نقاب کے اُس پار کا ایران۔۔۔۔
تصویر کھنچوانے کے بعد، میں نے نیکٹر اورلیناسے وہی رخصتی کی جو مسافر ہمیشہ ہنستے ہوئے کرتا ہے مگر دل کے کسی کونے میں اداسی کی چھوٹی سی لہر چھوڑ جاتا ہے۔ دونوں نے ہاتھ ہلایا، اور میں، ایک اجنبی مسکراہٹ اور ایک مانوس بوجھ کے ساتھ، بینکِ ملی ایران کی طرف روانہ ہوگیا۔
یہ جولائی 2001 کی بات ہے۔ سورج اپنے عروج پر تھا اور سڑک روشنی میں یوں نہائی ہوئی تھی جیسے دن نے خود کو کھول کر بچھا دیا ہو۔ میں کرمان کے فٹ پاتھ پر چل رہا تھا اور اردگرد کا ایران میرے سامنے ایک متجسس فلم کی طرح رواں تھا مگر یہ کوئی خستہ حال مشرقی قصہ نہیں تھا، یہ 2001 کا نیا ایران تھا، جس میں پرانی روایتوں کے ساتھ جدید شہر کا شور بھی شامل ہو چکا تھا۔
کرمان کے بازاروں میں دکانیں قطار در قطار، شیشے کے دروازے، روشن بورڈ، اور ان پر فارسی میں چمکتے نام۔ کہیں الیکٹرانکس کی دکان پر ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر اور کیسٹیں آویزاں تھیں؛ کہیں میڈیکل اسٹور میں سفید کوٹ پہنے لڑکا گاہک کو گولیوں کے ساتھ مسکراہٹ بھی بیچ رہا تھا۔
شربت فروش شیشے کے گول حماموں میں رنگ برنگی ٹھنڈی بوتلیں سجا کر کھڑے تھے — لال، نیلی، سبز — برف کے ٹکڑوں میں چمکتی ہوئی۔ دھوپ ان بوتلوں میں ایسے گھس آئی تھی جیسے خود کو ٹھنڈا کرنے آئی ہو۔
ایک ریستوران کے باہر دھواں اٹھ رہا تھا، اور چلِّو کباب کی خوشبو نے فضا کو قابو میں کر رکھا تھا۔
میں رک کر کچھ دیر تماشہ دیکھتا رہا ۔ باورچی کے ہاتھوں میں عجب مہارت تھی، وہ سیخوں پر کباب اِس انداز میں پلٹ رہا تھا جیسے کوئی فنکار مٹی کے دیے کو آخری بار چھو رہا ہو۔
فٹ پاتھ صاف، منظم اور نکھرا ہوا تھا۔ لوگ تیزی سے گزر رہے تھے، اور ہر چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ شاید یہ اس بات کا اطمینان تھا کہ ایران نے مشکل وقتوں کے باوجود اپنی رفتار قائم رکھی ہے۔
راستے کے ایک کونے میں پی سی او کا پیلا بوتھ کھڑا تھا، جیسے زمانے کے بیچ تنہا گواہ ہو۔
اندر ایک نوجوان سر جھکائے کال کر رہا تھا، دوسری طرف شاید کوئی محبوبہ، یا وطن سے کوئی دوست ہوگی۔
میں نے مسکرا کر سوچا، یہ وہ زمانہ ہے جب آواز کو پہنچنے میں وقت لگتا تھا، مگر دل کی دھڑکن فوراً جواب دیتی تھی۔‘
کرمان کے اس منظر میں نہ جدید ٹیکنالوجی تھی، نہ قدیم ویرانی، بس زندگی تھی، اپنی پوری سادگی اور وقار کے ساتھ بہتی ہوئی۔
میں نے سوچا، یہ وہ ایران ہے جو نہ ماضی میں اٹکا ہوا ہے نہ مستقبل کی دوڑ میں ہانپ رہا ہے ۔
یہ ایران آج میں جیتا ہے، اور یہی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔
کرمان کے فٹ پاتھ پر چلتے چلتے میں نے محسوس کیا کہ کرمان آنے سے قبل ، زاہدان اور بم میں پردے کا معاملہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ تھا۔ وہاں عورتیں چادری میں اس طرح لپٹی نظر آئیں جیسے کسی راز میں لپٹی ہوئی ہوں۔ پورا وجود ایک سیاہ چادری کے پیچھے غائب، بس قدموں کی چاپ رہ جاتی تھی، جیسے ہوا میں سرگوشی۔
بلوچ لڑکیاں تو سڑکوں پر خال خال ہی دکھائی دیتی تھیں، اور جو دکھائی دیں، ان کے چہرے پر وہ گہری سنجیدگی تھی جو صحرائی عورتوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ رنگت سانوَلی، مگر آنکھوں میں عجب خودداری۔
کرمان کی فضا — روایت اور شوخی کا امتزاج
کرمان پہنچا تو لگا جیسے کسی اور ملک میں قدم رکھ دیا ہو۔
فضا ہی بدل گئی تھی۔ سورج کچھ زیادہ ہی شوخ تھا، جیسے اپنے ہی حسن پر نازاں ہو، اور ہوا میں خوشبو نہیں بلکہ عطر کا تاثر گھلا ہوا تھا؛ وہی مہک جو مشرقی تہذیب کی گہرائی سے ابھرتی ہے۔
کرمان کی لڑکیاں پردے کو پردہ نہیں بلکہ ایک نفیس طرزِ اظہار سمجھتی تھیں۔
آدھا سر اسکارف میں ڈھکا ہوا، اور آدھا دھوپ سے دوستانہ کرتا ہوا۔
زلفوں کی چند لٹیں آزادی کی خوشبو میں جھولتی ہوئی چلتی تھیں،
گویا وہ خود سے، اپنے وجود سے مطمئن تھیں۔
ان کے انداز میں وہی بے فکری تھی جو صرف ان شہروں میں سانس لیتی ہے جہاں آزادی اور روایت نے ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں بلکہ ایک نرم سمجھوتہ کر رکھا ہو۔
یہ ہاشمی رفسنجانی کا ایران تھا ۔
ایک ایسا زمانہ جب معاشرہ اعتدال کی دھوپ میں سانس لے رہا تھا،
اور ابھی مَہسا امینی کے دور کی مذہبی شدت پسندی کا سایہ اُفق پر نمودار نہیں ہوا تھا۔
اُس وقت کا ایران توازن کا ایران تھا —
نہ مکمل مذہبی جبر، نہ مکمل مغربی تقلید —
بس ایک ایسا ملک جو اپنی روایات کو نبھاتے ہوئے بھی آگے بڑھنے کی ہمت رکھتا تھا۔
ایک لڑکی فٹ پاتھ پر سے گزری۔ لمبا، گھٹنوں تک پہنچتا ہوا کوٹ، جو بظاہر اسلامی تہذیب کی علامت تھا مگر حقیقت میں مغربی تراش خراش کا شاہکار۔ پاؤں میں اونچی ایڑیوں والے سینڈل، اور چال میں وہ اعتماد جو مردوں کے دلوں کو نہیں، گردنوں کو جھکاتا ہے۔
میں نے خود سے کہا:
’واہ ایران! تو نے تو اپنے نقاب کے نیچے جدیدیت کو چھپا رکھا ہے۔‘
ایک نوجوان میرے قریب سے گزرتا ہوا مسکرایا۔ شاید میرے تجسس کو بھانپ گیا تھا۔
بولا، ’جناب، آپ شاید پہلی بار کرمان آئے ہیں؟‘
میں نے کہا، ‘جی ہاں، اور ابھی سے حیران ہوں۔‘
وہ ہنسا، ‘یہاں کے لوگ قدیم اور جدیدکے بیچ رہتے ہیں۔ ہم چادر بھی اوڑھتے ہیں اور جینز بھی پہنتے ہیں۔ جیسے چائے میں شکر کم ہو، مگر ذائقہ برقرار رہے۔‘
میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اس جملے میں ہی ایران کا سارا فلسفہ چھپا ہوا ہے، مذہب اور ماڈرن ازم کا ایسا امتزاج کہ مغرب والے الجھن میں پڑ جائیں، اور مشرق والے فتویٰ دینے لگیں۔
اس مشاہدے کے دوران میں ، میں ابھی نیکٹر اور لینا سے زیادہ دور نہیں گیا تھا۔ نیکٹر سے ملاقات کا شور شرابا ابھی تھما ہی تھا۔ وہی نیکٹر جو اپنی خود پسندی میں کبھی کبھار ایسے بولتا تھا جیسے کسی فلم کا ہیرو ہو، اور ہم سب اس کی معاون کاسٹ۔ ہوٹل کے باہر فٹ پاتھ پر قہقہے گونج رہے تھے۔ منیجر نے دو تین بار آ کر نہایت سنجیدگی سے کہا:
’صاحب، پلیز یہاں شور نہ کریں۔ مہمان آرام کر رہے ہیں۔‘
لیکن ہم وہ مسافر تھے جنہیں آرام سے زیادہ شور عزیز تھا۔ نیکٹر کے گرد ایک دائرہ سا بن گیا تھا۔ مقامی لوگ اس کے ساتھ تصویریں لے رہے تھے، کوئی اس کی پگڑی پر تبصرہ کر رہا تھا، کوئی اس کی گوری رنگت پر۔ اور نیکٹر، اپنی پوری سفلی خوشی کے ساتھ، اس توجہ میں نہا رہا تھا۔
ایک ایرانی نوجوان سے ملاقات ۔۔۔
میں جب ہوٹل کے دروازے سے نکلا تو سامنے ہی ایک چھوٹی سی دوا کی دکان تھی۔ اس کے اندر سے ایک نوجوان مجھے ہاتھ ہلا کر بلا رہا تھا۔
’ہیلو دوست! ایک منٹ رکو!‘ اس نے انگریزی میں کہا۔
میں رکا۔ وہ مسکرایا۔ آنکھوں میں تجسس کی چمک تھی۔
’یہ پگڑی والا کون تھا؟ بڑا مشہور لگ رہا تھا۔‘
میں ہنسا۔ ’ارے نہیں، مشہور کہاں! ایک سیاح ہے۔ بیلجیم سے آیا ہے۔‘
’بیلجیم؟‘اس نے حیرت سے دہرایا، ’بیلجیم والے بھی پگڑی باندھتے ہیں کیا؟’
’نہیں، اس کی پگڑی کی داستان بھی ایک دلچسپ داستان ہے، پھر کبھی بتاؤں گا۔‘
یوں ہماری گفتگو کا آغاز ہوا۔ اس کا نام محسن تھا۔ میڈیکل اسٹور کے کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا، چہرے پر وہ تازگی جو صرف ان نوجوانوں میں ہوتی ہے جو اب بھی دنیا سے امید رکھتے ہیں۔ اسٹور میں اس کے دو تین دوست بھی تھے۔ خوش پوش، خوش گفتار، اور مغربیت کے رنگ میں رنگے ہوئے۔ ان کے انداز، ان کی گفتگو، ان کی مسکراہٹوں سے صاف لگتا تھا کہ مذہبی شدت پسندی یہاں کی گلیوں میں ابھی داخل نہیں ہوئی۔
باتوں باتوں میں محسن نے بتایا کہ وہ کچھ برس کراچی میں گزار چکا ہے۔ وہاں ایک دو نوکریاں کیں، اور اب بھی اس کے لہجے میں اُس شہر کی نمی باقی تھی۔
’اچھا زمانہ تھا،‘وہ بولا، ’کام بہت نہیں، مگر روپے کی قدر تھی۔’
میں نے مسکرا کر پوچھا، ’تو اب یہاں واپس کیوں آ گئے؟‘
کہنے لگا، ’1997 میں، ایک پاکستانی روپیہ ہمارے پندرہ تومان کے برابر تھا۔ میں جو کچھ کماتا، بھیج دیتا۔ یہاں کے پیسوں میں وہ رقم بڑی لگتی تھی۔‘
وہ لمحہ مجھے چونکا گیا۔ ایک طرف غریب تر ملک میں بہتر کمائی، دوسری طرف اپنے ملک کی سکون بھری زندگی — جیسے انسان کو دو راستوں میں سے کوئی ایک چننا ہو۔
محسن بولا، ’پاکستان میں پیسہ اچھا تھا، مگر ایران میں جینا آسان ہے۔ یہاں سڑکیں صاف ہیں، شہر منظم، لوگ قانون مانتے ہیں۔‘
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
واقعی، اُس زمانے میں ایران کے شہری انتظامات پاکستان سے کہیں بہتر تھے۔ سڑکیں ہموار، اشارے درست، اور حکومتی نظم و ضبط کہیں زیادہ نمایاں۔ ہاں، اگر کسی معاملے میں وہ پیچھے تھے تو ٹیکنالوجی میں۔
انٹرنیٹ اور فون کی سہولتیں ابھی نوزائیدہ تھیں۔ بعض اوقات کسی سے بات کرنے کے لیے دس منٹ لائن میں کھڑا رہنا پڑتا۔
میں نے بات ہنسی میں اڑا دی، ’تمہارے پاس میٹرو تھی، ہمارے پاس رکشے کا ہارن!‘
محسن ہنسا۔
ایران کے مقابلے میں پاکستان کی ترقی کا نقشہ میرے ذہن میں بننے لگا۔
میں نے کہا، ’تمہارے ملک کی سڑکیں، عمارتیں، سب کچھ ہم سے بہتر ہیں۔‘
وہ بولا، ’ہاں، لیکن تمہارے لوگ زیادہ زندہ دل ہیں۔ ہم زیادہ تھکے ہوئے ہیں۔‘
میں نے مسکرا کر کہا، ’زندہ دل تو ہیں، مگر بجلی کے بغیر اکثر اَدھ موئے بھی رہتے ہیں!‘
واقعی، تہران میں اُس وقت میٹرو باقاعدہ چل رہی تھی، جب پاکستان میں ابھی منصوبے کے خاکے بھی نہ بنے تھے۔
’ہم سے اٹھارہ سال آگے تھے تم لوگ،‘میں نے سوچا۔
لیکن پھر دل نے کہا — شاید ترقی وہ نہیں جو سڑکوں پر چلتی ہے، بلکہ وہ جو انسان کے اندر چلنے لگے۔(جاری ہے)










