سعودی عرب میں لکھنے کا سفر کیسے طے ہوتا رہا؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: شادی کے بعد سعودی عرب جا کر حلقہ احباب میں یہی سرمایہ باعث افتخار بنا۔ تحریکی حلقہ جات میں جب تربیتی پروگرام میں لٹریچر کے تحریری ٹیسٹ لیے جاتے تو مردانہ نظم کی طرف سے بہترین کار کردگی پہ خوب سراہا جاتا۔ وہاں اپنے پاس کتب برائے نام ہی تھیں۔ آہستہ آہستہ حلقہ احباب بڑھا تو مکہ مکرمہ، اور طائف کے با ذوق افراد سے کتابیں مل جاتی تھیں۔ تقریباً تین چار سو صفحات کی کتاب روزانہ ختم کرنے والی کا من اب کئی دنوں تک پیاسا رہتا۔ مجھے وہ بے کلی یاد ہے جو مجھے مطالعے کی کمی سے محسوس ہوتی تھی۔ اردو اخبار بھی کبھی کبھار میسر آتا تھا۔
بچوں کی پرورش اور کچھ دیگر ذمہ داریوں اور حالات نے قلم صرف روزانہ ڈائری لکھنے تک محدود کر دیا تھا۔ ہر سال کا سفر حج اور ہر جمعہ کا سفر عمرہ یا سفر مدینہ یا پھر طائف کا سفر، وہاں کی مصروفیات، دلچسپیاں، احباب کے شخصی خاکے، محبتیں اور معاملات، واردات قلبی، خود ہی لکھ کر خود ہی پڑھتی رہتی کہ پڑھنے کا نشہ ٹوٹ نہ جائے۔ اور اس وقت جب ماں کی مشفق آنکھیں اور محبت بھرا لمس بیٹی سے دور ہو اور اس کی روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو سلجھانے کے لیے کوئی پیار بھری آواز نہ ہو تو قلم اور ڈائری بہترین ساتھی ہو جاتی ہے۔
سوال: شارجہ میں زندگی کیسی رہی؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: بارہ سال کے بعد پاکستان واپسی پہ کتابوں کی خریداری اور لائبریری کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا شروع کیا ہی تھا کہ حالات نے دوبارہ شارجہ جا بسایا۔ وہ ساری کتابیں کسی کے کام آجائیں، صدقہ جاریہ کی نیت سے تقسیم کیں اور لائبریریوں کو دیں۔ کچھ نایاب کتابیں رکھ لیں اور کچھ آہستہ آہستہ شارجہ منتقل کیں۔ جو باقی رہ گئیں وہ شہید ہو گئیں رہے نام اللہ کا۔۔۔
شارجہ میں کافی کتب جمع ہوگئی تھیں۔ وہاں سے وطن مراجعت کا بگل بجنا شروع ہوا تو وہ تقسیم کرنی شروع کر دیں کیونکہ ا ب نیٹ پہ ہر کتاب میسر ہو نے لگی تھی۔
سوال:اب انٹرنیٹ پر لاکھوں شاید کروڑوں کتابیں ڈیجیٹل انداز میں موجود ہیں، ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، آپ اس انقلاب کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: اب تو وارے نیارے ہوگئے کہ کتاب خریدنے، رکھنے، سنبھالنے ، ادھار دینے کے سارے جھنجھٹ اور خدشات سے نجات مل گئی۔
جب جہاں جو چاہو پڑھ لو۔ گزشتہ چند برسوں میں بچپن کی طرح روزانہ کئی سو صفحات پڑھنے کا معمول ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نظر پہ برا اثر پڑا۔ لیکن کیا کریں چھٹتی نہیں ہے کافر منہ سے لگی ہوئی۔
اب یہ خوف نہیں کہ کتابیں پرانی ہو جائیں گی یا دیمک لگ جائے گی یا بازار میں نایاب ہو جائے گی۔ اپنے ہاتھ میں ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ خیال ضرور ستاتا ہے کہ چاہنے والوں نے بہت محبت اور عقیدت سے میری ڈائیریاں اور نوٹس فرمائش کر کے لے لیے تھے اب وہ کس حال میں ہوں گے اور ان کا کیا انجام ہوا ہوگا؟
انسان زمانے کے ساتھ ساتھ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے کبھی چمڑے پہ، ہڈیوں پہ، درختوں کی چھال پہ تحریریں محفوظ ہوتی تھیں۔۔۔ اب کاغذ سے سکرین پہ منتقل ہوگئی ہیں۔ ہر دور کے تقاضے الگ ہیں، وسائل مختلف ہیں، مگر انسان کی زندگی کا مقصد تبدیل نہیں ہوتا۔ سارے جدید وسائل اسی مقصد کو احسن طریقے سے پورا کرنا عقلمندی اور معراج انسانیت ہے۔
اب وسائل کی آسانی اور بہتات ہے کہ اپنے ذوق کے مطابق کتابوں کا ذخیرہ جیب میں موجود رہتا ہے۔ جب جہاں چاہا لائبریری کو چھان لیا۔ کچھ عرصہ پہلے توکسی نئے شہر یا ملک منتقل ہوتے وقت سب سے دشوار مرحلہ کتابوں کے چناؤ کا ہوتا تھا کہ کون سی ساتھ رکھنی ناگزیر ہیں۔
آپ یقین کیجیے لباس کے انتخاب سے پہلے کتابوں کی فہرست بناتی اور برتنوں کے ڈبے میں بھی کتابیں چھپائی جاتیں اور بستر تکیوں میں بھی کیونکہ ضروری ناگزیر اور محبوب کتابوں کی تعداد کم ہونے میں نہ آتی۔ اکثر ہی ایسا ہوتا کہ جہاں بھی نقل مکانی کرکے جاتے فوری میل جول کی صورت نہ ہوتی تھی۔ ویسے بھی میرے مزاج میں کتاب دوستی کا اس قدر اشتیاق ہے کہ بس من پسند کتاب اور تنہائی کے تصور سے ہی دل میں پیارے اور خوشی بھرے احساسات گدگدانے لگتے ہیں۔ کتاب سے اس متوقع ملن کے لیے سوچا کرتی کہ کس کس کتاب کی صحبت میری تنہائی میں رونق افروز ہو سکتی ہے۔
سوال: آپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: ابن جوزی کی کتاب ’منہاج القاصدین‘ میری بہترین ساتھی ہے سفر وحضر میں۔ دوسری ’محسن انسانیت‘ از نعیم صدیقی میری پسندیدہ سیرت کی کتاب ہے۔ ویسے پسندیدہ کتابوں کی فہرست طویل ہے اور چناؤ مشکل۔ مگر میرے لیے واصف علی واصف کی کتابیں بھی تنہائی کی اچھی ساتھی ہیں۔
تنہائی اور کتاب کا انتخاب عمر، حالات، ضرورت اور صحت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے تقاضے الگ ہیں اور تعلیمی دور کے الگ۔۔۔ اس لیے ہر وقت انسان کے لیے انتخاب کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے۔
کتاب ایسی ہو جو بار بار پڑھنے پہ بھی انسان اکتائے نہ اور ہر مرتبہ اسے سیکھنے کو کچھ مل جائے۔ بعض کتابیں شہرت تو بہت رکھتی ہیں مگر ان کو پڑھ کر قاری کو مایوسی ہوتی ہے، بعض اوقات وقت ضائع کرنے پہ افسوس ہوتا ہے۔ اس وقت کتابوں کے چناؤ، حفاظت یا منتقلی کا کوئی جھگڑا ہی نہیں۔ اس بات کی اتنی خوشی ہے کہ جیسے خزانے ہر وقت اپنی مٹھی میں ہوں۔۔۔
مگراب عمر عزیز پہ خزاں کا موسم چل رہا ہے۔ نظر دھندلا گئی، کبھی گلے میں سونے کا ہار ہوا کرتا تھا، اب عینک گلے کا ہار ہے۔ کبھی نثر کو ایک بار پڑھنےسے کتاب کا صفحہ ذہن پہ ثبت ہو جاتا تھا اور مصنف کا نام کبھی کہیں بھی عبارت پڑھنے کے ساتھ یاد آجاتا تھا۔
’ہرکمال را زوال است‘ ہی زندگی کی حقیقت ہے۔ کتاب سے رشتہ کمزور نہیں ہوا، مطالعہ بھی تعطل کا شکار نہیں ہوا۔۔۔ کیونکہ وقت رشتےاور شوق کو کمزور نہیں کرتا مگر وقت انسانی قوی پہ اپنے اثرات چھوڑنے پہ مجبور ہے کہ یہ فطری عمل ہے۔
غالب نے کیا خوب کہا تھا کہ
گو ہاتھوں میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے
کتابیں اپنی دسترس میں تو ہیں، یہی کیا کم خوشی ہے! ادھار مانگنے والوں کو لنک فارورڈ کردیا اور کتاب ادھار دے کر نہ خود شرمسار ہوئے نہ کسی کو شرمسار کیا۔ سبحان اللہ۔
کتابوں کے مطالعہ کا شوق اللہ رب العزت کا خصوصی انعام ہوتا ہے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم، وبحمدہ۔
اس کے ساتھ ایک تمنا خود بخود پنپنے لگتی ہے کہ خود بھی صاحب کتاب ہوجایا جائے۔ شدید شوقِ مطالعہ کا لازمی نتیجہ قلم پکڑنا ہے اور اہل قلم پہ بھی اللہ تعالی کا خاص کرم ہوتا ہے کہ قلم اور قلم سے لکھی تحریر کی اہمیت خود اللہ نے دونوں کی قسم کھا کر بتا دی ہے۔ یہ لکھی ہوئی چیز ایک سند ہے، دستاویز ہے۔ جس کی بناء پہ وہ اپنی عاقبت کا فیصلہ کرتا ہے۔ لکھنا کمال ہوسکتا ہے لیکن مثبت لکھنا اور بحیثیت مومن کے راست اور حق کے لیے اللہ کی رضا کے لیے لکھنا ارفع کمال ہے۔ اور لکھنے والے کے لیے دنیا و آخرت کے لیے سرخروئی کا باعث ہوسکتا ہے۔ اللہ رب العٰلمین کی خصوصی عنایت سے اس ناچیز نے شعور کے ساتھ لکھا اگر چہ کم لکھا۔ ہر تحریر کو عبادت سمجھ کر لکھا، اللہ تعالی سے گناہوں کی مغفرت اور استعانت طلب کرکے لکھا۔
حساس اور مثبت افکار کا حامل قلم کار جب زندگی کی تکلیف دہ مراحل سے گزرتا ہے تو وہ دوسروں کو اس تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتا ہے، وہ اپنے غم کو آفاقی بنا کر انسانیت کو فلاح اور آسانی پہ آمادہ کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس کٹار نہیں قلم ہے۔۔۔ اور قلم کا عنوان جس کی حرمت پہ رب العزت نے قسم کھائی ہے سجدے میں جا کر فگار سینے کو اپنے خالق کے سامنے پیش کرنا ہے۔ بھلا سجدے میں جا کر کسی کو نقصان پہنچانے کا سوچا بھی کیسے جا سکتا ہے؟
اپنے رب کے سامنے عاجزی، قلم کو خیرو بھلائی تقسیم کرنے کے لئے بلند مقام کی طرف گامزن رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ اس میں قلمکار کی اپنی ریاضت کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اور قلم کی وساطت سے اپنے رب کا بندہ ہونے کی پہچان اور شناخت پہ نازاں ہوتا ہے۔ قلم کار کی ریاضت اور قلم کا سر بسجود ہونا عین عبادت ہے۔ میرے دل کی نگری جب جذبات و احساسات کے مقتدیوں سے بھر جاتی ہے تو قرطاس کی مسجد پہ قلم ان کا امام بن جاتا ہے۔ ناچیز کی تحریروں میں جو بھی خوبی ہے وہ میرے اساتذہ، والدین اور ان علماء کی کتابوں کا عکس اور میرے مہربان رب کی عطا ہے ورنہ انسان کا نفس تو پیکر خطا ہے۔
اللہ رب العزت اجر و ثواب عطا کرنے میں کمی نہیں کرتا، ہر حرف، لفظ اور جملہ لکھنے والے کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ جن مصنفین کی کتابوں سے فیض حاصل کیا ان کے لیے دعا ہے کہ ان کے قلم اور لکھی ہوئی چیز کے ہر حرف کو شرف قبولیت بخشے اور ہمارے حقیر کام کو مقام قبولیت عطا فرما کر اپنی شان رحمت کے وسیع سمندر میں ملادے۔
سوال: آپ کا کتابوں سے عشق اولاد میں بھی منتقل ہوا؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: الحمدللہ، میری ساری اولاد کو مطالعے کا شغف ورثے میں ملا ہے۔ بچوں کو تحائف بھی کتابوں کے ہی لے کر دیے۔ مطالعے کا ذوق اور ان کی تلخیص کا شوق پیدا کیا۔ اجتماعی مطالعہ اور کتاب پہ مباحثہ کی عادت ڈالی۔ سوالنامہ تیار کرکے دیا اور جوابات تلاش کرنے کی طرف توجہ دلائی اس سے بچوں کی سوچ میں پختگی اور ان کی اخلاقی تربیت میں مدد ملی۔ الحمد للّہ یہ کامیاب کوشش رہی۔
ماں کی طرح بچے بھی خصوصاً پہلوٹھی کی بچی ہر وقت کتاب ساتھ رکھتی۔ راستہ چلتے ہوئے بھی کتاب پڑھتی چلتی۔ کسی کے گھر جانا ہوتا تو پہلے پڑھنے کو کتاب رکھتی، کسی کے گھر جا کر پہلا سوال ہوتا آپ کے پاس پڑھنے کو کچھ ہے؟ مجھے لگتا کہ یہ میرے والے الفاظ ہی دہرا رہی ہے۔ گھر کا ماحول اور خصوصاً ماں کا مزاج بچوں پہ بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بچوں کے اساتذہ ان کے اسکول سے یونیورسٹی تک کے تعلیمی دور میں ان سے خوش رہے اور والدین کے لیے باعث فخر رہے۔ الحمدللہ ،ذالک فضل اللہ۔
سوال: آپ کی طرح بچوں میں بھی کوئی مصنفہ یا مصنف ہوا؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: سب بچوں میں لکھنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے بڑی بیٹی نویرہ رحمان کی کہانیوں کی کتاب (نیا سورج) دعوہ اکیڈمی نے شائع کی ہے اور دعوہ اکیڈمی کی طرف سے منعقدہ کہانیوں کے انعامی مقابلے میں پہلا انعام حاصل کر چکی ہے۔ باقی سب بچوں کی تحریریں بھی شائع ہو چکی ہیں۔
بچوں کو اپنے بچپن کی باتوں میں یہ خصوصیت سے یاد ہے کہ کس دوست کے گھر کیسی کتابیں ہوتی تھیں ۔ سب بچوں نے میرے لکھنے پڑھنے اور کتاب دوستی میں دامے، درمے، سخنے تعاون کیا۔ ان کے تعاون اور اللہ تعالیٰ کی استعانت سے ہی ممکن ہوا کہ میری چھوٹی بڑی ایک درجن سے زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
یو ٹیوب چینل اور میری ویب سائٹ کو بچے ہی منظم کیے ہوئے ہیں، دنیا میں سب سے قیمتی اور لازوال خزانہ صالح اولاد ہے، اللہ تعالیٰ بچوں کو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا فرمائے اور ہر طرح کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے، ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے، آمین۔











One response to “میری کتاب بیتی(5)”
سبحان اللہ
ماشاءاللہ
اللهم بارك
اللہ تعالیٰ آپ کی قیامت تک کی ذریت کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔آاااامییین۔