اصفحان، ایران

خاکِ فارس کا مسافر(24)

·

کرمان میں گرم حمام کی نرمی نے جسم کو اس طرح ڈھانپ رکھا تھا جیسے کسی نے تھکن کے سارے کانٹے ایک ایک کر کے نکال دیے ہوں۔ میں اسی نیم مدہوشی میں اپناسوٹ کیس اٹھائے بس اسٹینڈ آیا اور مغرب کے بعد اصفہان جانے والی بس میں سوار ہوگیا۔

کرمان سے اصفہان کا سفر 688 کلومیٹر پر پھیلا تھا۔ اور یہ آٹھ گھنٹے کی وہ مسافت تھی جس میں انسان اپنے صبر، برداشت اور نیند—تینوں کے درمیان جاری جنگ کا تماشائی بھی ہوتا ہے اور فریقِ مخالف بھی۔بس شہر کی روشنیوں سے دور ہوئی ہی تھی کہ چیک پوسٹوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جیسے ایران نے ہر چند میل بعد ایک نیا دربان کھڑا کر رکھا ہو۔

ہر پندرہ منٹ پہلے کنڈکٹر پوری طاقت سے اعلان کرتا:

’پردہ ھا رو بزنید بالا! بیدار شید! خوابیدن ممنوعہ! ‘

پردے کھول دو! جاگ جاؤ! سونا منع ہے!

یوں لگتا تھا جیسے ہم بس کے مسافر نہیں بلکہ کسی فوجی مشق میں شامل سپاہی ہوں۔ میں جو کہ گہری نیند کے آخری کناروں تک پہنچ چکا تھا، ہر اعلان پر اپنی گردن یوں جھٹک دیتا جیسے علمِ ریاضی کا کوئی کمزور طالب علم استاد کے سامنے جاگتا دکھائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک چیک پوسٹ پر بس رکی تو کنڈکٹربس سے اترا ، پولیس افسر سے ملا اور دوبارہ اندر آ گھسا۔ وہ ڈرائیور کے پاس کھڑا ہو کر بلند آواز میں پکار رہا تھا:

«این کیفِ سامسونگ مالِ کیہ؟»

یہ سام سنگ کا سوٹ کیس کس کا ہے؟

پہلی دفعہ تو مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ دوسری بار ذہن میں ہلکی سی گھنٹی بجی۔ اور تیسری بار جب اس نے ‘سامسونگ‘ کو اس شدت سے پکارا جو کسی گمشدہ مسافر کو آواز دینے میں ہوتی ہے، تو میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔

بس کا ٹرنک کھلا تھا اور ایک ایرانی سیکورٹی افسر بڑے انہماک سے بیگوں کی تلاشی لے رہا تھا۔

میری نظر اپنے سیم سنگ سوٹ کیس پر پڑی جو اس سیکورٹی افسر کے قدموں میں پڑا تھا۔

بس! نیند وہیں ختم۔

میں نیم خوابیدگی میں اپنی سیٹ سے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا بس سے نیچے اترا۔ سامنے سترہ، اٹھارہ سال کا ایک نوجوان ایرانی سیکورٹی افسر موجود تھا—سبز وردی، چھجے والی ٹوپی اور کاندھے سے لٹکی ہوئی رائفل۔لیکن چہرے پر ایک ایسی شائستگی تھی جو اکثر جوانی میں دکھانا پڑتی ہے، ہوتی کم ہی ہے۔ اس نے مؤدبانہ انداز میں مجھے سوٹ کیس کھولنے کو کہا۔

میں نے پہلے اپنی جیبیں ٹٹولیں—چابی ندارد۔

اس گھبراہٹ میں میری جیب کے دونوں کھیسے یوں الٹ پلٹ گئے جیسے میں خود سے کچھ چھپا رہا ہوں۔

آخر وہ ننھی سی چابی دائیں کھیسے کی جیب میں سے برآمد ہوئی۔ میں نے سوٹ کیس کھولا۔ اندر کپڑوں کے چند تہہ کیے ہوئے ڈھیر تھے، اور کچھ نہیں۔

افسر نے سر ہلا کر کہا کہ بند کر دیں۔

پھر فارسی میں پوچھا:

“از کجا ھستین؟ کجا می‌رین؟”

آپ کہاں سے ہیں، اور کہاں جا رہے ہیں؟

میں نے انگریزی میں جواب دیا کہ پاکستان سے ہوں، اصفہان جا رہا ہوں۔

وہ مسکرایا اور کہا:

“خوب، می‌تونید برید… مرسی!”

ٹھیک ہے، آپ جا سکتے ہیں۔ شکریہ۔

اس کے بعد کسی اور چیک پوسٹ پر نہ سامان کھلا، نہ نیند پر کوئی یلغار ہوئی۔ یوں جیسے ایران کی سرحدی سرگرمیاں میرے سام سنگ سوٹ کیس تک محدود تھیں۔

فجر کے وقت، جب اذانوں کی آوازیں شہر بھر میں پھیل رہیں تھیں، بس اصفہان میں داخل ہو رہی تھی۔صبح کی ٹھنڈی سفیدی، ایران کی مساجد کی آوازیں، اور مسافر کا جسم… تینوں ایک عجیب سکون میں بندھے تھے۔

میں نے ایک ٹیکسی کو ہاتھ دیا اور ڈرائیور سے کہا:

"کسی درمیانے نرخ والے ہوٹل میں لے جاؤ، مہنگا نہیں ہونا چاہیے۔”

ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلایا—شاید وہ ایسے کفایت شعار مسافروں کا نبض شناس ہو۔ وہ مجھے ایک نسبتاً سستے، مگر صاف ستھرے مسافر خانے میں لے آیا۔ نام تھا: مہمان پذیر شہزاد۔

شہزادہ تو کہیں دکھائی نہ دیا، البتہ یہ جگہ مسافروں کے لیے مناسب آشیانہ ضرور تھی۔ فجر کی نماز پڑھی۔ اور پھر بستر پر سفر کی تھکاوٹ کو اپنے اوپر ایسا طاری ہونے دیا جیسے اصفہان نے خود آکر مجھے سلایا ہو۔

اصفہان، نیم جہان میں آمد

یہ نام سنتے ہی آدمی کے ذہن میں ایک ایسا منظر کھلتا ہے جیسے کوئی خیمہ، جس کے اندر نصف دنیا کی روشنی اور باقی آدھی دنیا کا حسن سمیٹ کر رکھ دیا گیا ہو۔ صفویوں کے دور میں یہ محض ایک شہر نہیں تھا—یہ سلطنت کا دھڑکتا ہوا دل تھا، اور وہ دل بھی ایسا جو اپنے طوفانی حسن سے پورے ملک میں لہو دوڑانے پر قادر ہو۔

تاریخ کہتی ہے کہ کبھی ایسا وقت بھی آیا جب اصفہان دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ 1050 سے 1722 تک اس شہر نے ترقی کی وہ منزلیں طے کیں جن پر وقت بھی رشک کرتا ہوگا۔ اور پھر سولہویں صدی میں صفوی سلطنت کا سورج اصفہان پر یوں طلوع ہوا کہ اسے دیکھنے والا ہر مسافر بے اختیار کہہ اٹھتا—’اصفہان نصفِ جہان۔‘

یہ شہر اپنی عمارات کی بدولت بھی ایک عجیب کشش رکھتا ہے۔ اسلامی طرزِ تعمیر کی مساجد، نیلے فیروزے کی چھتیں، محلات اور اونچے مینار—یوں لگتا ہے جیسے کسی فنکار نے آسمان سے زمین تک ایک ہی رنگ کی باریک سی لکیر کھینچ دی ہو۔ ہر مینار آپ کو دور سے ہاتھ ہلاتا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہہ رہا ہو کہ ’آؤ، یہاں حسن کے کچھ راز ہم نے محفوظ کر رکھے ہیں۔‘

اصفہان کے حسن کا راز صرف اس کے گنبدوں میں نہیں، اس کے ہاتھوں میں بھی ہے۔ یہاں کے قالین، ایسے کہ اگر کسی بادشاہ کو تحفے میں بھیجے جائیں تو وہ تخت چھوڑ کر ان پر آن بیٹھے۔ آج بھی اصفہان قالین بافی، کپڑے، لوہے اور دستکاری کی اپنی صدیوں پرانی روایت پر قائم ہے۔ دو ہزار سے زائد کارخانے شہر کی صنعتی دھڑکن کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہ ایران کا تیسرا بڑا شہر ہے اور صوبہ اصفہان کا دارالحکومت بھی۔

تہران سے 340 کلومیٹر جنوب کی طرف، ایک ایسا شہر آپ کا منتظر ہے جو بیک وقت روایت بھی ہے، تہذیب بھی، اور ایک نیم روایتی شاعرانہ ضد بھی—کہ دنیا چاہے کچھ کہے،’نصفِ جہان تو میں ہوں!‘

2006ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی پندرہ لاکھ کے قریب ہے—لیکن اس شہر میں رہنے والے کہتے ہیں کہ اصفہان کی اصل آبادی وہ نہیں جو گنتی میں آتی ہے، بلکہ وہ ہے جو ہر سال سیاحت کے بہانے اس کے حسن سے متاثر ہو کر یہاں کے گلی کوچوں میں گم ہو جاتی ہے۔ اور یوں… اصفہان میں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان صرف ایک شہر میں نہیں آتا—وہ ایک تہذیب کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سلام کرتا ہے۔

اصفہان کی تاریخ کو دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ شہر صدیوں سے اپنے دامن میں بہاروں اور بربادیوں کا اک ایسا حساب رکھے ہوئے ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

عباسی دورِ خلافت—یعنی 319 ہجری میں—اصفہان ایک اہم شہر کے طور پر ابھرا۔ گویا سلطنت نے اس شہر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا: تم اب بڑے ہو گئے ہو۔

پھر 639 ہجری میں مغل آئے۔ لشکر، گرد و غبار، تلواریں اور تاریخ کے صفحات الٹتے پلٹتے ہوئے… شہر نے ایک بار پھر وہی منظر دیکھا جو قدیم شہروں کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ مگر اصفہان وہ ضدی شہر ہے جو بربادی کے بعد ہمیشہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نئی بہاریں دیکھ لیں۔

لیکن قسمت نے شاید سوچ رکھا تھا کہ اس شہر کا امتحان ختم نہیں ہونا چاہیے۔ تیمور لنگ آیا—تاریخ کا وہ کردار جو جہاں جاتا تھا وہاں مٹی کو بھی سانس لینا بھول جاتی تھی۔ اصفہان نے پھر ایک بار تباہی اور ویرانی کا منہ دیکھا۔

پھر وقت کے گھڑیال نے ایک نیا دور چلا۔ سن 1000 ہجری میں صفوی بادشاہ شاہ عباس نے اس شہر کو ایسی شان بخشی کہ اصفہان دوبارہ آسمان کو چھونے لگا۔ شاہ عباس نے اسے اپنی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا، اور یوں گویا شہر سے کہا: ’اب تم صرف شہر نہیں رہے… تم سلطنت کا دل ہو۔‘

صدیاں گزریں تو شہر کے نصیب میں ایک اور اندھیرا لکھا تھا۔اصفہان پھر ماند پڑ گیا—تاریخ کے دھندلکے میں گم سا ہو گیا۔

پھر انیسویں صدی میں قاجار عہد آیا۔ ناصرالدین شاہ قاجار (1848-1896) نے شہر کو دوبارہ اپنے قدیم وقار کی طرف لوٹایا۔اور جب پہلوی دور کا زمانہ آیا تو اصفہان نے صنعتی ترقی کا لباس پہن لیا—کارخانے، لوہے کی صنعت، دستکاری… شہر نے خود کو نئے دور کے مطابق ڈھال لیا۔

آج کا اصفہان ایک الگ ہی شان رکھتا ہے۔سیاحت کے اعتبار سے ایران کا اہم ترین شہر—جس کے گنبدوں، بازاروں اور پلوں پر وقت بھی ٹھہر کر دیکھتا ہے کہ یہ شہر کتنی بار بکھرا، کتنی بار بنا، اور پھر ہر بار پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو کر کھڑا ہوا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں