پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ محض دو ملکوں کا رسمی تعاون نہیں بلکہ خطے کی تاریخ میں ایک نئی کہانی کی ابتدا ہے۔
میں اسے سقوط خلافت کے بعد سب سے بڑی پیش رفت سمجھتا ہوں۔ خلافت کے زوال نے امت کو ایک مرکز سے محروم کر دیا اور مسلم دنیا چھوٹے چھوٹے دائرے میں بٹ گئی۔ اس کے بعد سعودی عرب کو حرمین شریفین کی ذمہ داری ملی اور پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ آج یہ دونوں ریاستیں ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہیں جہاں ان کے اشتراک سے خطے کے توازن پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ معاہدہ بظاہر عسکری نوعیت کا ہے لیکن اس کے اثرات صرف دفاع تک محدود نہیں۔ سعودی عرب توانائی کا مرکز ہے اور پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت۔ ایسے میں ان کا قریب آنا بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس پر کیا ردعمل دیں گی؟
امریکا جو عرصے سے سعودی عرب کا سب سے بڑا عسکری ساتھی رہا ہے، وہ یقیناً اس نئے کردار کو ایک چیلنج کی نظر سے دیکھے گا۔ چین کے لیے یہ معاہدہ خوش آئند ہوگا کیونکہ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کے تناظر میں یہ شراکت داری اس کے خوابوں کو سہارا دے سکتی ہے۔
ایران کے لیے مسئلہ یہ ہوگا کہ پاکستان کہیں سعودی مفادات میں زیادہ نہ جھک جائے۔ اگر پاکستان توازن کے ساتھ قدم اٹھائے تو شاید ثالثی کا کردار بھی ادا کر سکے۔ اسرائیل بھی اس پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھے گا، کیونکہ ایک مضبوط دفاعی تعلق اس کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت کو محدود کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ معاشی اور عسکری فائدے اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ عالمی سیاست کے دباؤ اور خطے کی رقابتوں کا سامنا بھی ہوگا۔ اب ہمیں فیصلہ یہی کرنا ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے حق میں ایک بڑی نعمت بنے یا ایک مشکل ذمہ داری۔
لیکن ان سب حساب کتاب سے ہٹ کر دل کی بات کچھ اور ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ سوچ ہی روح کو لرزا دیتی ہے کہ خدا کے پہلے گھر اور اس کے نبی ﷺ کے حرم کی حفاظت اگر پاکستان کے حصے میں آتی ہے تو یہ محض ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک عظیم سعادت ہے۔
یہ وہ ذمہ داری ہے جو دنیاوی تھیوریوں سے نہیں بلکہ ایمان اور دل کے علم سے سمجھی جا سکتی ہے۔ یہ ہمارے لیے محض عسکری خدمت نہیں بلکہ روحانی امتحان ہے۔
میری دعا ہے کہ پاکستان اس امتحان کو حکمت اور اخلاص کے ساتھ سرخرو کرے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ صرف ہمارے قومی مفاد کا تحفظ نہیں ہوگا بلکہ امت مسلمہ کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہوگا۔ میر عرب کو ٹھنڈی ہواؤں کا تحفہ ہم سے جائے،
فالحمدللہ رب العالمین۔










