سوال: آپ کی کتابوں سے بے پناہ محبت کو دیکھتے ہوئے آپ کے گھر والے اور دیگر رشتہ دار کیا کہتے تھے؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: اسلامیہ کالج فیصل آباد کے زمانے میں لائبریری سے ہر کتاب پڑھ ڈالی۔ کتب بینی کے لیے کتابوں کے انتخاب میں مجھے گھر کے بزرگوں کے علاوہ لالہ صحرائی (جو ایک نامور صاحبِ طرز ادیب اور نعت گو شاعر تھے اور میرے والد کے منہ بولے بھائی اور تحریکی ساتھی اور قریبی پڑوسی تھے) نے بہت راہنمائی کی۔ اچھی کتابوں کے نام بتاتے اور حاصل مطالعہ ضرور پوچھتے۔
مجھے زندگی کی کوئی بھی مصروفیت یا مجبوری حتیٰ کہ بیماری میں ہسپتال داخل ہونا بھی مطالعہ سے باز نہ رکھ سکی۔ چند منٹ بھی فرصت کے ملتے، تو خیال آتا چلو چند صفحے ہی پڑھ لوں۔ ہماری والدہ تعجب کرتیں کہ چولہے پہ توا رکھ کر کتاب پڑھنے لگ جاتی ہے کہ جب تک توا گرم ہوتا ہے چند صفحے ہی پڑھ لوں اور پھر توا گرم ہی ہوتا رہتا ہے اور یہ پاس بیٹھی کتاب میں غرق ہوتی ہے۔
گھر سے باہر تھوڑی دیر کے لیے بھی جانا ہو تو پہلے کسی کتاب کو زاد راہ بنانا ہے پھر کسی اور ضرورت کا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ والدہ جنہوں نے پڑھنے کا نشہ لگایا ابی جان سے شکایتیں کرنے لگ گئیں کہ اس کو سمجھائیں، اسے دنیا میں اور کچھ نہیں سوجھتا۔ پھر یہ ہوا کہ الارم لگا کر رات کو اٹھتی کہ کتاب مکمل کرنی ہے۔
انہی دنوں مجھے ٹائیفائیڈ ہوا تو نانا جان حکیم عبد اللہ مرحوم نے مکمل آرام کی نصیحت کی اور ’کچھ بھی نہیں پڑھنا‘ کا قانون لاگو کیا۔ یہ میرے لیے سخت آزمائش تھی، اخبار بھی چھپ کر پڑھنا پڑتا۔
ابی جان نے ہماری والدہ کی طرف سے لالہ صحرائی رحمہ اللہ کو پیغام دیا کہ اپنی بھتیجی کو سمجھائیں تو وہ بہت محظوظ ہوئے اور مجھے کہنے لگے، ’لو بھئی! تمہارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں‘۔
کتاب سے محبت میری فطرت ثانیہ ہے۔ کتابیں سوتے وقت بھی میرے ارد گرد رہتی ہیں۔ تکئے کے نیچے، پہلو میں بستر سے منسلک میز پہ، الماری میں، نماز کی جگہ۔۔۔ غرض میرے ہر طرف کتابوں کی موجودگی سے مجھے تسکین ملتی تھی۔
شادی کے بعد کتابوں سے محبت میں نئی ذمہ داریوں کے سبب کچھ تو کمی آئی ہوگی؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: شادی پہ تحائف بھی کتابوں کے ہی ملے اور لڑکیاں جس صندوق میں بستر کپڑے لے جاتی ہیں، میری کتابیں رکھی گئیں۔ اور ساتھ وہ ڈائریاں تھیں جو مطالعے کے بعد ان کے نوٹس سے بھری ہوئی تھیں۔ کتاب کا صرف مطالعہ کر لینا ادھوری محبت لگتی تھی۔۔۔ کتاب پہ نشان لگانا کبھی، حاشیے پہ نوٹ لکھنا اور زیادہ تر ڈائری میں حاصل مطالعہ لکھنا وفا کا تقاضا لگتا تھا۔ دروس کے لیے تیاری اور مضمون لکھنے کے لیے بھی یہ کام ناگزیر تھا۔
جہاں خواتین کے بناؤ سنگھار کی چیزیں یا قیمتی برتن رکھے ہوں گے میری کتابیں نظر آئیں گی۔
سوال: دوسروں کو اپنی کتابیں دینے میں مزاج کیسا ہے؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم:کتابوں سے متعلق دیوانگی کا یہ حال ہو تو یقیناً خیال آتا ہے کہ کسی کو پڑھنے کے لیے کتاب دینے پہ کیا ردعمل ہوگا؟ لڑکپن میں کتابوں کے تبادلے کے لیے کچھ دے کر ہی کچھ مل سکتا تھا مگر لینے والی کتاب کو میں جس قدر احتیاط سے رکھتی تھی، ادھار دی ہوئی کتاب واپس برے حال میں ہی ملتی۔ دل بہت زیادہ رنجیدہ ہوتا لیکن مجبوری تھی۔ جب کتابوں کے مطالعہ کا ذوق سنجیدہ مطالعہ کی طرف پختہ ہوگیا تو پھر خریدنے کا رجحان بڑھا۔ اور یہ ایسی کتابیں تھیں جو کوئی مستعار بھی نہ لینے آتا۔
کتاب سے محبت کرنے والے کے لیے عاریتاً کتاب دینا بہت دل گردے کا کام ہے۔
کتاب دیتے وقت لگتا ہے اپنا بچہ گھر سے لے کر کوئی جا رہا ہے۔۔۔ نہ جانے اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ وعدے وعید کے باوجود لوگ کتاب نہ حفاظت سے رکھتے ہیں نہ ہی واپس کرتے ہیں۔ واپس آ بھی جائے تو اس کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ کتاب کی قدر اور حفاظت کا سلیقہ جانتے ہیں۔
سوال: آپ کی کتب بینی کے بارے میں شوہر نامدار کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم:کئی سو کتابوں کی فہرست وہ تھی جو میں نے شادی کے بعد شوہر سے فرمائشیں کرنا تھیں۔ شوہر کتابیں خریدنے کو پیسے کا زیاں سمجھتے تھے، اس لیے میری ایک عظیم لائبریری کا خواب تشنہ تکمیل رہا۔
سوال: آپ کی زندگی میں غیرملکوں کے سفر بھی ہیں، وہاں بھی آپ نے زندگی گزاری۔ سفر وحضر میں آپ کی کتابیں بھی ساتھ ساتھ رہیں؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: بیرون ملک ساری زندگی گزری۔ پاکستان میں کتابیں جو چھوڑنی تھیں مختلف لائبریریوں کو ہدیہ کرتی گئی۔ جب سعودیہ سے پاکستان منتقل ہوئے تو وہاں کی کتابیں دوستوں میں بانٹ دیں اور پاکستان آکر پھر سے کتابوں کا ذخیرہ شروع کیا۔ چند سال بعد پھر ملک چھوڑنا پڑا۔ کتابوں کی دیکھ بھال کا کس کو ذوق ہونا تھا بلکہ ان کو صرف اپنے گھر میں امانتاً رکھ لینے پہ بھی قریبی اعزا کو آزار محسوس ہوتا تھا۔ کتابیں ضائع ہونے کے خدشہ کے پیش نظر پھر سے ہدیے دیے، لائبریریوں کو دی گئیں کہ کسی کام لگی رہیں۔ باقی جو بہت ہی خاص تھیں رکھ لی گئی تھیں جس جگہ مجبورا امانتاً رکھوائی تھیں، آتشزدگی کی نذر ہو کر شہید ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
کوئی صدمہ سا صدمہ ہے کہ دل پھٹا جاتا ہے سوچ کر۔
بیرون ملک بھی کتابیں چند سو تک تو جمع ہو ہی جاتی تھیں۔ جب بھی شہر میں نقل مکانی کی، گھر کے سامان سے زیادہ کتابوں کے بنڈل ہوتے تھے۔
سوال: کیا آپ کے پاس کچھ ایسی کتب بھی ہیں جو آپ کو نامور شخصیات کی طرف سے بہ طور تحفہ ملی ہوں؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: میرے پاس بہت سی قابل احترام شخصیات کی طرف سے عنایت کردہ کتابیں تھیں۔ لالہ صحرائی مرحوم اپنی ہر کتاب اپنے ہاتھ سے عنایت کرتے۔ نعیم صدیقی مرحوم نے اپنے ہاتھ سے شذرہ لکھ کر ’محسن انسانیت‘ اور ’عورت معرض کشمکش‘ میں عطا کی۔ سید اسعد گیلانی مرحوم کی طرف سے بھی ہدیہ ملا۔ سلیم منصور خالد صاحب نے خصوصی طور پہ اپنے دستخط کے ساتھ کتابیں ارسال کیں۔ قاضی حسین احمد، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، عبدالوحید سلیمانی کی طرف سے ہدایا عطا ہوئے۔ کئی اداروں کی طرف سے بھی پاکستان میں موجودگی کے وقت نئی کتابیں موصول ہوتی رہیں مگر زیادہ عرصہ پاکستان سے دور ہونے کی وجہ سے رابطوں میں تعطل رہا۔(جاری ہے)











4 responses to “میری کتاب بیتی(3)”
بہت عمدہ کتاب کہانی۔۔۔۔
ڈاکٹر بشری تسنیم صاحبہ کا کتابوں سے عشق دیدنی ھے اور اتنا گہرا ھے جتنا کسی کو اپنے محبوب سے ھوتا ھے اور آپ کو کتابوں سے اتنی محبت ھے جتنی خواتین کو زیور گہنے سے ھوتی ھے۔میں سوچتا ھوں اگر جنت میں آپ کو کتابیں نہ ملیں تو کیا کریں گی۔ڈاکٹر صاحبہ نے سچ کر دکھایا ھے کہ کتابیں انسان کی واقعی بہترین دوست ھیں
محترمہ ڈاکٹر بشری تسنیم صاحبہ کی کتابوں سے محبت دیدنی ھے لگتا ھے آپ کو کتابوں سے عشق ھے آپ یہ سچ کر دکھایا ھے کہ کتابیں انسان کی بہترین دوست ھیں جہاں دوسری خواتین کو زیور اور خوبصورت ڈریسیز کا جنون کی حد تک شوق ھوتا ھے وہاں ڈاکٹر صاحبہ کتابوں کو ان سے بھی اونچا مقام دیتی ھیں
۔اج کے انٹرنیٹ کے دور میں آپ کی کتاب بینی سے محبت ھم سب کے لئے ایک تابندہ مثال ھے۔کاش آج کی نئی نسل بھی کتابوں کو ایسی ھی اھمیت دے
ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحبہ کا ذوق کتب بینی اور شوق کتب بینی دونوں ہی بے مثال ہیں ۔
خواتین میں سنجیدہ مطالعے کا شوق ویسے بھی بہت کم پایا جاتا ھے۔
دعاہے کہ عزوجل انکی کتابوں کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بناییں،اور ھمیں بھی ان جیسے تعمیری شوق اور ذوق عنایت فرمائیں ۔
آاامیین۔