حسان خالد

ہندوستان ٹائمز کے اداریہ نویس

·

روزنامہ جنگ نے اپنے ادارتی صفحے پر اداریہ چھاپنا بند کیا تو صحافتی حلقوں کی جانب سے اس پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کچھ صحافی اس اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے اس دور میں اخبارات کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے غیرروایتی فیصلے کیے جائیں۔ جب کہ بعض اہل قلم کے نزدیک یہ نظریاتی اورعوامی مفاد کو مقدم رکھنے والی صحافت سے ’برات‘ کا اعلان ہے۔ ان مباحث کو پڑھتے ہوئے ہمارا دھیان ہندوستان ٹائمز کے اداریہ نویسوں کے اس قصے کی طرف چلا گیا، جس کا تذکرہ نامور بھارتی صحافی ویر سنگھوی نے اپنی خودنوشت "A Rude Life” (مطبوعہ 2021ئ) میں کیا ہے۔

ویر سنگھوی (Vir Sanghvi) کو ہندوستانی صحافت کا ’آل راﺅنڈر‘ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، کیونکہ نصف صدی پر مشتمل صحافتی زندگی میں جتنے متنوع تجربات انہوں نے کیے، شاید ہی کسی دوسرے بھارتی صحافی کے حصے میں آئے ہوں۔ 22 برس کی عمر میں ’بومبے‘ میگزین کی ادارت سنبھالی، بعدازاں کئی موقر مجلوں اور ہندوستان ٹائمز جیسے اخبار کے مدیر بنے۔ اس دوران ٹی وی چینلز پر مختلف نوعیت کے پروگرام کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا، جن میں ’ڈسکوری ٹریول‘ پر سیاحت اور کھانوں سے متعلق پروگرام شامل ہیں۔ کالم نویسی میں جہاں متنوع موضوعات پر لکھا، وہاں بطور ’فوڈ کریٹک‘ اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ کئی عمدہ کتابیں تصنیف کیں۔

خیر ہم اپنے قصے کی طرف واپس آتے ہیں۔ 1999ءمیں ہندوستان ٹائمز کی انتظامیہ نے ویر سنگھوی کو اخبار کی ادارت اس مشن کے ساتھ سونپی کہ اسے دہلی اور پھر ملک بھر کا بہترین اور کامیاب اخبار بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے اخبار کے مختلف شعبوں میں بتدریج اصلاحات کا آغاز کیا، کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اتنے بڑے اخبار کو یکسر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ادارتی صفحے کی نگرانی کرنا بھی سابق مدیر کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ چنانچہ ویر سنگھوی کو فوری طور پر اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔ ادارتی صفحے پر چھپنے والے کالم نویسوں کا معیار زیادہ اچھا نہیں تھا۔ ادارتی صفحات کے انچارج امولیہ گنگولی کوشش کے باوجود اچھے لکھنے والوں کو اپنے اخبار کا حصہ بننے پر آمادہ نہ کر سکے تھے، تاہم ویر سنگھوی کو تھوڑی سی تگ و دو کے بعد اس میں کامیابی ملی۔ اب دوسرا مرحلہ اداریے کے معیار کی بہتری کا تھا۔

ویر سنگھوی کی رائے میں شاید ایک فیصد سے بھی کم اخبار کے قارئین اداریہ پڑھتے تھے، کیونکہ یہ غیر دلچسپ ہوتے تھے۔ روایتی انداز میں کسی معاملے کے مختلف پہلو بیان کیے جاتے، ہر چیز کو بیلنس کرنے کے چکر میں یہ ہوتا کہ اخبار کے اپنے موقف کا پتا ہی نہ چلتا۔ تاہم اس کے باوجود اداریے کو ہر اخبار کا دل سمجھا جاتا تھا۔ سنگھوی لکھتے ہیں کہ ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز جیسے اخبارات میں، وہ صحافی جو اخبار کا چہرہ مہرہ سامنے لانے کے اصل ذمہ دار تھے انہیں گرد آلود نیوز روم میں بیٹھنا پڑتا، جب کہ اداریہ نویسوں کو اپنے الگ کیبن ملے ہوئے تھے۔ ان کی ذمہ داری بس اتنی تھی کہ ہفتے میں دو یا تین 350 الفاظ پر مشتمل اداریے لکھے جائیں، جو وہ چائے کہ وقت تک مکمل کرنے کے بعد گھر واپس چلے جاتے۔ انہیں بہت اچھا معاوضہ دیا جاتا۔ اور ٹائمز آف انڈیا میں تو اس بات کو ترجیح دی جاتی کہ اس ’کٹھن‘ کام کو انجام دینے والے اداریہ نویس آکسفورڈ یا کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں۔ ویر سنگھوی، جو خود آکسفورڈ کے گریجویٹ تھے، انہیں بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹائمز آف انڈیا سے اداریہ نویس کی ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، اس مبہم وعدے کے ساتھ کہ انہیں بہت جلد سینئر عہدہ دے دیا جائے گا۔

ویر کے بقول، ‘میرے نزدیک اداریہ نویسی کا پورا ادارہ انوکھا تھا۔ اداریے ایسے لکھے جاتے جیسے دنیا میں کوئی بھی نہیں لکھتا۔ حتی کہ برطانیہ میں بھی، جہاں کے انداز کو ہمارے ادارتی صفحات نقل کیا کرتے، اس طرح کے اداریوں کا چلن نہیں رہا تھا۔ اداریہ نویس شاذ و نادر ہی کبھی فیلڈ میں جاتے یا کسی سے ملتے۔ وہ بس خود سے کہانی گھڑتے چلے جاتے۔ لیکن اپنے لیے مختص کیبن کے بارے میں ان کا رویہ مالکانہ (possessive) ہوتا تھا۔‘

ایک مرتبہ سنگھوی نے کوشش کی کہ دو اداریہ نویس ایک بڑے کیبن میں اکٹھے بیٹھ جائیں تو ان میں سے ایک نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔ وجہ کے طور پر اس نے ایک عجیب و غریب بیماری (agoraphobia) کا نام بتایا، جس کی وضاحت یہ کی کہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ ویر کہتے ہیں، ’میں نے بڑی مشکل سے خود کو یہ کہنے سے باز رکھا کہ پھر تم غلط پیشے میں آ گئے ہو۔ اور طبی بنیاد پر الگ کیبن میں بیٹھنے کی اجازت دے دی۔‘

ویر اپنے اخبار میں ادریے کے انداز کو تبدیل کرنے کے لیے پرعزم تھے۔ انہوں نے اداریہ نویسوں کو ہدایت دی کہ وہ 1940ءکی دہائی کے ’ٹیلیگراف‘ کی نقالی کرنے کے بجائے ’گارڈیئن‘ اخبار کا مطالعہ کریں اور اس کے انداز کو اپنائیں۔ تاہم اس پرعمل کرنا ان اداریہ نویسوں کے لیے شاید اتنا آسان نہیں تھا۔ چنانچہ وہ خود اداریہ لکھ ڈالتے یا پھر اکثر دوسروں کے لکھے ہوئے اداریوں کی اصلاح کرنا پڑتی۔

وہ سمجھتے تھے کہ اداریے کو بصیرت افروز اور تروتازہ ہونا چاہیے، کیوں کہ اسے اخبار کی آواز سمجھا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ پرانے اداریہ نویس چھوڑتے چلے گئے ۔ بالآخر اندراجیت ہزرا نے، جو ایک بہترین لکھاری ہیں، ادارتی صفحے کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے یکسر بدل ڈالا۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔