زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی قوم کی تہذیب، ثقافت اور دینی شعور کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں اردو زبان نے دینِ اسلام کی تبلیغ، تفہیم اور اشاعت میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ قرآن و سنت کے تراجم، فقہی مسائل کی تشریح اور دینی ادب کی تخلیق نے اردو کو ایک ایسی زبان بنا دیا جو عام فہم بھی ہے اور علمی بھی۔ یہ مقالہ اردو زبان کی دینی خدمات کا جائزہ لیتا ہے۔
پس منظر
اردو زبان کی ابتدا تیرہویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں ہوئی۔ اس کا ارتقاء پنجابی، ہندی، عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کے اختلاط سے ہوا۔ رفتہ رفتہ یہ ایک علیحدہ زبان کی حیثیت اختیار کر گئی اور لشکری زبان کہلائی۔ اردو کا رسم الخط عربی سے ماخوذ ہے اور اس کا صوتی نظام قرآن مجید کے تلفظ سے ہم آہنگ ہے۔
اردو کو ابتدا میں دکنی، ہندی اور ہندوستانی کہا گیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی الگ شناخت بنا لی۔ مسلمان فاتحین کی آمد اور مقامی لوگوں کے میل جول نے اس زبان کو فروغ دیا۔
تحقیق / بحث
1. اردو زبان اور دینی سرمایہ
اردو زبان میں قرآن فہمی، احادیث مبارکہ، فقہ اور دینی ادب کی کثرت پائی جاتی ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے قرآن حکیم کا ترجمہ اردو میں کیا تو سخت مخالفت کے باوجود یہ دین کی تفہیم کے لیے سنگ میل ثابت ہوا۔
اردو زبان میں 80 فیصد تک الفاظ قرآنی پس منظر رکھتے ہیں۔
اردو میں حمد، نعت، مرثیہ، سلام اور منقبت کے اصناف ادب نے دین سے محبت کو فروغ دیا۔
2. دینی کتب اور تراجم
اردو میں عربی کتب کے تراجم نے دین کو عام فہم بنا دیا۔
اہم کتب:
تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اللہؒ)
بہشتی زیور (مولانا اشرف علی تھانویؒ)
تفہیم القرآن (مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ)
عمدۃ الفقہ اور دیگر رسائل
3. شخصیات کی خدمات
اردو زبان کو فروغ دینے میں بے شمار علماء اور مفکرین نے خدمات انجام دیں:
مولانا اشرف علی تھانویؒ
علامہ محمد اقبالؒ
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
مولانا ابو الحسن ندویؒ
مفتی زکریا کاندھلویؒ
ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر
4. موجودہ دور کے مسائل
رومن اردو کے بڑھتے استعمال نے اصل رسم الخط کو نقصان پہنچایا ہے۔
سرکاری و عدالتی اداروں میں اردو کا عملی نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے۔
نوجوان طبقہ انگریزی کے غلبے کے باعث اردو ادب سے دور ہو رہا ہے۔
اگر توجہ نہ دی گئی تو اسلامی لٹریچر بھی رومن اردو میں ڈھل کر اپنی اصل قدر کھو دے گا۔
اردو زبان دینِ اسلام کی تفہیم اور اشاعت کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ یہ زبان نہ صرف عوام کو دین کے قریب لاتی ہے بلکہ علمی سطح پر بھی دین کے پیغام کو عام کرتی ہے۔ عربی کے بعد اگر کوئی زبان اسلامی ذخیرے کو سب سے زیادہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے تو وہ اردو ہے۔ اردو کی بقا دراصل ہمارے دینی ورثے کی بقا ہے۔
سفارشات
اردو زبان کو سرکاری و عدالتی زبان کے طور پر نافذ کیا جائے۔
اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدارس میں اردو ادب لازمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
جدید علوم (سائنس اور ٹیکنالوجی) کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے ادارے قائم کیے جائیں۔
رومن اردو کے بجائے اصل رسم الخط کو فروغ دیا جائے۔
دینی جماعتیں اور میڈیا اردو کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔
نوجوانوں میں اردو میں لکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا کیا جائے۔










