بانک ملی ایران

خاکِ فارس کا مسافر(22)

·

گرمیوں کی چھٹیوں کے اختتام پر میں ایک بار پھر ریاض کے تپتے آسمان کے نیچے اُتر آیا۔ جامعہ امام کی عمارت مجھے ایسے خوش آمدید کہہ رہی تھی جیسے کوئی پرانی محبوبہ، جو جانتی ہے کہ تم واپس تو آؤ گے مگر دیر سے۔

واپسی کے بعد ،میں نے خود کو کتابوں کے بوجھ تلے دفن کر لیا، اور محسن کو اس طرح بھول گیا جیسے کوئی پرانی فائل جس پر ’دوبارہ یاد دلانا‘ کا اسٹیکر بھی نہ لگا ہو۔

پھر اپریل 2002 آیا — وہ مہینہ جس میں درختوں کو بھی عشق کے دورے پڑتے ہیں۔ اور میں نے محسن کو ایک ایمیل لکھی۔ ایک معذرت خواہانہ ایمیل، کہ حضورِ والا، میں اپنی تعلیمی مشقتوں میں ایسا الجھا کہ تمہاری یاد بھی تسبیح کی ایک دانہ بن کر انگلیوں سے پھسل گئی۔

محسن کا جواب آیا تو اس میں محبت نہیں، بلکہ نکاح کی فائل کھلی تھی۔

’یار، کسی پاکستانی لڑکی سے شادی کرنی ہے، کوئی رشتہ دیکھ دو۔‘

میں نے جواب میں لکھا، ’جناب، میں خود رشتوں کے ریگستان میں خیمہ زن ہوں اور تمہیں نخلستان کی تلاش ہے۔ بھئی تمہارے لیے تو بہتر یہی ہے کہ کسی ایرانی دوشیزہ سے نکاح کر لو۔ اپنے دیس کی، اپنی فضا کی بیٹی۔ کم از کم وہ تمہاری فارسی مزاج کو سمجھ لے گی، اور کھانے میں زعفران ڈالنے پر اعتراض بھی نہیں کرے گی۔‘

ادھر میں خود رشتے کے میدانِ جنگ میں مورچہ بند تھا۔ دو تین جگہ انٹرویو دے چکا تھا۔ جی ہاں، آج کل شادی بھی ایک انٹرویو بیسڈ پروجیکٹ بن چکی ہے۔

جہاں والدین کے چہروں پر سنجیدگی اور لڑکی کے ماموں کے سوالوں میں تفتیشی ایجنسیوں کی جھلک ملتی ہے۔

ایک انٹرویو تو کراچی کی دہلی کالونی میں ہوا۔ خدا کی پناہ! لگا جیسے سی ایس ایس کا وائیوا دے رہا ہوں، بس فرق یہ تھا کہ وہاں کامیابی کے بعد نوکری ملتی ہے، یہاں بیوی۔

پینل میں لڑکی کے والد تو خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے، جیسے وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کے نہیں بلکہ میری قسمت کے ناظر ہوں۔ مگر ماموں صاحب، ارے وہ تو ایسے برسے جیسے ایف بی آر کا آڈٹ کر رہے ہوں۔

’بیٹا! سعودی عرب سے فارغ ہو کر کیا کرو گے؟‘

میں نے دل ہی دل میں سوچا، ’کہہ دیتا ہوں، جناب! فارغ ہی رہوں گا، آرام سے!‘

مگر دل نے فوراً زبان کو ایک ہلکی سی تھپکی نہیں، پورا تھپڑ دے مارا — ’خبردار! ایسی خودکشی مت کرنا!‘

آخر وہ خود تاجر تھے، بات کا تول بھی کرتے اور بھاؤ بھی۔

یوں محسوس ہوا جیسے ان کی نظروں میں پڑھائی بھی منافع بخش ہونی چاہیے ۔

’دولہا بھی مال والا ہو، اور بات بھی کاروباری ہو!‘

میں چونکہ ان کے کمرشل معیارِ رشتہ داری پر پورا نہ اترا، اس لیے انٹرویو بھی ناکام، رشتہ بھی نامراد۔

یوں ایک اور فائل بند ہوئی، اور میں اگلے ماموں کے امتحان کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔

یہ جولائی 2001 کے تپتے ہوئے دن تھے۔ کرمان کی سڑکیں دھوپ سے چمک رہی تھیں، جیسے سورج نے آج خاص طور پر ایران کے اِسی شہر کو اپنے تند مزاجی کی مشق کے لیے چن لیا ہو۔

گرمی ایسی کہ ہَوا بھی چلتی تو بھٹی کا دھواں لگتی۔ میں نیکٹر اور لیناسے رخصت ہوکر چند امریکی ڈالر تُڑوانے کے لیے بانکِ ملی ایران کی ایک برانچ جا رہا تھا۔ راستے میں ایک خوش گفتار، نرم لہجے والا نوجوان محسن ملا، جو اپنی گفتگو میں اتنا شیریں تھا کہ لگا جیسے انگریزی  نہیں بول رہا، شربت گھول رہا ہو۔

چند باتوں کے تبادلے کے بعد میں ایک زرد ٹیکسی میں بیٹھا اور تھوڑی ہی دیر میں بانکِ ملی ایران کی عمارت کے سامنے تھا۔ عمارت بلند اور پُروقار تھی، در و دیوار اتنے چمکدار کہ جیسے کرمان کی دھوپ بھی ان سے اجازت لے کر اندر داخل ہوتی ہو۔

بانکِ ملی ایران کا قیام 1927 میں عمل میں آیا۔ یہ ایران ہی نہیں بلکہ اسلامی دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا تجارتی بنک ہے۔ عمارت کے لحاظ سے بھی کسی محل سے کم نہ تھا۔ خوبصورت، بلند و بالا، اور اتنی چمکدار کہ جیسے دیواروں پر روشنی کے بلب نہیں بلکہ ایران کی معیشت کے خواب جگمگا رہے ہوں۔

بنک آفیسر نہایت شائستہ اور ملنسار آدمی نکلا۔ اس نے مسکراتے ہوئے مجھے کرسی کی طرف اشارہ کیا، چائے منگوائی، اور بڑی سنجیدگی مگر نرمی سے بولا:

’آپ کے پاکستان کے بنک تو ہمارے بنکوں سے کہیں بہتر ہوں گے، ہے نا؟‘

میں نے ذرا سی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔

’جناب، ابھی نہیں۔ آپ کے بنک ہم سے زیادہ منظم ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی بھی رجسٹر اور مُہر کا زمانہ چل رہا ہے۔ کیشئیر صاحب جب مُہر لگاتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عہدِ قدیم کا کوئی معاہدہ لکھ رہے ہوں۔‘

وہ ہنس پڑا، ’لیکن ہم نے سنا ہے کہ پاکستان میں اب کمپیوٹر آ گئے ہیں؟‘

میں نے کہا، ’آئے تو ہیں، مگر ابھی ہم ان سے ایسے خائف ہیں جیسے بچہ پہلی بار ٹیکہ لگواتے وقت ہوتا ہے۔ کیشئیر بٹن دبانے سے پہلے سورۃ الفلق پڑھتا ہے کہ کہیں پورا کھاتہ غائب نہ ہو جائے۔‘

وہ مسکراتے ہوئے بولا، ’ہمارے ہاں بھی کبھی یہی حال تھا۔ اب تو ایک بٹن دباؤ اور کھاتے کا حساب سامنے۔‘

میں نے جواب دیا، ’ہمارے ہاں بٹن دبانے سے کھاتا نہیں کُھلتا ، البتہ قاصد ضرور دوڑتا ہے۔ وہی چائے لاتا ہے، وہی فائل بھی لے جاتا ہے۔‘

اس نے قہقہہ لگایا، ’ہماری صفائی پر تو آپ نے غور کیا ہوگا۔‘

میں نے کہا، ’جی ضرور! آپ کے بنک اتنے صاف ہیں کہ اگر چائے کا قطرہ میز پر گر جائے تو خود معذرت کر کے نیچے ٹپک جاتا ہے۔ ہمارے ہاں چائے گرنے سے پہلے فائلوں پر موجود گَرد سوچتی ہے کہ آخر آج مجھے کیوں دھویا جا رہا ہے۔‘

وہ ہنسا، پھر نرمی سے بولا، ’مگر وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ آپ کے ملک کے بنک بھی ایک دن ہم سے آگے ہوں گے۔‘

میں نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، ’جی انشاءاللہ، جب ہمارے کیشئیر مُہر کی جگہ ماؤس پکڑنے لگیں گے اور قاصد چائے کے بجائے ای میل لے کر آئے گا، تو انقلاب آ جائے گا۔‘

چائے کے آخری گھونٹ کے ساتھ میں نے اپنے پچاس امریکی ڈالر اُس کے حوالے کیے۔ اس نے بڑے اطمینان سے گنتی کرتے ہوئے کہا:

’تین لاکھ ستانوے ہزار نو سو تومان، جناب!‘

میں نے مسکرا کر کہا، ’گویا اب میں پچاس ڈالر میں کرمان کا ایک چھوٹا سا سرمایہ دار بن گیا ہوں۔‘

اس نے ادب سے تین چار موٹی موٹی تھدیاں میرے سامنے رکھ دیں۔ میں نے انہیں احتیاط سے اپنے سوٹ کیس میں رکھ لیا، کیونکہ جیب میں رکھنے سے شلوار کا توازن بگڑ جاتا تھا۔

البتہ جب خرید و فروخت کے لیے یہی نوٹ جیب میں ڈال کر چلتا تو وہ دائیں بائیں یوں جھولتے جیسے میری معیشت کا پینڈولم وقت کے ساتھ ہل رہا ہو۔

گرمی کا موسم اپنے عروج پر تھا۔ بانکِ ملی ایران کی اس برانچ کی چھت اتنی اونچی تھی کہ اگر کوئی پرندہ غلطی سے اندر آ جائے تو شاید اگلے دن ہی واپسی کا راستہ پائے۔ چھت سے دو بڑے سست رفتار پنکھے لٹک رہے تھے، جو یوں چل رہے تھے جیسے کسی فلسفی نے سوچ میں ڈوب کر انہیں دھیرے سے گھمادیا ہو۔ مگر حیرت انگیز طور پر ان کی ٹھنڈی ہوا میں ایک سکون تھا ۔ وہی پرانی زمانے کی ٹھنڈک جو اے سی کی مصنوعی یخ بستگی سے کہیں زیادہ انسانی لگتی ہے۔اُس زمانے میں ائیر کنڈیشنز عام نہیں تھے۔(جاری ہے)

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں