مسجد جامع گنج علی خان ، کرمان

خاکِ فارس کا مسافر(19)

·

گنج علی خان اسکوائر…

تین طرفوں سے چھتہ دار بازار کے شور و غل میں لپٹا ہوا، اور سامنے ایک ایسا منظر جو کسی بھی مسافر کو پَل بھر کو خاموش کر دے۔ آپ سوچتے ہیں کہ یہ خاموشی بازار کی شور و غل سے فرار ہے، مگر حقیقت میں یہ اس منظر کی ہیبت اور جلال ہے۔

سامنے گنج علی خان کمپلیکس کی جامع مسجد اور کتب خانہ تھا۔یہ جامع مسجد اپنے پرشکوہ گنبد اور میناروں کے ساتھ دور ہی سے سیاحوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ جیسے کوئی پرانی داستان کا جادوگر، جو آپ کو بانسری کی دھن سے نہیں بلکہ نیلے آسمان پر ابھرتے اپنے گنبد سے اپنی طرف کھینچتا ہو۔

چھتہ بازار کے ایک حصے سے نکل کر جیسے ہی میں نے کھلے آسمان کے نیچے قدم رکھا ، تو سامنے، ذرا دائیں جانب، یہ بلند و بالا عمارت میرے استقبال کو موجود تھی۔ ایسے لگا جیسے کرمان کی زمین نے اپنے سب خواب، اپنی سب دعائیں ایک ہی عمارت میں مجسم کر دی ہوں۔ اس کا نیلا گنبد—جیسے کسی نادر نیلم کی ٹکیا—اور اونچے مینار فوراً مجھے گھور کر پوچھتے ہوں:

تو مسافر! کیا تمہیں اندازہ ہے کہ ہم صدیوں سے کتنے اجنبیوں کو اپنی’ آغوش میں دیکھ چکے ہیں؟‘

میں نے آہستہ سے کہا:

حضور! میرا شمار بھی انہی اجنبیوں میں کر لیجیے، جو صرف حیرت کا’ دانہ چگنے آئے ہیں۔‘

عمارت شان و شوکت سے ایستادہ ، اصفہانی طرزِ تعمیر کی مکمل عکاسی کررہی تھی۔

یہ وہی دور ہے جب شاہ عباس صفوی کے عہد میں کرمان کے گورنر گنج علی خان نے اس کو تعمیر کروایا تھا۔ وہ گنج علی خان جس نے کرمان کی رگوں میں پتھر، گچ اور اینٹ کے ذریعے خوابوں کی عمارات بنوائیں۔ اور یہ خواب اتنے بڑے تھے کہ صدیوں بعد بھی ایک مسافر ان کے سائے میں آ کر دم بخود کھڑا ہو جاتا ہے۔

میں مسجدِ جامع گنج علی خان کی ڈیوڑھی میں کھڑا ایک کَتبہ پڑھنے میں محو تھا۔ تاریخ کے یہ اعداد و شمار مجھے ہمیشہ ریاضی کے سوالات لگتے ہیں—حل مشکل ، مگر امتحان میں نقل کر لینا آسان۔

اسی دوران میرے پیچھے سے دو نوجوان لڑکیاں، کالی چادروں میں لپٹی، مسجد میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے ڈیوڑھی کے منوں وزنی دروازے کے گول کُنڈے کو پکڑ کر یکدم چھوڑا۔ کُنڈا لکڑی سے ٹکرایا اور ایسی گونج پیدا ہوئی جیسے صدیوں پرانی قافلے کی گھنٹیاں بج اٹھی ہوں۔ پہلے پہل میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔ لیکن جب کچھ لمحوں بعد وہی کُنڈا دوبارہ بجا تو میں نے پلٹ کر دیکھا۔ دل ہی دل میں سوچا:

خدا خیر کرے، یہ بیبیاں مجھے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہیں یا’ دروازے کو؟‘

میری نگاہ اُ ن سے ملی تو وہ مسکرا کر آگے بڑھ گئیں۔ میں نے اسے ایک شرارت سمجھ کر نظرانداز کیا اور دوبارہ کتبہ پڑھنے لگا۔ ابھی ایک منٹ بھی نہ گزرا تھا کہ ایک اور خاتون، چادر اوڑھے، حسبِ دستور کُنڈا بجا کر مسجد میں داخل ہوئی۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کوئی کھیل نہیں بلکہ غالباً تبرک کی ایک صورت ہے۔

اسی اثنا میں ایک بزرگ نمازی ڈیوڑھی میں داخل ہوئے۔ میں نے ہمت کر کے پوچھ لیا:

’آغاجی! یہ بیبیاں کنڈے کو بار بار کیوں بجاتی ہیں؟‘
وہ مسکرا کر بولے:

بیٹا، یہ پرانی رسم ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کُنڈے کو بجانے سے ان’ کی دعا فوراً بارگاہِ الٰہی تک پہنچے گی۔‘

میں نے حیرت سے کہا:

’تو کیا مرد حضرات بھی ایسا کرتے ہیں؟‘
بزرگ ہنسے:

نہیں جی، مرد حضرات تو عقل کے دعویدار ہیں… بس دعویدار ہی۔’ اصل عقیدت تو عورتوں کے دل میں زیادہ ہوتی ہے۔‘

میں نے دل ہی دل میں کہا:

واہ مسافر! پہلے تو تُو نے خود کو محبوب سمجھا اور ان معصوم بیبیوں کو’ شرارتی… اور اب پتہ چلا کہ تُو اپنی خوش فہمی کے کُنڈے کو بجا رہا تھا۔‘

اس مسجد کے فرش پر نہ کوئی قالین بچھا تھا، نہ دری۔ لوگ جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ یہ مسجد محض ایک نمائش گاہ ہے، نماز باجماعت کے لیے نہیں۔ میں نے البتہ روایت کو نبھانے کے لیے تحیۃ المسجد ادا کی اور ساتھ ہی دو رکعت ظہر اور عصر قصر بھی پڑھ ڈالی۔ کیونکہ مسافر کا ایمان بھی مختصر اور نماز بھی۔

مسجد کا محراب سنگِ مرمر کا بنا ہوا تھا۔ امام صاحب کے مُصَلّے کی جگہ آدھا فٹ گہری گھاٹی میں تھی—بالکل ویسی ہی جیسے میں نے بم کی مسجد میں دیکھی تھی۔

مجھے حیرت ہوئی کہ آخر یہ امام حضرات کو زمین کے اندر کیوں بٹھاتے ہیں؟ کیا وہ وعظ کے بجائے زیرِ زمین اڈہ سنبھالتے ہیں؟ شاید اس کا جواب کسی معمار کے پاس ہو، یا پھر کسی مُصَلّے کے پرانے راز میں چھپا ہو۔

میں نے اس تاریخی مسجد کی چند تصویریں اپنے ریلی کیمرے سے لیں۔ پھر ایک ایرانی خاتون سے گزارش کی کہ میرے کیمرے سے میری تصویر کھینچ دیں۔ وہ ذرا جھجکی، پھر مسکرائی اور بولی:

’بس ہلنا مت، ورنہ تصویر دھندلی ہو جائے گی۔‘

میں نے جواب دیا:

خاتون! میں برسوں سے اپنی تصویروں میں دھندلا ہی آ رہا ہوں۔ فرق ہی’ کیا پڑتا ہے۔‘

مسجد کے اندر نقش و نگار اور زیبائش کاشی کاری کے ذریعے کی گئی تھی۔ محراب کے اوپر قرآنِ مجید کی آیات فارسی خطِ ثُلُث میں کندہ تھیں۔ لفظ جیسے سنگِ مرمر پر سانس لیتے ہوں۔

پھر میں مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل پر گیا، جہاں دارالمطالعہ تھا۔ میں سمجھا یہ لائبریری ہوگی اور سیدھا اندر گھس گیا۔ مگر یہ طالبات کا اسٹڈی روم نکلا۔ لڑکیاں لکڑی کے بینچوں پر بیٹھی مطالعہ کر رہی تھیں۔ اچانک سب کی نظریں میری طرف اُٹھیں—یوں جیسے کوئی قصوروار امتحان میں نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہو۔

ان کی آنکھوں میں سوال تھا:

یہ اجنبی کون ہے جو ہمارے دارالمطالعہ میں یوں داخل ہوا جیسے اپنے’ گھر کے صحن میں آ رہا ہو؟‘

میں نے گھبرا کر پلٹتے ہوئے دروازے پر لکھی تختی دیکھی۔ اس پر واضح لکھا تھا: بانوان—برائے خواتین۔

مگر اس وقت میری فارسی اتنی کمزور تھی کہ یہ راز میری عقل پر کھلا ہی نہیں ۔ الٹے پاؤں واپس ہولیا ۔کمرے کے ساتھ ہی دوسرا ہال تھا جہاں لڑکے ڈیسک پر کتابیں رکھے مطالعے میں مشغول تھے۔ وہاں جھانکا اور اطمینان ہوا کہ کم از کم یہ کمرہ میری جنس کے لیے ممنوع نہیں۔

نیچے اترا تو کتب خانہ تھا۔ دو نوجوان ایرانی لڑکیاں بطور لائبریرین بیٹھی تھیں۔ میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی فارسی میں پوچھا:
’کیا کرمان کی تاریخ پر انگریزی میں کوئی کتاب ہے؟‘
انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ نفی ایسی تھی جس میں مایوسی بھی تھی اور ہلکی سی شرارت بھی۔ جیسے کہہ رہی ہوں:

’صاحب، آپ ایران آئے ہیں یا لندن کی بُک شاپ میں؟‘

کرمان کے چھتہ بازار، تاریخی گرم حمام، روایتی چائے خانہ وکیل، ریستورانِ وکیل اور جامع مسجد کی سیر کے بعد میں ہوٹل واپس آیا۔ لیکن دل جانتا تھا کہ اصل داستان تو اگلی صبح میرے ناشتے کی میز پر لکھی جانی ہے—جہاں نیکٹر اور لینا میرا انتظار کر رہے تھے۔

اس ملاقات کا ذکر… اگلی قسط میں آئے گا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں