خوبصورت نوجوان باحجاب مسلمان خاتون موبائل فون استعمال کرتے ہوئے

انسانی زندگی میں موبائل فون کی اہمیت ، چند حیران کن مشاہدات

عاصم خان

میں آج اپنی نوکری سے واپسی پر چند بہت ضروری امور نبٹا نے کیلئے گھر کی بجائے بازار نکل گیا چونکہ آج پاکستان اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں کا فائنل میچ بھی تھا اور ویسے بھی مجھے کرکٹ سے بہت لگاؤ ہے , اس لیے مجھے اس سلسلے میں بڑی بے چینی تھی کہ میچ نہیں دیکھ پاؤں گا .

پھر مجھے اچانک اپنے موبائل کا خیال آیا تو فرط مسرت سے میں نے اسے چومتے ہوئے براہ راست وقفے وقفے سے میچ دیکھنا شروع کر دیا کہ باقی ضروری امور بھی چلتے رہیں اور میچ کی آگاہی بھی ہوتی رہے ۔ میں نے ارد گرد نظر ڈالی تو مجھے اکثر لوگ موبائل پر ہی مصروف نظر آئے ۔ یہ دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا یہ موبائل بھی عجب شے ہے ، ساری دنیا سمٹ کر اس میں آگئی ہے ۔

آج سے چند عشرے پہلے زندگی میں ایک جگہ کئی چیزوں کا تصور کتنا محال تھا ۔ انسان کو وقت دیکھنے کیلئے گھڑی ، حساب کتاب اور کئی دوسرے نقاط محفوظ رکھنے کیلئے ڈائری ، حساب کتاب کیلئے کیلکولیٹر (تحمینہ کار) ، دور ممالک عزیزوں کے ساتھ گفتگو اور حال احوال کیلئے ٹیلی فون و ڈاک ، من پسند گانے و دیگر چیزین سننے کیلئے ٹیپ رکارڈر ، خبریں معلوم کرنے کیلئے ریڈیو و اخبار ، موسم کے حال کیلئے ریڈیو ، تصاویر نکالنے کیلئے کیمروں اور فوٹوگرافروں ، بل جمع کرانے کیلئے اور ایسے کئی کاموں کیلئے بینکوں کی قطاروں ، ڈرامے ، فلمیں اور دیگر تفریحی و معلوماتی کاموں کیلئے ٹی وی اور وی سی آر ، راستے و نقشے معلوم کرنے کیلئے لوگوں و اداروں اور سب سے اہم بات مطالعے کیلئے پیسوں اور لائبریریوں کا محتاج رہنا پڑتا تھا مگر آج یہ سب کچھ ہمیں ایک ہی چیز یعنی ٹچ موبائل میں میسر ہے ۔

آج کا انسان جب چاہے اپنے ذاتی موبائل کو کھولے اور تازہ ترین اخباروں کا مطالعہ کر لے ، سفر کرتے ہوئے اپنے مطلوبہ مقام کے سہل ترین راستے تلاش کر لے ، اپنے پیاروں سے ہر وقت وڈیو کال کے ذریعے منسلک ہوکر حال احوال پوچھ لے ، گانا فلم ڈرامہ یا سیاست و کسی بھی موضوع پر پروگرام جب چاہے دیکھ لے ، جس موضوع پر چاہے کتاب اور تحریریں پڑھ لے ، فوٹو گرافروں اور کیمروں کے جھنجھٹ ختم ، بل جمع کرانے کیلئے بینکوں کی قطاروں اور انتظار کی تکلیف دور ، گھڑی ڈائری و کیلکولیٹر کی سہولت اک ہی جگہ ، غرض کیا کیا گنوں اور کیا کیا چھوڑوں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا اس ایک ٹچ موبائل کے اندر موجود ہے۔

میں اس نسل (جنریشن ) سے تعلق رکھتا ہوں جس نے موبائل سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے اور اب موجودہ زمانے کی سہولیات سے بھی مستفید ہو رہا ہوں ۔ مجھے یاد ہے کہ بڑے بوڑھے جو ہم سے بھی پہلے کے زمانے سے تعلق رکھتے تھے ، وہ اس وقت کی سہولیات کو دیکھ کر اپنے زمانے کے قصے سنایا کرتے تو ہمیں بہت عجیب محسوس ہوتا تھا ۔

گراموفون ، بیل گاڑیوں ، تانگوں ، صرف خطوط کی بنیاد پر دور دراز کے رابطوں ، تھیٹر ، انگلیوں اور نشانات سے حساب کتاب اور دیگر کئی قدیم باتوں پر ہمیں یقین نہیں آتا تھا ۔ وہ بزرگان ہمارے دور کے ٹی وی ، ٹیلیفون ، وی سی آر ، ٹیپ ریکارڈر ، کیلکولیٹر وغیرہ دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ اک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ انسان جو چاہے گا اس کے سامنے فوراََ آ جایا کرے گا ، دنیا ایسے بن جائے گی کہ جیسے ہمارا گاؤں اور وقت اتنی تیزی سے گزرے گا کہ جیسے اس کو پہیے لگ گئے ہوں ۔ میں نے آج ٹچ موبائل کا مشاہدہ کیا تو مجھے وہ سب باتیں سو فیصد درست لگ رہی ہیں ۔ بقول شاعر!

شہروں میں انقلاب ٫ بیاباں میں انقلاب
محفل میں انقلاب ٫ شبستاں میں انقلاب

واقعی یہ اک انقلاب ہی ہے کہ آج کے انسان کو درجنوں چیزیں اک چھوٹے سے موبائل میں میسر ہیں ۔ اس موبائل کی بدولت دنیا اک گاؤں جتنی قریب ہے اور اس کو استعمال کرنے میں ایسا نشہ ہے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

میرا دماغ محوِ پرواز اور حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہے کہ دنیا کا آج یہ حال ہے تو آنے والی دنیا کیسی ہوگی ۔ اب تو صرف طلسمات کی دنیا ہی باقی ہے ۔ روبوٹ تیار ہو رہے ہیں ، مریخ پر زندگی تلاشی جا رہی ہے بلکہ سینکڑوں ناقابلِ یقین ایجادات و انکشافات کی تیاریاں ہیں ۔

دنیا پہلے اک گاؤں بنی مگر اب یہ موبائل کے ذریعے اک حجرہ و بیٹھک بن چکی ہے ۔ بہت سے عقائد ، نظریات اور فرق مٹنے کو ہیں ۔انسان مشاہدے اور فکر کی بدولت نئی دنیائیں تراش اور تلاش رہا ہے ۔ مجھے تو اس موبائل نے حیرت سے انگشت بدنداں کر کے رکھ دیا ہے . گو اس ترقی نے انسان کو بہت سہل بھی کر دیا ہے اور اس کے بہت سے مزید نقصانات بھی ہیں لیکن میرا آج کا مشاہدہ خالصتاََ موبائل کے فوائد سے متاثر ہونے پر ہے اس لیے اس ترقی کے نقصانات پر گفتگو پھر کبھی… اجتماعی طور پر یہی کہوں گا کہ!

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں
(اقبال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں