یوسف ابراہیم
کالج کے دنوں میں شوق ہوا کہ خطاطی سیکھی جائے۔ کالج کے راستے میں شہر کے معروف خطاط اور مصور ‘جی عباس‘ کی دکان پڑتی تھی۔ محلہ فاروق گنج کے سامنے محلہ اسلام آباد کو ایک بازار نکلتا ہے اسی بازار میں بائیں ہاتھ نکڑ پر ان کی دکان تھی۔
ایک دن کالج واپسی پر میں ان کی دکان پر چلا گیا۔ یہ سینما کے عروج کا زمانہ تھا۔ ایک شخص بڑے سے کینوس کے سامنے لکڑی کے سٹول پر بیٹھا تھا۔ دراصل وہ بڑا پوسٹر تھا جس پر کچی پنسل سے گراف کھنچے تھے۔ اس کے بائیں ہاتھ میں کیمرے سے کھنچی ایک چھوٹی تصویر تھی۔ اس پر بھی نیلی پنسل کے گراف نظر آ رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہ تصویر انجمن اور سلطان راہی کی تھی۔
اس کے آس پاس رنگوں کی بہت سی چھوٹی بڑی ڈبیاں اور ڈبے دھرے تھے۔ ساتھ مختلف سائز کے کچھ برش بھی رکھے تھے۔ وہ اس چھوٹی تصویر کو آدھے سے زیادہ بڑے پوسٹر کی شکل دے چکا تھا۔ اس کے بادامی رنگ کے قمیص شلوار پر رنگ کے داغوں نے بہار لگا رکھی تھی۔
میں نے ڈرے سہمے لہجے میں پوچھا ’آپ جی عباس ہیں؟‘
کان میں ایک باریک موئے قلم اٹکائے، گوری رنگت اور بھوری آنکھوں والے اس شخص نے قدرے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔
جیسے دل میں سوچ رہا ہو کہ کیسا بیوقوف آدمی ہے جو مجھے ہی ’ جی عباس‘ سمجھ رہا ہے۔
پہلے تو وہ خاموش رہا، پھر وہ اپنے عقب میں لگی بانس کی سیڑھی کی طرف دیکھ کر بولا ’ استاد جی اوپر اپنی گیلری میں ہوتے ہیں۔ میرا نام طفیل ہے۔‘ اس کے لہجے میں بیزاری نمایاں تھی۔
میں خاموشی سے بیٹھا رہا۔ اس کی پوری توجہ کینوس پر تھی۔ مجھے لگا کہ میری موجودگی اس کے کام میں مخل ہے۔ ایک لمحہ اس نے میری طرف دیکھا۔ اب کے اس کی نظریں سوالیہ تھیں جیسے میرے جواب کے انتظار میں تھا۔۔۔
میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا: ’میں۔۔۔۔ دراصل میں خطاطی سیکھنا چاہتا ہوں۔‘
’یہاں تو زیادہ کام سینما کا ہوتا ہے‘ اس نے کہا۔
’وہ دیکھو سامنے۔۔‘
میں نے دکان سے باہر سامنے والی دیوار کی طرف دیکھا۔ کئی چھوٹے بڑے پوسٹر، جن کے رنگ ابھی گیلے تھے، سوکھنے کے لیے قطار میں رکھے ہوئے تھے۔ باہر بڑی سڑک پر کچھ تانگے والے بھی تھے جو ان پوسٹروں کے انتظار میں تھے۔ جنہوں نے انجمن اور سلطان راہی کی نئی فلم کا پورے شہر میں ڈھنڈورا پیٹنا تھا۔
کچھ دیر تو میں یہ سب ہونقوں کی طرح بیٹھا دیکھتا رہا۔ میں اپنے ماتھے پر ہلکا ہلکا پسینہ بھی محسوس کر رہا تھا۔ طفیل مجھ سے بے نیاز ہو کر اپنا پوسٹر مکمل کرنے میں پھر محو ہو گیا۔
ایک لمبی خاموشی کے بعد، میں نے طفیل سے پوچھا کہ میں کل سے آجاؤں؟ اس نے قدرے بیزاری سے جواب دیا، ٹھیک ہے۔
اگلے دن کالج واپسی پر میں پھر دکان پر چلا گیا۔ سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ طفیل اسی طرح اپنے کام میں گم تھا۔ اور میں اس کو دیکھتا رہا۔ اتنے میں اوپر گیلری سے آواز آئی ’طفیل چاہ‘۔ طفیل نے جواب میں کہا ’اچھا استاد جی۔‘
طفیل نے اٹھ کر ساتھ والی دکان میں چائے والے کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔ اس کے لیے یہ اشارہ کافی تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک لڑکا ہاتھ میں تام چینی کی ایک چینک اور کپ اٹھائے بے دھڑک بانس کی سیڑھی چڑھ گیا۔
وہ لڑکا جب گیلری سے نیچے اترا تو اس کے ہاتھ میں خالی برتن بھی تھے۔ یہ سب میں خاموشی سے دیکھتا رہا۔ یہ میرا دوسرا دن تھا۔ آج طفیل نے بس اتنا کہا کہ یہ برش پانی سے دھو ڈالو۔ ایک طرف پرانے ڈبے میں گدلا سا پانی تھا۔ میں نے سارے برش اس میں صاف کر دیے۔ آج طفیل سے میری تھوڑی سی بے تکلفی ہوئی۔ مختصر تعارف ہوا۔
دن کے چار بج رہے تھے کہ اوپر سے پھر آواز آئی:
’طفیل چاہ’ تے نال ساتھ سگریٹ وی‘۔
’اچھا استاد جی‘ طفیل نے کہا۔
تھوڑی دیر بعد وہی لڑکا چائے سے بھری چینک اور سگریٹ کی ڈبی لیے سیڑھی چڑھا اور خالی برتن لے کر اتر آیا۔
میں متجسس ہوا ۔ دل میں سوچا کہ جی عباس صاحب نیچے کب اترتے ہیں، نظر کب آتے ہیں۔ شکل و صورت اور حلیے میں کیسے ہوں گے۔
شام کے پانچ بجے رہے تھے کہ اوپر سے پھر آواز آئی ’ طفیل! وہ گلستان سینما والوں کا کتنا کام رہ گیا ہے؟‘
’بس استاد جی آج کر کے جاؤں گا‘۔ میں دیکھ رہا تھا اس کا پوسٹر آخری مرحلے میں تھا۔ طفیل جو بھی پوسٹر مکمل کرتا۔ پوسٹر کے بائیں کونے میں سیاہ روشنائی سے ’جی عباس‘ ضرور لکھتا۔
شہر میں اور بھی سینما پینٹرز ہوں گے ۔لیکن سب زیادہ کام جی عباس کے پاس ہوتا تھا۔ جو بھی فلمی پوسٹروں والا تانگہ ڈھول اور جھن جھنے بجاتا گزرتا اس پر جی عباس کا نام لکھا ہوتا تھا۔
آج مجھے پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا دکان پر آتے۔۔
طفیل نے مجھ سے تختی لکھوانا اور گراف کھنچوانا شروع کر دیے تھے۔ طفیل اگرچہ کم گو تھا پھر بھی کچھ نہ کچھ بات چیت ہو جاتی۔ لیکن ابھی تک میں نے استاد جی ’ جی عباس‘ کو نہیں دیکھ سکا تھا۔ دوپہر ایک بجے سے لے پانچ بجے تک چار مرتبہ چائے سگریٹ کی آواز ضرور سنتا۔ اور کبھی کبھار کچھ مخصوص چہرے بھی اوپر گیلری میں جاتے دیکھتا تھا۔ اور جب تک وہ اوپر رہتے سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ عجیب سی بو گیلری اور دکان میں پھیل جاتی۔
میرا تجسس کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ میں نے ایک دن طفیل بھائی سے پوچھ ہی لیا۔
استاد جی نیچے نہیں اترتے کیا؟ کہیں آتے جاتے نہیں ہیں؟ کسی سے ملتے نہیں؟ کیا اوپر ہی سوتے ہیں؟ ان کا گھر اور بیوی بچے نہیں ہیں کیا۔۔؟ ایسے کئی سوال ،جن کا جواب طفیل کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ آیا۔
لڑکے اور بھی تھے مگر طفیل سب سے پرانا اور استاد جی کے قریب تھا۔ مجھے کالج سے واپسی پر دکان پر آتے ہوئے تین ہفتے ہوگئے تھے۔ الف ب کی تختی روز کرتا۔ طفیل خاص توجہ بھی نہ دیتا وہ خود سینما کے کام میں مصروف رہتا۔
ادھر میری اکتاہٹ بڑھی، ادھر استاد جی کے بارے میں مزید تجسس بڑھا، جن سے میں سیکھ تو کچھ نہ سکا۔۔ہاں تختی لکھتے لکھتے خیالوں میں ان کا حلیہ بنتا رہتا کہ وہ ایک آرٹسٹ ہیں۔ یقیناً ان کے بال لمبے لمبے ہوں گے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور اندر کو دھنسی ہوں گی۔ کم گو اور خود پسند بھی ہوں گے۔
یہ مہینے کا آخری دن تھا۔ میں ارادہ کر چکا تھا کہ بس دکان پر میرا بھی آخری دن ہو گا۔ کوئی چار بجے کا وقت ہو گا کہ میانہ قامت اور سانولی رنگت میں ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ ڈاڑھی قدرے بڑھی ہوئی، کمر جھکی ہوئی تھی۔
طفیل کو مخاطب کیا ’طفیل۔۔! چاہ ۔۔۔‘
اچھا استاد جی ۔۔۔۔
اور پھر وہ شخص گیلری کی سیڑھی چڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد میں نے طفیل کو خدا حافظ کہا، استاد جی کو دل میں سلام کیا اور دکان سے نکل آیا۔











One response to “جی عباس”
دلچسپ