غزہ میں بچے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے

غزہ امن منصوبہ، حماس کی جائز حکمرانی اور اسرائیلی پریشانی

·

غزہ جنگ بندی معاہدہ جس کو ’غزہ امن معاہدے‘ کا نام دیا جارہا ہے، اس حوالے سے بہت سی تنقید و توصیف ہورہی ہے لیکن اس ڈیل کے چند پہلوؤں پر بات ابھی تک نہیں کی گئی مثلاً حماس کا ہتھیار ڈالنا یا نہ ڈالنا، حماس کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا، اور ٹرمپ کی اس ڈیل میں کیا سب کچھ اسرائیل کے حق میں ہے؟

اگر یہ اسرائیل کے حق میں تھا تو حماس نے یہ معاہدہ منظور کیوں کیا؟

پاکستان میں حکومت پاکستان کو فلسطینیوں کا غدار اور دیگر عرب ممالک کو بہت کچھ کہا گیا میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ زیر نظر مضمون میں حاصبان عقل کے لیے بہت کچھ ہے۔

یہ تجزیہ 17 اکتوبر 2025 کو اسرائیلی اخبار Haaretz میں شائع ہوا۔ اس کا اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے اس درخواست کے ساتھ کہ بین الاقوامی سیاست میں بہت کچھ وہ ہوتا ہے جو لکھا ہوا نہیں ہوتا۔


حماس جس کو امریکا و برطانیہ دہشتگرد گروہ قرار دیتے تھے، وہ آج ان کی ہی نظر میں کہاں ہے اور یہی اس مسئلے کا پہلا پڑاؤ ہے۔

قابلِ عمل متبادل کے بغیر، ٹرمپ کا منصوبہ غزہ میں حماس کی حکمرانی کو جائز حیثیت دے سکتا ہے

’میں نے حماس سے بات کی، اور میں نے کہا، تم ہتھیار ڈالنے جا رہے ہو نا؟ ‘جی سر، ہم ہتھیار ڈال رہے ہیں’، یہی انہوں نے مجھے بتایا،‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی سے ملاقات کے دوران کہا۔ بعد ازاں امریکی صدر نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے براہِ راست حماس سے بات کی، اور ملاقات کے دوران مزید کہا: ’اگر وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے، تو ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے … جلدی اور شاید طاقت کے ذریعے۔‘

تاہم، طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حماس کو غزہ میں داخلی سکیورٹی فورس کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ٹرمپ نے کہا، ’حماس کے رہنما مسائل ختم کرنا چاہتے ہیں، اور وہ اس بارے میں کھل کر بات کر رہے ہیں، ہم نے انہیں ایک مدت کے لیے اجازت دی ہے۔ وہاں تقریباً 20 لاکھ لوگ اپنی تباہ شدہ عمارتوں میں واپس جا رہے ہیں، اور بہت سی بری چیزیں ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ محفوظ ہو۔‘

صدر نے مزید کہا کہ اگرچہ انہیں یقین ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ اس بات سے بھی غیر متاثر دکھائی دیے کہ حماس نے ان گینگ ممبران کو سزائے موت دی جو اسرائیلی سرپرستی میں سرگرم تھے۔ انہوں نے کہا، ’وہ لوگ بہت، بہت برے تھے۔‘

امکان نہیں کہ ٹرمپ اپنی تمام باتیں یاد رکھیں گے۔ لہٰذا اسرائیل کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ اپنی عسکری حکمتِ عملی ٹرمپ کے بیانات پر مبنی نہ کرے، نہ ہی ان میں کوئی تسلسل تلاش کرنے کی کوشش کرے جس سے وہ کوئی پالیسی اخذ کر سکے یا یہ سمجھ سکے کہ حماس کے خلاف کارروائی میں اس کی آزادی کی حدود کیا ہیں۔

تاہم ایک بات واضح ہے  کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ اس عبوری مرحلے میں، جب یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی کا عمل نہایت سست روی کا شکار ہے اور اسرائیل پہلے ہی غزہ کی 53 فیصد زمین سے پیچھے ہٹ چکا ہے، حماس نے مسلح قوت کے بل پر اقتدار کو مضبوط کر لیا ہے اور ٹرمپ کی اجازت سے غزہ میں داخلی سکیورٹی پر عملاً قابض ہو گئی ہے۔

اس مرحلے پر دو صدارتی احکامات کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا مشکل ہے۔ ایک کے مطابق جنگ ختم ہو چکی ہے، جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو اسے زبردستی غیر مسلح کیا جائے گا۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان وہی منظرنامہ تشکیل پا سکتا ہے جو لبنان، شام اور عراق میں موجود ہے۔

ان تینوں ممالک میں مسلح ملیشیائیں عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور بعض علاقوں پر قابض بھی ہیں، حالانکہ ہر ملک نے یا تو ان ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے یا انہیں قومی فوج میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

لبنان میں حزب اللہ کے پاس اب بھی حملہ آور اور دفاعی ہتھیار موجود ہیں، جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ لبنانی فوج نے دریائے لیتانی کے جنوبی حصے میں اس کے ٹھکانے ختم کرنے اور اس کے جنگجوؤں سے ہتھیار جمع کرنے کا عمل شروع کیا ہے، مگر دریا کے شمالی حصے میں یہ عمل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور لبنانی کابینہ کے فیصلے کے باوجود، ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔

اس غیر فعالیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکا کے سخت دباؤ اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود لبنان کو خدشہ ہے کہ حزب اللہ سے تصادم ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل سکتا ہے۔

لبنانی حکومت کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل لبنان کے اندر پانچ مقامات پر قابض ہے اور لبنانی اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنا ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ ٹرمپ انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر مکمل جنگ بندی پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ دریں اثنا، حزب اللہ کابینہ اور پارلیمان دونوں میں شامل ہے اور ان کے ذریعے لبنانی پالیسی پر اثرانداز ہوتی ہے۔

شام میں، صدر احمد الشرع کی نئی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرے گی اور انہیں قومی فوج میں ضم کرنے کے لیے امریکا سے منظوری حاصل کر لی ہے۔ درحقیقت، ان ملیشیاؤں کا ایک بڑا حصہ جو الشرع کے ساتھ اس وقت لڑا جب وہ اپنی جہادی ملیشیا ’حیات تحریر الشام‘ کی قیادت کرتے ہوئے سابق صدر بشار الاسد کے صدارتی محل پر کامیاب حملہ کر چکے تھے، اب قومی فوج میں شامل ہونے پر آمادہ ہے۔

تاہم درجنوں ملیشیائیں اور گینگ اب بھی حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر شام میں سرگرم ہیں۔

الشرع کو سب سے بڑا چیلنج کرد فورسز اور دروز ملیشیاؤں کو فوج میں ضم کرنا ہے۔ وہ ان کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، مگر امریکا اور ترکیہ کی مداخلت اور دباؤ کے باوجود کرد مسئلے میں اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود دروز مسئلے میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

عراق میں بھی مہینوں سے شیعہ ملیشیاؤں کو قومی فوج میں ضم کرنے کے قانون پر بحث جاری ہے مگر کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ ملیشیائیں بظاہر عوامی رضاکار فورسز (Popular Mobilization Forces) کے تحت متحد ہیں، جو ایران نواز شیعہ گروہوں کا اتحاد ہے اور عراق کی وزارتِ دفاع کے ماتحت ہے۔ تاہم، ریاستی فنڈنگ کے باوجود، ان کے پاس ایران یا ایران نواز عراقی سیاستدانوں کے مفاد میں آزادانہ کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔

یہاں بھی واشنگٹن حکومتِ عراق سے سخت مذاکرات کر رہا ہے، مگر لبنان کی طرح سیاسی مصلحتیں اور اندرونی تصادم کا خوف امریکی دباؤ پر غالب آ رہا ہے۔

ان تمام ممالک میں مسلح ملیشیائیں معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کی حیثیت اور غزہ کی صورتحال میں بنیادی فرق یہ ہے کہ لبنان، شام اور عراق میں ایک بااختیار حکومت موجود ہے جس سے امریکا بات چیت کر سکتا ہے، دباؤ ڈال سکتا ہے یا سمجھوتہ کر سکتا ہے۔

مگر غزہ میں کوئی حکومت موجود نہیں۔ نہ اسے فلسطینی اتھارٹی کے تابع کرنے کا ارادہ ہے، اور نہ ہی اس عبوری ’امن کونسل‘ کے قیام کی کوئی طے شدہ تاریخ ہے  جس کا تصور ٹرمپ نے پیش کیا ہے اور جس کی سربراہی وہ خود کریں گے، ممکنہ طور پر اس میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔ اسی طرح یہ بھی غیر واضح ہے کہ عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کب تشکیل پائے گی۔

یہ واضح ہے کہ حتیٰ کہ ISF کے قیام کے بعد بھی، اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی تو وہ غزہ میں ٹرمپ کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے داخل نہیں ہو سکے گی۔ اس فورس کے لیے پرامن داخلے کو یقینی بنانے کے لیے ثالث ممالک کو حماس سے بات چیت کرنا ہوگی، اور ممکن ہے امریکا کو بھی براہِ راست مذاکرات کرنا پڑیں۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی، کیونکہ براہِ راست امریکی مذاکرات کی نظیر پہلے ہی قائم ہو چکی ہے جب ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے یرغمالی امور، ایڈم بُہلر، نے فروری میں دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے براہِ راست بات کی تھی۔

یہ سلسلہ اس وقت معمول بن گیا جب امریکی نمائندوں اسٹیو وِٹکاف اور جیرڈ کُشنر نے حال ہی میں مصر میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔

ایسے براہِ راست مذاکرات مستقبل میں بھی ممکن دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے حماس کو غزہ میں سکیورٹی کے لیے طاقت استعمال کرنے کی اجازت دینا، خواہ عارضی طور پر ہی سہی، نہ صرف تنظیم کو جائز حیثیت دیتا ہے بلکہ اسے غزہ کی انتظامیہ کا عملی حصہ بنا دیتا ہے اگرچہ باضابطہ طور پر اسے شہری حکومت کا حصہ تسلیم نہیں کیا گیا۔

یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس طرح اسرائیل کے لبنان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے نے حزب اللہ کو بطور تنظیم تحلیل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا، ٹرمپ کا غزہ منصوبہ بھی حماس کی تحلیل کا تقاضا نہیں کرتا۔ بلکہ یہ راستہ کھلا چھوڑتا ہے کہ حماس مستقبل میں ایک غیر مسلح سیاسی تحریک میں تبدیل ہو سکے۔

نتیجتاً اسرائیل کو اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ جس طرح ٹرمپ نے افغانستان میں طالبان سے معاہدہ کیا، الشرع کی دہشتگرد ملیشیاؤں کو جائز قرار دیا، اور حزب اللہ سے تحلیل کا مطالبہ نہیں کیا وہ اسی طرح حماس کو بھی ’قابلِ قبول‘ تنظیم کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، اگر وہ صرف ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو جائے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں