عبدالمالک ہاشمی نیکٹر کےساتھ

خاکِ فارس کا مسافر(20)

·

اگلی صبح میں حسبِ وعدہ نیکٹر اور لینا کے ہوٹل پہنچ گیا۔ اب یہ بات آپ کو اچھی لگے یا بری، یورپی اقوام کے ہاں وقت کی پابندی بالکل ویسے ہی فرض ہے جیسے ہمارے ہاں بریانی کی دیگ پر چڑھتے ہی محلے کے بلیّے حاضر ہوجاتے ہیں۔ اور چونکہ طالب علمی کے زمانے ہی سے میں نے وقت کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے، اس لیے آج بھی گھڑی کے کانٹے میرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ خیر، نیکٹر کے ہاں پہنچا تو ناشتہ میری ہی طرح وقت پر میز پر موجود تھا۔

ناشتہ شروع ہوا تو باتوں کا بازار گرم ہوگیا۔ کبھی میں، کبھی لینا اور کبھی نیکٹر، اور گفتگو کا موضوع کبھی ایران کی سڑکیں ہوتیں تو کبھی پاکستان کے پھٹے پرانے اسٹیشن۔ لیکن اصل تماشا ناشتے کے بعد شروع ہوا۔

ہوٹل کے دروازے کے باہر فٹ پاتھ پر ہم تینوں ایک تھڑے پر آ بیٹھے۔ ایران کے فٹ پاتھ اتنے کشادہ اور چمکتے دمکتے ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں کے کسی وزیر کی نئی نویلی لینڈ کروزر کو شرمندہ کر دیں۔ ادھر سے گزرنے والے ایرانی نوجوان نیکٹر پر ایسی نظروں سے گھورتے جیسے ابھی جہاد کا فتویٰ صادر کرنے والے ہوں۔

اور اس بھولے بھالے یورپی کو دیکھ کر وہ تعجب بھی کیوں نہ کرتے؟ نیکٹر نے اپنے لمبے سنہری بالوں کو چھپانے کے لیے ایک ایسی پگڑی باندھ رکھی تھی جو دیکھنے میں یوں لگتی جیسے کسی افغان مجاہد نے عین ہلمند سے اٹھا کر اس کے سر پر رکھ دی ہو۔ اوپر سے لمبی بھوری داڑھی اور مونچھیں، شلوار قمیض اور وہی افغانی جلالی حلیہ—ایرانیوں کو بھلا اور کیا گمان ہوتا؟

ایک کے بعد دوسرا نوجوان آتا، رک کر سوال کرتا۔ ایک نے حیرت سے کہا:

’برادر! تو از کجا آمدی؟‘(بھائی، تم کہاں سے آئے ہو؟)

نیکٹر نے مسکرا کر انگریزی میں جواب دیا: "I am from Belgium.”

نوجوان نے اپنے دوست سے فارسی میں سرگوشی کی:

"بلژیکی؟ این ریش رو نگاه کن، مثل طالبانیہ!” (بلجیکی؟ یہ داڑھی دیکھو، بالکل طالبان جیسی ہے!)

دوسرا نوجوان قریب آ کر پوچھتا ہے:

"ایران چرا آمدی؟” (ایران کیوں آئے ہو؟)

نیکٹر نے کاندھے اچکائے: "Just travelling, my friend.”

تیسرا نوجوان مونچھوں کو گھورتے ہوئے کہتا ہے:

"این ریش چرا این قدر دراز؟” (یہ داڑھی اتنی لمبی کیوں رکھی ہے؟)

نیکٹر نے ہنستے ہوئے انگلی سے داڑھی کی طرف اشارہ کیا: "Because it makes me look… strong!”

یہ سن کر تینوں نوجوان کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔ اسی دوران لینا نے مداخلت کی اور فارسی میں ٹوٹی پھوٹی روانی کے ساتھ کہا:

"او مجاہد نیست… او دوست من است!” (یہ مجاہد نہیں ہے… یہ میرا دوست ہے!)

نوجوانوں نے قہقہہ لگایا، ایک نے کہا:

’خب، حالا ما مطمئن شدیم!‘(اچھا، اب ہمیں یقین آگیا!)

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں عام لوگوں کی داڑھیاں اتنی مختصر ہوتی ہیں کہ ہمارے ہاں کے سرکاری کلرک کی فائل سے بھی کم۔ اور ان کے علما کی داڑھی بھی نیکٹر کی داڑھی کے سامنے کسی کچی سبزی کی ٹہنی معلوم ہو۔

ادھر میں، لینا اور نیکٹر اس سوال و جواب کے تماشے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ آزادی اسکوائر کے قریب یہ جگہ ویسے بھی ایک چوراہا تھی جہاں لوگوں کی آمدورفت اتنی زیادہ تھی کہ لگتا تھا جیسے پورا کرمان شہر اس فٹ پاتھ پر اکٹھا ہوگیا ہو۔ اور نیکٹر، اپنی پگڑی اور داڑھی سمیت، گویا اس ہجوم کا سب سے بڑا تماشا بن چکا تھا۔

آزادی اسکوائر میں یادگار تصویر اور Yidaki کی فرمائش اس شغل میلے کے بعد میں اور نیکٹر آزادی اسکوائر کے باغیچے میں جا نکلے۔ کرمان کے آسمان پر دھوپ تھی مگر ہلکی ہوا میں ایسی نرمی کہ بیٹھنے کو جی چاہے۔ ہم نے طے کیا کہ یہاں ایک یادگار تصویر ہو جائے۔

اتنے میں ایک ایرانی نوجوان نظر آیا جو ایک دوشیزہ کے ساتھ اس انداز میں باتیں کر رہا تھا جیسے دنیا کی سب سے پیچیدہ فلسفیانہ گُتھی سلجھا رہا ہو۔ میں نے آگے بڑھ کر مؤدبانہ انداز میں کہا:

’بھائی، ذرا ایک تصویر کھینچ دیں گے؟‘

نوجوان نے ذرا چونک کر اپنی رفیقۂ گفتگو کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو: ’تمہاری طرف سے اجازت ہے؟‘دوشیزہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ پھر وہ نوجوان بڑی خوش دلی کے ساتھ کھڑا ہوا اور کیمرہ مجھ سے لے کر بولا:

‘ہاں جی، تیار ہو جائیں۔ ہنسی بھی لے آئیے، ورنہ تصویر کا مزہ نہیں آئے گا۔‘

ہم دونوں ہنس پڑے اور کلک کی آواز کے ساتھ لمحہ ہمیشہ کے لیے قید ہوگیا۔ دل نے کہا: کون جانے کل کہاں کی راہیں ملیں گی یا جدا ہوں گی، کم از کم یہ کاغذی یاد ساتھ تو رہے گی۔

اسی دوران نیکٹر نے آہستہ سے بتایا کہ وہ اورلینا بھی اصفہان جانے کا سوچ رہے ہیں۔ خبر سن کر مجھے لگا جیسے تقدیر خود ہماری ملاقاتوں کا منصوبہ بنا رہی ہو، مگر پھر بھی تصویر کو میں نے احتیاطاً لازم جانا۔ انسان اپنی یادوں کو ہمیشہ دوسری گرہ سے باندھنا چاہتا ہے۔مگر ایک فرمائش ابھی تک ادھوری تھی۔ میں نے نیکٹر کی طرف نیم طنزیہ انداز میں دیکھ کر کہا:

’دوست! یہ تصویر تو ہوگئی، لیکنYidaki کا کیا ہوا؟ کب سنواؤ گے وہ بھوبھو کرتی دُھن جو آسٹریلیا کے جنگلات میں گونجتی ہے؟‘

نیکٹر نے قہقہہ لگایا اور بالوں کے لٹکتے گُچھے کو سمیٹتے ہوئے بولا:

’ہاہا! ابھی نہیں۔ جب ہَوا بالکل خاموش ہوگی اور تمہارا دل دھڑکنے لگے گا، تب سناؤں گا۔‘

میں نے کہا:

’تو پھر سمجھو میں اُس دن کے انتظار میں خود بھی Yidaki کی طرح اندر سے بھوبھو کر رہا ہوں گا!‘

ہم دونوں ہنس دیے، اور آزادی اسکوائر کے درخت بھی جیسے اس قہقہے میں شامل ہوگئے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں