جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کا جلسہ عام

کراچی ، سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے کارکن

قدسیہ ملک ، شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی

مملکت خداداد پاکستان اپنے دور کی سب سے مشکل ترین حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف ملک کو دیوالیہ بنانے کے لئے سیاسی حکمران جوڑ توڑ میں لگے ہیں تو دوسری طرف غربت میں پسے ہوئے عوام ایک آٹے کی بوری کی خاطر قربان ہو رہے ہیں ۔ ایک طرف ملک کے تمام وسائل بیرون ممالک فروخت کئے جا رہے ہیں تو دوسری طرف کی ٹیم کا حصہ بن کر کچھ لوگ خدمت کو مشن سمجھتے ہوئے ہر انسان کی مدد کیلئے سر دھڑکی بازی لگا رہےہیں ۔۔۔

مہنگائی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے ۔۔۔ ایسے میں اللہ تعالٰی کو اپنے پیارے بندوں پر رحم آگیا اور ملک کے بڑے شہر کراچی میں 15 جنوری کو الیکشن منعقد ہو رہے ہیں ۔۔۔ الیکشن ہو یا کوئی عام دن یہ کارکنان رضائے الٰہی کے لئے اپنی ناظمہ اور ناظم کی پکار پر لبیک کہتےہوئے تمام ترجیحات کو پس پشت ڈالتےہوئے امربالمعروف کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔۔۔

ہاں بھئی لوگو ! ان افرادکو پہچان لو ۔ یہی ہیں ہائیلی پیڈ ورکرز۔

اورمعاوضہ بھی ایسا وصول کرتے ہیں کہ سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں ۔ کوئی ایسا ویسا معاوضہ نہیں کہ دن کے چھ آٹھ ہزار سے ان کا کام چل جائے ۔ یہ تو اس سے بھی زیادہ، بہت زیادہ ، کئی سو گنا زیادہ بلکہ سات سو گناہ زیادہ لینے کے عادی ہیں۔

ان کی ایک اور خصوصیت جو آپ کو ان افراد کی پہچان کراسکتی ہے کہ ان میں کوئی سڑک چھاپ میٹرک یا انٹر پاس نہیں ۔ان میں سے کوئی تحقیق کار ہے تو کوئی ڈاکٹر کوئی سوشل مارکیٹنگ اور بزنس میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتاہے تو کوئی مشہور پرفیشلز جامعہ کا انجینئر , کوئی سینوں میں قرآن کو محفوظ رکھے ہوئے ہے تو کوئی فقہ کاماہر , کوئی طبیبہ ہے تو کوئی مشہور حکیم ۔ کوئی درس نظامی کا مشہور معلم ہے تو کوئی بہترین موٹیویشنل اسپیکر۔

اسی پر بس نہیں کوئی کئی کتب کی مصنفہ ہےتو کوئی دلوں کو اپنے سحر میں کردینے والی شاعرہ , کوئی بہترین سرجیکل ڈاکٹر ہے تو کوئی بغیر موسیقی کےاپنی آواز سے سحر انگیز کر دینے والا بہترین انسان ۔

کسی کے پاس بہترین اور سب سے محبت کرنے والا دل ہے تو کوئی صرف اللہ کی خاطر لوگوں سے محبت کرنے کا فن جانتا ہے ۔ کوئی اپنی دولت بے تحاشا راہ خدا میں خرچ کرکے راتوں میں پرسکون سوتا ہے تو کوئی دن کے اجالوں میں اپنے بھرے پرے خوب صورت پرسکون گھروں کو چھوڑ کر دور افتادہ جگہوں خداکی بستی ، لیاری ، ملیر ، خمیسو گوٹھ اور دوسری بہت سی کچی بستیوں میں جاکر وہاں خلق خدا کی خدمت کرکے سکون پاتا ہے ۔

کوئی نظم کی اطاعت میں اپنے اسٹیٹس اپنے مرتبے کو یکسر فراموش کرکے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کا خواہاں ہے تو کوئی اس سے بڑھ کر اس طلب کا خواہش مند۔

یا خدا ! یہ کس بستی کے باشندے ہیں کہ جب پورا معاشرہ زر و زمین کی خاطر اپنی خونی رشتوں کی حرمت تک کو فراموش کرچکا ہے ، یہ خلوص نیت سے دنیاوی لذتوں کی چاہ سے ،ہر موسم سے بے پروا ہوکر سردی گرمی بہار بارش خزاں اور سخت دھوپ میں اپنے امیر کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے دیوانہ وار کبھی حکومت کے ظلم کے خلاف کئی دنوں کا دھرنا دیئے بیٹھے رہتے ہیں تو کبھی بجلی کے دفتر کے سامنے اپنے شہر کے باسیوں کا مقدمہ لڑتے ہیں،

کبھی انہی مظلوم شہریوں کی خاطر واٹر بورڈ میں جاکر ٹینکر مافیا کے خلاف احتجاج بلند کرتے ہین تو کبھی الیکشن کی تاخیری پر الیکشن کمیشن آفس کے سامنے دھرنے کی صورت میں آ موجود ہوتےہیں ۔۔۔

یہ اتنے ہائیلی پیڈ ورکرز ہیں کہ انہیں اس وقت صرف اپنے صلے کی تمنا ہوتی ہے ۔ اس سات سو گنا صلے کی خاطر وہ اپنے نظم کی اطاعت میں بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکڑا جاتے ہیں ۔۔۔

یہ مٹھی بھر افراد جن میں ہر عمر کے اور ہر طرح کے لوگ شامل ہیں چاہے وہ خواتین ہوں یا مرد , نوجون لڑکے لڑکیاں ہوں یا کم عمر بچے۔

ایسا نہیں ہے کہ ان کی باہمت خواتین اپنی ذمہ داریاں کسی اور کے حوالے کر دیتی ہیں اپنے گھریلو امور کی بحسن خوبی انجام دہی کے بعد ٹویئٹر ٹرینڈ چلاتی ہیں اور ایسا کام کرتی ہیں کہ وہ ٹاپ ٹرینڈ بن جاتاہے ، فیس بک پر بڑے احسن انداز میں بڑے بڑے پیجز چلاتی ہیں ، واٹس اپ پر براڈ کاسٹ گروپوں کے ذریعے پوری دنیا تک اپنا پیغام پہنچارہی ہیں۔

وہ ایسے دروس دیتی ہیں کہ سامعین پر لرزہ طاری ہو جاتاہے ۔ وہ شہادت حق کی ایسی چلتی پھرتی گواہ ہیں کہ ان کے کام سے روز ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے ۔ اس مٹھی بھر مجاہدین کی فوج نے آج فریق مخالف کے کیمپوں میں موجود پیڈ ورکرز کی طبعیت صاف کردی ہے ۔ وہ بھی حیران ہیں کہ خدایا یہ کس طرح کا سودا ہے جو یہ کرکے آئے ہیں جو انہیں ہر طرح کے ڈر و خوف سے بے پروا کر رہا ہے ۔ مخالفین کے اوچھے ہتھکنڈوں اور بے وقعت الزامات سے بے پروا یہ لوگ خدا کے دین کے غازی ہیں . ان کا یہ کہناہے کہ

یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگادوڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی تو بازی مات نہیں

یہ تمام الزامات , ذاتی رنجشوں سے بے پروا ہوکر خالص اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

وہ اس مادیت پرستی کی آگ کو گلزار بنانے کے لئے سرتن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ یہ ورکرز آپ کو کہیں ملیں تو ضرور ان میں شامل ہو جائیے , اس یقین سے شامل ہوجائیے کہ یہ لوگ جنت کے راستہ پر گامزن ہیں اور یہ راہی سربکف ۔ اس لئے تو یہ ہائیلی پیڈ ورکرز ہیں ۔

یاد رکھیے دنیا نیک لوگوں سے خالی ہوتی جارہی ہے ۔۔۔ اچھوں کی کمی کی وجہ سے نہیں ، برائی بڑھ رہی ہے صرف اچھے لوگوں کی خاموشیوں کی وجہ سے ۔۔۔

ہم سب کی گواہی دینے کا وقت آگیا ہے اور احادیث سے یہ بات عیاں ہے کہ جھوٹی گواہی دینے والے پر اللہ تعالٰی جہنم واجب کردیتا ہے ۔۔۔ اپنے آپ کو ظاہر کیجیے ۔ سچوں کا ساتھ دیجیے ۔۔ دین و دنیامیں سرخرو ہوجائیے ۔۔۔

یہی ہے ہائیلی پیڈ ورکرز کا اور ہمارا مشن ۔۔۔کیا آپ کا بھی ہے ۔۔؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں