مومن اپنی خوبیوں میں ارتقاء کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ عوام اس کو اپنا لیڈر اور حکمران چن لیتے ہیں ۔ اقبال کامثالی حکمران وہی سیرت رکھتا ہے جو کہ سیرت رسولؐ سے اخذ کی جاتی ہے ۔ علامہ اقبال نے پہلی خوبی جوایک مثالی حکمران کی اپنے کلام میں پیش کی وہ ہے پابند الٰہی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ

تقدیرکے پابند ، جمادات و نباتات
مومن ، فقط احکام الٰہی کا ہے پابند

علامہ اقبال کی طویل نظم’’ طلوع اسلام‘‘ میں بہت خوبصورتی سے مرد مومن کا نقشہ بیان کیاگیا ہے ۔ جیسا کہ اس طرح اظہارکیا ہے۔

کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازوکا
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

قرآن وسنت کی بالادستی:

علامہ اقبالؒ کی افکار میں کسی دنیاوی فاتح کو آئیڈل بنانے کا رجحان موجود نہیں ہے۔ ان کی نظر میں قرآن ہی اول وآخر مسلمان کا مشیر و رہنما ہے ، اسی کا ہاتھ پکڑ کر وہ اپنے مسائل کی پرخار وادیوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔

قرآن میں ہو غوطہ زن، اے مرد مسلماں
اللہ کرے ، ہو تجھ کو عطا، جدت کردار

ساتھ ہی سیرت محمدیؐ کی تقلید، عشق محمدؐ کی تاثیر کا اظہار کرتے ہیں۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمدؐ سے اُجالا کردے

اقبالؒ کا مرد مومن، مثالی حکمران ایک متحرک سوچ اور دور رس نگاہ رکھنے والا ہوتا ہے ۔ جدید تقاضوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہو یا وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرنا ہو تو وہ وسیع النظر ہوتا ہے ۔ اپنے مقصد پہ مکمل توجہ کے ساتھ ساتھ وہ وقت کے کٹھن تقاضوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ رہتا ہے۔

آئین نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کردی کہ عقل وشعور کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ آوازۂ تجدید
مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ

افسوس کہ
اسی بات کو امت مسلمہ نے نہ سمجھا اور ’’ تقلید فرنگی‘‘ کے سارے بہانے انفرادی و اجتماعی طورپر’’کردارکی کمزوری بنتے چلے گئے اور اس میں ہر آنے والا وقت اضافہ کرتا جارہا ہے‘‘۔’’اللہ کی رسی‘‘ سے گرفت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی۔ حالانکہ اقبالؒ کی بصیرت تو اس کی منتظر تھی کہ

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

اور میر کارواں کے لئے مزید ان کی دلی خواہش کی ایک تصویر اس طرح ہے۔

اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب، اس کی نگہ دل نواز

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

آج ہمیں پاک دل و پاک بازمرد مومن کی تلاش ہے۔ جس کے بارے میں اقبال کہتے ہیں۔

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں ، یہ مردوں کی شمشیریں

آج کے حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے یہ نصیحت کرتے ہیں کہ

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ وپیوند
بتانِ وہم و گماں ،لاالہ الا الا اللہ

قومی غیرت کو خاک میں ملانے والے حکمرانوں سے علامہ اقبالؒ مخاطب ہیں۔

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احسان
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

مزید غیرت اس طرح دلا رہے ہیں۔

مرا طریق امیری نہیں ، فقیری ہے
خودی نہ بیچ ،غریبی میں نام پیداکر

کشکول لے کر پھرنے والو! اقبال کے خوابوں کی تعبیر کو زندہ رکھو۔ اور غیرت ایمانی زندہ کرواقبال نے یہی نصیحت کی کہ
اپنی دنیا آپ پیدا کراگر زندوں میں ہے

اے امت مسلمہ کے حاکم وقت! اپنی قوم کے جوانوں کو اقبال کا سبق یاد کراؤ۔ محض اس کے کلام کو قوالوں کے حوالے کرکے اپنے فرض کی ادائیگی مکمل نہ سمجھو۔ جوانوں کے بارے میں علامہ اقبال کی دعا ہے اور حکمران وقت کو احساس دلارہے ہیں جوانوں کے تعمیر افکار کا۔

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دے ان کو سبق خود شکنی خود نگری کا
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو ،کوئی سوچ، ان کی پریشاں نظری کا

عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلہ انتشار کا باعث بنتا ہے۔ قوم کے دکھوں اور مسائل کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے اور حکمرانوں کے مظالم ، بے حسی ، بدنیتی ، کی سزا صرف آخرت پہ موقوف نہیں ہوتی۔ مکافات کاعمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ عوام کے حقوق غصب کرنے والے اور بنیادی ضروریات زندگی سے غفلت کرنے پر اقبال سزا کا احساس دلا رہے ہیں۔

مگر گزرے حکمرانوں کو اور موجود حکمرانوں کو اس بات کا شعور ہی نہیں ہے کہ وہ زندگی نہیں گزار رہے ، سزا کاٹ رہے ہیں ۔ اس لئے کہ انھیں بصیرت کی وہ نگاہ ہی نصیب نہیں اور یوں وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ جان لینا بھی عقل مندوں کا کام ہے کہ وہ کون سے گناہ کی کیا سزا کاٹ رہے ہیں؟

جہاں بانی سے دشوار تر، کار جہاں بینی
جگر ، خوں ہو تو ، چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

علامہ اقبال نے جو افکار اپنے کلام میں پیش کئے ان میں عشق، شراب، مینا وجام وغیرہ کو جن معنوں میں استعمال کیا، سطی نظر، سطحی سوچ اور پست ذہنیت والوں کو اس میں کچھ اور ہی مستی نظر آتی ہے۔ان بد مست لوگوں کو علامہ اقبال کا پیغام ہے

حذ راے چیرہ دستاں، سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

سارا کلام اقبالؒ اک نئے ولولے اور درست تفہیم کے ساتھ پھیلانے کی ضرورت ہے جوانوں کو اقبال کا یہ پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہر مؤثر ذریعہ ابلاغ پر ہے۔

تورازِکن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجمان ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سرِ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

علامہ اقبالؒ کے کلام یا پیغام کو کسی ایک لیکچر میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ یہ تو سمندر ہے جس میں اترنے پر بھی اس کی گہرائی کا سرا نہیں ملتا ۔ ایک آفاتی و الہامی شاعر نے اپنا کام بخوبی انجام دیا امت مسلمہ کو بھولا ہوا سبق یاددلانے کے لئے۔اب یہ سوچنا ہمارا کام ہے کہ اس ذمہ داری کوادا کرنے میں خود کتنا حصہ ڈالا۔

اقبالؒ نے ہمیں اسلام کے عالمگیر اصولوں پر عمل پیرا ہونے ، وطن اور علاقے کی قیود سے نکلنے اور پوری امت مسلمہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنی تمام ذہنی ، فکری اور مادی صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے افکار پر عمل کرکے ہی ہم اپنے اپنے وطن میں ہر قسم کی علاقائی ، گروہی اور طبقاتی کشمکش ختم کر سکتے ہیں ۔ ہم نے علامہ کے افکار اور اقوال کو جس طرح نظر انداز کیا ہے وہ ہمارے لئے باعث شرم ہے ۔ ہم اپنی اقدار کو بھول گئے ہیں علامہ کے اقوال و افکار کو نظر اندازکردیاہے جبکہ علامہ نے تو یہ فرمایاتھا کہ ہم کو ایک ایسی ملت بننا ہے

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

حکیم الامتؒ نے اپنی فکری و عملی صلاحیتوں سے بھرپور شاعرانہ افکار سے نہ صرف برصغیر بلکہ تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کے ذہنوں سے احساس کمتری اور پستی و بدحالی کو دورکرنے کی حتی المقدورکوشش کی، اقبال کہتے ہیں:

اپنی ملت پر قیاس، اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسولؐ ہاشمی

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری

اقبال نے ملت اسلامیہ کو جو آفاقی پیغام اور درس اپنی شاعری کے ذریعے دیا وہ درحقیقت عزم و عمل کا پیغام تھا، اتحاد و اتفاق اور بلند و برتر مقام حاصل کرنے کا پیغام تھا جو قرون وسطیٰ کے مسلمانوں نے حاصل کیا تھا اور ساری قیادت کا شرف ملت اسلامیہ کو حاصل تھا، اقبال فرماتے ہیں:

سبق پھر پڑھ صداقت کا‘ عدالت کا‘ شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

آج دنیا جن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے اس کا حل صرف اور صرف اسلام ہی میں ہے اور اقبال کے شاعرانہ افکار اس کی بجا طور پر عکاسی اور درست ترجمانی کرتے ہیں. پس ان افکار کو اجاگر کرنے اور ان پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور تعلیمی اداروں ، میڈیا کے ہر چینل پہ نجی محفلوں میں افکار اقبال کو قوم کی ذہنی آبیاری کا اہتمام کیا جائے یہی وقت کا تقاضا ہے۔

یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے

اور یہ کہ

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اسلامی معاشرت میں جس تیزی سے غیر مسلموں کی تہذیب اپنی جگہ بنا رہی ہے اور گھر، تعلیمی اداروں سے لے کر انفرادی و اجتماعی طورپہ ایک ایک خلفشار بڑھتا جا رہا ہے ۔
اس سے نجات کا ایک ہی ذریعہ ہے قرآن و سنت کی ترویج کی جائے اور علامہ اقبال کی ساری شاعری قرآن و سنت کی تشریح ہے ۔ ہم اقبال کی ہی زبان میں دعا کرتے ہیں کہ

یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ،جو روح کو تڑپا دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں