پاکستان آزاد کشمیر مذاکرات کمیٹی

آزاد کشمیر (JAAC) معاہدہ — سماجی، سیاسی اور معاشی اثرات

·

آزاد جموں و کشمیر میں 2024 اور 2025 کے درمیانی عرصے میں عوامی احتجاج، معاشی بے چینی اور سماجی دباؤ کے پس منظر میں ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘(JAAC) ایک اہم عوامی تحریک کے طور پر ابھری۔ یہ تحریک ابتدا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، ٹیکسوں اور حکومتی مالی پالیسیوں کے خلاف شروع ہوئی، مگر بعد ازاں اس کا دائرہ عوامی نمائندگی، شفاف حکمرانی اور مقامی خودمختاری جیسے بڑے سیاسی سوالات تک پھیل گیا۔

تحریک کا باقاعدہ آغاز 2024 میں بجلی کے نرخوں پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ اور اشیائے ضروریہ پر عائد نئے محصولات سے ہوا، کیونکہ ان حکومتی اقدامات نے آزاد کشمیر کے عام شہریوں پر شدید معاشی دباؤ ڈال دیا تھا۔ اس صورتِ حال میں مختلف تاجر انجمنوں، سول سوسائٹی اور طلبہ گروپوں نے مل کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم — ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘— قائم کیا۔

یہ تحریک پرامن احتجاج پر مبنی تھی، تاہم حکومتی لاتعلقی، سیاسی جماعتوں کی خاموشی اور انتظامی بے حسی کے باعث اس کے مطالبات میں بتدریج شدت پیدا ہوئی۔ کئی مواقع پر نوبت تصادم تک جا پہنچی۔ بالآخر 2024 میں حکومت نے عوامی دباؤ کے نتیجے میں اس کے بنیادی مطالبات — آٹے کی قیمت میں سبسڈی اور آزاد کشمیر کو بجلی کاسٹ ریٹ پر فراہم کرنے — کو تسلیم کر لیا۔

سال 2025 کے جولائی میں عوامی ایکشن کمیٹی نے وسیع تر مطالبات پر مشتمل 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ اس کے بعد 4 اکتوبر 2025 کو مظفرآباد میں طے پانے والا 25 نکاتی معاہدہ عوامی احتجاجوں کے نتیجے میں وجود میں آیا، جس میں بنیادی مطالبات کے حل پر اتفاق کیا گیا۔

اس معاہدے میں مظاہروں کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضے اور ملازمتوں کی فراہمی، تعلیمی بورڈز کی توسیع اور وفاقی وابستگی، ہیلتھ کارڈ اور MRI/CT مشینوں کا نفاذ، بجلی کے نظام کے لیے 10 ارب روپے کی فنڈنگ، کابینہ اور انتظامی ڈھانچے کے حجم کی حد، احتساب کا انضمام، انفراسٹرکچر منصوبے جیسے نیلم ویلی ٹنلز اور میرپور ایئرپورٹ، پراپرٹی ٹیکس اور ٹرانسپورٹ پالیسی کی اصلاح، واٹر سپلائی اور ہائیڈل پروجیکٹس کا آغاز، اور گرفتار مظاہرین کی رہائی شامل ہیں۔

یہ معاہدہ 38 نکاتی چارٹر پر مبنی ہے اور اس کے نفاذ کی نگرانی وفاقی وزیرِ امورِ کشمیر کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کرے گی، جو ہر پندرہ دن بعد پیش رفت کا جائزہ لے گی۔

1. عوامی خوداعتمادی کا ابھار:

اس تحریک نے عام شہری کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ اجتماعی عوامی دباؤ کے ذریعے حکومتی فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔

2. شعور میں اضافہ:

تاجروں، مزدوروں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک ہی پلیٹ فارم پر جدوجہد سے باہمی ربط اور تنظیمی شعور میں اضافہ ہوا، جس نے سیاسی بیداری کی نئی لہر پیدا کی۔

3. عوامی یکجہتی کے باوجود تقسیم کا خطرہ:

چونکہ اس تحریک میں مختلف نظریاتی، مذہبی اور سیاسی طبقات شامل تھے، اس لیے مستقبل میں اندرونی اختلافات کے ابھرنے کے امکانات موجود ہیں۔

1. سیاسی جماعتوں کی لاتعلقی:

بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے JAAC کی تحریک میں شمولیت سے گریز نے ایک واضح سیاسی خلا پیدا کیا ہے۔

2. قوم پرست قوتوں کا ابھار:

سیاسی خلا کے نتیجے میں ’قوم پرست انتشاری قوتوں‘ کو تقویت ملی ہے، جو ریاستی عملداری کے لیے طویل المدتی خطرہ بن سکتی ہیں۔

3. عوامی قیادت کی نئی جہت:

روایتی سیاسی قیادت کے برعکس، JAAC کے مقامی رہنما اب ایک متبادل سیاسی اثر رکھتے ہیں — جو مستقبل میں بلدیاتی یا قانون ساز انتخابات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

1. بازار اور تاجروں کا مرکزی کردار:

انجمن تاجران کی فعال شرکت نے معاہدے میں دکاندار طبقے کو سب سے نمایاں بنایا، جس کے نتیجے میں دیگر طبقات، خصوصاً مزدور اور کسان، قدرے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

2. اشیائے ضروریہ کے معیار اور قیمتوں کے ریگولیٹری نظام میں رکاوٹ:

تاجروں کے اثر و رسوخ میں اضافے کے باعث قیمتوں اور معیار پر کنٹرول، منافع کی حد، اور مارکیٹ ریگولیشن مزید کمزور پڑ سکتی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام صارف کو پہنچے گا۔

3. سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر:

حالیہ عوامی لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاری اور بینکنگ سیکٹر میں محتاط رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

1. سیاسی اداروں کی کمزوری:

اگر عوامی احتجاج ہی پالیسی سازی کا ذریعہ بن گیا تو ادارہ جاتی نظام مزید کمزور ہو سکتا ہے۔

2. قوم پرست گروہوں کی مضبوطی:

سیاسی جماعتوں کی غیر فعالیت کے باعث یہ گروہ عوامی حمایت حاصل کر سکتے ہیں، جس سے مسلسل انتشار کی کیفیت جنم لے سکتی ہے۔

3. سماجی پولرائزیشن:

احتجاج کے دوران سامنے آنے والی انتہا پسندی کے مظاہر اگر ابتدا ہی میں نہ روکے گئے تو مختلف نظریاتی گروہوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

4. ریاستی حکمرانی پر سوال:

اگر عوامی فیصلے مستقل طور پر سڑکوں پر طے ہونے لگیں تو حکومتی عملداری کمزور اور ادارہ جاتی وقار متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ JAAC معاہدہ بظاہر ایک عوامی کامیابی ضرور ہے، مگر اس کے اندر ریاستی نظم و نسق، معاشی استحکام اور سیاسی توازن کے لیے کئی چیلنجز پوشیدہ ہیں۔

اگر حکومت، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس موقع کو دانشمندی سے استعمال نہ کریں تو یہ تحریک مستقبل میں آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے کو بدل سکتی ہے — اور ممکنہ طور پر ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔

اس صورتحال سے بچنے کے لیے:

حکومت کو ایک مستقل مشاورتی ادارے کے قیام پر غور کرنا چاہیے، جس میں JAAC کو شامل کیا جائے۔

سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات اور ڈکٹیشن کی سیاست سے نکل کر نئے حالات کے مطابق اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

عوامی نمائندوں، تاجروں اور انتظامیہ کے درمیان ایک ریگولر ڈائیلاگ فورم قائم کیا جانا چاہیے تاکہ باہمی اختلافات شدت اختیار نہ کریں۔

میڈیا کو اس تحریک کو ’پاکستان مخالف بیانیے‘کے بجائے ایک عوامی سماجی ردِعمل کے طور پر پیش کرنا چاہیے تاکہ قوم پرست انتشاری عناصر اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں