تحریر: ظفر عالم چیمہ
دنیا کے معاشروں میں آج ایک عجیب تماشہ برپا ہے۔ بظاہر ترقی اور جمہوریت کے نعرے بلند ہیں، علم و دانش کے ادارے موجود ہیں، اور میڈیا کی آزادی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک خطرناک طاقت کارفرما ہے جسے ایلن ڈینو کے الفاظ میں Mediocracy سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے اوسط پن اور سطحیت
سطحی پن کا مطلب ہے کہ
گہرائی سے سوچنے کے بجائے سطحی رائے دینا۔
اصول پر ڈٹنے کے بجائے ہر جگہ سمجھوتہ کرنا۔
حقیقت کی تلاش کے بجائے دکھاوے اور نمائشی کامیابیاں اکٹھی کرنا۔
یہ رویہ آج کے معاشروں میں اتنا عام ہو چکا ہے کہ اسے کامیابی اور معیار کا پیمانہ سمجھا جانے لگا ہے۔
سیاست میں سطحی پن کے در آنے سے لیڈر وژنری نہیں رہے۔ بڑے خواب دکھانے کے بجائے اب وہ صرف اگلے الیکشن جیتنے کی فکر کرتے ہیں۔ ڈینو کے مطابق ایسے ہی سیاست دان آگے بڑھتے ہیں جو کھوکھلے وعدے کریں اور طاقتور طبقوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں۔ یوں سیاست مسائل کے حل کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک تماشہ بن چکی ہے۔
اس سطحی سوچ کے اثرات ’تعلیم اور دانش ‘ پر بھی نظر آرہے ہیں
تعلیمی ادارے بتدریج اس سوچ کی لپیٹ میں ہیں۔ جامعات اب تحقیق اور تنقیدی فکر کے مراکز نہیں رہیں بلکہ ڈگریاں بانٹنے اور ملازمتیں دلانے والے ادارے بن گئے ہیں۔ جو استاد یا طالب علم اصولی سوال اٹھاتا ہے، اسے نظام کے لیے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
میڈیا کا حال بھی مختلف نہیں۔ اصل خبر یا تحقیقاتی صحافت کے بجائے ریٹنگ اور اشتہاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ’جو بکے وہی دکھاؤ‘ کا فارمولا صحافت کے مقصد کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں بھی یہی سوچ غالب ہے۔ بڑے وژن یا انصاف پر مبنی پالیسیوں کی جگہ صرف منافع بڑھانے کی کوشش ہے، چاہے اس کے نتیجے میں ماحولیاتی تباہی ہو یا مزدوروں کا استحصال۔
سب سے زیادہ نقصان سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہا ہے۔ معمولی ذہن کے حامل افراد سوشل میڈیا پر ’سٹار‘ بن بیٹھے ہیں۔ ان کا مقصد صرف شہرت اور دولت ہے، اور اس طاقت کے ساتھ وہ نوجوان نسل کو بگاڑ رہے ہیں۔ ان کے اکاؤنٹس دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کی کامیابی کی بنیاد صرف ایک چیز ہے:
اچھل کود، ناچ گانا، چیخنا چلانا، اور بے معنی حرکات۔
یہ ’معروف احمق‘ ایسے الفاظ میں بات کرتے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ پھر بھی لاکھوں لوگ انہیں داد دیتے ہیں، اور جب ان کے فالوورز دس لاکھ سے بڑھ جاتے ہیں تو میڈیا اور ایونٹس میں ان کی پذیرائی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ تماشا نہ صرف اخلاقیات کے زوال کو تیز کر رہا ہے بلکہ نوجوان نسل کو گمراہ سمتوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اس سب کے ذمہ دار ہم سب ہیں — افراد، ادارے اور معاشروں کے منتظمین۔ اگر ہم ان بیہودہ شخصیات کی پوسٹس شیئر کرنا اور ان کی تشہیر کرنا بند کر دیں، تو یہ مصنوعی شہرت دم توڑ دے گی۔ لیکن افسوس، ایسا ہونا مشکل ہے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جو معیار قائم ہو جائے، وہ دن بدن مضبوط ہی ہوتا ہے ۔ چاہے وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار ہوں یا سطحی پن۔
آج کے دور میں قابلیت، اصول اور سچائی کو جلاوطنی دے دی گئی ہے اور ان کی جگہ اوسط پن اور بونا پن نے لے لی ہے۔ یہ سطحیت اگر یونہی بڑھتی رہی تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندہ رہیں گی جہاں سب کچھ ہوگا، مگر سچائی اور وقار غائب ہوگا۔










