میری کتاب بیتی از ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

میری کتاب بیتی(4)

·

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: عمر، وقت، حالات و واقعات انسان کی زندگی میں مستقل یا عارضی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ شادی کے بعد سعودی عرب میں گزارے وقت میں بچوں کی پرورش، تحریکی ذمہ داریوں، مہمان داری اور کتابوں کی کم یابی نے مطالعہ کو متاثر رکھا۔

پاکستان سے آنے والے زائرین کے ذریعے اور سالانہ چھٹی پہ پاکستان آنے پہ کچھ کتابیں دستیاب ہوجاتی تھیں۔ ان میں بھی زیادہ تر تحریکی کتابیں ہوتی تھیں، شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی ہے۔ جن احباب کو کتابوں کا ذوق تھا ان سے قریبی تعلق بنا کر رکھا اور ان سے عاریتاً لے کر بہت سی کتابیں مطالعہ کیں۔

قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، مسعود مفتی اور اشفاق احمد کو انہی دنوں پڑھا اور عادت سے مجبور تھی کہ نوٹس بھی بنائے۔

واصف علی واصف کے کالم ان دنوں اخبار میں آیا کرتے تھے۔ ان کی سوچ اور اندازِ تحریر سے بہت متاثر تھی۔ ان کی کتب شائع ہوئیں تو سب خرید کر ان کتابوں میں رکھیں جو کسی کو ہرگز نہیں دے سکتی تھی۔ مختار مسعود کی ’آواز دوست‘ بھی انہی میں شامل تھی۔

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم:  کتابیں کتنی پڑھ لی ہیں شمار کرنا مشکل ہے، کئی دیرپا اثر چھوڑ گئیں۔ کئی کتابوں نے مایوس کیا کہ لاحاصل مطالعہ لگا۔ کئی کتابیں پڑھ کر لکھنے والے پہ رشک آیا۔۔۔ جیسے علیم الحق حقی کی کتاب ’عشق کاعین‘ پڑھ کر احساس ابھرا کہ کاش! یہ کتاب میں نے لکھی ہوتی۔ اگرچہ اس میں کچھ باتوں سے اختلاف کی گنجائش تھی لیکن بہرحال وہ کتاب قابل تحسین ہے۔

احسان دانش، جوش ملیح آبادی، شاہد احمد دہلوی، عصمت چغتائی، منٹو، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق حسین، بانو قدسیہ، امجد اسلام امجد، مسعود مفتی وغیرہ کو پڑھنے کا ایک دور گزرا۔

بچپن، لڑکپن اور جوانی میں مطالعہ کتب ایک جنونی دور تھا، لیکن پاکیزہ ادب نے دل و دماغ کا رخ متعین کر دیا تھا۔

شاعری سے دلچسپی نہ تھی۔ نثر تو مجھے یاد ہوجاتی تھی، مگر شعر نہ کبھی یاد ہوا نہ بروقت و بر محل یاد آیا۔ شاعروں کی بھی اگر نثر تھی تو وہی پڑھی۔ سوانح حیات اور سفرناموں میں دلچسپی بڑھی تو حج بیت اللہ کے پرانے نئے سفرنامے اور دنیا کی سیاحت کے سفر نامے پڑھے۔ محمد یوسف خان کمبل پوش، ابن بطوطہ سفر نامہ حجاز، غلام رسول مہر سفرنامہ حجاز، مولٰنا ثناء اللہ امرتسری، سفر نامہ ارض القرآن، اور بہت سے دیگر سفرنامے جن میں مستنصر حسین تارڑ،  نمایاں ہیں۔

سوانح حیات پڑھنے کا بھی ایک دور گزرا، احسان دانش کی ’جہان دانش‘، جوش ملیح آبادی کی ’یادوں کی بارات‘، خواجہ حسن نظامی کی سوانح حیات، مشتاق احمد یوسفی کی ’زرگزشت‘، مرزا ادیب کی ’مٹی کا دیا‘، صدیق سالک کی ’ہمہ یاراں دوزخ‘، کرنل محمد کی ’بجنگ آمد‘، اختر حسین رائے پوری کی ’گرد راہ‘، مشکور حسین یاد کی ’یادوں کے چراغ‘، شورش کاشمیری کی ’بوئے گل نالہ دل ۔۔۔ ‘، قرہ العین حیدر کی ’کار جہاں دراز ہے‘، سحاب قزلباش کی ’میرا کوئی ماضی نہیں‘، غلام جیلانی برق کی ’میری داستان حیات‘، امرتا پریتم کی ’سرخ دھاگے‘، بانو قدسیہ کی ’ابریشم‘، ممتاز مفتی کی ’الکھ نگری‘ اور میاں منظور نعمانی کی ’تحدیث نعمت‘۔۔۔ یہ سب تقریبا ایک ہی دور میں پڑھیں اور بہت کچھ سیکھنے کوملا اور انسانی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملی اور قلم کو روانی میں مدد ملی۔

سیرت النبی ﷺ پہ ہر وہ کتاب زیر مطالعہ رہی جو شہرہ آفاق انعام یافتہ رہی۔ سیرت کی پہلی کتاب محمد عربیﷺ کو لڑکپن میں متعدد بار پڑھا ۔’محسن انسانیت‘ کتاب کو سبقاً سبقاً پڑھا اور پڑھایا بھی ۔ الرحیق المختوم، رحمت اللعالمین، پیغمبراعظم و آخر، سیرت المصطفیٰ ، ہادئ عالم، نبئ کریم بحیثیت معلم ، داعی اعظم، سیرت سرور عالم جیسی  کتابوں میں سے کوئی نہ کوئی زیر مطالعہ رہتی ہے۔ سیرت صحابہ و صحابیات سے اعمال کا قبلہ درست رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: جس کتابی دنیا میں جانا ہوتا اس  کے ابواب کا  حصہ مقرر کرکے روزانہ کی بنیاد پہ مطالعہ کرتی اور کام کی باتیں نوٹ کر لیتی اور وہ نوٹ بک خاص کتابوں کے نوٹس کا قیمتی حوالہ بن جاتی تھی۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں  قیام رہا تو خوش قسمتی سے موصلی روڈ پہ  ایک قدیم  لائبریری  گھر کے پاس ہی تھی جہاں اردو کتابوں کا الگ حصہ تھا۔ پر سکون ماحول آرام دہ نشست پہ کتاب بینی کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا، وہاں  سے بے شمار کتابیں حاصل کیں اور خوب مزے کیے۔ بہت سی نایاب کتابیں پڑھنے کو ملیں۔ سفرنامے، سوانح حیات، دینی موضوع پہ کتابیں، ناول افسانوں کے نکات کی ڈائریاں بجائے خود ایک کتاب بن جاتی تھیں۔ مدت بعد فرصت کے وقت ان ڈائریوں کو دوبارہ پڑھنا ایک ناقابل بیان احساس تحیر دیتا تھا جس میں ایک سچی انمول سی راحت پوشیدہ ہوتی۔

 شادی سے پہلے کا دور کتابیں جمع کرنے، سنبھالنے، پڑھنے، خلاصے لکھ کر ڈائریاں بھرنے، کتاب پہ نشان لگانے اور خاص پیرے اور جملے یاد کرنے میں گزرا۔ اور پھر دروس، تقریروں، اور تحریروں میں ان کے استعمال کی استعداد بڑھانے کا شوق بڑھا۔ ہر کتاب کے ٹائیٹل، پیش لفظ، سے لے کر ’تمت بالخیر‘ تک اتنے اہتمام سے ذہن نشین کیا جاتا کہ وہ کتاب دور سے ہی پہچان لی جاتی اور نثر کے الفاظ اور جملے سے اندازہ ہو جاتا کہ یہ کس مصنف نے کس کتاب میں لکھا تھا۔

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم:  ٹی وی پہ ڈرامے دیکھنے کا لطف نہیں آتا، جن ناولوں پہ ڈرامے بنائے جاتے وہ یا تو مطالعہ شدہ ہوتے یا پھر وہ کہیں نہ کہیں سے حاصل کرکے پڑھ لیتی تھی۔ خود مطالعہ کرنے سے جو کہانی کا حصہ بنا جاسکتا ہے سکرین پہ دیکھ کر نہیں ہو سکتا۔ مناظر اور ماحول کی عکس بندی جو اپنا ذہن بناتا ہے اس سے ذہنی صلاحیت میں وسعت پزیری پیدا ہوتی ہے اور خود کو اس کہانی میں چلتے پھرتے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے مطالعہ کا اثر دیرپا اور حقیقی ہوتا ہے۔ اسی طرح کہانی کے شخصی کردار کا جو خاکہ آپ اپنے ذہن میں بناتے ہیں وہ آپ کو اپنے قریب محسوس ہوتا ہے۔

تاریخی شخصیات کی سوانح حیات کے بارے میں بھی جو قربت آپ کو مطالعہ سے حاصل ہوتی ہے وہ ان کی زندگی پہ عکس بندی سے نہیں ہوتی۔ ایک روحانی قرب کا تقاضا ہے کہ شخصیت سے خاص تعلق۔۔۔ اچھا یا برا، آپ کی روح محسوس کرے۔ ایک تمثیلی کردار، یا سراپا آپ کے حسن خیال سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں، اور یہ جیتا جاگتا تمثیلی کردار مختلف ڈراموں میں مختلف کردار ادا کرتے نظر آتا ہے تو اپنے ذہن میں موجود شخصیت کا مستقل سراپا متاٴثر ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

5 responses to “میری کتاب بیتی(4)”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    حسب سابق بہت عمدہ

    1. بشری تسنیم Avatar
      بشری تسنیم

      شکریہ

  2. پروفیسر خواجہ مسعود۔اسلام اباد Avatar
    پروفیسر خواجہ مسعود۔اسلام اباد

    ڈاکٹر صاحبہ کو کتابوں سے عشق ھے اور کتابیں ھی آپ کا اوڑھنا بچھونا ھیں۔کتابیں ھی آپ کی دوست ھیں اور کتابوں سے آپ کی یہ محبت آج بھی گہری ھے۔اور محبت بھی پاک و پاکیزہ۔ندیوں کے انکے نیلے پانیوں کی طرح۔اج کی نئی نسل کے لئے آپ کی سیرت مشعل راہ ھے ۔اللہ آپ کو تندرست و سلامت رکھے(آمین)

    1. بشری تسنیم Avatar
      بشری تسنیم

      جزاک اللہ خیرا کثیرا

  3. شیماء عابدی Avatar
    شیماء عابدی

    ماشاءاللہ بہت زبردست!

    اپنا آپ بہت کمتر اور بے وقعت محسوس ہونے لگا ھے،
    اور دل میں ایک خلش محسوس ہونے لگی ھے،کاش م قابل صد احترام ‌باجی سے عنفوان شباب میں ملاقات ہوئی ھوتی!
    عزوجل آپ کی ھر جایز تمنا پوری فرمائیں ۔
    آاااااااااااااااااااامیییییییییییییییییییییییییین